رشتوں کوخدا کی بیٹیاں کیوں سمجھتے ہو ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

گزشتہ آ یات میں کائنات میں خدا وندِ عالم کی نشانیوں اوراس کی نعمتوں اورکرم نوازیوںکوشمار کیاگیاہے اور عقیدہ ٴ تو حید کی بنیاد وں کومستحکم کیاگیاہے . اس کے بعد زیر نظر آ یات میں اس کے نُقطہٴ مقابل یعنی شرک اورغیراللہ کی پرستش کے خلا ف نبر و آز مائی کاآغاز فر مایاگیا ہے اور سب سے پہلے شرک کی ایک قسم یعنی فرشتوں کی پوجا پاٹ کاذکر کرتے ہُو ئے فر مایاگیاہے : انہوں نے خدا کے لیے اس کے بندوں میں سے ایک جُز ء قرار دیاہے (وَ جَعَلُوا لَہُ مِنْ عِبادِہِ جُزْء اً ) ۔
فرشتوں کوخداکی بیٹیاں اوراپنا معبُود سمجھنا ایک ایسی خر افات تھی جوبہت سے بُت پرستوں میں رائج تھی ۔
” جزء “ کے ذ ریعہ یہ بتا نامقصُو د ہے کہ وہ فرشتوں کوخدا کی اولا د سمجھتے تھے ، کیونکہ ہمیشہ اولاد اپنے ماں باپ کے وجُو د ہوا کرتی ہے ، جونُطفے کی صُورت میں ان سے جُدا ہوتی ہے اور آپس میں مرکب ہوجاتی ہے . اسی سے اس کے وجُود کاآغاز ہوتاہے ۔
ساتھ ہی یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ وہ فرشتوں کی عبادت بھی کیاکرتے تھے کیونکہ وہ ان کوخدا کے مقابل معبُود وں میں شمار کیاکرتے تھے ۔
یہ تعبیر ضمنی طورپر مشرکین کے خرافاتی عقیدے کے باطل ہونے کی ایک واضح دلیل بھی ہے،کیونکہ اگر فرشتے خداکی اولاد ہوں تواس سے یہ بات لازم آ ئے گی کہ خدا وند ِ عالم کا بھی جُزء ہے ، جس کانتیجہ نکلے گا کہ خدا کی پاک ذات مرکب ہے. جبکہ عقلی اور نقلی دلائل خداکے بسیط اوراحد ہو نے پر کثرت سے موجُود ہیں ، اور جُز ء تو صرف امکانی موجودات کے ساتھ مخصوص ہے ۔
پھر ارشاد فرمایاگیا ہے : انسان واضح طورپر کُفر کرنے والاہے (إِنَّ الْإِنْسانَ لَکَفُورٌ مُبینٌ ) ۔
اس قدر خدائی نعمتو ں نے اس کے تمام وجود کو اپنے گھیر ے میں لے رکھاہے کہ جن میں سے پانچ قسمیں گذشتہ آ یا ت میں بھی بیان ہوچکی ہیں ، ایسی حالت میں اسے تویہ چاہیئے تھاکہ اپنی بیشانی اپنے خالق اور ولی ء ٍنعمت کے آستان پرجھکا دیتا . لیکن اس نے کفر و انکار کی راہ اختیار کرتے ہوئے اس کی مخلوق کے دامن کوجا پکڑا ۔
بعد کی آ یات میں قرآن ان کے اس خرافاتی نظر یئے اور بودے فکر کی ند مت کرنے کے لیے خود ان کے ذہنی اور مسلمہ امور سے استد لال فرماتاہے کیونکہ وہ مرد کی جنس کو عورت کی جنس پر ترجیح دیتے تھے ، بلکہ اصولی طورپر وہ لڑ کیوں کواپنے لیے باعث ننگ وعار سمجھتے تھے . چنانچہ فرماتاہے : آ یا خدانے اپنی تمام مخلوقات میں سے بیٹیوں کواپنے لیے اور بیٹیوں کو تمہار ے لیے منتخب کیاہے (اٴَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَناتٍ وَ اٴَصْفاکُمْ بِالْبَنینَ ) ۔
تمہار ے خیال میں بیٹی کامرتبہ پست ہے ، توپھر کیونکر تم اپنے آپ کوخدا پر تر جیح دیتے ہو ؟اس کے حِصّے میں بیٹیاں اوراپنے حِصّے میں بیٹے کس لیے قرار دیتے ہو ؟
یہ ٹھیک ہے کہ اللہ کی بار گاہ میں انسانی اقدار کے لحاظ سے مرد اور عورت یکساں ہیں ، لیکن کبھی بھی ہوتاہے کہ مخاطب کے ذہنی افکار کے ذ ریعے استد لال اس کی فکر و نظر میں کافی حد تک موثر ہوتاہے اوراسے نظر ثانی پر آمادہ کرتاہے ۔
ایک بار پھر اسی موضوع کودوسر ے انداز میں بیان کرتے ہُو ئے فرمایاگیاہے : جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جس چیز کو انہوں نے خداوندِ رحمان کے لیے شبیہ قرار دیاہے تواس کا چہرہ سیاہ ہوجاتاہے اور وہ غُصّے سے بھر جاتاہے (وَ إِذا بُشِّرَ اٴَحَدُہُمْ بِما ضَرَبَ لِلرَّحْمنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَ ہُوَ کَظیمٌ ) ۔
”بِما ضَرَبَ لِلرَّحْمنِ مَثَلاً “ سے مراد وہی فرشتے ہیں جنہیں وہ لوگ خداکی بیٹیاں سمجھتے اوراپنے معبُود قرار دیتے تھے ، بالکل خداکی طرح اورخدا جیسے معبُود ۔
” کظیم “ کا لفظ ” کظم “ ( بروزن ” نظم “ )سے لیاگیاہے ، جس کامعنی ہے ” گلا “ . یہ لفظ مشک پانی سے بھر جانے کے بعد اس کے گلے کوتسمے سے بندکرنے کے لیے بھی آ یاہے . لہذا یہ کلمہ ان لوگوں کے لیے بھی بو لاجاتاہے ، جن کادل غم وغصّہ اور رنج سے بھر چکاہو ۔
یہ تعبیر لڑ کیوں کی پیدائش کے بار ے میں زمانہ ٴ جاہلیّت کے احمق مشرکین کے خر افاتی انکار کوبخوبی بیان کررہی ہے کہ وہ خوداپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کی خبرسُن کرکس قدر پریشان اورغمگین ہوجاتے تھے لیکن اس کے با وجُود فرشتوں کوخدا کی بیٹیاں سمجھتے تھے ۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہُوئے ارشاد فر مایاگیاہے : ” آ یا جو نبا ؤ سنگار میں پرورش پائے اوربحث و مباحثہ ، نزاعی گفتگو اور جدل مجادلہ کے موقع پر اپنا مدعا اور مقصود بھی بخوبی بیان نہ کرسکے ، اسے خداکی اولاد سمجھتے ہو اور بیٹوں کواپنی اولاد سمجھتے ہو ؟ “ (اٴَ وَ مَنْ یُنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ ہُوَ فِی الْخِصامِ غَیْرُ مُبینٍ) (۱) ۔
یہاں پرقرآن مجید نے عورتوں کی دوایسی صفات بیان کی ہیں جواُن میں عام طورپر دیکھنے میں آ تی ہیں اور یہ ان کے احساساتی پہلو سے پیداہو تی ہیں ، ایک توان کازیو رات اور بناؤ سنگار کی چیز وں سے قلبی لگاؤ ، اور دوسر ے شرم و حیا کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اوربحث و مباحثہ کے وقت اپنے مقصُود کے بیان کرنے پر ناکافی قدرت ۔
اس میں شک نہیں کہ کچھ عورتیں ایسی ہیں جنہیں زیب و زینت کی زیادہ خواہش ہوتی اوراس بات میں بھی کسی کو شک کرنے کے لیے تاکید بھی کی گئی ہے . البتہ یہاں پرمُر اد عورتوں کی وہ اکثریت ہے جوعام طورپر انسانی معاشروں میں زیب وزینت کے ساتھ حد سے زیادہ لگاؤ رکھتی ہیں گو یا وہ زینت و آرائش کی دُنیا میں قدم رکھ چکی ہوتی ہیں اوراسی بناؤ سنگار میں پر ورش پاتی ہیں ۔
اس بات میں بھی شک نہیں ہے کہ کچھ ایسی عورتیں بھی ہیں جوگفتگو میں مکمل طورپر ماہر ہیں . لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ اکثر یت ایسی عو رتوں کی ہے جوشرم وحیا کی وجہ سے بحث ومباحث اورلڑائی جھگڑوں کے موقع پر مر دوں کے مقابلے میں آ نے کی قدرت نہیں رکھتیں۔
اصل مقصد اس حقیقت کو بیان کرناہے کہ آخر کس بناء پر تم خدا کے لیے تو بیٹیاں اوراپنے لیے بیٹے قرار دیتے ہو ؟
اسی سلسلے کی آخری آ یت میں بات کوزیادہ صراحت کے ساتھ بیان کرتے ہُو ئے فرمایاگیاہے : انہوں نے فرشتوں کو جوکہ خداکے بندے ہیں ، موٴ نث ( اور خداکی بیٹیاں ) سمجھ رکھتاہے (وَ جَعَلُوا الْمَلائِکَةَ الَّذینَ ہُمْ عِبادُ الرَّحْمنِ إِناثاً) ۔
جی ہاں ! وہ خدا کے بندے ہیں ، اسی کے حکم کے پابند ہیں اوراس کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہُوئے ہیں ، جیساکہ سُورہ ٴ انبیاء کی آ یت ۲۶، و ۲۷ میں بھی فر مایاگیا ہے :
” بَلْ عِبادٌ مُکْرَمُون لا یَسْبِقُونَہُ بِالْقَوْلِ وَ ہُمْ بِاٴَمْرِہِ یَعْمَلُونَ “
بلکہ وہ توخدا کے معزز بندے ہیں ،کسی بھی بات میں اس سے آگے نہیں بڑھتے اور ہمیشہ اس کے فر مان پرعمل کرتے ہیں “ ۔
یہاں پر لفظ ” عباد “ ذکرکرنے کی وجہ سے درحقیقت ان کی ایک غلط سوچ کاجواب ہے ، کیونکہ اگرفرشتے موٴ نث ہوتے تو اس لفظ کے بجائے ” عبادات “ کہاجاتا . البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ لفظ ” ( عباد ) “ جہاں جمع مذکر کاصیغہ ہے ، وہاں پر ان تمام موجودات کے لیے بھی بولاجاتاہے جومذ کر یاموٴ نث کے دائرہ سے خارج ہوتی ہیں جیسے فرشتے وغیرہ ، جیساکہ خداوند ِ عالم کے بار ے میں مفرد مذکر کی ضمیر وں سے استفادہ کیاجاتاہے ، جبکہ وہ ایسی تمام چیزوں سے بلند و بالاہے ۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس جملے میں ” عباد “ کو ” الر حمن “ کی طرف مضاف کیاگیاہے ، اس کی جہ شاید یہ ہو کہ اکثر و پیشتر فرشتے خدا کی رحمت کااجر اکرتے اور کائنات کے نظام کو چلاتے ہیں کہ جو سراسر رحمت ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ خر افات زمانہ جاہلیّت کے عربوں میں کیونکرپیدا ہوئی اورآج تک کئی لوگوں کے اذہان میں اس کے اثرات کیوں موجُود ہیں ؟یہاں تک کہ وہ جب بھی کسی فرشتے کی تصویر کشی کریں تو اسے عور ت یالڑ کی کے رُوپ میں پیش کرتے ہیں ، بلکہ جب کِسی نام نہاد ” فر شتہ ٴ آزادی “ کامجسمہ بناتے ہیں تو عورت کے چہر ے اور لمبے چوڑے زنانہ بالوں کے ساتھ اسے منصہ شہود پر لاتے ہیں ۔
ممکن ہے کہ یہ فکر اس لیے پیدا ہوئی ہو ، کیونکہ فرشتے آ نکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں اور عورتیں بھی عام طورپر پردے میں ہوا کر تی ہیں . حتی کہ لغت عرب میں بعض مقامات پر مجازی موٴ نث کے بار ے میں بھی یہی سوچ کار فر نظر آ تی ہے . مثلاً ” سُور ج “ کو مجازی موٴ نث اور چاند کومذکر سمجھتے ہیں کیونکہ سُورج کی ٹکیہ عام طورپر اپنے نُور کی شعا عوں پر ڈھکی رہتی ہے اوراسے آنکھوں سے آسانی کے ساتھ نہیں دیکھا جاسکتا ہے ، جب کہ چاند کی ٹکیہ ایسے نہیں ہے ۔
یاپھر اس لیے کہ فرشتوں کے وجُود کی لطافت اس با ت کاباعث بنی ہے کہ انہیں بھی عورتوں کی جنس سے شمار کیاجائے جومر دوں کی نسبت لطیف وجود ہیں .تعجب تواس بات پر ہوتا ہے کہ اسلام نے اس خرا فات کے خلاف جواقدام کیاہے اس کے باوجُود جب کبھی کوئی کسی عورت کی خوبی بیان کرتاہے توکہتاہے کہ ” وہ توایک فرشتہ ہے “ ، جبکہ مردوں کے بار ے میں اس قسم کے باوجُود جب کبھی کوئی کسی عورت کی خوبی بیان کرتا ہے توکہتاہے کہ ” وہ توایک فرشتہ ہے “ ، جبکہ مردوں کے بارے میں اس قسم کے الفاظ بہت کم سُنے جاتے ہیں . اور ” فرشتہ “ کے لفظ کوعورت کے نام کے لیے منتخب کیا جاتاہے ، مرد کے نام کے لیے نہیں۔
پھر انکار ی استفہام کے طورپر ان کے جوا ب میںفر مایاگیاہے : آ یا وہ فرشتوں کی تخلیق کے وقت موجود تھے اورانہوں نے اپنی موجود گی کی وجہ سے اس قسم کا نتیجہ نکالاہے (اٴَ شَہِدُوا خَلْقَہُمْ ) ۔
آیت کے آخر میں فرمایاگیا ہے : اس بے بنیاد عقیدے کے بار ے میں ان کی گواہی ان کے نامہٴ اعمال میں لکھّی جاتی ہے اورقیامت کے دن ان سے اس بار ے میں پوچھا جائے گا (سَتُکْتَبُ شَہادَتُہُمْ وَ یُسْئَلُونَ ) ۔
جوکچھ ہم مند رجہ بالا آ یات میں پڑ ھ چکے ہیں اسی چیز کودوسر ے اندازمیں سُورہ ٴ نحل کی آ یت ۵۷ تا ۵۹ میں بھی بیان کیاگیا ہے ، ہم نے وہاں پر زمانہٴ جاہلیّت کے عربوں کے عقیدہ کومسئلہ ” و ئاد“ ( بچیوں کو زندہ در گور کرنے ) کے سلسلے میں تفصیل سے بیان کیاہے ، بلکہ اصولی طورپر صنف نازک کے بارے میں ان کے عقیدے اوراسلامی نقطہٴ نظر سے عورت کی شخصیت اوراس کے مقام کو بڑی تشریح اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ( ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد ، ۱۱ صفحہ ۲۲۱ تا ۸ ۲۲) ۔
۱۔” ینشوء “ مادہ ” نشاء “ کسی چیز کی ایجاد کے معنی میں ہے ، لیکن یہاں پر پرورش پانے کے معنی میں ہے اور” حلیة “ کے معنی زینت ہے اور ” خصام “ کامعنی کِسی چیز پر بحث و مباحثہ اورکش مکش ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma