میز ، تناسخ اور روحوں کی بازگشت کی راہ میں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
علم اسپریتسم
سوال : روح سے مرتبط لوگ کہتے ہیں کہ جو ارتباط ہم نے روحوں سے برقرا ر کیا ہے اس سے ہمارے لئے ثابت ہوگیا ہے کہ روح کو ایک نئی زندگی ملتی ہے اور یہ مسئلہ ہمارے لئے ایک حسی امر ہوچکاہے ، آپ اس دلیل کے جواب میں کیا فرماتے ہیں؟
جواب : معروف ضرب المثل ہے کہ لومڑی سے پوچھا گیا کہ تمہار اشاہد کون ہے تو اس نے جواب دیاکہ میری دم!
یہ بھی کوئی دلیل ہوئی کہ جس کا جواب مجھ سے مانگا جارہا ہے ،کہاںسے معلوم کہ فلاں مطلب واقعی اور حقیقی ہے ، اگر میں کہوں کہ روحوں نے میرے کان میں ایسا ویساکہا ہے ، کیا دنیا کے کسی بھی گوشہ میں ایسے مدعی کے دعویٰ کو دلیل بنایاجاسکتاہے؟
قابل توجہ نکتہ تو یہ ہے کہ انہیں کے دعویٰ کو ان کے عقیدہ کے ابطال کی دلیل بنا جا سکتاہے اس لئے کہ وہ ایسے مطالب روحوں سے نسبت دیتے ہیں کہ جنہیں سن کر ہنسی آتی ہے ۔
اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو پھر اس داستان کو پڑھیں جسے انہوں نے اپنے مقالہ میں نقل کیا ہے:
آقائے مکارم شیرازی!
ہم نے روحوں کی بازگشت کے مسئلہ کو باتوں کے ذریعہ قبول نہیں کیا ہے بلکہ عملاًمشاہدہ کر کے قبول کیا ہے، آپ کو میرے اور دوسروں کے شہود کی اطلاع نہیں ہے ،ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ ایک روح خبر دیتی ہے کہ عنقریب پلٹنے والی ہے اور پھر چند روز بعدوہ اطلاع دیتی ہے کہ میں فلاں عورت کے شکم میں ہوں ۔
ایک مدت گزرنے کے بعد ایک رات خبر دیتی ہے کہ یہ میرا آخری رابطہ ہے، اب اس کے بعد میں نہیں آؤں گی اس لئے کہ چند دنوں کے اندر فلاں عورت کے شکم میںموجود جنین میں حلول کروں گی کہ جس کی خبر پہلے دے چکی ہوں، اس جنین کی جنسیت لڑکا ہے یا لڑکی اس کی بھی خبر دیتی ہے ۔اس کے بعد وہی کچھ ہوا جن کی اس نے خبر دی تھی ۔
عجیب تو یہ ہے کہ انہیں عورتوں میں سے ایک عورت جو آپریشن یا دوسرے اسباب کی وجہ سے ( جو میرے ذہن میں نہیں ہے) حاملہ ہو نے سے مایوس ہو چکی تھی ،جب اس سے ہم لوگوں نے کہا کہ ابراہیم ( جو اس کے رشتہ داروں میں سے تھا)کی روح نے خبر دی ہے کہ عنقریب وہ تمہارے شکم میں لو ٹے گی تواس عورت نے یہ سن کر ہمارا مذاق اڑایا ،اس قضیہ کو ابھی ایک ما ہ گزرا تھا کہ اس میں حمل کے آثار نمایاں ہو گئے ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حمل کے ابتدائی مہینوں میں وہ عورت ، اس کا شوہر اس کے رشتہ دار اور ابراہیم کا باپ جو اپنی گزشتہ زندگی میں اسپر یتسم کا معتقد تھا اور فرانس میں اس علم سے آشنا ہو اتھا۔
سب کو یقین تھا کہ نوزاد لڑکا ہو گا کہ جوو ہی ابراہیم ہے ، وہ عورت جب کسی موضوع کی تائید کر نا چا ہتی اور قسم کھانا چا ہتی ہے تو اپنے شکم کی طرف اشارہ کرتی ہو ئی کہتی کہ ابراہیم کی قسم انہیں اس حد تک یقین تھا کہ وہ نوزاد لڑکا ہے اور وہی ابراہیم ہے، ١ اس لئے کہ انہیں بخوبی معلوم تھا کہ یہ وہی ابراہیم ہے جوچند ماہ پہلے انتقال کر گیا تھا۔
اس کا نام اس نئی زندگی میں بلکہ اس کے دوبارہ تولد سے پہلے ابراہیم رکھا اورشاید اس وقت اس نوزاد کی عمر ٢١ یا ٢٢ سال یا ایک دو سال کم یا زیادہ ہو گی،چھ سات سال پہلے وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ایران چھوڑ کر چلا گیا، میں جب بھی اسے دیکھتا تو مذا ق میں اسے ابراہیم ثانی کہتا ہوں .
یہ داستان جو سر تا پا اوہام و تخیلات کا نتیجہ ہے ، روحوں کی بازگشت کے طرف داروں کے ہزاروں استدلا ل کا ایک نمونہ ہے جسے ہم نے پیش کیا ہے لیکن اس داستان کے آخر میں حقیقت فاش ہو گئی ہے کہ جسے ہم یہاں پر ذکر کرتے ہیں (چھ یا سات سال پہلے وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ایران سے چلا گیا ) اور حتماً فرانس میں بھی کہاں ہے ،یہ بھی نہیں معلوم، انہوں نے ایسا اس لئے کیا کہ کہیں ایسا نہ ہوکوئی تحقیق کی خاطر پہنچ جائے ۔
اور ایڈریس مانگ لے لہٰذا شروع ہی میں لکھ دیا کہ وہ ایران سے چلا گیا ہے تاکہ اسے کوئی ڈھونڈ نہ سکے اور حقیقت کا پتہ نہ لگا سکے ۔
١۔آپ کو ابراہیم کی جان کی قسم سچ بتائیں !کیا یہ داستان من گھڑت نہیں ہے؟
علم اسپریتسم
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma