شورمچا ؤ تاکہ لوگ قرآن کی آواز نہ سن سکیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

گزشتہ آیات میں قوم عاد وثمود جیسی بعض اقوام نیز بدسیرت دوستوں اورہم نشینوں جوحقائق کوتوڑ مروڑ کرپیش کرتے ہیں کے سلسلے میں گفتگو ہو رہی تھی . زیر نظر آیات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کے مشرکین کی بداندیشی اورانحرافی کاکچھ ذکر کیاجارہاہے۔
بعض روایات میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تلاوت کلام پاک اورخداوند عالم کے شریں ، دلکش اور معنی خیز کلمات اداکرتے ہوئے اپنی آواز بلند فرماتے تو مشرکین مکہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کرکے کہتے شور مچاؤ ، تالیاں پیٹو، سیٹیاں بجاؤ اور انچی اونچی آواز میں شعر پڑھو تاکہ آپ کی آواز کوئی نہ سن سکے (۱)۔  
اسی چیز کی طرف اشارہ کر تے ہوئے قرآن کہتاہے :اور کافروں نے کہا: اس قرآ ن کونہ سنواورا س کی تلاوت کے وقت شورمچاؤ تاکہ تم غالب آجاؤ (وَ قالَ الَّذینَ کَفَرُوا لا تَسْمَعُوا لِہذَا الْقُرْآنِ وَ الْغَوْا فیہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُونَ )۔ 
حق و حقا نیت کامقابلہ کرنے کی یہ ایک خطرناک قدیم رو ش ہے جوآج بھی پہلے سے زیادہ وسیع اور خطر ناک صورت میں جاری وساری ہے تاکہ اس طرح سے لوگوں کے اذہان کومنحرف کیاجاسکے ، حق و عدالت کے علمبر داروں کی آواز کود بایاجا سکے اورماحول کواس حد تک شور شرابے سے معمور کردیں کہ کوئی بھی شخص ان کی آواز نہ سُن سکے اوراگرلفظ ” الغوا“ کی طرف مزید توجہ کریں تو معلوم ہوگاکہ اس کامعنی بہت ہی وسیع ہے جو ہر قسم کے فضول اور بے ہودہ کلام کیلئے بھی بولا جاتاہے ، اس سے اس کی وسعت کاپتہ چلتاہے۔
کبھی ڈھول بجاکر ، تالیاں پیٹ کر اورسیٹیاں بجاکر،
کبھی بے ہودہ اورجھوٹی داستانیں بیان کرکے،
اور کبھی عشق و محبت اورخواہشات نفسانی کے افسانے پیش کرکے اس کوعملی جامہ پہنا یاجاتاہے۔
بلکہ بعض اوقات تومعاملہ اس سے بھی آگے بڑ ھ جاتاہے اوراخلاق باختگی کے مراکز قائم کرکے،لچّر اور بے ہودہ فلمیں دکھاکر ،سر گرم رکھنے والابے مقصد بلکہ ہیجان انگیز او ر گمراہ کن لٹریچر شائع کرکے ، جھوٹی سیاست بازی اوراشتعال انگیز ی قائم کرکے غرض جو چیزبھی لوگوں کے اذہان کوراہ حق سے منحرف کردے اسے اختیار کیا جاتاہے۔
اوران سب سے بڑھ کرکبھی کبھار تو ایسابھی ہوتاہے کہ کسی قوم کے دانشو ر طبقے میں فضول بحثیں چھیڑدی جاتی ہیں اور پھر ان کو بحث مباحثے میں اس حد تک الجھا دیاجاتاہے کہ ان سے بنیادی مسائل کے بار ے میں ہر قسم کی سوچ بچار سلب ہوجاتی ہے۔
تو کیا مشرکین اپنے ان ذرائع اور بے ہودہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے تھے اورقرآن پرغالب آگئے تھے ؟نہیں ہر گزنہیں ! وہ خود بھی اوران کی شیطنت بھی قرآن کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکے اور حرف غلط کی طرح مٹ گئے اور روز بروز قرآن کا بول بالاہوتاہے گیا اور قرآن آج نصف النہار کے مانند کا ئنات پرچمک رہاہے۔
بعد کی آیت اس قبیل کے لوگوں کے لیے سخت عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے:ہم یقینی طور پر کافروں کو ... اوران کی اگلی صفوں میں موجودہ ان افراد کوجو لوگوں کو آیات الہٰی سننے سے روکتے تھے ... سخت عذاب ( کامزہ ) چکھائیں گے (فَلَنُذیقَنَّ الَّذینَ کَفَرُوا عَذاباً شَدیداً )۔ 
ہوسکتاہے انہیں یہ عذاب دنیامیں اسلام کی فاتح افواج کے ہاتھوں قتل ہونے یا قید ہونے کی صورت میں ملے یاآخرت میں ملے یادونوں جہانوں میں ملے۔
” اور ہم انہیں ان کے بدترین اعمام کی سزا دیں گے “ (وَ لَنَجْزِیَنَّہُمْ اٴَسْوَاٴَ الَّذی کانُوا یَعْمَلُونَ )۔ 
کفر وشرک ، آیات الہٰی کے انکار اورلوگوں کوحق بات سننے سے روک دینے سے بڑھ کربھی کوئی بدعملی ہوسکتاہے ؟
جب وہ اپنے تمام بر ے اعمال کی سزا بھگتیں گے تو پھر ” اسواٴ “ (بدترین عمل ) پرکیوں زور دیاگیاہے ؟ ہو سکتا ہے کہ اس سے سزا کے یقینی ہونے کی طرف اشارہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ا سے اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سننے سے لوگوں کوروکنے کی طرف اشارہ ہو ۔
”کانُوا یَعْمَلُونَ “ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زیادہ تران اعمال پر توجہ کی جاتی ہے بار بار انجام دیئے جاتے ہیں . بالفاظ دیگر یہ ان کی اچانک لغزش نہیں تھی بلکہ ان کاروزمرہ کا معمول تھا ۔
پھر مز ید زور دے کرقرآن کہتاہے : یہ خدا کے دشمنوں کی سزا ہے ، جہنم کی بھسم کردینے والی آگ (ذلِکَ جَزاء ُ اٴَعْداء ِ اللَّہِ النَّار)(۲)۔
اور آگ کایہ عذاب نہ تو عارضی ہوگا اور نہ ہی جلد ختم ہونے والا بلکہ ” ان کے لیے اس آگ میں ہمیشہ کاٹھکا ناہوگا (لَہُمْ فیہا دارُ الْخُلْدِ)۔ 
جی ہاں ! وہ اس آگ میں اس لیے درد ناک عذاب سے دوچار ہوں گے کہ وہ ہماری آیات کا انکار کیاکرتے تھے ( جَزاء ً بِما کانُوا بِآیاتِنا یَجْحَدُون)(۳)۔ 
وہ صرف آیات خداوند ی کاہی انکار نہیں کیاکرتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی ان کے سننے سے روکتے تھے۔
”یَجْحَدُون “ ” جحد “ کے مادہ سے ہے ( جو بروزن ” عہد“ ہے ) اورمفردات میں راغب کی تصریحات کے مطابق اس چیز کی نفی کے معنی میں ہے جس کادل میں اثبات ہو یااس کا اثبات ہو جس کی دل میں نفی ہو ، بالفظ دیگر حقائق کاعلم ہونے کے باوجود اس کاا نکار کیا جائے اور یہ کفر کی بدترین قسم ہے .( اس قسم کی مزید وضاحت تفسیر نمونہ کی پندرھویں جلد سورہ نمل کی آیت ۴ ۱ کے ذیل میں ملاحظ فرمائیں )۔ 
جس انسان کسی مصیبت میں گھِر جاتاہے،خاص کرجب کسی خطرناک،سخت اور سنگین مصیبت میں متبلا ہوجاتاہے تواس کے اصل محرکات اوراس کاباعث بننے والوں کی تلاش شروع کردیتاہے تاکہ ان تک پہنچ کر ا ن سے اپنا انتقام لے . اس کادل چاہتاہے کہ اگراس کے بس میں ہوتو انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردے . اسی لیے زیرنظر آیت میں دوزخ میں کفار کی اسی حالت کوبیان کرتے ہوئے فرمایاگیاہے : پر وردگار ا ! جن وانس میں سے جن لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے تو ہمیں دکھلا تا کہ ہم انہیں روند ڈالیں اور پامال کردیں اوروہ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہوجائیں (وَ قالَ الَّذینَ کَفَرُوا رَبَّنا اٴَرِنَا الَّذَیْنِ اٴَضَلاَّنا مِنَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ نَجْعَلْہُما تَحْتَ اٴَقْدامِنا لِیَکُونا مِنَ الْاٴَسْفَلین)۔ 
وہ ایک عرصے تک ہمارے سروں پر سوار رہے،ہمیں بدبختی کی راہوں پرچلاتے رہے،اب ہماری یہی خواہش ہے کہ ہم انھیں روند ڈالیں اور پامال کردیں . تاکہ اپنے دل کاغصّہ ٹھنڈا کریں ، وہ لوگ ہمیں کہتے تھے کہ ”محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم “ کی باتوں پرکان نہ دھرو ، وہ جادو گر ہے،دیوانہ ہے اور ہذیان کہتا ہے “ وہ ڈھول پیٹ پیٹ کرتالیاں بجابجا کر ،غل غپاڑہ برپا کرکرکے ہمیں ان کی دلکش آواز سننے سے روکتے تھے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دلر با آہنگ ہمارے دلوں میں اثر نہ کرجائے ، رستم واسفند یار کے قصے کہانیاں ازخود بنابنا کر ہمیں سناتے اورمشغول رکھتے تھے۔
ہمیں تو اب پتہ چلاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پرتو آب حیا ت کے چشمے جاری تھے ، ان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دلنواز نغمے تو مسیحائی اعجاز کے حامل تھے اور مردوں کے لیے حیات بخش تھے ، لیکن افسوس اب موقع ہاتھ سے نکل چاکاہے۔
اس میں شک نہیں کہ یہاں پر جن وانس سے مراد شیطانوں کاگمراہ کن ٹولہ اورانسانوں کاشیطان صفت گروہ ہے نہ کہ وہ معین افراد اورجہاں پرفاعل دوگروہ ہو ں وہاں پر فاعل تثنیہ لانے میں کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ ” فبای الاء ربکما تکذبان “ میں آیاہے۔
بعض مفسرین نے ” لیکونا من الا سفلین “ کے جملے کے بار ے میں یہ کہاہے :
اس سے مراد یہ ہے کہ گمراہ کرنے والے جنات اور انسان جہنم کے بالکل ہی نچلے طبقوں میں جائیں گے۔
لیکن بظاہر صحیح معنی وہی ہے جو پہلے بتایاجاچکا ہے اور وہ یہ کہ وہ زبردست غم اورغصے کی وجہ سے یہ چاہیں گے جس طرح وہ دنیا میں بلند مقامات کے مالک تھے ، یہاں پر اپنے پیرو کاروں کے پاؤں تلے روند ے جائیں اورانہیں پست جگہ نصیب ہو ۔
۱۔ تفسیر ” مراغی “ جلد۲۴ ، ص ۱۲۵ ،اور تفسیر ” روح المعانی “ جلد ۲۴ ، ص ۱۰۶ ۔
۲۔ ہوسکتا ہے کہ ” النار “” جزاء ‘ ‘ کابدل یاعطف بیان ہو یا پھر مبتدا محذوف کی خبرہو . جواصل میں اس طرح ہے ” ھوالنار“ ۔
۳۔ ہو سکتاہے کہ لفظ ” جزاء“ فعل محذوف کامفعول ہوجو ” یجزون جزاء “ ہے یاپھر ” مفعول لہ “ ہو ۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma