کیوں ہم نے اس مسئلہ کو پیش کیا؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
علم اسپریتسم
جب ہم نے روحوں کی بازگشت اورروحوں سے رابطہ کے مسئلہ کو چھیڑا تو مجلہ اطلاعات ہفتگی کے مقالہ نگاروں میں سے ایک نے اپنے عقیدہ کے دفاع میں جوابات لکھے لہٰذا ہم نے لوگوں کے لئے وضاحت اور اس کے دفاعیات کی اہمیت کے میزان کو آشکار کر نے کے لئے اس کتاب کے آخر میںچند عدد سوال و جواب کو اضافہ کر دیا ہے:
سوال:کیوں آپ نے (تناسخ )کے ابطال اور ( میز) کے کھیل کو ختم کر نے کے لئے اتنی زحمتقبول کی؟
جواب:ہمارے پا س ایک ایسی اصل ہے کہ جس کی تائید تمام عقلی و نقلی دلائل کر تے ہیں اورجیسے رسول اکرم ۖکی ایک حدیث میں خلاصةً بیان کر دیا گیا ہے ۔
( کہ جب بھی کو ئی بدعت اپنا سر اٹھائے ، حقائق کو تحریف کر نے اوربدعتوں کو رواج دینے کے لئے ، ہاتھ، زبان اور قلم حرکت میں آجا ئیں تو وقت کے علماء پر واجب ہے کہ اس کا مقابلہ کریں اور اگر اس ا مر میں کوتا ہی کریں تو وہ رحمت خدا سے دور ہیں اور ان پر فرشتوں اور لو گوں کی لعنت ہو)۔
اس حدیث کی اہمیت ایک طرف اور دوسری طر ف یہ اصل تمام شیعہ اور سنی علماء کے نزدیک تائید سے بر خوردار ہے( تنہا تناسخیہ ہے جو خارج ہے کہ جس کا نام عقائد کی کتابوں میں پا یا جا تا ہے ) اور ہر ایک اس بات کو ما نتا ہے کہ روحوں کے پلٹنے کا مسئلہ اور اجسام میں ان کا حلول کر نا بے بنیاد اور غیر قابل قبول ہے ۔
بلکہ عقلی اور نقلی دلائل کے ابطال پر دلالت کرتے ہیں ، خواہ یہ تنا سخ کا مسئلہ سیر نظری طے کرے یعنی ایک پست زندگی کو ادامہ دے یا ایک خوش و خرم زندگی کا آغاز کرے) اس لئے کہ اس عقیدہ کے متعدد نقصانات ہیں ۔
پہلا نقصان :مذہبی لحاظ سے، تناسخ قیامت اور دوسرے جہان میں سزا اور جزا کے انکار کا ایک بہانہ ہے اورروحوں کی ازلیت کے قائل ہو نے کا ایک وسیلہ ہے ۔
( جیسا کہ عقائد کی تاریخ میں درج ہے ) اس وجہ سے ایک مسلمان تناسخ اور روحوں کا دوسرے اجسام میں لوٹنے کے مسئلہ کوقبول نہیں کر سکتا اور اس کی تحقیق کر نے کے لئے مذہبی دانشمندوں کی طرف رجوع کر نا آسان ہے ،اس کے علاوہ قرآن کی بہت سی آیا ت اور احادیث اس عقیدہ کے بطلان پر دلالت کر تی ہیں ۔
دوسرا نقصان:اجتماعی ہے ،افکار کو خراب کر نے اور لوگوں کو انکی نا کا میوں اور بدبختیوں کو اپنی گذشتہ زندگی کی خطاؤں کی سزا کے عنوان سے قبول کروانے کا ایک وسیلہ ہے جسے انہیں تحمل کر نا ہو گا یا ان میں اس امید کو اجاگر نا ہے کہ وہ مر نے کے بعد دوسری دنیا میں تمام پر یشانیوں اور محرومیوں کی جزا پا جا ئیں گے ،اس صورت میںوہ اپنی مشکلات کی وجہ سے نا راحت نہیں ہو گا اور اس طرح محروم طبقہ کے لو گ اپنی نادارزندگی پرصابر رہنے کے لئے مجبور کر دیا جا ئے ۔
تیسرا نقصان:اخلاقی لحاظ سے ہے یہ عقیدہ بہت سے اجتماعی ذات پات کے فرق اور ظلم و ستم کی تو جیہ کا ذریعہ ہے، اس عقیدہ کی رو سے مظالم اورذات پا ت کے فرق سے مقابلہ کر نا بے فائدہ ہے،اس لئے کہ مظلوم افراد ظلم پر اپنی گذشتہ زندگی کی خطاؤں کی سزا سمجھتے ہوئے خاموش رہیں تا کہ پاک ہوسکیں ۔
اس صورت میں ذات پات کے فرق اور ظلم و ستم سے مقابلہ کر کے ایسے لو گوں کی سعادت اور طہارت کی راہ کا پتھر کیوں بنا جا ئے اوران پر رحم کر نا بھی بے فا ئدہ ہے ، اپاہج ، نا قص الخلقہ یا ستم دیدہ ممالک کے لئے ہمارا ناراحت ہو نا بھی بے کار ہے ۔
علم اسپریتسم
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma