مبارک رات میں قرآن کانزُول

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

اس سُورت کے آغاز میں بھی گزشتہ چار ا اور آ ئندہ دوسورتوں کی طرح ، جومجموعی طورپر سات سُور تیں بنتی ہیں ہم ایک بارپھر حروفِ مقطعات (حٰم )کی زیارت کررہے ہیں.حروفِ مقطعات کے بارے میں ہم پہلے ہی تفصیل کے ساتھ مکمل تفسیر بیان کر چکے ہیں ( ۱) ۔
خصوصی طورپر ” حٰم“کے بارے میں ” حوامیم “میں سے پہلے سُورت(موٴ من )اور پھر سُورت ” حٰم سجدہ “کے آغاز میں تفصیلی گفتگو ہوچکی ہے ۔
یہاں پر یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس مقام پربعض مفسرین نے ” حٰم “کی قسم کے معنی سے تفسیر کی ہے . یعنی اس جگہ دو قسمیں بیان ہورہی ہیں ، ایکاسی ” حٰم “کے ساتھ اور دوسری بعد کی آ یت میں ” کتاب مبین “کے ساتھ. دونوںقسمیںپے در پے اورایک دوسرے کے ساتھ مُناسبت رکھتی ہیں ایک تو” حٰم“ کے حر فوں کے ساتھ قسم اور دوسر ی اس مقدس کتاب کے ساتھ قسم جس نے ان جیسے حروف سے ہی کتاب کی شکل اختیار کی ہے ۔
اس سُورت کی دوسری آ یت میں ، جیساکہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں ، ” قرآن مجید “کی قسم کھائی گئی ہے کہ ”قسم ہے اس آشکارکتاب کی “ (وَ الْکِتابِ الْمُبینِ ) ۔
ایسی کتاب جس کے مندرجات روشن ، جس کے معارف آشکار ، جس کی تعلیمات زندہ ، جس کے احکام تعمیر ی اور جس کے پرو گرام منظم اور جچے تلے ہیں.ایسی کتا ب جو اپنی حقانیت کی آپ دلیل ہے، آفتاب آمد دلیل آفتاب ( ۲) ۔
اب دیکھنایہ ہے کہ یہ قسم کس لیے کھائی گئی ہے ؟بعد والی آ یت اس حقیقت کوواضح کرتے ہُوئے کہتی ہے یقیناہم نے قرآن مجید کو ( جوپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی حقانیت کی دلیل ہے )مبارک رات میں نازل کیا ہے (إِنَّا اٴَنْزَلْناہُ فی لَیْلَةٍ مُبارَکَةٍ ) ۔
” مبارک “ ” برکت “کے مادہ سے ہے ، جس کامعنی ہے،سُود مند ، نفع بخش اور دائمی۔
یہ کونسی رات ہے جو تمام اچھائیو ں کا مبداء اور پا ئیدار خوبیوں کاسرچشمہ ہے .اکثر مفسرین نے اس سے شبِ قدر مراد لی ہے.یہ ایسی بابرکت را ہے جس میں عالم بشریت اور دُنیائے انسا نیّت کی تقد یر قرآن کے نزُول کی وجہ سے نیار ن اختیار کرگئی ہے ، ایسی رات جس میں مخلُوق کاانجام اوراس کی تقدیر یکساںطورپرقلم بند کی جاتی ہے . جی ہاں! قرآن ایسی تقدیرساز رات میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاک و پاکیزہ دل پراُتر ا ۔
یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ آ یت سے بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ تمام قرآن شب قدر میں نازل ہوا ۔
لیکن اس کے نزُول کااصل مقصد کیاہے، وہی جس کی طرف اسی آ یت میں اشارہ ہواہے کہ ” ہم ہمیشہ سے ڈ رانے والے تھے “(إِنَّا کُنَّا مُنْذِرین) ۔
یہ ہمارا دیر ینہ طریقہ کارہے کہ ہم اپنے انبیاء اور رسُولوں کوظالموں اور مشر کوں کے ڈ رانے کے لیے مامُور کرتے آئے ہیں اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوکتاب دے کو بھیجااسی سِلسلے کی آخر ی کڑ ی ہے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ انبیائے اکرم ” انذار “( ڈ رانے )کے لیے آ تے ہیںوہ ” بشارت “( خوشخبر ی دینے )کے لئے بھی ہوتے ہیں ، لیکن چونکہ ظالم اور مجرم لوگوں کے لیے اُن کی دعوت کی اصل بنیاد و زیادہ تر انذار اور ڈ رانے پر ہی استوار ہوتی ہے لہٰذا انذار پر زیادہ زور دیا گیاہے ۔
قرآن دفعتاً ناز ل ہُوٴ ا ہے یا تد ریجی طو ر پر ؟
اس سلسلے میں مندرجہ ذیل امور غور طلب ہیں :
۱۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی نبوّت کے ۲۳ سالہ دور میں نازل ہوتارہاہے پھر یہ کہ قرآن مجیدکے مضامین ایسے ہیں جن کا پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور مسلمانوں کی ۲۳ سالہ زندگی کے مختلف واقعات سے تعقل ہے ۔ اگر ان واقعات سے تعلق ہے .اگر ان واقعات کو قرآن مجید سے جدالیاجائے تووہ بے معنی ہوجائیں ۔
اس صراحت کے پیشِ نظر یہ معلوم کرناہے کہ قرآن مجید شبِ قدر میںمکمل طورپر کس طرح نازل ہوا ؟
اس سوال کے جواب میں بعض مفسرین نے قرآن کایہاں معنی آغازِنُزول قرآن کیاہے .لہذا یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اس کاآغاز توشبِ قدر میں ہوا اور ۲۳ سال تک اس کے نزُول کاسِلسلہ جاری رہا ۔
لیکن جیسا کہ ہم بتاچکے ہیں یہ تفسیر زیر نظر آیت اوردوسر ی آ یات کے ظاہری معنی سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔
اس سوال کاجواب معلوم کرنے کے لیے اس بات کی طرف توجہ کرناہوگی کہ آ یت میں ایک طرف تویہ ہے کہ ” قرآن مبارک رات میں نازل ہُوا ہے“ جب کہ دوسری طر ف سُورہ بقرہ کی ۱۸۵ ویں آ یت میں ہے :
”شَہْرُ رَمَضانَ الَّذی اٴُنْزِلَ فیہِ الْقُرْآن“
” مادہ رمضان میں روزے رکھّا کرو ،یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اُترا ہے ۔
جب کہ سُورہ ٴ قدر میں ہے :
”إِنَّا اٴَنْزَلْناہُ فی لَیْلَةِ الْقَدْر “
” ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیاہے “۔
مجموعی طورپر ان آ یا ت سے یہ بات بخو بی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ وہ مبارک رات جوزیر تفسیر آ یت میں ذکرہو تی ہے شبِ قدر سے آگاہ تھے ، جیساکہ سُورہ ٴ طٰہٰ کی ۱۱۴ویں آ یت میں ہے :
’ ’وَ لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ اٴَنْ یُقْضی إِلَیْکَ وَحْیُہُ “
” وحی کے نازل ہونے سے پہلے قرآن کے بارے میں جلد نہ کیجیے ٴ ۔
اور اسی طرح سُورہٴ قیامت کے ۱۶ ویں آ یت میں ہے :
”لا تُحَرِّکْ بِہِ لِسانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ‘ ‘
-- -- -” اپنی زبان کوقرآن کے لیے جلدی جلدی حرکت نہ دیں “۔
ان تمام آ یات کو ملاکر جونتیجہ اخذ کیاجاسکتاہے وہ یہ ہے کہ قرآن کے نزول ک دوطریقے تھے . ایک ” دفعتًا نزُول “ کہ ایک ہی مرتبہ مجمو عی صُورت میں خدا کی طرف سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پاک دِل پرماہ ِ رمضان المبارک کی شب قدر میں نازل ہوا اور دوسرا ” تد ریجی نزُول “جو حالات ، واقعات اورضر وریات پیشِ نظر ۲۳ سال تک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )پر نازل ہوتارہا ۔
اس بات کاایک اور گواہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی بعض آ یات میں ” انزال “اور بعض میں نزُول کالفظ استعمال ہوا ہے بعض لغات سے معلوم ہوتاہے کہ ” تنزیل “ کااطلاق عام طورپر ایسے مواقع پر ہوتاہے جہاں پر تد ریجی طور پرنازل ہونا مقصود ہوتاہے لیکن ” انزال “ کامفہوم وسیع ہے جو تد ریجی اور دفعتاً دونوں طرح کے نزول کامعنی دیتاہے ( ۳) ۔
اوریہ بات بھی بڑی لائق توجہ ہے کہ مندرجہ بالا تمام آ یات میںجہاں پر قرآن کے ماہ رمضان اور شبِ قدر میں نازل ہونے کا ذکر ہے وہاں پر ” انزال “ کے کلمہ کااستعمال ہوا ہے جو ” دفعتاً نزُول “ کے معنی سے ہم آہنگ ہے اور جہاں پر ” تد ریجی نزُول کی بات ہوئی ہے وہاں پرصرف ” تنزیل “ کاکلمہ استعمال ہواہے ۔
لیکن قلبِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پر ” وفعتاً نزُول “کس صُورت میں ہوا ؟ آ یااسی موجُودہ قرآن کی صُورت میں یامختلف آ یات اور سُورتوں کی صُورت میں ؟ یاان کے مجموعی مفہوم اورحقائق کی صُورت میں؟
اس بار ے میں بات پوری طرح واضح نہیں ہے .مندرجہ بالاقر ینے سے صرف اسی قدر بات سمجھی جاسکتی ہے کہ ایک مرتبہ تویہ قرآن پاک پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مقدس قلب پر ایک ہی رات میں نازل ہوا اور دوسری مرتبہ ۲۳ سال کی تدریجی مدّت میں ۔
۲۔اس بات کاایک اور شاہد یہ بھی ہے کہ زیر بحث آ یت میں قرآن کے لفظ سے مراد تمام قرآن مجید ہے . یہ ٹھیک ہے کہ قرآن کالفظ ” کل “اور ” جز و “ دونوں کے لیے بولاجاسکتاہے ،لیکن اس بات سے انکار بھی نہیں کیاجاسکتا کہ جب تک کہ اس لفظ کے سات کوئی اورقرینہ موجُود نہ ہو اس وقت تک اس سے مراد تمام قرآن مجید ہے ۔
بعض مفسرین نے زیر تفسیر آ یت کا مفہوم ” نزول قرآن کاآغاز “لیاہے اور کہاہے کہ قرآن کی سب سے پہلی آ یت ماہِ رمضان کی شب قدر میں نازل ہوئی . یہ تفسیر آ یت کے ظاہری معنی کے بِالکل خلاف ہے ۔
اوراس سے بھی کمزور ترا ان لوگوں کاقول ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ” چونکہ سُورہ ٴ حمد تمام قرآن کانچوڑ اورخلاصہ ہے اور وہ شبِ قدر میں نازل ہوئی ہے ، لہذا اسے ” إِنَّا اٴَنْزَلْناہُ فی لَیْلَةِ الْقَدْر“کہا گیاہے ۔
یہ سب کے سب احتمالات قرآن کی آ یات کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہیں کیونکہ آ یات کے ظاہر سے معلُوم ہوتاہے کہ تمام قرآن شبِ قدر میں نازل ہوا ہے نہ کہ اس کا کچھ ُ حصّہ ۔
یہاں پر ایک چیزباقی رہ جاتی ہے اوروہ یہ کہ تفسیر علی بن ابراہیم میںحضرت امام محمد باقر امام جعفر صادق اورامام مُوسٰی کاظم علیہم السلام سے بہت سی روایات درج کی گئی ہیں جوانہوں نے ” إِنَّا اٴَنْزَلْناہُ فی لَیْلَةِ الْقَدْر“ کی تفسیر میں ارشاد فرمائی ہیں . ان میں سے ای یہ بھی ہے :
’ ’ ھی لیلة القد انزل اللہ عزو جلّ القراٰن فیھا الی البیت المعمور جملة واحدة ،ثُمّ نزل من البیت المعمور علی رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی طول عشرین سنة “ ۔
” اس مبارک رات سے مراد شبّ قدر ہے ، جس میں خدا ئے بزرگ و برتر نے قرآن کو ایک ہی مرتبہ ” بیت المعمور “ کی طرف نازل کیاپھر بیس سال کے عرصے میں رسُول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر تدریجی طورپر نازل فر ماتارہا“۔
یہاںپریہ بات قابلِ وجہ ہے کہ اس روایت میں قرآن مجید کے دفعتاً نزُول کے بارے میں ” انز ل “ اور تد ریجی نزُول کے بارے میں ” نزل “ کے کلمات استعمال ہُو ئے ہیں ( ۴) ۔
” بیت المعبور “ کہاں واقع ہے ؟ اس بارے میں متعدد روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ آسمانوں میں خانہ کعبہ کے مقابلے میں ایک گھر ہے جوفرشتوں کی عبادت گاہ ہے ، اور روزانہ ستّر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں ، جوقیامت تک اس کی طرف واپس نہیں پلٹیں گے ۔
اس کی تفصیل انشاء اللہ سورہٴ طُور کی آیت نمبر ۴ میں بیان ہوگی ۔
لیکن سوال یہ پیداہو تاہے کہ ” بیت المعمور “ کون سے آسمان میںواقع ہے ؟ اس بارے میں مختلف روایات میں ہے کہ وہ چوتھے آسمان پر ہے اور بعض روایات میں ہے کہ آسمان اوّل (آسمان دنیا) میں ہے اور بعض دوسری روایات میں ساتو یں آسمان سے متعلق بتایاگیا ہے ، مرحوم طبرسی ۺ نے تفسیر ” مجمع البیان “ میں سُورہ طُور کی تفسیر میںحضرت علی علیہ السلام سے بیت المعمُور کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے :
” ھو بیت فی السّماء الرّا بعة بحیال الکعبة معمرة الملا ئکة بما یکون منھا فیہ من العبادة ،وید خلہ کُلّ یوم سبعون الف ملک ثُمّ لا یعودون الیہ ابداً “ ۔
” وہ خانہ کعبہ کے مقابلہ میں چوتھے آسمان میں واقع ہے ، رو ز انہ سترہزار ایسے فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں کہ جوپھر تا ابد اس کی طرف نہیں آ ئیں گے “ (۵) ۔
صورتِ حال خواہ کچھ ہو ، قرآن مجید کا شبِ قدر میں مکمل طورپر بیت المعمور کی طرف نازل ہوناا س بات کے منافی نہیں ہے کہ رسُول ِ پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس سے باخبر تھے ، کیونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوحِ محفو ظ جو خدا کامخفی علم ہے کے سوا دوسرے تمام عالموں سے آگاہ ہیں ۔
بالفاظ دیگر تمام مذ کورہ آیات سے جو بات سامنے آ تی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم دو مرتبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا ، ایک مرتبہ ” دفعتاً نزُول “ کی صُورت میں اور دوسری مرتبہ ” تد ریجی نزُول “ کی صُورت میں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۲۳ سال کے عرصے میں نازل ہوتارہا ، یہ بات مندرجہ بالا حدیث کے منافی بھی نہیں ہے ، جس میں بتایاگیاہے کہ قرآن پاک شب قدر میں بیت المعمُور پرنازل ہوا ، کیونکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کاقلب مبارک ، ’ ’ بیت المعمور “ سے بھی تو آگا ہ ہے ۔
اس سوال کے جواب سے ایک اورسوال کاجواب بھی واضح ہوجاتاہے .سوال یہ ہے کہ اگرقرآن مجید شبِ قدر میں نازل ہوا ہے تو پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تاریخ بعثت سے کِس طرح مطابقت رکھتاہے ؟ جبکہ مشہور روایات کی بناء پر تاریخ بعثت ۲۷ / رجب ہے ، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کادفعتاً نزُول تومارہ رمضان المبارک میں ہوا ہے اور ۲۷ رجب میں اس کاتدریجی نزُول شروع ہوا ہے ، لہذا اس صُورت میں کوئی مسئلہ غیر واضح نہیں رہتا ۔
بعد کی آ یت میں شب قدر کی توصیف اور توضیح ہے ، ارشاد ہوتاہے : شب قدر وہ رات ہے جس میں ہرامر خداکی حکمت کے مطابق تفصیل کے ساتھ مرتب ہوتا ہے (فیہا یُفْرَقُ کُلُّ اٴَمْرٍ حَکیم) ۔
” یفرق “ کے لفظ کے ساتھ اس بات کی طرف ارشاد کیاگیاہے کہ اس رات میں تمام تقدیر ساز امور اورمسائل مقدر میں لِکھ دیئے جا تے ہیں اور” حکیم “ کالفظ اسی خدائی تقدیر کے استحکام کے ناقابلِ تغیّر اوراس کے محکم ہونے کو بیان کررہاہے . البتہ قرآن مجید میں یہ صفت عام طورپر خداوند تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتی ہے اگرکسی اور چیز کو اس سے متصف کریں تو یہ اس کی تاکید کے لیے ہوگا ( ۶) ۔
یہ بیان اور بہت سی روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جن میں کیاگیاہے کہ شب قدر میں تمام لوگوں کی سال بھر کی تقدیر لکھ دی جاتی ہے اوررزق اورعمر وغیرہ بھی اسی رات کو معیّن کردیئے جاتے ہیں ۔
شب قدر سے متعلق تمام اُمور پر سُورہٴ قدر کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے گی اور بتا یا جائے گا کہ انسان کااپنا ارا دہ خدا کی تقد یر اور مشیت سے متصادم نہیں ہوتا ۔
بعد کی آ یت میں اس بات کی ایک بار پھر تاکید کی گئی ہے کہ قرآن مجید خدا کی جانب سے ہی ہے ، چنانچہ خداتعالیٰ فرماتاہے : شب قدر میں قرآن کانزُول ہماری طرف سے ایک حکم تھا اور ہم ہی نے پیغمبر اسلام کومبعوث کیااور بھیجاہے (اٴَمْراً مِنْ عِنْدِنا إِنَّا کُنَّا مُرْسِلین ) ( ۷) ۔
پھر نزول قرآن ، ارسال ِ پیغمبر اور شب قدر میں تمام چیز وں کی تقدیر کے اصل سبب کو بیان کرتے ہوئے فرماتاہے : یہ سب تمہارے پروردگار کی رحمت کی وجہ سے ہے (رَحْمَةً مِنْ رَبِّکَ) (8) ۔
جی ہاں ! اس کی تاکید پیداکنا ر رحمت اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ اپنے بندوں کوان کے حال پر نہ چھوڑ دے ، بلکہ ان کے لیے کوئی پرو گرام اوررہنما بھیے تاکہ وہ ان کی ہر ہر موڑپر ارتقاء اور خداکی جانب رہنمائی کرے ، بنیادی طورپر کائنات کی ہر چیز اس کی بے انتہائی رحمت سے فیض یاب ہورہی ہے ،لیکن انسان باقی چیزوں سے زیادہ اس رحمت کامشمول ہے ۔
اسی آ یت کے آخر میں اور بعد کی دوسری آ یات میں خداوندِ عالم کی سات صفات کاتذکرہ ہے جو سب کی سب اس کے مقام وحدانیت کو بیان کرتی ہیں ، ارشاد ہوتاہے :و ہ بے شک بڑا سنےے والا اورجاننے والا ہے ( إِنَّہُ ہُوَ السَّمیعُ الْعَلیم) ۔
وہ اپنے بندوں کی دعاؤں اور درخواستوں کوسنتاہے اوران کے رازوں سے آگاہ ہے ۔
پھر تیسر ی صفت بیان کرتے ہُوئے فرمایاگیاہے : وہ ایساخدا ہے جوآسمانوں اور زمین اورجوکچُھ ان دونوں کے درمیان ہے ، سب کا پروردگار ہے ، اگر تم اہل یقین ہو (رَبِّ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ وَ ما بَیْنَہُما إِنْ کُنْتُمْ مُوقِنینَ) ( ۹) (۱۰) ۔
” ان کنتم من اھل الیقین اوفی طلب الیقین علمتم ان اللہ رَبِّ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ وَ ما بَیْنَہُما “ ۔
چونکہ بہت سے مشرکین کئی خدا ؤں اورکئی ارباب کے قائل تھے اور ہرنوع کے لیے علیٰحدہ رب کا عقیدہ رکھتے تھے اور ممکن تھاکہ گذشتہ آیت میں ” رَبِّ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ وَ ما بَیْنَہُما“ کہہ کر باقی تمام خداؤں پر خط تنسیخ کھینچ دیاگیاہے اورواضح کر دیاگیا ہے کہ تمام موجو داتِ عالم ایک ہی ربّ ہے ۔
” إِنْ کُنْتُمْ مُوقِنین“ (اگرتم اہل یقین ہو ) کاجُملہ جوجُملہٴ شرطیہ کی صُورت میں آ یاہے ، یہ سوال ذہن میں پید کررہا ہے کہ آ یا پر وردگار عالم کی ربو بیّت ایسی شر ط سے مشروط ہے ؟
لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ اس جُملے کے ذکر سے مندرجہ ذیل امُور میں سے کوئی ایک یاددونوں اُمور مقصُود ہیں ۔
ایک تو یہ کہ اگرتم یقین کے طلب گار ہو تو اس کاواحد راستہ یہی ہے . واحد راستہ یہی ہے کہ تم پروردگار عالم کی ربوبیّت مطلقہ کے بارے میں غو ر وفکر سے کام لو ۔
دوسرایہ کہ ” اگرتم اہل یقین ہو تو بہتر ین یقین پیدا کرنے کا مقام یہی ہے ، اگر تم تمام کا ئنات میں خدا کی ربوبیّت کے آثار دیکھ رہے ہواور ہر ذرّے کے دل کوشگافتہ کرکے اس میں اس کی ربوبیّت کے نشان پا تے ہو ، پھر بھی اس کی ربو بیّت پر یقین نہیں رکھتے تو پھر کائنات کی کس چیز پر ایمان اور یقین پیدا کرو گے ؟
چوتھی ، پانچو یں اور چھٹی صفت کو بیان کرتے ہُوئے فرمایاگیاہے : اس کے سواکوئی معبُود نہیں وہی جلا تا اور مارتاہے (لا إِلہَ إِلاَّ ہُوَ یُحْیی وَ یُمیتُ ) (۱۱) ۔
تمہاری زندگی اورموت اُسی کے ہاتھ میں ہے ،تمہارااور تمام کائنات کاپروردگار وہی ہے .اسی لیے اسی کے بغیر کوئی معبُود ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، آ یا جس کے پاس نہ تو ر بو بیت کاعہدہ ہے اور نہ ہی موت وحیات کامالک ہے : وہ معبُود بن سکتاہے ؟
ساتویں اورآخر ی صفت بیان کرتے ہُوئے فرمایاگیاہے : تمہارا پروردگار اور تمہارے اگلے باپ داداکا بھی پر وردگار ہے (رَبُّکُم وَ رَبُّ آبائِکُمُ الْاٴَوَّلین) ۔
اگر بُت پرستی کے جواز کے لیے تمہاری دلیل یہ ہے کہ تمہارے باپ داد اان کی پرستش کیاکرتے تھے تو تمہیںمعلوم ہونا چاہیئے ، کہ ان کا پروردگار بھی خدائے وحدہ ٴلا شریک ہے ، لہٰذاتمہارا اپنے آ با ؤاجداد سے یہ تعلق بھی اسی بات کامتقاضی ہے کہ خد ا ئے واحد و یکتاکے علاوہ کسی کے آستان پر سرنہ جھکاؤ اوراگران کابھی اس کے علاوہ کوئی اور راستہ تھا تووہ بھی یقیناغلطی پر تھے ۔
واضح سی بات ہے کہ موت اورحیات کاتعلق بھی پروردگار عالم کی تد بیرسے ہے ، اگر اس نے اسے خصوصی طور پر ذکر کیا ہے تواس کی وجہ اسے خاص طورپر اہمیت دینا ہے اورحتمی طورپر معادکی طرف بھی اشارہ ہے . یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ قرآن مجید نے موت و حیات کامسئلہ بیان کیا ہے ، بلکہ کئی مرتبہ اسے خد ا وند ِ عالم کے مخصوص افعال میں سے ایک فعل کی صُورت میں بیان کیاجاچکاہے کیونکہ یہ انسانی زندگی کاتقدیر ساز اورکائناتکاایک پیچیدہ ترین مسئلہ ہے اور قدرت الہٰی کی ایک روشن تر ین دلیل ہے ۔
قرآن مجید کاشب قدر سے رابط
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ مند رجہ بالا آیات میں اشارے کے طورپر اور سُورہٴ قدر میں صراحت کے ساتھ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ قرآن مجید شب قدر میں نازل ہوا ہے اور یہ بات کس قدر معنیٰ خیز ہے ۔
یہ ایسی رات ہے جس میں بندوں کی تقدیر اور رزق وروزی مقدر کی جاتی ہے ، اسی رات کورسولِ پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مقدس اورپاکیزہ قلب پرقرآن نازل ہوا ، آ یا اس کا یہ معنی تو نہیں کہ تم لوگوں کی تقدیر اورانجام اسی آ سمانی کتاب کے مندر جات ہی سے مربوط اور متعلق ہے اوران کاآپس میں نزدیکی رابط ہے ۔
آ یا اس کلام کامفہوم یہ نہیں ہے کہ صرف تمہار ی معنوی زندگی کاہی نہیں بلکہ مادی زندگی کا بھی اس سے اٹوٹ رابط ہے ،دشمنوںپر تمہار ی آزادی ، سرفرازی اوراستقلال اور تمہار ی بستیوں اور شہروں کی آ باد ی اسی سے وابستہ ہے ۔
جی ہاں ! جس رات میں کائنات کی تقدیر متعین ہوتی ہے اسی رات میں یہ نازل ہو ا ہے ۔
۱۔اس بارے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل سُورہ ٴ بقرہ کے آغاز ، تفسیر نمونہ جلد ۲، سُورہٴ آ ل ِ عمران کے آغاز اور جلدششم سُورہٴ اعراف ک آغاز کا مطالعہ فر مائیے ۔
۲۔قرآن مجید کی قسموں کے فلسفلے اوران کے اہداف ومقاصد کے بارے میں انشاء اللہ ہم آخر ی پارے کی تفسیر میں تفصیل سے بحث کریں گے جس کی بہت سی آ یات میںقسموں کاذکر ہے ۔
۳۔مفردات راغب مادہ ” نزل “ کامطالعہ فرمائیں ۔
۴۔ تفسیر نورالثقلین جلد ۴ ،ص ۶۲۰ اس حدیث میں قرآن تد ریجی نزُول کی مدّت بیس سال تبائی گئی ہے ، جب کہ ہم جانتے ہیں کہ نبوّت کا دورانیہ کہ جس میں قرآن نازل ہوا ہے ۲۳ سال ہے ، ممکن ہے کہ یہ تعبیر یا تو راوی کی طرف سے غلط فہمی کی وجہ سے ہے یا پھرحدیث کے نسخو ں میں غلطی واقع ہو ئی ہے ۔
۵۔ تفسیرمجمع البیان جلد ۹ ،ص ۱۶۳ مرحوم علامہ مجلسی ۺ نے بحارالا نوار جلد ۵۸ ،ص ۵۵ پر ” بیت المعمور “ سے متعلق روایات کو جمع کیاہے ۔
۶۔ تفسیر ” المیزان “ میں اس آ یت کی ایک اور تفسیر بیان ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ، اس کائنات کے امُور دو مراحل پرمشتمل ہیں ، ایک اجمال اور ابہام کامرحلہ جسے ” حکیم “ سے تعبیر کیاگیا ہے اوردوسرا تفصیل اورکثرت کامرحلہ جسے ” یفر ق “ سے تعبیر کیاگیاہے ( جلد ۱۸ ،ص ۱۴۰) ۔
۷۔ ” اٴَمْراً مِنْ عِنْدِن...“ کا جُملہ اعراب کے لحاظ سے کیاواقع ہورہاہے اور گزشتہ آ یات کی کس بحث سے اِس کا تعلق ہے ؟ اس بارے میں کئی احتمال ذکر کئے گئے ہیں جن میں سے زیادہ مناسب یہی ہے کہ ” اٴَمْراً مِنْ عِنْدِنا“ اِنّا انزلنا ہ “ میں موجود مفعول کی ضمیر کاحال واقع ہو رہاہو ، جس کامعنی یہ ہوگا کہ ” ہم نے قرآن کو نازل کیا ، جب کہ یہ ہماری طرف سے ایک امر ہے “ اوراس صورت میں انّا کنامرسلین “ کے جُملہ سے مکمل طورپر ہم آہنگ بھی ہے جسم میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کاتذ کرہ ہے ۔
نیز یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ” کل امر حکیم “ کی وضاحت ہو اوراس کی نصب اوراختصاصی ہے اورایسی صُورت میں اس کامعنی ی ہوگا ” اعنی بھٰذاالا مرا مراً حاصلاً من عندنا “ ۔
۸۔ ”رَحْمَةً مِنْ رَبِّک “ یاتو ” انّاانزلنا ہ “ کا مفعول لہ ، ہے یا ”یُفْرَقُ کُلُّ اٴَمْرٍ حَکیم“کامفعولہ ، ہے یا دونوں کامفعولہ ، ہے ۔
۹۔ اس آ یت میں ” رب “ کا کلمہ گزشتہ آ یت میں مذکور ’ ’ رب “ کا بدل ہے ۔
۱۰۔ ” إِنْ کُنْتُمْ مُوقِنینَ“ جملہ شرطیہ ہے اوراس کی جزاء محذُوف ہے جو تقد یری طورپر یُوں ہے ۔
۱۱۔ ’ ’ لا إِلہَ إِلا “ کا جُملہ ممکن ہے کہ جُملہ استینا فیہ ہو اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ مبتداء محذوف کی خبر ہو جس کی تقدیر یہ ہو ۔
”لا إِلہَ إِلاَّ ہُوَ“
لیکن پہلا امکان زیادہ مناسب ہوتاہے ۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma