سُور ہ زخرف کے مضامین اور فضیلت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21
یہ سُورُ مکہ میں نازل ہوئی
اس کی ۸۹ آیات ہیں

سُور ہ زخرف کے مضامین :

سورت زخرف مکی سورتوں میں سے ہے . اس کی صرف آ یت ۴۵ کے بار ے میں بعض مفسرین نے کچھ اختلاف کیاہے اوراسے مدنی سورت سمجھا ہے . اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس کے بیشتر مطالب کاتعلق اہل کتاب سے ہے . یاپھر معراج کے واقعے کو بیان کررہی ہے ، چونکہ ان دونوں واقعات کامدینہ سے ربط ہے لہٰذاانہوں نے اسے مدنی شمارکیا ہے .ہم انشاء اللہ اسی آیت کی تفسیر کے موقع پر اس کی بھی وضاحت کریں گے ۔
بہرحال مکی سورتیں اکثر و بیشتر اسلام کے بنیادی عقائد کے محور کے گر و گھو متی ہیں اورمبد اء و معاد ، نبوت و قرآن اورانداز و بشیر کے متعلق گفتگو کرتی ہیں اور یہی مزاج اس سورت کا ہے ۔
اس سورت کے مضامین کو خلاصے کے طورپر سات حصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے :

پہلا حصّہ :
یہ سورت کاسر آغاز ہے اس میںقرآن مجید ، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی نبوت کی اہمیّت اوراس آسمانی کتاب یعنی قرآن پاک کے ساتھ جہلاکی ناپسند یدہ روش کے بار ے میں گفتگو کی گئی ہے ۔

دوسراحصّہ :
” آفاق “ میں توحید کے کچھ دلائل اورانسان پرخدا کی گو ناگو ں نعمتوں کے تذ کرہ مشتمل ہے ۔

تیسرا حصّہ :
اسی حقیقت کی تکمیل کر تاہے . یعنی اس حصّے میں شرک کے خلاف جدو جہد ، خدا کی ذات کی طرف نارو انسبتوں کی نفی ، اندھی تقلید اور لڑ کیوں سے نفرت اور فرشتوں کوخداکی بیٹیاں سمجھنے جیسی خرافات کے خلاف بات کی گئی ہے ۔

چوتھا حصّہ :
حقائق کومجسم کرنے کے کچھ سابق انبیاء اوران کی اقوام کی سرگزشت بیان کی گئی ہے اورخصوصی طورپر حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسٰی علیہ اسلام ، حضرت عیسٰی علیہ السلام کی داستانوں پرزیادہ زور دیاگیاہے ۔

پانچواں حصّہ :
اس میں معاد کے مسئلے کی ضمن میں موٴ منین کی جزااور کفار کے دردناک انجام کو بیان کیاگیاہے . اور مجرمین کو زور دار الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے ۔

چھٹاحصّہ :
یہ اس سورت کااہم ترین حصّہ ہے اوراس میں ان جھوٹی اقدار کاذکر ہے جوبے ایمان لوگوں کے افکار پرحکم فرماچلی آ رہی ہیں . اورانہی جھوٹی اور بے بنیاد اقدار کی وجہ سے وہ زندگی کے اہم مسائل کو بھی سمجھنے میں گو ناگوں غلطیوں کے مر تکب ہوتے چلے آ رہے ہیں حتی کہ وہ اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قرآن مجید کو بھی ایک متمول اورثر وتمند شخص پرنازل ہونا چاہئے تھ. کیونکہ وہ انسانی شخصیت اور عظمت کو دولت ہی میں منحصر سمجھتے تھے . قرآن مجید نے اس سورت کی متعدد آیات میں اس احمقانہ سوچ کی خوب سرکوبی کرتے ہوئے صحیح اسلامی اورانسانی اقدار کو اجاگر کیاہے ۔

ساتواں حصّہ :
دوسری سورتوں کی طرح اس میں بھی موثر اور مفید پندو نصیحت پائی جاتی ہے . یوں یہ حصّوں کی تکمیل کرتاہے تاکہ سورت کی مجموعی آیات کومعجون شفاکی صورت عطا کرے اور سننے والے کے دل پر گہرااثر ڈالے ۔

اس سورت کانام اس کی ۳۵ ویں آ یت کے لفظ سے لیاگیا ہے جس میں مادی اقدار اور ” زخرف “ ( سونا اوراس جیسی چیزوں ) کے بار ے میں بات چیت کی گئی ہے ۔
اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت :

تفسیر اور حدیث کی مختلف کتابوں میں اس سورت کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے ، اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی ایک حدیث بھی ہے :
من قراٴ سورة الزخرف ، کان ممن یقال لہ یوم القیامة یا عباد لاخوف علیکم الیوم و لا انتم تحز نون اد خلواالجنة بغیر حساب
جوشخص سورہ زخرف کی تلاوت کرے گا وہ ان لوگوں میں قرار پائے گا جنہیں رو ز قیامت اس طرح مخاطب کیاجائے گا : اے میر ے بندو! آج نہ تو تم پرکسی قسم کاخوف ہے اور نہ ہی غم تم بہشت میں حساب و کتاب کے بغیر چلے جاؤ ( ۱) ۔
البتہ یاعباد لاخوف علیکم الیوم ولا انتم تحز نون
کاخطاب اسی سورت کی ۶۸ ویں آ یت میں موجود ہے . ادخلو االجنة کاجملہ اس کی ۷۰ ویں آ یت سے لیاگیا ہے اور ” بغیر حساب “ کاجملہ کلام کے لواز مات میں سے اورقرآن مجید کی دوسر ی آیات سے لیاگیاہے ۔
صورت حال خواہ کچھ ہو ، یہ عظیم بشارت اور بے حد و حساب فضیلت ، غور وفکر اورایمان و عمل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ تلاوت تو سمجھنے کے لیے مقدمہ کی حیثیت رکھتی ہے اورایمان و عمل اس کے ثمر ہوتے ہیں ۔
۱۔ تفسیر مجمع البیان
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma