۷۔ زمانہ،بھی گواہوں میں شامل ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

اگرچہ قرآنی آیت میں اس بات کی طرف اشارہ نہیں ہوا . لیکن معصومین علیہم السلام کی روایات اس چیز پر ضرور دلالت کرتی ہیں چنانچہ حضرت عل علیہ السلام فرماتے ہیں :
مامن یوم یمر علی اٰدم الاقال لہ ذالک الیوم یاابن اٰدم ! انایوم جدید ، وانا علیک شھید ، فقل فی خیراً واعمل فی خیراً ،اشھدلک یوم القیامة
کوئی دن بھی فر ر ندآدم پرنہیں گزرتا جو یہ نہ کہتاہو کہ اے فرزند آدم ! میں ایک نیادن ہوں اور تجھ پرگواہ ہوں ، مجھ میں اچھی باتیں عمل لاتاکہ میں بر وزقیامت تیرے حق میں گواہی دوں( 1)۔
توکیایہ عجیب بات نہیں ہوگی کہ عظیم عدالت کے لیے اتنے برحق گواہوں کے باجود ہم غفلت کاشکار ہوں اوران سے بالکل بے خبر ہوں . زمان گواہ ٴ ، مکان گواہ ، فرشتے گواہ ، ہمارے اپنے اعضاء گواہ ، ابنیاء و اولیاء گواہ ، اوران سب سے بڑھ کرخود ذات کر د گار ہمارے اعمال کی گواہ ! لیکن ہم بالکل بے پرواہ !!
آیااتنے نگہبانوں کے وجود پرایمان کافی نہیں ہے کہ انسان مکمل طور پر حق و عدالت او ر تقویٰ وطہارت کی راہ پرچلے۔
 1۔ سفینتہ البحار جلد ۲ ، مادہ ٴ یوم ۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma