انہیں باطل میں غو طے کھانے دو

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21
گزشتہ آ یا ت ،خصوصاً سُورت کی ابتداء میں خدا کے لیے اولاد کے بارے میں مشرکین کی گفتگو اوران کے عقائد کاتذ کرہ تھا وہ فرشتوں کوخدا کی بیٹیاں سمجھتے تھے .نیز چند آ یات قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام اوران کی خالص توحیداورپر وردگار کی عبادت کاطر ف دعوت کاتذکرہ بھی تھا، لہذاان آ یات میں باطل عقائد کی نفی کے لیے ایک اور طریقہ اختیار کیاگیا ہے اور وہ یہ کہ خدا فر ماتاہے : جو لوگ خداکے لیے اولاد ہونے کادم بھرتے ہیں ، ان سے کہہ کہ اگررحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو میں اس کا سب سے پہلااحترام کرنے والا اور اطاعت گزار ہوتا(قُلْ إِنْ کانَ لِلرَّحْمنِ وَلَدٌ فَاٴَنَا اٴَوَّلُ الْعابِدینَ) ۔
کیونکہ خداپر ایمان اور اعتقاد بھی مجھے تم سے زیادہے اوراس کی آگا ہی اور معرفت بھی زیادہ ہے اوراس کی اولاد کااحترام بھی میں تم سے پہلے کرتا اوراس کی اطاعت بھی ۔
اگرچہ اس آیت کامضمون کچھ مفسرین کی نظر میں پیچیدہ ہے اورانہوں نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہے کہ جن میں سے بعض توجیہات توعجیب معلوم ہوتی ہیں ( ۱) ۔
لیکن اگرغور سے دیکھا جائے تو اس مضمون میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے . بلکہ یہ ایسادل کش اندازِ گفتگو ہے جو ہٹ دھرم اورجھگڑالولوگوں کے لیے ہوتاہے .مثلاً اگرکوئی شخص غلط فہمی کی بناء پر ایسے شخص کے بارے میں یہ کہے کہ وہ ” اعلم “ہے جو”اعلم “نہ ہو توہم اسے کہیں گے : اگروہ اعلم ہوتاتوسب سے پہلے ہم اس کی اقتداٴ کرتے .یہ اس لیے ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے دعویٰ کے استد لال کے بارے میںغور وفکر سے کام لے اور جب اسے سمجھ آ جائے تو خواب غفلت سے بیدار ہوجائے ۔
غرض ، یہاں پر دونکتوں کی طرف توجہ ضر وری ہے ۔
پہلا یہ کہ لفظ عبادت ہرجگہ پرستش کے معنی میں نہیں ہوتا ، بلکہ کبھی اطاعت ،تعظیم اوراحترام کے معنی میں بھی آتاہے اوریہاں پر بھی اسی معنی میں ہے .کیونکہ بفرض محال اگرخدا کی اولاد ہوتی تو بھی اس کی عبادت کے لیے کوئی دلیل موجود نہ تھی اورچونکہ اسی فرض محال کی بنا پرخدا کی اولا د ہے ، لہذا اس کی اطاعت اوراحترام کاذکرکیاگیا ہے ۔
دوسر ایہ کہ عربی ادب کی رُوسے عام طورپر ” لو “ ” ان “ کے معنی میں آ تاہے جو محال ہونے پردلالت کرتاہے اوراگراس آیت میں ایسا نہیں کہاگیا تواس کی وجہ صرف فریقِ مخالف سے اندازِ گفتگو میں ہم آہنگی اور روا داری کامظا ہرہ کرنا ہے ۔
اس طرح سے پیغمبر ِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے انہیں مطمئن کرنے کے لیے کہاکہ خدا کے لیے اولاد کاتصوّر نہیں کیاجاسکتا .اگراس کی کوئی اولاد ہوتی تومیں سب سے پہلے اس کااحترام کرتا ۔
اس گفتگو کے بعدان بے بنیاد دعووں کی نفی کے لیے ایک اورروشن دلیل پیش کرتے ہُوئے فرمایاگیاہے : یہ لوگ جوکچھ بیان کرتے ہیں تمام آ سمانوں اورزمین کامالک ، عرش کامالک اس سے پاک وپا کیزہ ہے (سُبْحانَ رَبِّ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُون) ۔
جوذات آسمانوں اور زمین کی مالک و مدبر ہے اور عرش عظیم کی پرو ردگار ہے ، اسے اولاد کی کیا ضر ورت ہے ، وہ غیرمتناہی اور تمام کائنات پر حاوی ہے اور تمام مخلوقات کی مر بّی ہے .اولاد کی تواسے ضرورت ہوتی ہے ،جِسے مرجانا ہو لہذا اولاد کے ذریعے وہ اپنی نسل کو باقی رکھنا چاہے ۔
اولاد کی تواسے ضرورت ہوتی ہے ،جسے کمزوری اورتنہائی کے موقع پر تعاون اور محبت کی ضرورت ہو ۔
غرض اولاد کا وجودجسم ہونے اورزمان ومکان میںمحدود ہوجانے کی دلیل ہوتاہے ۔
عرش ،آسمان اورزمین کے پر وردگار کوجوان سب سے بے نیاز ہے ، اولاد کی ضرورت نہیں ہے ۔
” رَبِّ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ “کے بعد ”رَبِّ الْعَرْش “کاذکر درحقیقت ” عام کے بعد خاص کاذکر ہے ، کیونکہ جس طرح ہم پہلے بتاچکے ہیں ” عرش “ کااطلاق تمام کائنات پر ہوتاہے جوکہ خالق اکبر کاتختِ حکومت ہے ۔
ایک یہ احتمال بھی ہے کہ ” عر ش “ کے لفظ سے مابعد الطبیعة کائنات کی طرف اشارہ ہو جوکہ ”سما واتِ وَ الْاٴَرْض“ کے مقابل میں ہے ،جس سے مادی کائنات کی طرف اشارہ ہے ۔
(عرش کے معنی کی مزید تفصیل کے لیے تفسیرنمونہ جلد۲ سورہٴ بقرہ آیت ۲۵۵ نیز تفسیر نمونہ جلد ۲،سورہٴ بقرہ آیت نمبر۷ کی تفسیر کامطالعہ فرمائیں ) ۔
پھران ہٹ دھرم لوگوں سے بے نیازی ” بے اعتنائی اورتہدید کا اندا ز اختیار کیاگیاہے اور یہ بذاتِ خوداس قماش کے لوگوں کے ساتھ بحث کاایک طریقہ ہے . ان کے بارے میں رسُول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے فر مایاگیاہے : اب جب صورتِ حال یہی ہے کہ توانھیں تو اُنکے ھال پر چھوڑ دے تاکہ وہ باطل میں غوطے کھاتے ہیں اورکھیل کُود میں لگے رہیں یہاں تک کہ جس دن کاان سے وعدہ کیاگیا ہے ان کے سامنے آموجود ہو اور وہ اپنے تلخ اعمال اور بُرے اور شرمناک افکار کاثمرہ چکھ لیں (فَذَرْہُمْ یَخُوضُوا وَ یَلْعَبُوا حَتَّی یُلاقُوا یَوْمَہُمُ الَّذی یُوعَدُون) ۔
ظاہرہے کہ اس روز سے مُراد وہی قیامت کا مو عود دِن ہے . بعض مفسرین نے جو یہ احتمال پیش کیاہے کہ اس سے مُراد موت کا لمحہ ہے ، بہت بعید معلوم ہوتاہے ،کیونکہ اعمال کی سزا وجزاقیامت کے دن ملے گی نہ کی موت کے وقت ۔
یہ وہی یوم موعود ے جس کے متعلق سُورہٴ برُوج کی آ یت ۲ میںقسم کھائی گئی ہے کہ ” والیوم المو عود “ روز موجود (قیامت کے دن ) کی قسم ۔
بعد کی آیت میں مسئلہ توحید کے بارے میں سِلسلہ گفتگو جاری رکھاگیا ہے جو ایک لحاظ سے تو ماقبل کی آ یات کا نتیجہ ہے اوردوسر ے لحاظ سے ان کی تکمیل اوراستحکام کی دلیل ہے اوراس میں خدا وند کریم کی سات صفات کو بیان کیاگیا ہے جو سب کی سب نظر یہ توحید کی بنیادوں کے اسحکام کے لیے موٴ تر ہیں ۔
پہلے توان مشر کین کے عقائد کی نفی کی جاتی ہے جوبزعم خود آسمان اور زمین کے لیے علیٰحدہ علیٰحدہ خداؤں کے قائل تھے ، بلکہ در یا صحرا ، جنگ ،صُلح حتی کہ مختلف انواع کے لیے علیٰحدہ اور جداگانہ خداؤں کے قائل تھے .ارشاد ہوتاہے : وہ تووہی ہے جوآسمانوں میں بھی معبُود ہے او ر زمین میں بھی (وَ ہُوَ الَّذی فِی السَّماء ِ إِلہٌ وَ فِی الْاٴَرْضِ إِلہٌ ) ۔
کیونکہ گزشتہ آیات میں مذ کوراس کی آسمانوں اور زمین میں ربوبیّت کو قبول کرلینے سے الو ہیّت کامسئلہ بھی ثابت ہوجائے گا کیوکہ صحیح معنو ں میں معبُود وہی ہے جو کائنات کاربّ ، مدیر اور مدبر ہے ۔
نہ توا رباب انوع اورفرشتے عبادت کے لائق ہیں اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بُت ! کیونکہ ان میں سے کوئی بھی مقا م ربو بیّت کا حامل نہیں ہے ، بلکہ اپنے اپنے مقام پر مخلوق ، مر بوب اوراس کے خوان نعمت کے نمک خوار ہیں اوراسی کی عبادت کرتے ہیں ۔
پھردوسر ی اورتیسر ی صفت کو بیان کرتے ہُوئے فرمایاگیاہے : اور وہی حکیم و علیم ہے (وَ ہُوَ الْحَکیمُ الْعَلیم) ۔
اس کے تمام کام حساب وکتاب اورحکمت پرمبنی ہیں اوروہ ہر یزسے آگاہ اور باخبر ہے ۔
اس طرح سے بندوں کے اعمال سے بخوبی واقف ہے اوراپنی حکمت کے مطابق انہیں جزا یاسزا دیتاہے ۔
چوتھی اورپانچویںصفت میں اس کے وجُود کی بے پناہ اوردائمی برکات اور آسمان وزمین میں اس کی مالکیّت کے بارے میں گفتگو کرتے ہُوئے قرآن کہتاہے : بہت ہی بابرکت اورناقابل زوال ہے وہ جو آسمانوں ، زمین اوران دونوں کے درمیان کی ہر چیز کامالک ہے :(وَ تَبارَکَ الَّذی لَہُ مُلْکُ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ وَ ما بَیْنَہُما) ۔
” تبارک“ ” برکت “ کے مادہ سے ہے جس کامعنی ہے ” عظیم اور بہت بڑی اچھائی کا مالک ہونا “ یا” ثبات و بقا کامالک ہونا “۔
یا” اچھا ئی اورثبات و بقا ہردو کامالک ہونا “ اورخدا وندِ عالم کے بارے میں دونوں باتیں صادق آ تی ہیں کیونکہ ایک تواس کاوجود جا ودانی اور بر قرار ہے اور دوسر ے عظیم اور بہت بڑی اچھائی کامنبع ہے ۔
بلکہ اصولی طورپر عظیم خیرو خوبی کاتصور بغیر ثبات و بر قراری کے ناممکن ہوتاہے ، کیونکہ اچھائیاں اورخوبیاں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں لیکن عارضی ہیں .لہذا پائیدار کے لیے فر اوانی اور عظمت بے معنی ہے ۔
آخر میں چھٹی اور ساتویں صفت کے بارے میں فرمایاگیاہے : اور قیام قیامت کی خبر بھی صرف اسی کو ہے اور تم سب لوگ اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “ (وَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ إِلَیْہِ تُرْجَعُون) ۔
اِسی لیے اگر تمہیں خیرو برکت کی ضرورت ہے تواسی سے طلب کرو نہ کہ بُتوں سے اور قیامت کے دن تمہار ا مقدراسی سے وابستہ ہے اوراس دن تمہار ی باز گشت اسی کی طرف ہے . اور بُت ہوں یا دوسرے معبُود ان کااس بارے میںمیں کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔
۱۔ مثلاً بعض مفسرین نے ” اِن “ کونفی کے معنی میں اور ” انااوّل العابدین “ کوخدا کا سب سے پہلا عبادت کرنے والا ، کے معنی میں لیا ہے ، اس تفسیر کے مطابق آیت کامعنی یوں ہوگا ؟ ” خداکی کوئی اولاد نہیں اور میں سب سے پہلاعبادت کرنے والا ہوں “ جب کہ کئی اور مفسرین نے ” عابدین “ کو” عبادت سے انکار کرنے والا “ کے معنی میں لیاہے ، تواس صُورت میں آ یت کامعنی یہ ہوگا: اگر خداکی کوئی اولاد ہوتی تومیں ایسے خداکی ہرگز عبادت نہ کرتا ،کیونکہ صاحب اولاد کبھی خدانہیں ہوسکتا ،ظاہر ہے کہ اس قسم کی تفسیر یں کسی بھی صُورت میں آ یت کے ظاہر سے مطابقت نہیں رکھیں ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma