مشرکین کون ہیں ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5
حسب سابق یہ آیات بھی مشرکین اور کفار کے بار ے میں گفتگو کررہی ہیں اور درحقیقت ان کے کلام کاجواب ہیں جواس سے پہلے آیات میں ذکر ہواہے ان میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے سلسلے میں پیدا ہونے والے ہرطرح کے شک و شبہ کودور کیاجارہاہے۔
ارشاد ہوتاہے : کہہ دو میں توصرف تمہاری طرح کانسان ہوں ، اور یہ حقیقت مجھ پر ہمیشہ وحی ہوتی رہتی ہے کہ تمہارامعبود صرف اور صرف ایک اللہ ہے (قُلْ إِنَّما اٴَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُوحی إِلَیَّ اٴَنَّما إِلہُکُمْ إِلہٌ واحِد)۔ 
میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ہی انسان کے علاوہ کسی اورنسل سے ہونے کامدعی ہوں ، نہ خدا ہوں نہ خدا کا بیٹا ،بلکہ تمہاری طرف کاایک انسان ہوں فرق صرف یہ ہے کہ فرمان توحید ہمیشہ مجھ پر وحی کی صورت میں آتار ہتا ہے . میں نے تمہیں اپنے دین کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا، یہ جوتم کہتے ہو کہ تم میراڈٹ کرمقابلہ کرو گے ، یاتم میری زبر دست مخالفت کروگے ، تمہاری یہ دھمکیاں آخر کس لیے ؟ یہ توایک روشن اورواضح راستہ ہے جو میں تمہیں دکھارہا ہوں . اس کے علاوہ میرا اور فرض بھی نہیں بنتا ، آخری فیصلہ توخود تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔
سلسلہ ٴ کلام جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں : اب جبکہ صورت حال یہ ہے تو تم اپنی تمام تر توجہات اسی معبود یکتا کی طرف مر کوز کر دو اور شرک و گناہ سے توبہ واستغفار کرو (فَاسْتَقیمُوا إِلَیْہِ وَ اسْتَغْفِرُوہُ ) ( ۱)۔ 
پھر انہیں خطرے سے خبر دار کرتے ہوئے فر مایا: اور مشرکین کے لیے خرابی ہے (وَ وَیْلٌ لِلْمُشْرِکین)۔ 
بعد کی آیت مشرکین کاتعارف کرواتے ہوئے اس سلسلے میں ایک جملہ پیش کرتی ہے جوصرف اسی آیت میں منحصر ہے ارشاد ہوتاہے : وہی جوزکوٰة اد انہیں کرتے اورآخرت کے منکر ہیں (الَّذینَ لا یُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ ہُمْ بِالْآخِرَةِ ہُمْ کافِرُون)۔ 
درحقیقت ان کفار و مشرکین کا تعارف دوچیزوں کے ساتھ کرایا جارہا ہے ایک ترک زکوٰة اور دوسری انکار معاد ۔
یہ آیت مفسرین کے درمیان ایک تفصیلی بحث کاسبب بن گئی ہے جس کی وجہ سے انھوںنے اس کی تفسیر میں کئی احتمالات کاذکر کیا ہے . بحث کااصل سبب یہ ہے کہ جب زکوٰة کاشمار دین السلام کے فروع میں ہوتاہے توترکِ زکواة کفر اور شرک کی دلیل کیونکر ہوسکتا ہے ؟
لہذا بعض مفسرین نے آیت کے ظاہری معنی پر کار بندر رہتے ہوئے کہا ہے کہ ترک زکوٰة اگرچہ اس کے وجوب کے انکار پر بھی مبنی نہ ہو پھر بھی کفر کی علامت ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ ترکِ زکوٰة کفر ہے لیکن جب اس کا انکار کیاجائے کیونکہ زکوٰة کاشمار ضرور یات دین میں سے ہوتا ہے اوراس کامنکر کافر ہوتاہے۔
بعض کہتے ہیں کہ یہاں پرزکوٰة طہارت اورپاکیز گی کے معنی میں ہے اور یہاں پر ترک زکوٰة سے مراد لوح دل سے شرک کی آلودگیوں کوترک کرناہے جیساکہ سورہ ٴ کہف کی آیت ۸۱ میں بھی آیاہے :
خیراً منہ ذکوٰة
” ایسا بیٹاجو اس سے زیادہ پاکیزہ ہو “ ۔
لیکن یہ بات اس لیے مشکل بن جاتی ہے کہ یہاں پر ” لایئو تون “ ( ادانہیں کرتے . نہیں دیتے ) کاکلمہ آیاہے جواس معنی سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا ۔
بنابریں اس کے سوااور کوئی چار ہ نہیں رہ جاتا کہ یہاں پر زکوٰة کی ادائیگی مراد لی جائے۔
ایک اور مشکل یہ بھی درپیش ہے کہ زکوٰة ہجرت کے دوسرے سال مد ینے میں شرعی حیثیت حاصل ہوئی اور یہ آیات مکی ہیں . حتٰی کہ بعض بزرگ مفسرین کے بقول یہ سورہ مکہ میں نازل ہونے والی سب سے پہلی سورت ہے . لہذا وہ اس مقام پر زکوٰة کامعنی ” راہ ِ خدا میں ہرقسم کاانفاق “ لینے پر مجبور ہوگئے اور انہوںنے اس کی یہی تفسیر کی ہے . یاپھر یہ کہنے پرمجبور ہوگئے کہ وجوب زکوٰة کااصل حکم تو مکہ میں نازل ہوچکاتھا ،لیکن اس کی حدو حدود ، نصاب اور مقدار کی تفصیل ہجرت کے درسرے سال نازل ہوئی۔
بہرحال جوچیز یہاں پر پرمفہوم آیت کے زیادہ نزدیک معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زکوٰة سے مراد وہی عام انفاق ہے اوراسے ترک کرناشرک کی علامتوں میں سے اس لیے شمار کیاگیاہے کہ راہ خدا میں مال کاخرچ کرنا ، ایثار ،فدا کاری اورخدا کی ذات سے عشق ومحبت کی ایک نشانی ہے اس لیے کہ انسان کے نزدیک مال ، دنیا کی محبوب ترین چیزوں میں سے ایک ہے اور راہ خدا میں خرچ کرنااور نہ کرنا بہت سے مقامات پر ایمان اور شرک کی واضح علامت بن سکتی ہے . حتٰی کہ کبھی بعض لوگ تواسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز سمجھتے ہیں ، اس کی مثالیں ہم نے اپنی زندگی میں کئی مقامات پر دیکھی ہیں۔
دوسرے لفظوں میں لایئو تون الزکوة سے مراد راہ ِ خدا میں خرچ نہ کر ناہے جوان کے خداپر ایمان نہ لانے کی علامت ہے اسی لیے اس کاذکر معاد پر ایمان نہ لانے کے ساتھ کیاگیا ہے ، یاپھر اس سے مراد زکوٰة کی عدم ادائیگی اس کے وجوب کے انکار کے ساتھ ہے۔
ایک اور نکتہ جو تفسیر کی وضاحت کے لیے معاون ثابت ہو سکتاہے وہ یہ ہے کہ اسلامی احکام میں ’ ’ زکوٰة “ کااپناایک خاص مقام ہے جس کی ادائیگی اسلامی حکومت کو تسلیم کرنے کی علامت ہوتی ہے اور عدم ادائیگی عموماً اسلامی حکومت کے خلاف قیام ، طغیان اور سر کشی شمار ہوتی ہے اور معلوم ہے کہ صحیح اسلامی حکومت کے خلاف قیام کفرکاموجب ہوتاہے۔
اس بات کی شہادت اس واقعہ سے ملتی ہے جوتاریخ اسلام میں ” اصحاب ردہ “ (وہ گروہ جوبعد وفات پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرتد ہوگئے ) کے بار ے میں آیاہے یہ لوگ بنی طے بنی غطفان اور بنی اسد کے قبائل سے تھے جنہوںنے حکومت ِ اسلامی کے کارندوں کوزکوٰة دینے سے انکار کیا . اور حکومت کے خلاف بغاو ت کی . قرآن پر ثابت قدم مسلمانوں نے ان کے ساتھ جنگ کی اوران کوکچل دی۔
یہ ٹھیک ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت ابھی اسلامی حکومت تشکیل نہیں پائی تھی لیکن پھر بھی مندرجہ بالا مطلب کی طرف ایک مجمل سااشارہ ہوسکتا ہے۔
کتبِ تورایخ میں مذ کور ہے کہ وفات پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعداہل ردہ نے کہا : اماالصلاة فنصلی ، واما الز کاة فلا یغصب امو النا : ” ہم نماز پڑھتے ہیں لیکن زکوٰة کے بار ے میں ہم اجازت نہیں دیں گے کہ ہمارے مال کوغصب کیاجائے “ ۔
نتیجہ کے طور پر مسلمانوں نے فیصلہ کیاکہ اس جماعت کے ساتھ جنگ کریں کیونکہ وہ اس امر کوان کے ازندادپرمحمول کرتے تھے ( ۲)۔ 
اسی سلسلے کی آخری آیت میں ایسے لوگوں کاتعارف کروایا جارہاہے جوان بخیل اور بے ایمان مشرکین کے بر عکس صفات کے مالک ہیں اور ان کی جزا کاذکر کیاجا رہاہے کہ ” جولوگ ایمان لے آئے اور انہوںنے اعمال صالحہ انجام دیئے ان کے لیے دائمی اور منقطع نہ ہونے والا اجر ہے (إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَہُمْ اٴَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُون)۔  
” مَمْنُون“ ” من “ کے مادہ سے ہے جس کامعنی یہاں پر قطع ( کاٹنا ) اور نقص ( کم نا) ہے . لہذا ”غَیْرُ مَمْنُون “ کامعنی”غیرمقطوع“ اورغیرناقص . اور بعض مفسرین نے ” منون “ ( بروزن ” زبون “ کے لفظ کو بھی اسی مادہ سے سمجا ہے ، جس کامعنی موت ہے ،اسی طرح ” منت جتانے “ کوبھی اسی مادہ سے لیاہے . کیونکہ پہلامعنی زندگی کے مقطع ہوجانے اور انہتائی کا ہے اور دوسرامعنی ہے نعمت اور شکر کو قطع کردینا ( ۳)۔ 
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں پر ”غیر ممنون “ سے مراد یہ ہے کہ مو منین پر اس اجر کی کوئی منت نہیں جتائی جائے گی . ( لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے )۔
۱۔ ” فَاسْتَقیمُوا“ ” استقامت “ کے مادہ سے ہے اور یہاں پرکسی چیز کے سامنے سیدھاکھڑاہونے کے معنی میں ہے . اسی لیے لفظ ” الی “ کے ساتھ متعدی ہواہے کیونکہ اس میں ” استواء “ کامعنی پایا جاتاہے۔
۲۔” تفسیر ابو لافتوح ‘ ‘ جلد ۱۰ ،ص ۹ زیر بحث آیات کے ذیل میں۔
۳۔ دیکھئے ” مفر داتِ راغب“ مادہ ” من “ ۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma