نعمتوں کے موقع پرخدا کی یاد

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21
قرآنی آ یات میں قابلِ توجہ نکات میں سے ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ موٴ منین کوکُچھ دُعا ئیں بتا ئی گئی ہیں کہ جب وہ خدا کی نعمتوں سے استفادہ کریں تووہ دُعاؤں کوپڑھا کریں . یہ ایسی دُعا ئیں ہیں جواپنے تعمیری مطالب کی وجہ سے انسانی قلب کی رُو ح کی بالید گی کاسبب بنتی ہیں اورغرور و غفلت کے آثار مٹا دیتی ہیں ۔
جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلا م کوحکم ہوتاہے :
فَإِذَا اسْتَوَیْتَ اٴَنْتَ وَ مَنْ مَعَکَ عَلَی الْفُلْکِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذی نَجَّانا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمینَ
” جب تم اور تمہار ے ساتھی کشتی پرسوار ہوجاؤ توکہو کہ اس خدا کی حمد ہے ، جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات بخشی“ ۔
نیزحضرت نوح علیہ السلام ہی کو یہ حکم مِلتا ہے کہ کسی بابر کت منز ل پر اتر نے کے لیے یہ کہیں :
رَبِّ اٴَنْزِلْنی مُنْزَلاً مُبارَکاً وَ اٴَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلینَ
” پر وردگار ا ! مجھے بابر کت منزل پراُتا ر اور توبہتر ین اتار نے والا ہے “ َ ۔ ( مومنون ۔ ۲۹)
زیر تفسیر آ یات میں سواری پربیٹھ جانے کے وقت ہم کو پر وردگار کی نعمتوں کی طرف توجہ اوراس کی تسبیح کاحکم دیا گیاہے ۔
جب انسان کی یہ عادت ہوجائے کہ کسِی بھی نعمت سے بہرہ مندی کے وقت منعم حقیقی اورنعمت کے مبداء کو یاد کرے تو نہ وہ غفلت کی تاریکی میں ڈوبے گا اور نہ ہی غرور کی لغزش سے دوچار ہو گا . بلکہ مادی نعمتیں اس کے لیے پرور دگار عالم کی طرف پل کی حیثیت اختیار کر لیں گے ۔
حضرت پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے حالات میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )جب اپنا پاؤ رکاب میں رکھتے تو ” بسم اللہ “ کہتے تھے اور جب سواری پراچھی طرح بیٹھ جاتے توفر ماتے :
” الحمد اللہ علیٰ کل حال ، سبحان الذی سخرلنا ھٰذا و ما کنّا لہ مقر نین وانّا الیٰ ربّنا لمنقلبون ( ۵) ۔
ایک اورروایت میں ہے کہ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے سامنے ایک شخص نے سواری پرسوار ہوتے وقت کہا:” سبحا ن الذ ی سخر لنا ھٰذا “ تو امام علیہ السلام نے فرمایا : تمہیں ایساکہنے کاحکم نہیں مِلا ، بلکہ یوں کہا کرو :
” الحمد اللہ الّذی ھداناللا سلام ، الحمد اللہ الّذی من علینا بمُحمّد والحمد اللہ الّذی جعلنامن خیر امة اخر جت لنّاس “ ۔
پھر کہو : سبحان الّذی سخر لنا ھٰذا ...( ۶) ۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمیں صرف ” سبحان الّذی سخرلنا ھٰذا----....“ کہنے کاحکم نہیں دیاگیا . بلکہ اس سے پہلے خداوند عالم کی عظیم نعمتوں کو یا د کرنے کا یہ حکم ہے ، جواسلام کی طرف ہدایت کی نعمت ،رسُول اللہ کی رسالت کی نعمت ہیں . پھراس سواری کو قابو میں لانے پرخدا کی تسبیح کاحکم ہے ۔
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ جوشخص سواری پر بیٹھتے وقت ” سبحان الّذی سخرلنا ھٰذا-------.. . الیٰ ربّنا لمنقلبون “ کہے تووہ ہر قسم کی مصیبتوں سے محفوظ رہے گا ۔
یہ بات اصُول ِ کافی کی ایک روایت میں آ ئمہ معصومین علیہم السلام سے بھی منقول ہے ( ۷) ۔
اسلامی تعلیمات اور مغرور ہوس پرست لوگوں کے رویے کے درمیان کتنا فرق ہے ، جواپنی سوار یوں کوخود نمائی اورفخر وغرور کاذ ریعہ سمجھتے ہیں بلکہ کبھی انھیں اپنے مختلف گناہوں کاذ ریعہ بنالیتے ہیں . جیساکہ ” زمخشری “ نے اپنی تفسیر ” کشاف “ میں ایک بادشاہ کے بار ے میں لکھا ہے کہ وہ اپنی مخصوص سواری پر بیٹھ کر ایک شہر سے دوسر ے شہر کی طرف جارہاتھا ۔
شہر وں کادرمیانی فاصلہ ایک مادہ کا سفر تھا، اس نے اس سفر میں اس قدر شراب پی کی اسے سفر کاپتہ ہی نہیں چلا ، اور تب ہوش آ ئی ، جب وہ منزل مقصود تک پہنچ چکاتھا ۔
۱۔ قرآن مجید کے دو اور مقاما ت پر بھی ان کا” خدا کی خا لقیت “ کااعترف نقل ہواہے . البتہ ایک مقام پرآسمان سے بارش کے نُزول کے بار ے میں ۔ ( عنکبوت / ۶۳) اور دوسرے مقام پر ان کی اپنی ذات کے بار ے میں خداکی خالقیت کے بار ے میں ( زخرف / ۸۷) ۔
۲۔ لفظ ” سبل “ ” سبیل “ کی جمع ہے ، جس کاخشکی کے راستوں پر بھی اطلاق ہوتاہے اور تری کے راستوں پر بھی جیساکہ دُعا ئے جوشن کبیر میں ہے ۔ ( یامن فی البرو البحرسبیلہ)
۳۔ ” عَلی ظُہُورِہِ “ میں موجود ضمیر ” ما “ موصو لہ کی طرف لوٹ رہی ہے جو ” ما تر کبون “ میں ہے اور کشیوں اور چو پایوں دونوں قسموں کے لیے ہے اور ضمیر ظاہر ی لفظ کی وجہ سے مفرد ہے ۔
۴۔ کتاب ” لسان العرب “ میں آ یاہے کہ ” اقرن لہ “ اور ” قر ن علیہ “ کامعنی ہے . اطاق و قوی علیہ و اعتلا “ یعنی اس پر قابو پایا اور سوار ہوا . قرآن پاک میں ہے ” وَ ما کُنَّا لَہُ مُقْرِنینَ “ یعنی ” مطیقین “ ۔
۵۔ تفسیر فخر الرازی ، جلد۲۷،ص ۱۹۹۔
۶۔ تفسیر فخر الرازی ، جلد ۲۷، ص ۱۹۹۔
۷۔ تفسیر نورالثقلین ، جلد ۴، ص ۵۹۳۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma