کون سے معبُود جہنّمی ہیں ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

ان آ یات میں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے خدا ہونے کے بارے میں اورا ن کی اور بتُّوں کی خدائی کے بارے میں مشرکین کے عقیدے کی نفی کی بات کی گئی ہے اور گزشتہ آ یات میں حضرت مُوسٰی علیہ السلام کی دعوت اوران کی فر عونی بُت پرستوں کے ساتھ محاذ آ رائی کاجوتذ کر ہ کیاگیاہے ، اس کے تتمہ کی صُورت میں بیان ہورہی ہیں اور زمانہ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے مشر کو ں بلکہ تمام کائنات کے مشر کوں کے لیے زبردست تنبیہ بھی ہے ۔
اگرچہ یہ آ یات مجمل صُورت میں گفتگو کررہی ہیں ، لیکن خود ان آ یات میں اور قرآن کی دوسری آ یات میں قرینہ پایا جاتاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ مختلف مفسرین کی طرح طرح کی تفسیروں کے برعکس ان کامضمون کسی طرح بھی پیچیدہ نہیں ہے ۔
پہلے فر مایاگیاہے: اور جب مریم کے بیٹے کی مثا ل بیان کی گئی تواس سے تیری قوم کے افراد ہنسنے اور رو گردان ہو گئے ( وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً إِذا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّونَ) (1) ۔
یہ مثال کیاتھی اور کس نے عیسٰی بن مریم علیہ السلام کے بارے میںپیش کی تھی ؟یہ وہ سوال ہے کہ جس کے جواب میں مفسر ین میں اختلاف ہے آ یت کی تفسیر کے سمجھنے کاراز بھی خود اسی میں مضمر ہے، لیکن بعد کی آ یات میںغور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ”مثل “مشرکین کی طرف سے تھی اورا ن کی بُتوں ہی سے متعلق تھی ، کیونکہ بعد کی آ یات میں ہے ۔
” ما ضربوہ لک الّاجد لاً “
انہوں نے یہ مثال صرف بیان ہی جھگڑ ے کے لیے کی تھی ۔
اس حقیقت کو اور شانِ نزول میں بیان ہونے والے حقائق کے پیش نظر یہ بات واضحہوجاتی ہے کہ مثال سے مرادوہی چیز ہے، جب مشر کین نے یہ آ یت :
”إِنَّکُمْ وَ ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ُ“
” تم اور خدا کے علاوہ تمام وہ معبُود جن کی تم عبادت کرتے ہو ، جہنم کاایند ھن ہیں “ (سورہٴ انبیاء ، ۹۸) ۔
سننے کے بعد استہزار اور مذاق کے طورپرکہی تھی اور وہ یہ تھی کہ عیسٰی بن مریم علیہ السلام بھی تومعبُود تھے اور اس آ یت کی رُو سے انہیں بھی جہنم میں جاناچاہیئے، اس سے بہتراور کیا ہو سکتاہے کہ ہم اور ہمار ے بُت حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ہمسا ئے ہوں. انہوں نے یہ کہااور کھِل کھِلاکر ہنسنے لگے اورخوب مذاق اڑانے لگے ۔
پھر انہوں نے کہا:آ یاہمار ے خدا بہتر ہیں یاعیسٰی مسیح علیہ السلام (وَ قالُوا اٴَ آلِہتُنا خَیْرٌ اٴَمْ ہُوَ) ۔
اگر وہ جہنم میں جائیں گے توہمار ے معبُودتوان سے بڑھ کر نہیں ہیں ۔
لیکن تجھے معلوم ہوناچاہیئے کہ وہ تمام حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں . ” اوران لوگوں نے جومثال تجھ سے بیان کی ہے تووہ صرف جھگڑنے کے لیے ہے (ما ضَرَبُوہُ لَکَ إِلاَّ جَدَلاً ) ۔
” بلکہ یہ لوگ توہیں ہی کینہ پر ور اورجھگڑالو “اور حق کے خلاف باطل کاسہارا لیتے ہیں (بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُون) (2) ۔
وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ صرف وہیم معبُود جہنم میںجائیں گے جو اپنے لیے عبادت کرنے والوں کی عبادت پرراضی تھے ، جیسے فرعون کہ جس نے لوگوں کواپنی عبادت کی دعوت دی تھی نہ کہ مسیح جیسے، جولوگوں کے اس قسم کے عمل سے بیزار تھے، اور بیزا ر ہیں ۔
” بلکہ وہ توصرف ایک بندہ تھا جسے ہم نے اپنی نعمتوں سے نوازا“ہم نے اسے منصب عطاکر کے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیاتھا (إِنْ ہُوَ إِلاَّ عَبْدٌ اٴَنْعَمْنا عَلَیْہِ ) ۔
اوراسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ایک نمونہ بنایا (وَ جَعَلْناہُ مَثَلاً لِبَنی إِسْرائیلَ ) ۔
اس کابغیر باپ کے شکم مادر سے پیدا ہوناخدا کی آ یات میں سے ایک آیت تھ.گہوارے میں باتیں کرناایک اور آ یت اور پھراس کاہر ایک معجزہ عظمت ِ الہٰی اوراس کی اپنی نبوّت کی واضح نشانی تھی .عیسٰی ساری زندگی خدا کی بندگی میں رہا اور تمام لوگوں کواسی کی بندگی کی دعوت دیتا رہا .جیساکہ خدا تعالیٰ خود کہتاہے: جب تک وہ اس دُنیامیں تھا ، اُس نے توحیدکی راہ سے کسی کو بھٹکنے کی اجازت نہ دی جبکہ عیسٰی علیہ السلام کی الو ہیّت یاتثلیث کے خر افاتی عقیدے کی بنیاد ان کے بعد لوگوں نے ڈالی ( 3) ۔

یہ بات بھی لائق توجہ اورقابلِ ذکر ہے کہ شیعہ ااور سُنی طریقوں سے منقول ہو نیوالی متعدد روایات میں موجود ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے حضرت علی علیہ السلام سے فر مایا:
’ ’ ان فیک مثلامن عیسٰی احبہ قوم فھلکو اھیہ وابغضہ قوم فھلکو افیہ فقال للنافقون امارضی لہ مثلا الا عیسٰی، فنزلت قو لہ تعالیٰ” وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً إِذا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّونَ“۔
” تمہارے اندر عیسٰی کی علامتیں موجُود ہیں، کچھ لوگوں نے توان سے محبت کی اور اس قدر غلو کیاکہ انہیںخدا کہنے لگے ، اوراسی وجہ سے وہ ہلاکہ ہو گئے اور کچھ لوگوں نے ان سے دشمنی کااظہار کیا(جیساکہ یہودیوں نے کیا کہ وہ ان کے قتل پر کمر بستہ ہوگئے “ وہ بھی ہلاک ہوگئے ۔(اسی طرح کچھ لوگ تمہیں خدا سمجھیںگے اور کچھ لوگدشمنی پر کمر باندھ لیں گے )تو منافقین نے جب یہ با ت سُنی تواس کامذاق اڑاتے ہوئے کہاکہ عیسٰی کے علاوہ انہیں کوئی مثال نہیںملی ؟تواس موقع پر مندرجہ بالاآ یت نازل ہوئی ”وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ -...“۔
مندرجہ بالا گفتگواس روایت کامتن ہے جسے اہل سنت کے مشہورعالم حافظ ” ابو بکربن مر دو یہ “نے اپنی کتاب ” مناقب “میں ذکر کیا ہے ( منقول از کشف الغمہ ص ۹۵) ۔
بعینہ اسی چیز کومیر محمد صالح کشفی ترمذی نے تھوڑ سے فرق کے ساتھ اپنی کتاب مناقبِ مرتضوی میں قلمبند کیاہے ۔
اس بات کو بہت سے اہل سنّت علماء اور عظیم شیعہ علمااپنی متعددکتابوںمیں نقل کیا ہے . کہیں پر تو انہوں نے اس کے ساتھ مندرجہ بالا آ یت کو ذکر کیاہے اور کہیں پرذکر نہیں کیا ( 4) ۔
آ یات میں موجُود قرینوں سے معلوم ہوتاہے کہ یہ مشہورحدیث ایک قسم کی مطابقت کی حیثیت رکھتی ہے، اس کی شانِ نزول نہیں ہے ، باالفاظ دیگر آیت کی شان ِنزول تووہی عیسٰی علیہ السلام کی داستان،مشرکین عرب کی گفتگو اوران کے بُت تھے ، لیکن چونکہاس سے مِلتا جُلتاایک اور تاریخی واقعہ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی مذ کورہ تاریخی گفتگو کے بعدرو نما ہوالہذا پیغمبر ِ السلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے اس مقام پر بھی یہ آ یت فر مائی ، کیونکہ یہ ماجرا بھی مختلف جہات سے اس کے ایک مصداق کی حیثیت رکھتاہے ۔
بعد کی آ یت میں اس لیے کہ انہیں یہ وہم نہ ہو کہ خدا کوان کی بندگی کی ضرورت ہے ، وضاحت کرتے ہُو ئے بیان فر مایاگیا ہے :اگرہم چاہیں تو زمین پر تمہار ی جگہ فر شتے لے آ ئیں کہ جو تمہار ے جانشین ہوں (وَ لَوْ نَشاء ُ لَجَعَلْنا مِنْکُمْ مَلائِکَةً فِی الْاٴَرْضِ یَخْلُفُون) ۔
وہ فرشتے کہ جو فرمان حق کے تابع ہیں اوراس کی اطاعت و بندگی کے سوا او ر کچھ نہیں جانتے ۔
کچھ مفسرین نے یہاںپرایک او ر تفسیر ذکر کی ہے، جس کی وجہ سے آ یت کا مفہوم یوں ہوگا ” اگر ہم چاہیں تو تمہاری اولاد کو فرشتے بنادیںجو زمین میں تمہار ے جانشین ہوں “۔
لہذا تم اس بات پر تعجب نہ کرو کہ عیسیٰ بغیرباپ کے پیدا ہُو ئے ہیں . خدا تواس بات پر بھی قادر ہے کہ فرشتے جوایک علیٰحدہ نوع ہیں انسانوں سے پیدا کرے ( 5) ۔
اور چونکہ انسان سے فرشتوں کاپیدا ہوناکسی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتالہذا بعض عظیم مفسرین نے اس سے فرشتہ صفت لوگ مراد لیے ہیں . ان مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم تعجب نہ کرو کہ مسیح جیساخدا کاایک بندہ حُکم ِخداسے مردوں کوزندہ کرنے اور بیماروں کوشفا بخشنے کی طاقت رکھتاہے، جبکہ وہم مخلص اور فر مانِ الہٰی کاتابع بھی ہو ،اگر خداچاہے تو تمہاری اولادمیں سے ایسے لوگوں کو پیداکردے جن کی تمام صفات اور عادات فرشتوں کی سی ہوں ( 6) ۔
بعد کی آ یت میںحضرت عیسٰی علیہ السلام کی اورخصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہُو ئے فر مایاگیاہے : وہ تو یقیناقیامت کی آگا ہی کا ایک سبب ہے (وَ إِنَّہُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَة) ۔
یااس لحاظ سے کہ متعدداسلامی روایات کے مطابق عیسٰی علیہ السلام کا آسمان سے نزُول آ خر ی زمانے میں ہوگااور یہ قیامت کے قیام کی دلیل ہے ۔
جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو یہ فر ما تے سُناہے :
” ینزل عیسی بن مر یم فیقول امیر ھم تعا ل صلی بنا ، فیقولاان بعضکم علی بعض امراء ، تکر مة من اللہ لھذہ الامة “۔
عیسٰی اتریں گے اور مسلمانوں کا امیر ( یہاں پر امیر سے مراد حضرت مہدی علیہ السلام جیسا کہ دوسر ی احادیث سے معلوم ہوتاہے) ان سے کہے گا ،آ یئے اور ہمیں نماز پڑ ھایئے ! او ر وہ کہیں گے نہ ، امیر تمہیں میں سے ہوگایہ عزت اللہ نے اس امت کو عطا فر مائی ہے . وپھرحضرت عیسیٰ جناب امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء کریں گے ( ۸) ۔
ایک اورحدیث میں جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )فرماتے ہیں ۔
” کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم وامامکم منکم “۔
تمہارااس وقت کیاحال ہوگاجب مریم کے فرزندتمہارے درمیان نازل ہوں گے جب کہ تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا ( ۹) ۔
بہر حال حضرت مسیح علیہ السلام پر لفظ ” علم “کااطلاق ایک قسم کی تاکیداورمبالغہ کی صورت میں ہے، جواس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا نزُول یقیناقیامت کی ایک نشانی ہے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ ”انّہ “میںموجودضمیر ” قرآن “کی طرف لوٹ رہی ہو ، جس کے مطابق آ یت کا معنی یوں ہوگا:قرآن جوکہ آ خر ی کتاب ہے، اس کانزُول قیامت کے قریب ہونے کی دلیل ہے اورقیامت کے قائم ہونے کی خبر دیتاہے ۔
لیکن آ یات کاسیاق و سباق جوحضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ہے ، پہلی تفسیر کی تقویت کرتاہے ۔
بہرحال اس کے فوراًبعد فر مایاگیاہے قیامت کا قیام یقینی ہے اوراس کاواقع ہو نا نزدیک ہے ، ” اور تم لوگ ہرگز اس میں شک نہ کرو “ (فَلا تَمْتَرُنَّ بِہا ) ۔
نہ تو عقیدے کے لحاظ سے اور نہ ہی عمل کے لحاظ سے ،جیسا کہ غافل لوگ کررہے ہیں، اور میری پیروی کرو کہ یہی سید ھاراستہ ہے “ (وَ اتَّبِعُونِ ہذا صِراطٌ مُسْتَقیم) ۔
لیکن شیطان تو چاہتاہے کہ ہمیشہ تمہیںغافل اور بے علم رکھے ، لیکن تمہیں خود ہوش سے کام لینا چاہیئے کہ ” کہیں شیطان تمہیں راہ خدا اور بر وز قیامت اپنی تقدیر سنوار نے سے تمہیںروک نہ دے ، کیونکہ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے “ (وَ لا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطانُ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبینٌ ) ۔
اس نے اپنی عداوت اور دشمنی کااظہارتو روز اوّل ہی سے کر دیاتھا، جب اس نے تمہارے ماں باپ(آدم وحوا)کے دل میںوسوسہ اڈال کر بہشت سے نکلو ا دیاتھااوردوسر ی مرتبہ اس نے قسم کھائی کہ ” مخلصین “کے سوا باقی تمام بنی آدم کو گمراہ کرکے چھوڑ ے گا .لہٰذاتم ایسے قسم کھانے والے دشمن کے مقابلے میں کیونکہ خاموش بیٹھ سکتے ہو اوراسے اس بات کی اجازت کیسے دے سکتے ہو کہ وہ تمہار ی روح اور جسم پر غلبہ پالے اوراپنے مسلسل وسوسوں سے تمہیں سیدھی راہ سے روک دے ۔
1۔" یصدون" "صد" کے مادہ سے ہے (اگراس کافعل مضارع صاد کرکے کسرہ کے ساتھ ہو، تواس کامعنی کھلکھلا کرہنسنا ،ٹھٹھے مارنا اورشورمچانا (جیساکہ عام طورپر کسی کا استہزارکرنے کے وقت کیاجاتاہے) (ملاحظہ ہو لسنا العرب مادہ "صدر")۔
۲۔"خضمون" "خضم"(بروزن "فطن")کی جمع ہے جس کامعن ہے بہت ہی لڑنے جھگڑنے والا"۔
۳۔مفسرین نے مندرجہ بالاآ یات کی تفسیرمیں اوربھی کئی احتمال ذکرکیےہیں اور ان میں سے مجموعی طورپر کوئی بھی آ یات کے مضامین میں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
۱۔کچھ لوگوں نے کہاہے کہ مشرکین نے جو” مثال “بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے آنی آ یات میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اوران کی سرگزشت کاذکر کرنے کے بعد کہاکہ ” محمد “ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس بات کے لیے راہ ہموارکررہاہے، کہ وہ ہمیں اپنی قدائی کی دعوت دے “ ۔
لیکن قرآن مجید آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا دفاع کرتے ہُو ئے کہتاہے” نہ توعیسٰی ابوہیّت کے مد عی تھے اور نہ ہی وہ ہوں گے ۔
۲۔بعد نے کہا ہے کہ مندرجہ بالاآ یت میں ” مثل “سے مراد وہ تشبیہ ہے جو خدا تعالیٰ نے سورہٴ آلِ عمران کی آ یت۵۹میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اورحضرت آدم علیہ السلام کے بارے میںذکر فر مائی کہ :
” إِنَّ مَثَلَ عیسی عِنْدَ اللَّہِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہُ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ قالَ لَہُ کُنْ فَیَکُون“
” اللہ کے نز دیک عیسٰی علیہ السلام آدم کے مانند ہے کہ جسے خدانے مٹی سے بنایا، پھر فر مایاکہ ہوجا، پس وہ ہوگیا“۔
اگر عیسٰی باپ کے بغیر پیداہواہے ، توکوئی تعجب کی بات نہیں ہے ، کیونکہ آدم تو ماں اور باپ (دونوں )کے بغیر مٹی سے پیدا کیاگیاہے ) ۔
۳۔” بعض نے کہا ہے کہ ” مثل “سے مراد مشرکین کی وہ باتیں ہیں جو وہ کہتے تھے کہ ” اگر عیسٰی علیہ السلام کی عبادت کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہ اپنے معبودوں کی عبادت کریں ، جواُن سے افضل ہیں “۔
لیکن مندرجہ بالاآ یات میں جوخصوصیات بیان کی گئی ہیں اگران کی طرف دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ تینوں تفسیروں میں سے کوئی بھی ٹھیک نہیں ہے .کیونکہ آیا ت سے بخوبی معلوم ہوتاہے :
۱۔یہ مثل خود مشرکین کی طرف سے تھی ۔
۲۔ایسی بات تھی جوان کی نگاہوں میںعجیب وغریب اورمضحکہ خیز تھی ۔
۳۔ایسی چیز تھی جوعیسٰی کی الوہیت کے خلاف تھی ۔
۴۔ان کے اس مقصد کوپوراکررہی تھی جس کی وجہ سے ایک جھُوٹی بات پرجھگڑاکھڑا ہوگیاتھا ۔
۴۔مزید معلومات کے لیے کتاب ” احقاالحق “ جلد ۳ص ۳۹۸، تفسیر نورالثقلین جلد ۴،ص ۶۰۹اور تفسیر ” مجمع البیان“ کی طرف انہی آ یات کے ذیل میں رجوع فرمائیں ۔
5۔پہلی تفسیرکوطبرسی نے مجمع البیان میں شیخ طوسی ۺنے تبیان میں اور بعض مفسرین نے انتخاب کیاہے ، جبکہ دوسری تفسیر کوقرطبی ۺ ، فخر رازی آلُوسی نے اپنی کتاب روح المعانی میں ، زمخشری نے کشاف میں اور مراغی نے دوسرا معنی دو معانی میں سے ایک کے طورپر نقل کیاہے ۔
۶۔تفسیر المیزان اسی آیت کے ذیل میں ۔
۷۔پہلی تفسیر کے مطابق” من “بدل کے لیے ہے . جبکہ دوسری اور تیسر ی تفسیر کے مطابق ” من “” نشو ید “ہے ۔
لیکن ان سب تفسیروں میں سے پہلی تفسیر آ یت کے ظاہری معنی کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتی ہے باقی سب بعیدمعلوم ہوتی ہے ( ۷) ۔
۸۔اس حدیث کوصاحبِ تفسیر ” مجمع البیان“ نے ” صحیح مسلم “ سے اسی آ یت کے کے ذیل میں نقل کیاہے ۔
۹۔تفسیر مجمع البیان اسی آ یت کے ذیل میں اور تفسیر روح المعانی جلد ۵، ص ۸۰۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma