آسمانوں اور زمین کی پیدا ئش کے دورا ن

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5

( ستاروں کے ) چراغوں سے مزین کیا اور ( شہابوں کے ذ ریعے شیطانوں کوباتیں چرانے سے روک کرانہیں ) محفوظ فرمایا . یہ ہے زبردست صاحب علم خدا کی تقدیر ۔
آسمانوں اور زمین کی پیدا ئش کے دورا نئے
مندرجہ بالا آیات میں زمین و آسمان کی تخلیق اور موجودات عالم کی آغاز خلقت کے بار ے میں خداوند عالم کی عظمت ، علم اور قدرت کی آفاقی آیات اور نشانیوں کاذکر ہے خداوند عالم اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوحکم دے رہاہے کہ کفار و مشرکین کو مخاطب کرکے ان سے سوال کریں کہ آیا وہ اس خدا وند بزرگ و بر تر کا کیونکہ انکار کرسکتے ہیں جو اتنے وسیع و عریض جہانوں کامبداء ہستی ہے ؟تاکہ اس طرح سے ان کے ضمیر کوجھنجھوڑ کر اور عقل او ر ہوش وحواس کو بیدار کر کے انہیں کرکے انہیں خود ہی فیصلہ کرنے کی دعوت دی جائے۔
ارشاد فرمایاگیاہے : کہہ دے آیاتم اس ذات کاکفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو روز میں پیداکیا (قُلْ اٴَ إِنَّکُمْ لَتَکْفُرُونَ بِالَّذی خَلَقَ الْاٴَرْضَ فی یَوْمَیْنِ )۔ 
” اور کیااس کے لیے نظیر اور مثل قرار دیتے ہو (وَ تَجْعَلُونَ لَہُ اٴَنْداداً َ)۔ 
کتنی بڑی غلطی ہے اور کس قدر بے بنیاد گفتگو ؟
وہ تو تمام جہانوں کاپر ور دگار ہے (ذلِکَ رَبُّ الْعالَمین)۔ 
آیاجوذات اب ان جہانوں کوچلارہی ہے ، وہ اس زمین و آسمان کی خالق نہیں ہوسکتی ؟اگر وہ خالق کائنات اور مدبرعالم ہے توپھر ان بتوں اور بنا وٹی معبودوں کواس کاہم پلہ کیوں قرار دیتے ہو ؟عبادت کے لائق تووہی ذات ہوسکتی ہے جس کے ہاتھ میں اس کائنات کی تخلیق ، تدبیر ،مالکیت اورحکومت ہے۔
اس کے بعد کی آیت میں پہاڑوں کی تخلیق ،زمین کے معد نیات اوراس کی برکتوں اورغذائی مواد کاذکر کرتے ہوئے فر مایا گیاہے : اس نے زمین میں پہاڑ بنائے ، اس میں برکتیں ،اورفائد ے رکھے ہیں اور اس کے اندر مختلف غذائی مواد بھی رکھاہے اور یہ سب کچھ چار دنوں میں تھا (وَ جَعَلَ فیہا رَواسِیَ مِنْ فَوْقِہا وَ بارَکَ فیہا وَ قَدَّرَ فیہا اٴَقْواتَہا فی اٴَرْبَعَةِ اٴَیَّامٍ )۔ 
یہ غذائی مواد ضرورت مندون اور مانگنے والوں کی ضرورت کے عین مطابق ہے (سَواء ً لِلسَّائِلینَ) (۱)۔ 
تواس طرح سے اللہ تعالیٰ نے تمام ضرورت مندوں کی ضروریات کوپیش نظر رکھ کربغیر کم وکاست ان سب کے لیے وہی کچھ پیدا کر دیاجوان کے لےے لازم تھا ، جیساکہ سورہ طٰہٰ کی پچاسویں آیت میں فرمایاگیاہے ۺ
ربّنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدٰی
ہمارا پر وردگا ر تووہ ہے کہ جس نے ہرمخلوق کو اس کی تخلیقی ضرورت کے عین مطابق سب کچھ عطا کر دیاپھر اسے اپنے رستے کی ہدایت کی۔
” سائلین “ سے مراد یہاں پر ممکن ہے کہ انسان ہوں یابطور عام انسان ، حیوان اور نباتات ہوں ، (اور اگر ذوی العقول کی جمع کی صورت میں مذ کور ہوا ہے تو یہ ” تغلیب “ کے لیے ہے )۔ 
اس تفسیر کے مطابق نہ صرف انسانی ضروریات کوپورا کردیاگیا ہے بلکہ زمین میں موجود تمام حیوانات اور نباتا ت کی ضروریات کو بھی پورا کیاگیا ہے اور زندگی کی بقا و دوام کے لیے جوچیز ضروری تھی اسے پیدا کیاگیاہے۔
ایک اہم سوال اوراس کاجواب
مذ کورہ بالاآیات میں بتایاگیا ہے کہ زمین کی آفرینش دودن میں پہاڑوں کی بر کتوں اورغذ اؤں کی آفرینش چار دن میں ہوئی ہے اور انہی آیات کے آخر میں بتا یاگیاہے کہ آسمانوں کی تخلیق دودن میں ہوئی ہے جو مجموعی طو ر پر آٹھ دن بنتے ہیں . جبکہ قرآن مجید کی دوسری بہت سی آیات میں زمین و آسمان کی پیدائش کو چھ دن یا بالفاظ دیگر چھ دو رانیوں میں پیدا کرنابیان ہوا ہے ( ۲) آخر اس کی کیاوجہ ہے ؟
مفسرین نے اس سوال کے دو طرح کے جواب دیئے ہیں :
پہلاجواب جو کہ مشہور ہے یہ ہے کہ : جہاں پر” اربعة ایام “ ( چاردن ) کہاگیاہے وہاں پرمرادچار دنوں کاتتمہ ہے اور وہ اس طرح کہ ان چاردنوں میں سے پہلے دودنوں میں زمین کوپیدا کیاگیااور دوسرے دونوں میں زمین کی دوسری خصوصیات کواوراس کے ساتھ ہی دو دنوں میں آسمانوں کوکہ سب مل کرچھ دن (چھ دوراینے) بنتے ہیں۔
اس قسم کی تعبرات عربی اور فارسی زبانوں میں بہت موجود ہیں . مثلاً کہتے ہیں کہ یہاں سے مکہ تک دس دن کاسفر ہے اور مدینہ تک ۵ ۱ دن کایعنی مکہ سے مدینہ کاسفر پانچ دن کاہے اور یہاں سے مکہ کادس دن کا ( ۳)۔ 
دوسرا جواب جسے بہت کم مفسرین نے انتخاب کیاہے وہ یہ ہے کہ : ” اربعة ایام “ (چار دن ) کاتعلق خلقت کے آغاز سے نہیں ہے بلکہ سال کے چار موسموں ( بہا ر ،خزاں ، سر مااور گر ما) کی طرف اشارہ ہے جو انسانوں اورحیوانوں کے رزق کی پیدائش اور غذ ائی مواد کی پرورش کی طرف اشارہ ہے ( ۴)۔ 
لیکن اس تفسیر سے ایک توان آیات کے جملوں کے درمیان ہم آہنگی برقرار نہیں رہتی ، کیونکہ زمین و آسمان کی تخلیق کے بار ے میں ” یوم “ آغاز ِ پیدائش کے دورانیہ کے معنی میں ہے . اوراس کے مطابق یوم کااستعمال زمین اورغذائی مواد کی خصوصیات کے بار ے میں سال کے چاروں موسم ہیں ، تو پھر بات مکر ر ( دوبارہ ) ہوجائے گی۔
دوسرے یہ کہ اس کانتیجہ یہ ہے کہ آفرینش کے چھ دنوں میں سے صرف دودن زمین کی تخلیق کے اوردودن آسمانوں کی تخلیق کے ہوئے ہیں گفتگو ہوئی ہے لیکن باقی دونوں کے بار ے میں کوئی بات ہی نہیں ہوئی جو آسمان اور زمین کے درمیان مخلوقات ” وما بینھما کی پیدائش سے متعلق ہیں۔
بہرحال پہلی تفسیر کئی لحاظ سے بہتر معلوم ہوتی ہے۔
یہ بات بتانے کی شاید ضر ورت نہ ہو کہ آیات ،مذ کورہ میں ” ایام “ سے مراد یہ عام دن ہر گز نہیں ہیں کیونکہ زمین وآسمان کی پیدائش سے پہلے اس معنی میں دن کاتوبالکل وجود ہی نہیں تھا ، بلکہ اس سے مراد آفرینش کے مختلف دورانیے ہیں جن پرلا کھوں بلکہ کروڑوں سال کا عرصہ بیت چکاہے۔
اس بات کی مکمل وضاحت ہم تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد ( سورہ ٴ اعراف کی ۵۴ ویں آیت کے ذیل ) میں کرچکے ہیں۔
اس مقام پر دو اور نکتے باقی رہ جاتے ہیں جن کی طرف توجہ ضروری ہے۔
پہلایہ کہ ” بارک فیھا “ سے کیا مراد ہے ؟ بظا ہر اس سے زمین کے اندرونی معادن اور وسائل اور بیرونی چیزوں ، درختوں ، نہروں اورپانی کے چشموں وغیرہ کی طرف اشارہ ہے . جوزمین کی تمام زندہ مخلوق کے لیے برکت اور استفادے کا ذ ریعہ ہیں۔
دوسرا یہ کہ ” فی اربعة ایام “ (چار دن میں ) کی تعبیرآیت میں مذ کور کس موضوع کی آفرینش اور تخلیق سے متعلق ہے ؟بعض مفسرین کے نز دیک یہ صرف ” اقوات “ ( غذائی مواد ) سے متعلق ہے جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ آیت کی تینوں اقسام (پہاڑوں ،زمین کے وسائل اور برکات اورغذائی مواد کی تخلیق ) سے متعلق ہے . کیونکہ اگرایسا نہ ہو تو آیات مذ کورہ میں مذکور ” میں ان میں سے بعض امور داخل نہیں ہوں گے اور آیات کے نظام سے بھی مطابقت نہیں ہوگی۔
زمین کی پیدائش اوراس کے ار تقائی مراحل سے متعلق گفتگو کے بعد آسمانوں کی تخلیق سے متعلق گفتگو کی گئی ہے . ار شاد فرمایا گیا ہے : پھر آسمان کی تخلیق کاارادہ فرمایاجبکہ وہ دھواں تھا ، اس وقت زمین اور آسمان سے فرمایا وجود میں آؤ اورصورت اختیار کرو ، خواہ ازروئے اطاعت یاپھر مجبوراً (ثُمَّ اسْتَوی إِلَی السَّماء ِ وَ ہِیَ دُخانٌ فَقالَ لَہا وَ لِلْاٴَرْضِ ائْتِیا طَوْعاً اٴَوْ کَرْہاً )۔
انہوںنے کہاہم از روئے اطاعت وجود میں آئیں گے (قالَتا اٴَتَیْنا طائِعینَ )۔ 
اس وقت خدانے انہیں سات آسمانوں کی صورت میں دو دنوں میں پیدا کیااور مکمل کردیا(فَقَضاہُنَّ سَبْعَ سَماواتٍ فی یَوْمَیْنِ )۔ 
” اور ہر آسمان میں جو کچھ چاہا فرمان دیا“ اوران میں مختلف مخلوقات اور موجودات کوپیداکیااورانہیں نظم وضبط عطاکیا (وَ اٴَوْحی فی کُلِّ سَماء ٍ اٴَمْرَہا )۔ 
” اونچلے آسمان کوستاروں کے چراغوں سے زینت بخشی اور شہابوں کے ذریعے ان کی حفاظت کی تاکہ شیطان باتیں نہ چرا سکیں (وَ زَیَّنَّا السَّماء َ الدُّنْیا بِمَصابیحَ وَ حِفْظاً )۔ 
جی ہاں ! ” یہ ہے خدا وند قاد ر وعلیم کی تقدیر “ (ذلِکَ تَقْدیرُ الْعَزیزِ الْعَلیمِ)۔ 
۱۔ ” سوآء “ اوراسی طرح ” للسائلین “ کااعراب کیابنتا ہے اور یہ کس کلمہ سے متعلق ہیں ؟اس بار ے میں متعد داحتمال ہیں . پہلا یہ کہ ” سواء “ لفظ ” اقوات “ کاحال ہے اور ” للسا ئلین “ ” سواء“ کے متعلق ہے . اس صورت میں اس کانتیجہ مندرجہ بالاتفسیر کی صورت میں نکلے گا . دوسرا یہ کہ ” سواء “ ” ایام “ کی صفت واقع ہورہا ہے یعنی یہ چار دورانئے ایک دوسرے کے بر ابر ہیں . لیکن ” للسائلین “ یاتو ” قدر “ سے متعلق ہوگا یا پھر کسی محذوف کلمہ سے ، جوتقدیر اً یوں ہے ” کائنة للسائلین “ یعنی یہ چاروں سوال کرنے والوں کے لیے جواب ہیں ( لیکن پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے )۔ 
۲۔ ملاحظہ ہوں سورہ ٴ اعراف کی آیت ۵۴ ، سورہ ٴ یونس کی آیت ۳ ،سورہ ٴ ہود کی آیت ۷، سورہ ٴ فرقان کی آیت ۵۹ ، سورہ ٴ سجدہ کی آیت ۴ ،سورہ ٴ ق کی آیت ۳۸ اور سورہ ٴ حدید کی آیت ۴ ۔
۳۔ آیت کی اس تفسیر کے مطابق اس کی تقدیر یوں ہوگی :
وقد ر فیھا اقوا تھا فی تتمة ار بعة ایام
یاجس طرح کہ تفسیر کشاف میں آیاہے :
کل ذالک فی ار بعة ایام
البتہ اگر متعدد آیات میں آفر ینش کاچھ دن کا ذکر نہ ہوتا توایسی کوئی تفسیر بھی قابل قبول نہ ہوتی لیکن قرآن کی آیات دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں اور ایک دوسرے کاقرینہ بنتی ہیں لہذا مندرجہ بالاتفسیر بخوبی قابل قبول ہے۔
۴۔ اس مضمون کی ایک حدیث تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی درج ہے۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma