قراٰن کسی دولت مند پر نازل کیوں نہیں ہوا ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21
گزشتہ آ یات میں انبیاء کی دعوت کے ردّ عمل میں مشر کین کی حیلہ سازیوں اور بہا نہ جوئیوں کاتذ کرہ تھا . کبھی تووہ اس دعوت کو جادُو کہتے اور کبھی اپنے آباؤ اجداد کی تقلید کابہانہ پیش کرتے ہُو ئے فرامین الہٰی پیٹھ پھیرلیتے . لیکن زیر تفسیرآ یات میں خدا وند عالم ان کے ایک اور بے بنیاد اور کھوکھلے بہانے کی طرف اشارہ کرتے ہُو ئے فرماتاہے : انہوں نے کیایہ قرآن ان دوشہر وں ( مکّہ اور طائف )کے کسی بڑے ( مالدار اورمشہور )آ دمی پر نازل کیوں نہیںہوا ( وَ قالُوا لَوْ لا نُزِّلَ ہذَا الْقُرْآنُ عَلی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظیمٍ ) ۔
ایک لحاظ سے انہیں حق پہنچتاتھاکہ اس قسم کے حیلوں بہانوں سے کام لیں کیونکہ ان کے نکتہ نظر ے انسانی اقدار کو معیار مال و دولت ،ظاہر ی آن بان شہر ت اور شان وشوکت تھی . یہ سرپھرے یہ سمجھتے تھے کہ ان کے دولت مند اور ظالم قبائلی سر دار ہی کو خدا کی بار گاہ میں سب لوگوں سے زیادہ تقرب حاصل ہے . لہذا وہ تعجب کرتے تھے کہ نبوّت اور رحمت جیسی یہ عظیم نعمت اس قسم کے لوگوں پرنازل کیوں نہیںہوئی ؟بلکہ اس کے بر عکس اس یتیم ، غریب اورنادار انسان یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )بن عبداللہ پرنازل ہوگئی !یہ تو باورکرنے کی بات ہی نہیں ہے ۔
جی ہاں ایسے غلط اقدار پر مبنی نظام سے ایسا ہی نتیجہ نکالا جاسکتاہے . عظیم انسانی معاشروں کی سب سے بڑی مصیبت اوران کے انکار کی کجی کااصل سبب یہی غلط اقدا ر پر مبنی نظام ہیں جو بسا اوقات حقائق کو مکمل طورپر الٹ کررکھ دیتے ہیں ۔
جب کہ اس دعوتِ الہٰی کاحامل ایساشخص ہونا چاہیئے جس کے تمام وجود کوتقویٰ کی رُوح نے معمُور کررکھا ہو ، باخبر اور با بصیرت ہو ، عزمِ صمیم کا حامل ہو ،شجاع اور عادل ہو اور محروم و مظلوم لوگوں کے دور سے آ شنا ہو . یہ ہیں وہ شرائط اوراقدار جو اس آ سمانی رسالت کے حامل شخص میں پائی جاناضروری ہیں ، نہ کہ خوبصُورت لباس ، گراںقیمت اور انچے محلات اورظاہری آ ن بان . خدا کے انبیاء تو خاص طورپر ایسی چیزوں سے محروم تھے تاکہ کہیں ایسانہ ہوکہ اصل اقتدار جھوٹی قدرتوں کے ساتھ گڈ بڈنہ ہوجائیں ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ مکّہ اور طائف کے وہ کون لوگ تھے جواِن بہانہ سازو ں کے پیشِ نظر تھے ؟ اس بار ے میں مفسرین کی مختلف آ راء ہیں . البتہ اکثر مفسرین طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی اور مکّہ سے ولید بن مغیرہ مراد لیتے ہیں .لیکن بعض مفسرین نے مکّہ سے عتبہ بن ربیعہ کا اور طائفہ سے حبیب بن عمر ثقفی کانام لیاہے ۔
لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ ان کی گفتگو کسی خاص شخص کے بار ے میں نہیں تھی ، بلکہ ان کا مقصود کوئی بھی مالدار ، مشہور اورقوم و قبیلہ کاسر دار شخص تھا ۔
قرآن مجید ایسی غلط اورخر افاتی خر افاتی طرزِ فکر کو سر کوب کرنے کے لیے داندن شکن جواب دیتاہے اور اسلامی وخدائی نکتئہ نظر کو مکمل طورپر مجسم کرتے ہُو ئے پہلےفرماتاہے : آ یا یہ لوگ تمہارے رب کی رحمت کوتقسیم کرتے ہیں (اٴَ ہُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّکَ ) ۔
تاکہ جسے چاہیں نبوّت عطا کردیں ، جس پر چاہیں آسمانی کتاب نازل کردیں اور جس کے متعلق نہ چاہیں اس کے ساتھ ایسانہ کریں وہ غلط سمجھتے ہیں. تمہار ے رب کی رحمت کوخود وہی تقسیم کرتاہے اور سب سے بہتر جانتاہے کہ کون شخص ا س عظیم مرتبے کے لائق ہے ؟جیسا کہ سُورہ ٴ انعام کی ۱۲۴ویں آ یت میں بھی ذکرہوا ہے ۔
اللَّہُ اٴَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسالَتَہُ
” خدا بہتر جانتاہے کہ اپنی رسالت کہاں قرار دے “ ۔
اس سے بھی قطع نظر اگرلوگوں کی زندگی میں کوئی فرق اور اختلاف پایاجاتاہے تویہ ان کے معنوی اور روحانی مقامات ومراتب میں فرق کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتی . بلکہ ” ہم نے ان کے درمیان ان کی معیشت کو دنیا وی زندگی میں تقسیم کردیاہے اور بعض لوگوںکودوسر ے بعض لوگوں پر فو قیت دی ہے ، تاکہ وہ ایک دوسر ے کی خدمت کریں اور آپس میں تعاون کریں (نَحْنُ قَسَمْنا بَیْنَہُمْ مَعیشَتَہُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ رَفَعْنا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضاً سُخْرِیًّا وَ رَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ ) ۔
انہوں نے اس بات کوفراموش کردیا ہے کہ انسانی زندگی ایک اجتماعی زندگی ہے اوراس کوایک دوسر ے کے ساتھ تعاون اور آپس کی خدمت کے بغیر نہیں چلا جاسکتاہے .اگرتمام لوگ زندگی اوراستعداد کے لحاظ سے ایک ہی سطح پرہوں اورمعاشر ے میں ان سب کاایک جیسا مقام ہوتو تعاون اورایک دوسرے کی خدمت اورایک دوسر ے سے بہرہ مندی کااصول متزلزل ہو جائے گا ۔
اسی لیے انہیں اس قسم کی تفریق دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ ہی وہ اسے انسانی اقدار کامعیار سمجھ بیٹھیں۔
بلکہ تمہار ے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جوکُچھ یہ لوگ اکٹھا کرتے ہیں خواہ وہ جاہ و مقام ہو یامال و دولت (وَ رَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُون) ۔
بلکہ یہ تمام دنیاوی عہدے ، منصب ، مال اوردولت پروردگار کی رحمت اوراس کے قربت کے مقابلے میں مکھی کے پَر کے برابر بھی قدرو قیمت نہیں رکھتے ۔
اس آ یت میں ’ ’ ربّک “ دو مرتبہ آ یاہے ، جو پروردگار عالم کے خاص لطف و کرم کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے جواس نے اپنے پیغمبر خاتم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پرفر مایا ہے کہ ان کی قامت رسا کو نبوّت وخاتمیت کی خلقت زیبا سے مزین فر مایا ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma