شفاعت کون کرسکتاہے ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

ان آیات جومیں سُورہٴ زخرف کی آخری آیتیں ہیں، حسب سابق مشرکین کے تلخ انجا م اورکئی دلائل کے ذریعے ان کے عقید ے کے باطل ہو نے کوواضح کیاگیاہے ، سب سے پہلے فرمایاگیاہے : اگروہ شفاعت کے گمان میں ایسے معبود وں کی عبادت کرتے ہیں توانہیں معلوم ہوناچاہیئے ۔” خداکے سواجن لوگوں کی یہ عبادت کرتے ہیں وہ شفاعت کااختیار نہیںرکھتے “ (وَ لا یَمْلِکُ الَّذینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ الشَّفاعَةَ ِّ ) ۔
خدا کی بارگاہ میں ”شفاعت “کاحق اسی کے اذن وفرمان کے مطابق ہوگا اورحکمت والے خدا نے ان بے قدروقیمت اورعقل وشعور ے عاری پتھروں اورلکڑ یوں کوہر گز یہ اذن وفر مان نہیں دیا ۔
لیکن چونکہ ان کے معبُود وں میں فرشتے اور ان جیسی دوسر ی مخلوق بھی ہے ، لہٰذااسی آ یت کے ضمن ہی میں ان کومستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا ” مگروہ کہ جنہوں نے حق کی شہادت دی “ (إِلاَّ مَنْ شَہِدَ بِالْحَق) ۔
وہی جنہوں نے تمام مراحل میںخدا کی توحید اوریگانگت کودل وجان سے قبول کیااورحق کے آگے پوری طرح جُھک گئے ، یقینا ایسے لوگ بحکم پروردگار شفاعت کے مالک ہوں گے ۔
لیکن ایسابھی نہیں ہے کہ وہ ہرشخص کے لیے شفاعت کریں گے خواہ وہ بُت پرست ، مُشر ک اور آ مین ِ توحید سے منحرف ہی کیوں نہ ہوں ! بلکہ ” وہ اچھی طرح جانتے ہیں “ کہ کن لوگوں کے حق میں شفاعت کرسکتے ہیں (وَ ہُمْ یَعْلَمُونَ ) ۔
تو اس طرح سے ان (مشرکین ) کی فرشتوں سے شفاعت کی امید کودو دلیلوں کے ساتھ قطع کرتاہے : ایک تویہ کہ خود فرشتے توحید کی شہادت دیتے ہیں اسی لیے انہیں شفاعت کی اجازت ہے اور دوسر ے یہ کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کن لوگوں کے حق میں شفاعت کرنی ہے ( ۱) ۔
بعض مفسرین نے ” وَ ہُمْ یَعْلَمُونَ “ کے جملہ کو ” إِلاَّ مَنْ شَہِدَ بِالْحَق“ کاتتمہ سمجھاہے ،جس کے مطابق جملے کا مفہوم یُوں ہوگا کہ : صرف وہی لوگ شفاعت کاحق رکھتے ہیں جوتوحید کی شہاد ت دیتے ہیں اوراس کی حقیقت سے آگاہ ہیں . لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے ۔
بہرحال یہ آ یت اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والوں کی اہم شرط کوبیان کررہی ہے ، کہ وہ ایسے لوگ ہیں جوحق کی گواہی دیتے ہیں ، تمام مرحلوں پر حق کو پہنچاتے ہیں ، توحید کی رُوح سے اچھی طرح واقف ہیں اوران شرائط سے بھی باخبر ہیں جوشفاعت کیئے جانے والے لوگوںمیں پا ئی جانی چاہئیں۔
پھر خود مشر کین کے اپنے عقائد کوسامنے رکھتے ہوئے انہیں دندان ِ شِکن جواب دیتا ہے ، ارشاد فرمایاتاہے: ” اگر تم ان سے پوچھوگے کہ ان کوکس نے پیدکیاہے،تو یقینا وہ کہیں گے کہ خدانے “ (وَ لَئِنْ سَاٴَلْتَہُمْ مَنْ خَلَقَہُمْ لَیَقُولُنَّ اللَّہُ ) ۔
ہم کئی مرتبہ بتاچکے ہیں کہ عرب اورغیر عرب مشرکین میں بہت کم ایسے لوگ ملیں گے جو بتُوں کوخالق اور پیدا کرنے والامانتے ہوں بلکہ وہ یا توانہیںخداکی بارگاہ میں شفاعت کاایک ذ ریعہ جانتے تھے اور یااولیا ء اللہ کے مقدس وجود کی علامت اورنمونہ سمجھتے تھے لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بہانہ بھی تھا کہ ہمارے معبُودکوایک محسُوس چیز ہوناچاہیئے تاکہ ہم اس سے مانُوس ہوسکیں.اسی لیے وہ ان کی عبادت کیاکرتے تھے .لہذا جب ان سے خالق کے بارے میںپوچھا جاتاتھا توفوراً کہہ دیتے تھے کہ ” اللہ “۔
قرآن نے بارہا اس حقیقت کی یاد دھانی کرائی ہے کہ عبادت صرف کائنات کے خالق اور مدبّر کے شایانِ شان ہے .لہٰذاگرتم اسی کوخالق او ر مدبّرسمجھتے ہو توپھراس کے سواکوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتاکہ اسے ” عبودیت “اورالوہیّت سے مخصوص بھی سمجھو ۔
اسی لیے آ یت کے اختتام پرانہیں سرزنش کرتے ہُو ئے فر مایاگیاہے کہ اگرصورتِ حال یہی تو ” پھر وہ خدا کی عبادت سے مُنہ مُوڑ کراس کے غیر کی طرف کیوں رُخ کرتے ہیں “ (فَاٴَنَّی یُؤْفَکُون) ۔
بعد کی آ یت میں رسُو ل ِ پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی بارگاہ ایزدی میں اسی ہٹ دھرم اور بے منطق قوم کی شکایت کے بارے میں فرمایاگیاہے :وہ لوگ پیغمبر کی اس شکا یت سے کیونکر غافل ہیں کہ وہ کہیں گے : پروردگار ا! وہ لوگ ہیں جوایمان نہیں لاتے (وَ قیلِہ یا رَبِّ إِنَّ ہؤُلاء ِ قَوْمٌ لا یُؤْمِنُونَ) ۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کہیں گے کہ میں نے انہیں شب و روز تبلیغ کی ،انہیں کی ، انہیں بہشت کی خوش خبر ی دی اور جہنم کی عذاب سے ڈ رایا ، گزشتہ اقوام کے انجام سے انہیںمطلع کیا، تیر ے عذاب سے انہیں ڈرایا اور گمراہی سے بچنے کی صُورت میں انہیں تیر ی رحمت کی ترغیب دلائی ، غرض اپنی بساط کے مطابق انہیں سب کچھ بتایااورجو کہنے کی باتیں تھیں ، ان سے کہیں،لیکن پھر بھی میری ان گر م باتوں نے اِن کے سرد دلوںپرکوئی اثرنہ کیااورو ہ ایمان نہیںلائے ، اس حقیقت سے توبھی واقف ہے اوروہ بھی ( ۲) ۔
”ا نَّی یُؤْفَکُون عن عبادة و عن قیلِہ یا رَبِّ إِنَّ ہؤُلاء ِ قَوْمٌ لا یُؤْمِنُونَ“۔
” خداکی عبادت سے کیوں انحراف کرتے ہیں اوران بے ایمان قوم سے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی شکا یت کو کیونکر انداز کرسکتے ہیں “۔
اسی سِلسلے کی آخر ی آ یت میں خداوندِ عالم اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوحکم دے رہاہے :اب جبکہ صورتِ حال یہ ہے تو تُو ان سے مُنہ پھیر لے ( فَاصْفَحْ عَنْہُمْ ) ۔
لیکن یہ رُو ٹھنے اورجُدا ہونے کی صُورت میں نہ ہو کہ جس میں سختی او ر تر شی پائی جاتی ہو . بلکہ اُن سے کہہ دے : ” تم پرسلام “ (وَ قُلْ سَلامٌ ) ۔
دوستی اورتحیّہ کے عنوان سے نہیں بلکہ جدائی علیٰحد گی کے طورپر سلام ہو . اور یہ سلام درحقیقت اس سلام کے مشابہ ہے جو سُورہٴ فرقان کی آ یت ۶۳ میں بیان ہواہے ۔
”وَ إِذا خاطَبَہُمُ الْجاہِلُونَ قالُوا سَلاما“۔
جب جاہل لوگ ان کو بُرے لفظوں کے ساتھ مخاطب کرتے ہیں تووہ جواب میں ” سلام “کہہ دیتے ہیں ۔
ایساسلام جو بے اعتنائی اور بزر گواری کی علامت ہوتاہے ۔
لیکن اس کے باوجود انہیں ایک معنی خیز جُملے کے ساتھ دھمکی بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ جدائی اور علیٰحد گی اس بات کی دلیل ہے کہ اب خدا کاان سے کوئی سرو کارہی نہیںرہا، ارشاد ہوتاہے: لیکن وہ بہت جلد جان لیں گے ”فَسَوْفَ یَعْلَمُون“۔
جی ہاں انہیںمعلوم ہوجائے گاکہ انہوں نے اپنی ہٹ دھرمیوں اورضد کی وجہ سے کیسی آگ اورکس قدر دردناک عذاب فراہم کرلیاہے ؟
بعض مفسرین نے ” وَ لا یَمْلِکُ الَّذینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ الشَّفاعَةَ “کی شانِ نزُول ذکر کی ہے اوروہ یہ کہ ” نصر بن حارث “اورقریش کے چند دیگر لوگوں نے کہاکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جوکچھ کہتاہے اگروہ حق ہے توہمیں اس کی شفاعت کی ضرورت نہیں ہے ،کیونکہ ہماری فرشتوں سے دوستی ہے اوراہم انہیں اپناولی سمجھتے ہیں اور وہی شفاعت کرنے کے بھی زیادہ سزا وار ہیں.اس موقع پرمندرجہ بالا آ یت نازل ہوئی ( جس میں انہیں خبردار کیاگیا ہے کہ بروز قیامت ملائکہ کسی کی شفاعت نہیں کریں گے ۔ اگر کریں گے بھی تو ان لوگوں کی جو حق کی گواہی دیتے ہیں. یعنی موٴ منین کی ) ( ۳) (۴) ۔
یہاں پرسُورہٴ زخرف ختم ہو جاتی ہے ۔
پروردگار ا! ہمارا رابط اپنے ساتھ اوراپنے اولیاء کے ساتھ روز بر وز زیادہ سے زیادہ مستحکم فرما،تاکہ ان کی شفاعت ہمارے شامل ِحال ہوسکے ۔
خداوندا ! ہمیں ہرقسم کے جلی اورخفی شرک سے محفوظ فرمااوراُس سے دُور رکھ ۔
بارِالہٰا! قیامت کے دن کے جو اوصاف تونے اپنی آسمانی کتابوں میں بیان فرمائے ہیں، اُن کے مطابق وہ دن بہت سخت اور طاقت فرساہوگ.اُسدن تو ہمار ے ساتھاپنے فضل وکرم کامظاہرہ فر ما نہ کہ اپنے عدل کا ۔ آمین !
۱۔اس تفسیر کے مطابق ” إِلاَّ مَنْ شَہِدَ بِالْحَق“” استثنائے متصل “ ہے ، لیکن اگر ” الَّذینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ الشَّفاعَةَ “ سے مراد خاکر بُت ہوں توپھر ” استنثنائے منقطع “ ہوگا لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے خاکرکہ ” الّذین “ کو پیش نظر رکھتے ہُوئے ،کیونکہ وہ عقلمند وں کے لیے یاغافل اورغیرعاقل دونوں کے لیے غلبہ کی صُورت میں استعمال ہوتاہے ۔
۲۔ ” وقیلہ“کاعطف کِس پر ہے، اس بار ے میںمفسرین کی مختلف آ راء ہیں.کچھ اسے تین آ یات قبل موجُود لفظ ” السّاعة “پرعطف سمجھتے ہیں اس صورت میں اس جُملے کامفہوم یُوں ہوگا:خداقیامت سے بھی باخبر ہے اور کفّارکے بارے میںپیغمبر کی شکایت سے بھی . کچھ اسے ” علم الساعة پر معطوف سمجھتے ہیں. ( البتہ اس شرط کے ساتھ کہ ” قبلہ “سے پہلے ” علم “ محذوف ہے )توایسی صُورت میںمعنی کے لحا ظ سے اس کا پہلی تفسیر کے ساتھ زیادہ فرق نہیں ہے جبکہ بعض مفسرین نے واؤ کوقسم کے معنی میں سمجھاہے. اس قسم کے اور بھی کئی احتمالات ہیںجن کو بیان کرنے سے بات لمبی ہوجائے گی . البتہ ایک اورقابلِ ذکر احتمال بھی ملتا ہے جوشاید سب سے بہتر ہے اور وہ یہ کہ اس کاعطف ” فَاٴَنَّی یُؤْفَکُون“ پر ہے اور تقدیر ی طورپر یوں ہوگا ۔
۳۔اس تفسیر کے مطابق” إِلاَّ مَنْ شَہِدَ بِالْحَق“کاجُملہ شفاعت کئے جانے والوں کی صفت ہے نہ کہ شفاعت کرنے والوں کی۔
۴۔تفسیر قرطبی ، جلد ۹،ص ۵۹۴۴۔

آمین یارب العالمین !
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma