ان اندھے اور بہرے مقلدین کانجام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21
یہ آ یات بُت پرستی کے بار ے میں مشرکین کے اصلی بہانے کے سلسلے میں جوکہ باپ داد کی اندھی تقلید پر مبنی ہے گذشتہ آ یات کاتتمہ ہیں ۔
سب سے پہلے فرمایاگیاہے :یہ صرف عرب مشرکوں کو ہی دعویٰ نہیں بلکہ ” اسی طرح ہم نے کسی شہر و دیار میں تجھ سے پہلے کوئی ڈ رانے والا پیغمبر نہیں بھیجا مگر بدمست اور مغرور دولت مندوں نے کہا کہ ہم نے تواپنے باپ داد ا کو کسِی مذہب پر پایا ہے اور ہم ان کے آثار کی اقتداء کرتے ہیں (وَ کَذلِکَ ما اٴَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِکَ فی قَرْیَةٍ مِنْ نَذیرٍ إِلاَّ قالَ مُتْرَفُوہا إِنَّا وَجَدْنا آباء َنا عَلی اٴُمَّةٍ وَ إِنَّا عَلی آثارِہِمْ مُقْتَدُونَ) ۔
اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتاہے کہ انبیاء کے ساتھ محاذ آ رائی کے سرغنے اور باپ دادا کی تقلید کامسئلہ پیش کرنے والے اوراس مسئلے پر ڈ ٹے رہنے والے لوگ ” متر فین “ ہی تھے ، بدمست ، مغر ور اور خوشحال گھر انوں کے افراد ، کیونکہ ” متر ف “ ” ترفہ “ ( بروزن لقمہ)کے مادہ سے ہے ، جس کامعنی ہے نعمت کی فر اوانی اور چونکہ بہت سے خوشحال گھر انوںکے لوگ اورثروت مند افراد شہوات حیوانی اورخواہشات نفسانی میں مگن ہوجاتے ہیں. لہٰذا ”مترف“ کالفظ ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتاہے . جو نعمتیں میں بد مست اور مغر ور ہو کر سرکشی پراثر آتے ہیں(۱)س اس کا مقصد اکثر بادشاہ ، ظالم و جابرحکمران ، متکبر ، دولت مند، اورخود پرست لوگ ہوتے ہیں ۔

جی ہاں ! انبیاء کے قیام کی وجہ سے ایسے ہی لوگوں کی خود سری اور من مافی کا ر وائیوں کاخاتمہ ہوتاتھا اوران کے ناجائز مفادات کوخطرہ درپیش ہوتاتھا اور محروم ومستضعف افراد ان کے چنگل سے نجات پاتے تھے . یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف حیلو ں بہانوں سے لوگوں کے ذہن کومسمُو م کرتے تھے اورانہیں احمق بنایاکرتے تھے . آج کے دور میں بھی دُنیا بھرمیں رونما ہونے والی برائیاں اور فسادات انہی ” متر فین “ کے مر ہوں منّت . جہاں بھی ظلم و گناہ اور تجاوز وتعدّ ی ہے وہاں انہی لوگوں کاہاتھ ہوتاہے ۔
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ ہم نے پہلی آیت میں ان کا یہ قول پڑھا ہے کہ ” إِنَّا عَلی آثارِہِمْ مُقْتَدُون “ یعنی ہم ان کے آثار پرہدایت کیے گئے ہیں اور یہاں پر ان کا یہ قول پڑ ھتے ہیں کہ ” إِنَّا عَلی آثارِہِمْ مُقْتَدُون“ یعنی
ہم ان کے آثار اقتداء اورپیروی کرتے ہیں .اگرچہ دونوں تعبیریں ایک ہی معنی کی طرف لوٹ رہی ہیںلیکن پہلی تعبیر ان کے بزرگوں کے مذ اہب کی حقا نیت کے دعویٰ کی طرف اشارہ ہے اوردوسر ی ان لوگوں کے اس مذہب پرڈٹے رہنے اور باپ داد اکی پیروی کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔
بہرحال صورت خواہ کچھ بھی ہو ، یہ آ یت پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور مو منین کے لیے ایک قسم کی تسلّی اور تسکین ہے کہ انہیں معلوم ہوجائے کہ مشرکین کے حیلے بہانے کوئی نئی چیز نہیں ہیں ، بلکہ یہ ان کاوہی راستہ ہے ، جس پر تاریخی طورپر تمام گمراہ لوگ گامزن چلے آ رہے ہیں ۔
بعد کی آ یت اس جواب کو بیان کررہی ہے جو انبیائے ماسلف انہیں دوٹوک الفاظ سے میں دیاکرتے تھے . چنانچہ ارشاد ہوتاہے :ان کے پیغمبروں نے انہیں کہا:آ یااگرمیں کوئی ایسادین لاچکا ہوں جو تمہار ے آ باء واجداد کے طر یقہٴ کار سے زیادہ واضح اور زیادہ ہدایت کرنے والا ہو ، پھر بھی تم اس کاانکار کرو گے (قالَ اٴَ وَ لَوْ جِئْتُکُمْ بِاٴَہْدی مِمَّا وَجَدْتُمْ عَلَیْہِ آباء َکُمْ)(۲) ۔
۲۔اس جُملے کاایک لفظ محذوف ہے ، جس کی تقدیر یُوں ہے .” اتتبعون اٰ با ئکم ولو جئتکم بدین اھدی من دین ا ٰ بائکم “ ( ملاحظہ تفسیر کشاف ،مراغی ، قرطبی اور رُوح المعانی ) ۔
یہ سب سے زیادہ موٴ دب تعبیر ہے جو ہٹ دھرم اورمغر ور قوم کے سامنے پیش کی جاسکتی ہے ، کہ جس سے ان کے جذ بات کوکسی طرح ٹھیس نہ پہنچے پیغمبر یہ نہیں کہتے ، کہ جوکچھ تمہار ے پاس ہے وہ سب جُھوٹ ، خرافات اور حما قت ہے ، بلکہ یہ کہتے ہیں جو کچھ میں لایا ہوں وہ تمہار ے باپ داد کے دین سے زیادہ ہدایت کرنے والاہے ، آ ؤ ، دیکھو اوراس کامطا لعہ کرو ۔
اس قسم کی قرآنی تعبیرات ، مباحثہ ومناظر ہ کے موقع پر خاص کر جاہل اور مغر ور افراد کے ساتھ بحث و مباحثہ کے وقت ہمیں گفتگو کرنے کاسلیقہ بتا تی ہیں ۔
لیکن اس کے باوجود وہ جہالت ،تعصب اورہٹ دھرمی میں اس قدر غرق ہو چکے تھے کہ یہ جچی تلی اورموٴ دبا نہ گفتگو بھی موٴ ثر ثاب ت نہ ہوسکی ، انہوں نے اپنے انبیاء کے جواب میں صرف اتنا کہا ” کہ ہم ہراس چیز کاانکار کرتے ہیں جس کو تم لے کر آ ئے ہو “ (قالُوا إِنَّا بِما اٴُرْسِلْتُمْ بِہِ کافِرُونَ ) ۔
انہوں نے اپنی مخا لفت کی کوئی دلیل پیش کیے بغیر اور انبیاء الہٰی کی پیش کش کے بار ے میں ذرہ بھر غور وخوض کے بغیر فوراً ہی یہ کہہ دیا ۔
ظا ہر ہے کہ ایسی سرکشی ، ہٹ دھرم اور بے منطق قوم کو جینے اورزندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں اور جلدیا بدیر ان پرعذاب الہٰی نازل ہوناہی چاہیئے تاکہ اس قسم کے گھانس پھونس اورخس وخاشاک کاخاتمہ کردے اوراسے راستے سے ہٹادے . لہٰذا اسی سلسلے کی آخر ی آ یت میں فر مایاگیاہے :لہٰذا ہم نے ان سے انتقام لیا اور انھیں سخت سزادی ( فَانْتَقَمْنا مِنْہُمْ ) ۔
کسی قوم کو طوفان کے ذریعے ، کِسی کو تباہ کُن زلزلے کے ذ ریعے ، کسی کو تیز و تند جھکڑ اورکسی کوبجلی کی چنگھاڑ کے ذریعے غرض ہم نے ان میں سے ہر ایک کو تباہ کُن حکم کے ذ ریعے نیست و نابود کردیا اور ہلاک و فنا کردیا ۔
مشرکین مکّہ کی عبرت آموزی کے لیے آ خرمیں روئے سخن پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی طرف ہے اور فرما یاگیاہے :دیکھ توجھٹلا نے والوں کاانجام کیا ہوا (فَانْظُرْ کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الْمُکَذِّبینَ) ۔
مکّہ کے ہٹ دھرم مشرکین کو بھی ایسے ہی انجام کاانتظار کرناچاہیئے ۔
 ۱۔لسان العرب میں ہے : ” اترفتہ النعمہ ای اطغتہ “ ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma