سرکش قوم ثمود کا انجام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5
گزشتہ آیات میں قوم عاد کے بار ے میں ایک تفصیلی گفتگو تھی . زیر نظر آیات میں قوم ثمود کے بار ے میں گفتگو ہورہی ہے ارشا د ہوتاہے : رہے ثمود توہم نے انہیں ہدایت کی ( اپنے پیغمبر صالح کواوضح دلائل دے کران کی طرف بھیجا ) مگرانہوںنے نابینا ئی اور گمراہی کوہدایت پرتر جیح دی (وَ اٴَمَّا ثَمُودُ فَہَدَیْناہُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمی عَلَی الْہُدی )۔ 
اسی لیے رسوا کن عذاب ، صاعقہ ، نے ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا(فَاٴَخَذَتْہُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْہُونِ بِما کانُوا یَکْسِبُون)۔ 
قوم ثمود وہ لوگ تھے جو ” دادی القرٰی “ (مدینہ اور شام کے درمیانی علاقے ) میں رہتے تھے . خدا وندعالم نے انہیں آباد سر سبز وشاداب زمینیں اور نعمتوں سے معمور باغات عطاکئے ہوئے تھے .زرعی امور میں نت نئے تجر بے اور زبردست طاقت خرچ کیاکرتے تھے،ان کی عمر یں لمبی اوراعضاء طاقتور تھے . پختہ اور ترقی یافتہ عمار تیں تعمیر کرنے میں اس قدر ماہر تھے کہ خداوند عالم سورہ ٴحجر کی ۸۲ ویں آیت میں ارشاد فر ماتاہے :
و ہ پہاڑ وں کے دل میں محفوظ مکان تعمیر کیاکرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم قوی منطق اور بے حد محبت کے ساتھ معجزہ لے کر ان کے پاس آی. لیکن اس مغرو ر اور خود پسند قوم نے نہ صرف اس کی دعوت کوٹھکر ایادیابلکہ اسے اوراس پرایمان لانے والے تھوڑے سے لوگوں کوطرح طرح کی اذیتیں دیں.جس کانتیجہ یہ نکلا کہ خداوند عالم نے ان مغرور اور سرکش لوگوں کورسواکن عذاب میں مبتلا کردی۔
سورہ ٴ اعراف کی آیت ۷۸ میں ہے:
فَاٴَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَةُ فَاٴَصْبَحُوا فی دارِہِمْ جاثِمینَ
وہ سخت زلزلے کی لپیٹ میں آگئے اورصبح کے وقت ان کی بے جان لاشیں ان کے گھروں میں باقی رہ گئی تھیں۔
سورہ ٴ حاقہ کی آیت ۵ میں ہے :
فاما ثمود فاھلکوابالطا غیة
قوم ثمود ایک تباہ کن عامل کے ذریعے نیست ونابود ہوگئی۔
سورہ ٴ ہود کی آیت ۶۷ میں ہے :
وَ اٴَخَذَ الَّذینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاٴَصْبَحُوا فی دِیارِہِمْ جاثِمینَ
ثمود کی ظالم قوم آسمانی چیخ کے ذریعے نیست ونابود ہوگئی اوراپنے گھر وں میں اوندھے گر گر کر ہلاک ہوگئی۔
اور زیر تفسیر آیات میں عذاب کو ” صاعقہ “ سے تعبیر کیاگیاہے اور ممکن ہے بادی النظر میں یہ تصوّر ہوکہ ان تعبیرات میں تضاد پایاجاتا ہے ، لیکن اگرتھوڑاساغور وفکر کیاجائے تومعلوم ہوگاکہ مندرجہ بالاچاروں تعبیریں ( ۱) ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹ رہی ہیں . کیونکہ جس طرح ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ”صاعقہ “ کاایک معنی تووحشتناک آواز ہے جسے آسمانی ”صیحہ “ یعنی چیخ سے بھی تعبیر کیاجاسکتا ہے اور بھسم کردینے والی آگ بھی اسی کے ہمراہ ہوتی ہے اور یہ جس زمین پرگرتی ہے وہیں پرزلزلے کے شدید جھٹکے پیدا ہوتے ہیں اور یہ تباہی و بر بادی کاایک اہم ذ ریعہ بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی بلاغت اس بات کاموجب ہے کہ وہ ایک ہی عذاب کے مختلف پہلوؤں کومختلف آیات میں مختلف تعبیرات کے ساتھ پیش کرتاہے تاکہ انسان نفوس میں اس کازیادہ سے زیادہ اثرہو . دراصل وہ لوگ ایک ہی واقعے میں موت کے مختلف عوامل سے دوچار ہوئے جن میں سے ہرایک علیٰحدہ علیٰحدہ بھی ان کی نابود ی اور ہلاکت کے لیے کافی تھا . ” موت کاپیغا م بن کرآنے والی چیخ “ ہویا ” جان سے مارڈالنے والا زلزلہ “،” بھسم کردینے والی آگ “ ہو یا ” وحشتناک صاعقہ “ غر ض سب کے سب عذاب اورہلاکت کاایک مئوثر عامل ہیں۔
لیکن چونکہ تھوڑے سے لوگ سہی کچھ افراد حضرت صالح علیہ السلام پرایمان توضرور لائے تھے لہٰذا ممکن ہے کہ کچھ لوگ یہاں پر سوال کریں کہ اس مختصر سے گروہ کا اسوحشتناک عذاب کے موقع پرکیا بنا ؟ آیاوہ بھی دوسروں کی آگ میں جل کرراکھ ہوگئے ؟تو قرآن مجید بعد کی آیت میں ارشاد فرماتاہے:جولوگ ایمان لے آئے اورانہوںنے تقویٰ اختیار کیاہم نے انہیں نجات عطافرمائی (وَ نَجَّیْنَا الَّذینَ آمَنُوا وَ کانُوا یَتَّقُونَ )۔ 
ان لوگوں کو توان کے ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے نجات دی اوراس سرکش گروہ کوان کے کفر اور بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کردی. ان میں سے ہرگروہ اس امت کے افراد کے لیے ایک نمونہ اوراسوہ بن سکتاہے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کی موجود گی کے باوجود جناب صالح علیہ السلام پرصرف ایک سودس افراد ایمان لے آئے اورخدا وند عالم نے بھی بروقت ان ایماندار اور متقی لوگوں کونجات عطافرمائی۔
خدائی ہدایت کی قسمیں
ہم جانتے ہیں کہ ہدایت کی دوقسمیں ،ایک ” ہدایت تشریعی “ ہے جس سے مراد ” اراء ا لطریق “ ( یاراستے کادکھادینا ) ہے اوردوسری ” ہدایت تکوینی “ ہے جو ” ایصال الی المطلوب “ یعنی منزل مقصود تک پہنچادینا ہے۔
زیرنظر آیات میں ہدایت کی دونوں قسمیں جمع ہیں،پہلے فرمایاگیاہے : ہم نے قوم ثمود کوہدایت کی . یہ ہدایت ہدایت تشریعی یااراء طریق ہے . پھر فر مایاگیاہے : انہوں نے ہدایت توحاصل ہوگئی جوانبیاء ِ خدا کامسلم الثبوت فریضہ ہے ، لیکن دوسرے معنی کے لحاظ سے ہدایت عملی جامہ نہ پہن سکی جوانسان کے اپنے بس کی بات ہے اوراس مغرور اور سرکش قوم کی طرف سے رُک گئی . کیونکہ ” فاستحبو االعمٰی علی الھدٰی “ ۔
او یہ ” انسان کے ارادہ اور اختیار کی آزادی “ اورانسان کے مجبور نہ ہونے کے مسئلے پربذات خود ایک واضح اور روشن دلیل ہے۔
تعجب ہے کہ آیات کے اس قدر واضح اور روشن ہونے کے باوجود فخرالدین رازی جیسے بعض مفسرین نے مکتب جبر کوترجیح دی ہے اور اپنے مسلک پراصراراورہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے آیت کی دلالت سے انکار کردیاہے اورایسی ایسی باتیں کہی ہیں جوکسی محقق کی شان سے کوسوں دور ہیں ( ۲)۔ 
۱۔ رجفہ ،طاعنیہ، صیحہ اورصاعقہ ۔
۲۔ فخررازی کی تفسیر کبیر کا انہی آیات کے سلسلے میں مطالعہ فرمائیں۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma