جن لوگوں نے عیسیٰ کے بارے میں غلو کیا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

گزشتہ آ یات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے کچھ خصوصی پہلوذکر کیے گئے تھے . زیر تفسیر آ یات اس سلسلے کو آ گے بڑھا تی ہیں، اور خالص دین کی طرف ان کی دعوت اور ہر طرح کے شرک کی نفی کاذکر کرتی ہیں ۔
ارشاد ہوتاہے : جب عیسیٰ واضح دلائل (معجزات اور خدائی آ یات )لے کر آ ئے توکہا :میں تمہارے پاس دانائی لے کر آیا ہوں تاکہ بعض باتیںجن میں تم اختلاف کرتے ہو صاف صاف بتا دُوں (وَ لَمَّا جاء َ عیسی بِالْبَیِّناتِ قالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَةِ وَ لِاٴُبَیِّنَ لَکُمْ بَعْضَ الَّذی تَخْتَلِفُونَ فیہِ فَاتَّقُوا اللَّہَ وَ اٴَطیعُونِ) ۔
اس طرح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاسر مایہ ” بینات “یعنی خداکی آ یتیں اورمعجزات تھے ، جوایک طرف توان کی حقانیت کو بیان کر رہے تھے اور دوسری طرف ان حقائقکو جو مبداء اور معاد اورانسانی زندگی کی ضر وریات سے متعلق ہیں ۔
اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام حکمت کو اپنی دعوت کامحور بتارہے ہیں اورہم سب جانتے ہیں کہ ” حکمت “کااصلی معنی ” اصلاح کی غرض سے کسی چیزسے روکنا “ ہے . اس کے بعد تمام عقایدحقہ اوراس صحیح نظام زندگی کااعلان فر مارہے ہیں جوانسانوں کو ہرقسم کی بے راہ روی ایمان اور عمل میں ہر قسم کی بے راہ روی سے روکتا ہے اور جس میں تہذیب،نفس اورا خلاق بھی شامل ہیں ، تواس طرح سے یہاں پر حکمت کا وسیع معنی مراد ہے جو ” حکمت عملی “اور” حکمت علمی “ دونوںپرمحیط ہے . یہ حکمت علاوہ ازیں ایک اورہدف کو بھی پیشِ نظررکھے ہو ئے ہے اور وہ ہے ان اختلافات کادُور کر ناکہ جن کی وجہ سے تمام معاشر تی نظام درہم برہم ہو جاتے ہیں، اور لوگ سر گر داں ہوجاتے ہیں اسی لیے جناب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی گفتگو میں اسی چیز پر زیادہ زور دیاہے ۔
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتاہے اوراکثر مفسرین نے بھی اس طرح توجہ کی ہے اوروہ یہ ہے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں کہا ہے کہ میں تمہارے درمیان موجود بعض اختلافات کو دُور کرنے کے لیے آ یا ہوں. انہوں نے تمام اختلا فات کو دور کرنے کو کیوں نہیں کہا؟
اس سوال کیا کے ویسے تو کئی جواب دیئے گئے ہیں،لیکن سب سے مناس جواب یہ ہے کہ :
لوگوں کے درمیان د و قسم کے اختلافات ہوتے ہیں. ایک قسم توان اختلافات کی ہے جو اعتقادی اورعملی نکتہ نظر سے انسان سازی میں اور انفر ادی واجتماعی لحاظ سے موٴ ثر ہوتے ہیں اوردوسر ی قسم کے وہ اختلافات ہوتے ہیں، جوانسان کے لیے کسی طرح بھی مناسب نہیں ہوتے ،جیسے منظومہ شمسی کی پیدا ئشی کیفیت، افلاک اور ستا روں کی حقیقت ، انسانی رُوح کی ماہیّت اور زندگی کی حقیقت و غیرہ کے بار ے میں اختلافات ۔
پس صاف ظاہرہے کہ انبیاء کافر یضہ یہ ہے کہ پہلی قسم کے اختلافات کوحقائق کے ذ ریعے ختم کریں اوران کی یہ ذمہ داری نہیں ہوتی کہ ہر قسم کے اختلافات کا خاتمہ کریں ، اگر چہ انسان کی تقدیر کے ساتھ ان کا کسی قسم کاتعلق بھی ہو ۔
یہ احتمال بھی ذکرکیا گیاہے کہ بعض اختلافات کے بیان کرنے کا مقصد خود انبیاء کی دعوت کانتیجہ اوراس کی غرض و غایت ہے ، یعنی انجام کار وہ موفق ہوجائیں گی اوران کے بعض اختلافات خو حل کریں گے،لیکن تمام اختلافات کا دُنیامیں حل کرنا ممکن نہیں ہے،اسی لیے قرآن مجید کی متعدد آ یات میں قیامت کی ایک خصوصیت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس دن تمام اختلافات ختم ہو جائیںگے، جیساکہ سورہٴ نحل کی ۹۲ویں آ یت میں ہے کہ:
” وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَکُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ ما کُنْتُمْ فیہِ تَخْتَلِفُون“
” جن چیزوں میں تم اختلا ف کرتے ہو انہیںیقیناقیامت کے دن تمہارے لیے بیان کرے گا “ ۔
اور یہی بات سورہٴ آلِ عمران کی آ یت ۵۵،سورہٴ مائدہ کی آیت ۴۸،سورہٴ انعام کی آ یت ۶۴ اور سورہٴ حج کی آ یت ۶۹وغیرہ میں بیان ہوئی ہے ( ۱) ۔
آ یت کے آخر میں فرمایاگیاہے: اب جب کہ صورت حال یہ ہے اور میر ی دعوت کالبا ب یہی ہے ۔” تو تم لوگ خداسے ڈ رو اور میری اطاعت کرو “ (فَاتَّقُوا اللَّہَ وَ اٴَطیعُون) ۔
پھر اپنی الوہیت کے بارے میں ہرقسم کے شک و شبہ کودُور کرتے ہو ئے فرماتے ہیں : ” بے شک میرا پروردگاراور تمہارا پروردگاراللہ ہی ہے (إِنَّ اللَّہَ ہُوَ رَبِّی وَ رَبُّکُمْ ) ۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ انہوں نے اس آ یت میں کلمہ ” رب “دو مرتبہ بیان کیا ہے . ایک مرتبہ اپنے لیے اور دوسری مرتبہ عام لوگوں کے لیے تاکہ واضح کردیں کہ میں اور تم،سب برابر ہیں اور تمہارااور میرا پروردگارایک ہی ہے ۔
میں بھی اپنے وجُوداور ہستی کے لیے تمہار ی طرح ایک مدبرّاورخالق کامحتاج ہوں ، وہی میرامالک اور رہنما ہے ۔
مزید تاکید کے طورپر فرماتے ہیں: جب یہ عام ہے تو پھر تم اسی کی عباد ت کرو (فَاعْبُدُوہُ) ۔
کیونکہ اس کے علاوہ اورکوئی بھی لائق ِ عبادت نہیں تمام چیزیں مربوب ہیں اور وہ رب ہے ، تمام اس کے مملُوک ہیں اوروہ سب کا مالک ہے ۔
ایک بار پھر اپنی اس گفتگو پر تاکید کرتے ہیں تاکہ کسی قسم کے بہانے کی گنجائش باقی نہ رہ جائے ، فر ماتے ہیں :یہی سیدھاراستہ ہے (ہذا صِراطٌ مُسْتَقیم) (۲) ۔
جی ہاں! راہ راست وہی خدا کی عبودت اور بندگی کاراستہ ہے جس میں کسی قسم کی کجی اور ٹیڑ ھاپن نہیں ہے ، جیساکہ سورہٴ یٰسین کی ۶۱ ویں آ یت میں آ یا ہے ”وَ اٴَنِ اعْبُدُونی ہذا صِراطٌ مُسْتَقیمٌ “آیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں کیاتھاکہ میری عبادت کرو کیونکہ سید ھاراستہ یہی ہے ۔
لیکن تعجب اس بات پر ہوتاہے کہ اس قدر تاکید کے با وجُودعیسٰی کی وفات کے بعدان میں کئی فرقے بن گئے جنہوں نے(عیسٰی کے بارے میں )اختلاف کیا (فَاخْتَلَفَ الْاٴَحْزابُ مِنْ بَیْنِہِمْ ) (۳) ۔
کچھ لوگوں نے توا نہیںخدا سمجھاکہ جو زمین پر اُترآ یاتھاجبکہ کچھ لوگوں نے انہیںخدا کا بیٹاجانا اور کچھ لوگوں نے انہیں” اقانیم ثلثہ “( باپ ، بیٹااوررُوح القد س)میں سے ایک سمجھا ۔
صرف چندلوگوں نے انہیںخدا بندہ اوررسُول سمجھا، لیکن ایسے افراد اقلیّت میں ہیں. آخر کار اکثر یت کا عقیدہ غالب آ گیااور تثلیث اور متین خداؤں کے عقیدے نے تمامسیحی دُنیاکواپنی لپیٹ میں لے لیا ۔
اس بار ے میں ہم نے سُورہ ٴمریم کی آ یت ۳۶کے ذیل میں تفسیر نمونہ کی تیرھویں جلدمیں ایک دلچسپ اور تاریخی حدیث بیان کی ہے ۔
آ یت کی تفسیر میںیہ احتمال بھی ذکر کیاگیاہے کہ صرف عیسائیوں کے درمیان ہی اختلاف موجُودنہیں تھا ، بلکہ حضرت عیسیٰ کے بارے میںیہود یوں اورعیسائیوں کے درمیان بھی اختلاف کھڑ ے ہوگئے تھے . حضر ت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو کاروں نے ان کے بار ے میںغلو سے کام لیااورانہیںخداسمجھنے لگے ، جبکہ عیسیٰ کے دشمنوں نے انہیں اوران کی پاک دامن ماں، جناب مریم علیہ السلام پر مختلف تہمتیںلگا ئیں اورجاہلوں کا طریقہ کار ایسے ہی ہوا کرتاہے کچھ لوگ افراط کاشکار ہوتے ہیں اور کچھ تفریط ک. یا بقول امیر المو منین علی علیہ السلام کچھ لوگ ” محب غا ل “ہوتے ہیں اور کچھ ” مبغض قال “ہوتے ہیں ۔
جیساکہ آپ فر ماتے ہیں :
” ھلک فی رجلان محب غال و مبغض قال “۔
” میر ے بار ے میںدو قسم کے لوگ ہلا ک ہُو ئے ، ایک تووہ دوست جنہوں نے مجھے خداجانااور دوسرے وہ تہمت لگانے والے دشمن جنہوں نے مُجھ پر طرح طرح کے الزامات لگائے “ (۴) ۔
ان دونوں بزرگواروں کے حالات کس قدر مِلتے جُلتے ہیں ۔
آ یت کے آخر میں ان لوگوں کو روز قیامت کے دردناک عذاب کی دھمکی دیتے ہُوئے فر مایاگیا ہے : جن لوگوں نے ظُلم کیااور صراطِ مستقیم سے منحرف ہوگئے ،ان کے لیے درد ناک دن کے عذاب کاافسوس ہے (فَوَیْلٌ لِلَّذینَ ظَلَمُوا مِنْ عَذابِ یَوْمٍ اٴَلیمٍ ) (۵) ۔
جی ہاں! قیامت کادن درد ناک ہوگا، اس کے حساب کاطُول درد ناک، اس کاعذاب اورسزا درد ناک، اس کی حسرت واند وہ درد ناک رسوائی اور ذلّت درد ناک۔
۱۔کچھ اور مفسرین نے کہاہے کہ یہاںپر لفظ ”بعض “” کل “کے معنی میں استعمال ہواہے. یا ” بعض الّذ ی تختلفون فیہ “کی تعبیر موصو ف کی صفت کی طرف اضافت ہے.جواس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میں تمہارے لیے دینی امور بیان کرتا ہو ں نہ کہ تمہارے دنیاوی امورلیکنان میں سے کوئی تفسیر بھی قابلِ توجیہ نہیں ہے ۔
۲۔اس طرح کی باتیں مختصر سے فرق کے ساتھ سورہٴ مریم کی آ یت ۳۶اور سورہٴ انعام کی آ یت ۵۱ میں بھی بیان ہوئی ہیں اوراس معنی کا تکرار اس حقیقت کی تاکیدہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی بندگی کے بار ے میں ان سب پر اتمام حجت کردیا ۔
۳۔” بینھم “میں ”ھم “کی ضمیر ان لوگوں کی طرف لو ٹ رہی ہے جنہیں اس سے پہلے آ یت میں حضرت عیسیٰ نے مخاطب کیا،اورخداکی عباد ت کی دعوت دی ۔
۴۔نہج البلاغہ کلمات قصار جملہ ۱۱۷۔
۵۔تو جہ رہے کہ ” الیم “” یوم “کی صفت ہے نہ کہ ” عذاب “ کی ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma