ہم بھی بت سازی، حق تلفی اور خود باختگی کے مخالف ہیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
علم اسپریتسم
جسے تھوڑا سا بھی فلسفہ آتا ہو وہ اتنا ضرور جانتا ہے کہ یونان کی زمین پر فلسفہ کے سورج کے ڈوبتے ہی زمین مشرق مخصوصاًاسلامی ممالک پر دوبارہ طلوع ہوا ۔
آلفرڈ گیوم ( انگلستان میں واقع کلہم یونیور سٹی ) کا رئیس علوم شرقی کی بہ نسبت متصعب ہو نے کے باوجود فلسفہ شرق کے عنوان سے لکھے گئے مقالہ کے آخر میں جسے انگلینڈ کے بارہ اساتید اور مستشرقوں کے مقالہ جا ت کے ہمراہ کتاب ( میراث اسلام ) میں شائع کیا گیا ہے ۔
اس طرح اعتراف کر تا ہے :
جب ہم چراغ معرفت کے ساتھ یو رپ کے کتابخانوں میں مو جود ہ کتابوں کا مطالعہ کر تے ہیں تو معلوم ہو تا ہے کہ عربوں ( مسلمانوں) کا نفوذ آج بھی ہمارے درمیان پا یا جاتا ہے، یہ تاثیر قرون وسطیٰ(قرن پنجم سے پندرہویں صدی تک) کے تمدن وتہذیب میں نفوذ سے کہیں زیادہ ہے جسے میں نے تشخیص دی ہے
یہ اعتراف اس گفتار سے(مشرق کے پرانے فلسفہ کی تلاش میں جانے سے بہتر ہے کہ فلسفہ غرب کی تلاش میں جایاجائے، اس لئے کہ غرب کا فلسفہ متحرک اور سیال ہے اور شرق کا فلسفہ جامد، راکد اورتکرار مکررات ہے)کس قدر متفاوت ہے ۔(شمارہ ١٥٠٠ )
مقالہ نگارکی یہ بات کہ جس سے غرب زدگی پوری طرح آشکار ہے ، مسلماً ان لو گوں کی گواہیوں کے مقابلہ میں کہ جن کی وکالت میں اس مقالہ نگار نے بحث کی ہے ، کسی اہمیت سے برخواردار نہیں ہے ۔
حقیقت میں اس مسئلہ کے متعلق بحث کرنا بیکار ہے کہ شرق فلسفہ کا گہوارہ ہے یا نہیں ، فلسفہ شرق سے اٹھا ہے اور ابھی بھی شرق میں فلسفہ کے اصولی افکار موجود ہیں ۔
جب غربی فلاسفہ جیسے، ڈکارٹ فرانسوی ، برٹر انڈراسل، ( انگلیند کا مشہور فلسفی) مٹرلینگ بلژیکی کے افکار کو شرقی فلاسفہ کے افکار کے ساتھ مقائسہ کیا جاتا ہے تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ غربی فلاسفہ کے افکارشرقی فلاسفہ کے مقابلہ میں کس حد تک بچگانہ ہیں اورپھر ہمیںشرقی فلاسفہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔
مثلا ًبرٹرانڈ راسل خدا پر ایمان کے نہ ہونے کے دلائل میں بیان کرتاہے :
خدا شنا سی کی بنیادی دلیل علة العلل ہے اور میں جوانی میں اسی دلیل کی وجہ سے ایک با ایمان شخص تھا لیکن بعد میں اس عقیدہ سے منھ پھیر لیا، اسلئے کہ یہ فکر میرے ذہن میں آئی کہ اگر ہر چیز کے لئے علت کا ہونا ضروری ہے تو پھر خدا کیلئے بھی علت کا ہونا ضروری ہے ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہی مطلب غربی فلسفی مٹرلینگ کے آثار میں خا ک شناسی کے موضوع کے تحت موجود ہے ، یہ ایک ایسا آسان اشکال ہے کہ جس کا جواب ایک شرقی طالب علم فلسفہ کی رو سے نہایت آسانی سے دے سکتاہے جب کہ اسی معمولی اشکال نے راسل کو ملحد بنا دیا ۔
مشرق میں درس فلسفہ کا ایک شاگرد بخوبی جانتاہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں ہر موجود کیلئے ایک خالق کا ہونا ضروری ہےتو یہاں پر موجود سے مراد وہ موجود ہے جس کی ہستی خود اسی کی طرف سے ہواوراس کی ذات کی طرف سے نہ ہو لیکن وہ موجود کہ جس کا وجود خود اسی کی طرف سے ہو او رعین وجود ہو،اسے فلسفہ شرق کی اصطلاح میں واجب الوجود کہا جاتاہے جسے کسی خالق کی ضرورت نہیں ہوتی ، خد اواحد، موجود ازلی اور ہمیشگی ہے جس کا آغاز و انجام نہیں ہے اور اپنے لئے کسی علت کا محتاج بھی نہیں ہے ۔
اگرچہ راسل اورمٹرلینگ خدا کو قبول نہیں کرتے لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ مادہ اول کے وجود کو قبول کرتے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ یہ مادہ اول کہاں سے آیا ؟ اگر قانون علیت عمومی ہے تو پھر کیوں مادہ اول اس قانون سے مستثنیٰ ہے ؟
شاید وہ لوگ جواب دیں کہ (مادہ اول) ازلی ہے او ر کسی خالق یاعلت کا محتاج نہیں ہے ،اگر ایسا ہی ہے تو پھر خدا پرست اپنے خد اکے سلسلہ میں بھی یہی بات کہتے ہیں (غورکریں) یہ اتنا روشن اور واضح مسئلہ آقائے راسل اورمٹرلینگ سے پوشیدہ رہ گیا ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کس قدر فلسفہ سے پیچھے ہیں (مخصوصا ً فلسفہ الٰہی کے مباحث میں ) ۔
خدا کے اثبات کے متعلق فرانس کے مشہور فلسفی ڈکارٹ کے تین مشہوردلیلوں کوپڑھا ہو گا جسے وہ اپنے عملی شاہکار میں شمار کرتے ہیں جسے تفصیلاً بیان نہیں کیا جاسکتالیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ دلائل ہماری نظروں میں ہیچ ہیں اس لئے کہ وہ دلیلیں اشکال سے خالی نہیں ہیں ۔
ڈکارٹ کا مشہور جملہ میں خیال کرتا ہوں کہ پست ہوں اس کے بنیا دی فلسفہ کی روح ہے ،ہماری نظروں میں یہ جملہ بے بنیاد ہے اس لئے کہ یہ جو کہتا ہے کہ میں خیال کرتا ہوں اسی پہلے جملہ میں اپنے وجود کا اعتراف کرتا ہے لہذا فکر کے ذریعہ اپنے وجود کو ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، غربی فلاسفہ کے آثار میں ایسے مطالب کثرت سے دیکھے جاسکتے ہیں ۔
اس کے باوجود یہ بے انصافی نہیں ہے کہ یہ کہا جائے فلسفہ غرب کی تلاش میں جاؤ اس لئے کہ وہ زندہ و سیال ہے نہ فلسفہ شرق کہ جو جا مدہے ۔
ہمارے عقیدہ کے مطابق ایسے شخص کی فکر جامد، راکداور خاموش ہے ۔
اس مقام پر دو نکتوں کی طرف اشارہ لازم ہے کہ جن کا جاننا ضروری ہے تاکہ اس موضوع کے متعلق کوئی خدشہ باقی نہ رہے :
١۔ فلسفہ شرق مختلف مباحث کا مجموعہ ہے کہ جسے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :
حصہ اول : مباحث امور عامہ اور الہیات
حصہ دوم: طبیعیات اور فلکیات
حصہ اول: جو فلسفہ کی اساس اور اصول پر مشتمل ہے ، ہستی کے کلی قوانین کے سلسلہ میں بحث کرتا ہے ، وہ اصل کلی پورے عالم وجود پر حاکم ہے کہ جو ا سکے سلسلہ میں پوری تحقیق کرتا ہے ۔
حصہ دوم: علوم طبیعی اور فلکیات کے سلسلہ میں بحث کرتا ہے ۔
حصہ دوم میں اس بات کا انکار نہیں کیاجاسکتا کہ اس کی بحثوں میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں اور بطلیموس کے افلاک نُہ گانہ کے بدلے ہیئت جدیدہ کہ جس کے پایہ گذار گالیلہ اور کپلرہیں، مورد بحث قرار پاتے ہیں اور عناصر اربعہ ؛ پانی ، خاک، آگ اور ہوا کا انحصار ٹوٹ گیا اور ایک سو سے زیادہ عنا صر سامنے آگئے ، تجزیہ ناپذیر ایٹم تجزیہ پذیر ہوگئے ، زلزلہ ، رعد وبرق اور صاعقہ کے لئے جو علل و اسباب بیان کئے گئے ہیں وہ آج کی جدید تحقیقات ، مشاہدات اور مختلف آزمائشات کی وجہ سے محو ہوگئے ہیں اور ان کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے ۔
لیکن ہر ایک کومعلوم ہے کہ یہ سب کچھ فلسفہ مشرق کے حصہ دوم سے مربو ط ہے ، دراصل یہ حصہ فلسفہ کے مباحث میں سے شمار نہیں کیا جاتاا اور آج اسے فلسفہ کے مقابلہ میں علوم کے نا م سے یاد کیا جاتا ہے ، علوم میںموضوعات اور مخصوص اشیاء کے سلسلہ میں بحث ہوتی ہے ، جب کہ فلسفہ میں قوانین اور اصول کلی کے بارے میں بحث کی جاتی ہے ، فلسفہ شرق کا حصہ جو ا ساس فلسفہ ہے ، ایک خاص اہمیت کاحامل ہے ۔
لہذ ااگر کوئی افلاک بطلیموسی اور یا اسی جیسے دوسرے مسائل کو بہانہ قرار دے کر فلسفہ شرق کی مذمت کرے تو وہ حقیقت میں فلسفہ اور علم کے درمیان موجودہ فرق سے بے خبر ہے اور فلسفہ شرق کے امتیاز کو نہیں جانتا۔
کوئی بھی انتقاد سے منع نہیں کرتا لیکن ...
دوسرا مطلب کہ جس کی طرف اشارہ لازم ہے وہ یہ ہے کہ کوئی بھی دانشمند یا محقق کبھی بھی یہ نہیں کہتا کہ فلاں فیلسوف خواہ کتنا ہی نابغہ کیوں نہ ہو ، اس کے افکار اور اقوال کے مقابلہ میں پوری طرح تسلیم ہوا جائے ، اصولاًعلمی مباحث میں کسی شرط کے بغیر تسلیم ہونا بے معنی ہے ۔
اصولاً علم و فلسفہ کو ایک ساتھ ترقی کرنا ہوگا اور اس کا راستہ تحقیق و بررسی اور انتقاد کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے ، ہم نہ ابن سینا کو معصوم اور نہ ہی ان کے اقوال کو حقیقت کے مطابق سمجھتے ہیں ، ہم ان کے دلائل کا مطالعہ کرتے ہیں اور کبھی ان کے افکار سے استفاہ کرتے ہیں ، پس اگر ہماری فکر سے مطابقت کی تو قبول کرتے ہیں وگرنہ اسے بھی رد کردیتے ہیں ۔
یہ بات کہنا کس قدرعوامانہ ہے کہ چونکہ ابن سینا کی مستدل گفتار کوروحوں کی بازگشت کے ابطال میں مانا ہے لہذا ان کے تمام اقوال کو مان لیاجائے اور اس سے کہیں عوامانہ یہ بات ہے کہ ایک شخص کسی کے تمام افکار مثلاً ابن سینا کے تمام افکار کو صرف اس وجہ سے مردود شمار کرے کہ فلاں مسئلہ میں انکا نظریہ رد کردیا گیا ہے ، انتقاد کاجائز ہونااجتماع ، علم اور افکار کو زندہ رکھنے لئے نہایت ضروری ہے لیکن کیسے انتقادات جائز ہیں ؟
ہاں ! ان لوگوں کا انتقاد صحیح ہے جن میں علمی صلاحیتیں پائی جاتی ہوں ، یعنی اس علم میں ماہرہوں نہ ا ن لوگوں کی تنقیدیں کہ جو اس کے الفباء سے بھی واقف نہ ہوں اور ہاں ! انتقاد کو ہر گز توہین تحقیر اور حق کشی وغیرہ کے معانی میں تفسیر نہیں کرنا چاہئے ، ایسا گمان کرنا نہایت نادر ہے ۔
عجیب تو یہ ہے کہ وہ مملکت جس میں ابن سینا کے لئے جشن ہزارہ برگزار کیا جاتا ہو اور اس میں بڑی بڑی شخصیتیں شرکت کرتی ہوں اور ان کی طرف سے ابن سینا کے علمی احاطہ کے متعلق جمعی تقاریر کی جاتی ہوں ، سینکڑوں انجمنیں ان کے نام پر قائم ہوتی ہوں اور شرق سے زیادہ غر ب میں احترام سے برخوردار ہو، اسی مملکت میں کوئی شخص ابن سینا کے خلاف ناروا نسبتیں دے اور عقل و منطق بے بہرا اپنے ناقص گمان میں اسے اپنی شہرت کا وسیلہ بنائے اور ایسی باتیں کہے کہ جسے جو بھی سنے ، اس پرہنس پڑے ۔
جیسے کہ ابن سینا واقعی فیلسوف نہیں تھے کسی خاص مکتب کے مالک نہ تھے ... اور آج جو کچھ بھی فلسفہ ابن سینا کے نام سے جانا جاتاہے ، وہ فضول باتوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔
اچھا اب آپ ہی بتائیں اگرابن سینا فیلسوف نہیں ہیں کہ جنہیں عربی فیلسو ف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے توپھر فیلسوف کون ہے ؟
آپ اپنے قول کے مطابق چالیس سال پہلے ابن سینا کے افکار سے دور ی اختیار کی لیکن یہ بھی کہاں سے ثابت ہے کہ آپ نے ابن سینا کے افکار کا ضرور مطالعہ کیا تھا کہ جس کی بنا پر آپ میں اتنی جرات پید اہوگئی کہ ابن سینا کے فلسفہ پر قلم سرخ چلائیں؟
علم اسپریتسم
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma