حقائق سے چشم پو شی کی بھی ایک حد ہو تی ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
علم اسپریتسم
سوال:آپ کے عقیدہ کے مطابق وہ لو گ کیوں بنیادی مطالب سے چشم پو شی کرتے ہیں؟
جواب:ہمارے عقیدہ کے مطابق چو نکہ وہ لوگ واضح منطق اور منظم تحصیل سے بر خوردار نہیں ہیں لہٰذا اساسی مطالب سے فرار کر تے ہیں ۔
بنیادی مسائل کے بیان سے صرف نظر کر نا بھی مجلہ کے سیکڑوں سطروں پر مشتمل مقالہ میں واضح و روشن ہے اور ہمیں پو را یقین ہے کہ ہماری بحث سے مر بوط چند جملوں کے علاوہ بقیہ تمام جملات اس بات پر دلالت کر تے ہیں کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے بہانے کے ذریعہ اصل مو ضوع سے فرارکر نا چا ہتے ہیں اور اصل موضوع کوبے راہے کی طر ف لے جا نے کی کو شش کر تے ہیں اور وہ چند جملے جو ہماری بحث سے مر بوط ہیں انشاء اللہ اس کا جواب آئندہ ذکر کریں گے ۔
بعنون مثال: مجلہ شمارہ١٤٩٧ میں کسی مناسبت سے اپنے نانا حضور کا ذکر خیر کرتے ہیں ۔ قلم کو ڈھیل دیتے ہو ئے اصل مطلب کا رخ پھرتے ہو ئے لکھتے ہیں :
میرے نانا نے ایک سو بیس (١٢٠) سال تک سماج میں محترم ہو نے کے ساتھ بے پناہ دولت سے برخوردار ہو نے کی وجہ سے اپنی زندگی بڑے عیش و آرام سے گزاری،انہوں نے اصفہان کے راستہ میں بسے مسلمان اور زردشتیوں کی سہولت کے لئے پانی کا خزینہ بنوایا کہ جس کے دو حصے کئے ایک حصہ مسلمان کسانوں سے اور دوسرا حصہ زردشت کسانوں سے مخصوص کر دیا اور یزدیوں کی طرح اسے گچ سے سفید کروادیا۔
یزد کی بعض مسجدوں کے لئے انہوں نے زیلو ( ایک قسم کا فرش ہے) وقف کئے اور جب کبھی حج کے لئے روانہ ہو تے تو بہت سے حسینیہ اور امامزادوں کی بارگاہوں کے لئے قالین اور زیلو(ایک قسم کا فرش ) ہدیہ کر تے جو٢٠٠ سال تک چلتا ہے، ایک روز کا شان کے راستہ میری کار ایک قہوہ خانہ کے سامنے ٹھہری کہ جس کے نزدیک ہی ایک امامزادہ کی قبر تھی۔
جب میں امامزادہ کے روضہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ اس کے دروازے پر دوعدد زیلو آویزان ہیں اور ان کے بازو میں اس کے ہدیہ کرنے والے یعنی نانا کا نام درج ہے ۔
نو گنبد جو اصفہان و یزد کے درمیا ن واقع بیابان کے بیچ واقع ہے ،جس کے چاروں طرف کئی فرسخ تک نہ پا نی کی خبر ہے اور نہ کسی سرسبزی کا وجود ،ان کے انتقال کے چند سال پہلے مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے اس بیابان میں مو جود ایک پا نی کا خزینہ جو حکومت صفویہ میں بنا یا گیا تھا اور خشک ہو چکا تھا، دوفرسخ پر مو جود پہاڑوں کے دامن سے کا فی مال خرچ کرکے پانی کومنگوا کر اس خزینہ کو پر کیا تھا ۔
یہاں پر دوسری باتوںسے صرف نظر کر تے ہو ئے اس نکتہ کی طر ف اشارہ کر نا مناسب سمجھتا ہوں کہ انہوں نے ایک شب دوستوں کے درمیان دوران گفتگو عرض کیا کہ میں نے اپنی حیات میں ایک مر تبہ بھی آہ نہیں کی۔
یہ ایک حقیقت تھی وہ اپنی ایک سو بیس(١٢٠ )سال کی عمر میں ایک بار بھی بیمار نہ ہو ئے،ا چھی صحت انہیں عطا ہونے والی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی ، اپنی زندگی کے آخری ایام میں کوئی ایسی بیماری نہ ہو ئی جو انہیں ناراحت کر تی ،ہاں!کبھی کبھی خون کا فشار بڑھ جا تا اور کبھی نسیان کا شکار ہو جاتے وگر نہ انہوں نے اپنی پو ری زندگی بڑے عیش و آرام سے گزاری... .
خدا کی قسم آپ ہی بتا ئیں اس مطالب کا ہماری بحث سے کیا ربط ہے؟آپ ہی بتائیں کہ میں ایک کو پہچا نتا ہوں جو ایک اچھا انسان تھا اور اس دنیا میں دوبارہ لوٹ کر بھی ایک بہترین زندگی پا ئے گا ،دو سو سالہ زیلو ، اصفہان کا خزینہ، نو گنبد اور یزدکاپا نی کا خزینہ ۔
ان کے مقالہ میں انھیں جیسی داستانوں کا تذکرہ بے شمار ہے کہ جن کی کمی نہیں ہے جیسے تریاک کی داستان اور یہ کہ ہو ٹلوں میں نشیلی چیزوں کو تیل کہتے ہیں اور ترک جیسے (تیریاک) نام دیتے ہیں اور کیوں نشہ کرنے والی نشہ آور چیزوں کو تیل کہتے ہیں ۔(شمارہ ١٤٩٨) لیکن جو نکتہ اس درمیان قابل تو جہ ہے وہ یہ کہ انہوں نے اپنے نانا کی داستان کومجلہ کے ١٦شمارہ پہلے ذکر کیاہے اور تحریر کر تے ہیں :
میرے نانا چند سال فلج رہے ،کبھی ان پر نسیان طاری ہو جاتا اور کبھی بیہوش بھی ہو جایاکرتے تھے (شمارہ١٤٨٢)
البتہ صدالبتہ جو چند سال فلج رہے ، اس کے علاوہ اس کے خون کا فشار بھی اونچا ہو یہاں تک کہ بیہوش ہوجائے اور مو ت کا امکان پیدا ہو جائے پھر بھی یہ کسی قسم کی تکلیف کا باعث نہ ہو اور یہ سب کچھ ہو تے ہو ئے بھی وہ آہ نہ کرے!!!
جو اپنے ناناکی سر گذشت بیان کر نے میں ضد و نقیض باتوں سے کام لے اس نے جو دوسری سرگذشتیں اور داستانیں بیان کی ہیں ( جب کہ پو را مقالہ ایسی ہی سرگزشتوں پر مشتمل ہے ) ان کی حقیقت بخوبی معلوم ہے ۔
علم اسپریتسم
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma