دو اہم سوالوں کا جواب

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21
اس موقع پر کئی سوال مندرجہ بالا آیات کے مطا لعہ کر تے وقت پیش آ تے ہیں اور دشمنانِ السلام کی طرف سے بھی انہیں دستا ویزی کے طورپر اسلام کے آ فاقی نظر یئے پر حملہ کے لیے استعما ل کیا جاتاہے ۔
پہلا سوال تو یہ ہے کہ قرآن مجید نے کیونکر انسان کے ذریعے انسان کی خدمت اور تسخیر کوجائز قرار دیاہے ؟کیااس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے اقتصادی اعتبارسے ایسے طبقاتی نظام کی تائید کی ہے جس میں ایک طبقہ خدمت لینے والا ہو اور دوسرا خد مت کرنے والا ؟
پھر یہ کہ اگر روزی اور معیشت خدا کی طرف تقسیم ہوچکی ہے اور یہ اقتصاد ی اور نچ نیچ اسی کی جانب سے ہے توپھر رزق کی تلاش ہمار ے لیے کس حد تک مفید اورثمر آ ورثابت ہوسکتی ہے ؟ آ یااس طرح سے زندگی کے لیے کوشش اورجدّ وجہد کی نفی نہیں کی گئی ؟
اگر آ یت مجیدہ کے متن میں غور کیاجائے توان سوالوں کا جواب بخوبی واضح ہوجاتاہے جو لوگ اس طرح کے اعتراضات کرتے ہیں ان کاتصور یہ ہوتاہے کہ آیت کامفہوم اس طرح ہے کہ انسانوں کاایک خاص طبقہ دوسرے لوگوںکو مسخر اور تابع فرمان بنا لے اور تسخیر بھی انسان سے ظا لمانہ استحصال کے معنی میں ۔
حالانکہ ایسی بات نہیں ہے بلکہ اس سے مراد لوگوں کی عمومی طورپر ایک دوسر ے سے خدمت طلبی ہے . یعنی ہرطبقہ کے اپنے مخصوص وسائل اوراستعدا د ہوتے ہیں جس کے پیش نظر وہ زندگی کے کچھ مسائل میں سر گرمی دکھاتاہے اور طبقی طورپر ان مسائل کے بار ے میں اسی کی خدمات دوسروں کے کام آ تی ہیں. اسی طرح دوسر ے طبقوںکی دوسر ے مسائل ہیں . تو گو یا ان کی خد مت طلبی برابر کی سطح پر ہوتی ہے اور طر فین کے درمیان پائی جا تی ہے . بالفاظ دیگر اصل مقصد اورزندگی میں ایک دوسر ے سے تعاون ہوتاہے نہ کہ کوئی دوسر ی بات ۔
از خود واضح ہے کہ اگر تمام لوگ ہوش وحواس اور روحانی وجسمانی لیاقتوںکے لحاظ سے برابر ہوتے تواجتما عی لحاظ سے سے کبھی نظم وجود میں نہ آسکتا . جس طرح کہ اگر انسانی بدن کے تمام خلیے ساخت ، دفاعی قوت کے لحاظ سے ایک جیسے ہوتے تو انسانی جسم کانظام بگڑ جاتاپاؤںکی ایڑ ی کی ہڈی کے مضبُوط اورطاقت ور خلیے کجااور آنکھ کی جھلی کے لطیف وناز ک خلیے کجا؟ان دونوں میں سے ہر ایک اپنی طرز ساخت کے مطابق اپنااپنا کام انجام دینے کے لیے بنائے گئے ہیں ۔
اس کے لیے زندہ مثال انسانی جسم کے مختلف اعضا کی ایک دوسر ے کی خدمت کے حوالے سے دی جاسکتی ہے جوسانس لینے ، خُون کی گردش کرنے ، غذا کھانے اوردوسری جسمانی فعالیت کی صُورت میں جود ہے اور یہ ” لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضاً سُخْرِیًّا“کاروشن مصداق ہے ( البتہ جسم کی اندرونی فعا لیّت کی حد تک ) تو کیا اس قسم کی تسخیرپر کسی قسم کا اعتراض وارد ہو سکتاہے ؟۔
اگریہ کہاجائے کہ ” “ کاجُملہ عدالت اجتماعی کے خلاف نظریہ پیش کرتاہے توہم کہیں گے کہ یہ اس سُورت میں ہوسکتا ہے جب ” عدالت “ کامعنی ” مسادات “ کیاجائے ، جبکہ حقیقی عدالت یہ ہے کہ جو چیزجس کا م کے لیے ہے وہیں پر قرار پائے . تو کیا کسِی فوجی ادارے با مُلکی کو چلانے کے لئے مراتب یامناصب کاوجُود اس کے ظالم ہونے پردلالت کرتا ہے ؟
ممکن ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوں ، جونعرہ کی صُورت میں ” مسادات “ کے کلمہ کواس کے حقیقی مفہوم سے بے توجہ ہو کراسے ہرجگہ استعمال کریں ، لیکن یہ صرف نعرے کی صُورت میں ہوگا . عملی زندگی میں باہمی فرق کے بغیروجُود میں آسکتاہے ہی نہیں.لیکن یہ باہمی فرق ایک انسان کے ہاتھوں دوسر ے انسان کے استحصال کاذ ریعہ بھی نہیں بنتا چاہیئے . سب لوگوں کوآزاد ہو ناچاہیئے تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوںکو بروئے کار لائیں ،اپنی استعد اد کوجلا بخشیں اوراپنی سرگرمیوںکے نتائج کما حقّہ، فائدہ اُٹھا ئیں اور جہاں ان کی دسترس نہیں ہے ،ان لوگوںکوجو طاقت رکھتے ہیں، اُن کا ہاتھ بٹا نا چاہیئے ۔
اب رہا دوسرا سوال کہ یہ بات کیونکہ ممکن ہے کہ جب ہرشخص کارزق مقرر ہوچکاہے پھر کوشش اور جدّو جہد کوجاری رکھّا جائے ؟ لیکن انہیں یہ غلط فہمی اس لیے ہوئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیںکہ خدا وند عالم نے انسان کی سعی وکوشش کواہمیّت نہیں دی اور نہ ہی اسے سعی وکوشش کا حکم دیاہے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ خدا وند ِ عالم نے مختلف سر گر میوں کے لیے انسان کے اندر صلاحیتیں بھی مختلف و دیعت فرمائی ہیں اوریہ بات بھی صحیح ہے کہ انسان زندگی میں اس کے اپنے ارادے سے ہٹ کر کُچھ بیرونی عوامل بھی بڑی حد تک اثر انداز ہیں لیکن س کے باوجُود ان عوامل میں سے ایک اہم اور بنیادی عامل سعی و کوشش کوبھی قرار دیاگیاہے اور ” ان لیس للا نسان الّا ماسعیٰ “ (نجم . ۳۰)کے اصُول کے پیشِ نظر اس نکتے کی بھی ہے ۔
بہرحال ایک نہایت ہی باریک اور دقیق نکتہ یہ بھی ہے نبی نوع ِ انسان ایک طرح کابرتن نہیں ہیں جو ایک کارخانے میں ایک ہی مشکل وصورت ،ایک ہی قالب اور پیما نے سے اورایک ہی طرح کا فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں . اگر یہی کیفیت ہوتی تووہ ایک دن بھی باہر مِل جُل کرزندگی بسر نہ کرسکتے ۔
اور نہ ہی انسان کسی مشنری کے نٹ بولٹ کی طرح تخلیق کیے گئے ہیں کہ جس کے بنانے والے اورانجنیئر نے اسے کَس دیاہے اور وہ مجبوراً اپنے کام کو جاری رکھے ہُوئے ہے . بلکہ اس کے بالکل برعکس تمام بنی نوع انسان ارادی طورپر آزاد بھی ہیں اور ساتھ ہی ذمہ داری اور فرائض کی ادائیگی کے لیے پابند بھی ہیں .اس کے باوجود ان کی صلا حیتیں اورلیاقتیں بھی مختلف ہیں اورایسے خالص مرکب اورمجموعے کانام انسان ہے . چنانچہ اگراس بارے میں کوئی اعتراض کیاجاتاہے تواس کی وجہ یہی ہے کہ اعتراض کرنے والے انسان کی معرفت سے بے بہرہ ہوتے ہیں ۔
قِصّہ مختصر ، خدا وند عالم نے تمام پہلوؤں کے لحاظ سے کسِی انسان کی دوسر ے انسان پرفوقیّت اور بر تر ی عطانہیں کی . بلکہ جُملہ ”رَفَعْ بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجات “ کے پیشِ نظر تمام لوگوں میں مختلف امتیازات پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں ایک دوسر ے پر فو قیّت حاصل ہے اورہرطبقے کی دوسر ے طبقے سے حصُولِ خد مت اور تسخیر بھی انہیں امتیازات کے پیشِ نظر ہوتی ہے (۱) ۔
 ۱۔ اس سلسلے میں مز ید تفصیل تفسیرنمونہ جلد سوم ،سُورہ ٴ نساء کی ۳۲ ویں آ یت اور جلد ششم میں سورہٴ انعام کی ۱۶۵ ویں آ یت کے ذیل میں بیان ہوچکی ہے ۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma