۱۔ خدا کے بار ے میں نیک گمان اوربدگمانی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

مندرجہ بالا آیات سے اچھی طرح واضح ہوجاتاہے کہ خدا کی ذات کے بار ے میں بدگمانی اس حد تک خطر ناک ہے کہ بعض اوقات انسان کی ہلاکت اورابدی عذا ب کا سبب بن جاتی ہے اس کا نمونہ کفار کے اس ٹولے کی بد گمانی ہے جوسمجھتے تھے کہ خدا ان کے اعمال کونہیں دیکھ رہااور نہ ہی ان کی باتوں کوسُن رہاہے . یہی بد گمانی کے نقصان اور تباہی کاسبب بن گئی۔
اس کے بالکل برعکس خداوند تبارک وتعالیٰ کی ذات کے ساتھ حسن ظن دنیا اورآخرت میں نجات کاسبب بن جاتا ہے ، جیسا کہ حضرت امام جعفرصاد ق علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے :
ینبغی للموٴ من ان یخاف اللہ خوفاً کانہ یشرف علی النار ویر جوہ رجاء ً اکانہ من اھل الجنة ، ان اللہ تعالیٰ یقول : و ذالکم ظنکم الذ ی ظننتم بربکم ... ثم قال ان اللہ عند ظن عبدہ : ان خیراً فخیر ، وان شرًّ ا فشر
مومن کے لیے سز اوار ہے کہ وہ خدا سے اس حد تک ڈرے کہ گو یاوہ جہنم کے کنارے پرکھڑا ہے اور آتش جہنم کودیکھ رہاہے . اوراس حد تک اس سے پُر امید ہوکہ گویا وہ اہل بہشت ہے جیساکہ خدا ارشاد فرماتاہے : یہ وہ گمان ہے جوتم نے خدا کے بار ے میں کیاتھا اور تمہاری ہلاکت کاسبب بن گیا ... پھر امام علیہ السلام فرماتے ہیں۔
خدا اپنے بندہ مومن کے گمان کے پاس ہی ہے اگروہ نیک گمان کرتاہے تواس کانتیجہ بھی نیک ہوتاہے اور اگر بدگمانی کرتاہے تواس کانتیجہ بھی بُرا ہوتاہے ( 1)۔  
ایک اورحدیث میں امام جعفرصاد ق علیہ السلام ،پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔
جب آخری شخص کوجہنم کی طرف لے جایا جائے گا تووہ ناگہاں اپنے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائے گا ۔
خدا وندعظیم وبرتر حکم دے گاکہ اسے واپس لے آؤ ، واپس لے آئیں گے خدا پوچھے گا تو نے اِدھر اُدھر کیوں دیکھااورکس فرمان کا انتظا ر کررہاتھا ؟ تووہ عرض کرے گا : پر ور دگار ا ! مجھے تیرے بار ے میں ایساگمان نہیں تھا .خدا پوچھے گا : توتمہارکیاگمان تھا ؟عرض کرے گا :
خدایا: میراگمان یہ تھا کہ تُو میرے گناہوں کومعاف کرکے مجھے بہشت برین کی طرف بھیجے گا ۔
خدا ارشاد فرمائے گا : یا ملائکتی ! لا، وعزتی وجلالی واٰلا ئی و علوی وار تفاع مکانی ،ماظن بی عبدی ھٰذاساعة من خیر قط ، ولوظن بی ساعة من خیرماو دعتہ بالنار ، اجیز والہ کذبہ واد خلوہ الجنة ...
اے میرے فرشتوں ! مجھے اپنی عزت وجلال اور نعمتوں اوربلند و بر تر مقام کی قسم میرے اس بندے نے میرے بار ے میں کبھی نیک گمان نہیں کیا، اگر ایک ساعت بھی اس نے حسن ظن کیاہو تا تو میں نے اسے قطعاً جنہم نہ بھیجاہوت. اگر چہ اس نے جھوٹ بولا ہے لیکن پھر بھی اس کے حسن ظن کے اظہار کوقبول کرلو اوراسے بہشت میں بھیج دو ۔
پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ
” کوئی بندہ ایسانہیں ہے جس حسن ظن کرتاہو مگر ہی کہ خدا اس کے گمان کے پاس ہوتاہے اور یہی ہے وہ چیز جس کے بار ے میں خدا فر ماتاہے (وَ ذلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذی ظَنَنْتُم)( 2)۔ 
1۔تفسیر مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں۔
2۔ تفسیر ” علی بن ابراہیم “ ( منقول از نورالثقلین جلد ۴ ، ص ۵۴۴)۔  
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma