گذشتہ بحثوں کا آخری نتیجہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
علم اسپریتسم
اسپریتسم اور اسپری تو آلسیم روحوں سے متعلق علوم میں سے شمارکیاجاتا ہے
انگلش لغت اور دائرة المعارف میں رجوع کرنے و الے اسی مطلب کو کرتے ہیں لیکن بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ مسئلہ تناسخ بھی انہیں علوم کا ایک جزء ہے ، ہمیں کسی علم کا نام رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ہم اس حقیقت پر زو ر دیں گے کہ تناسخ کسی بھی نام (منطقی یا غیر منطقی) اور کسی بھی شکل و صورت میں غیر قابل قبول ہے لیکن روحوں سے رابطہ کا مسئلہ کسی بھی نام کے تحت اپنے معین حدود میں قابل مطالعہ ہے اور ان دونوں کو آپس میں خلط کرنا حقائق کو بدلنے کے لئے تنہا ایک مغالطہ ہے ۔
اس نکتہ کو بیان کرنے کے بعدہم گذشتہ بحث کو ادامہ دیتے ہیں کہ دانشمندوں کے درمیان جنہوں نے علمی ضوابط کی بنیاد پر روحوں سے رابطہ کے امکان کو قبول کیاہے، ایسے زبردست اور ماہر دانشمندحضرات ہیں جن کے لئے کم از کم یہ احتمال نہیں دیاجاسکتا کہ انہیں دھوکا دیا گیا ہو یا حیلہ گروں اور مکاروں کی تلقینات کے اثر میں انھوں نے قبول کیا ہے ۔
جب کہ ان میں سے بہت سے دانشمند سو فیصد منکر اور بدبین ہوتے ہوئے اس موضوع کے متعلق وارد بحث ہوئے تھے ، اس کے باوجود انھوں نے اپنے مشاہدات میں ایسی چیزیں دیکھی ہیں کہ جسے وہ صرف روح سے تعبیر کرتے ہیں یا مادی اسباب اور ہاتھ لگائے بغیر اشیاء کی حرکت اور صداؤں کا ایجاد ہونا اور دوسری خارق العادہ چیزیں دیکھی ہیں اور ایسے پیام حاصل کئے ہیں کہ جن کی وجہ سے اس علم کی صحت پر یقین کر لیا ہے لہذا یہاں پر بعض دانشمندوں کی گواہی کو ذکر کرتے ہیں ،یہ گواہیاں موثق منبع یعنی بیسویں قرن کی دائرة المعارف سے اقتباس کیا گیا ہے :
١۔ جب یورپ میں روحوں سے رابطہ کے عقیدہ کوشہرت ملی تو اس موضوع کی تحقیق کے لئے ١٨٦٩ء میں ایک ٹیم بنائی گئی ، اس ٹیم کے افراد اور اعضاء جان لبوٹ وکروکس اپنے زمانے کے سب سے بڑے طبیعی دان لویس (فیزیولوژیست) روسل والاس (انگلینڈ کا مشہور فیزیولوژیست اور ڈاروین ) دومورگان ( ریاضی دانوں کا رئیس) فارلی( رئیس مجمع ٹیلیگراف) جان کوکس( مشہور فلسفی) اکسون ( اکسفورڈ یونیورسٹی کا پروفیسر) ان کے علاوہ اور بھی مشہور شخصیتیں شامل تھیں ۔
جب اس انجمن کی تشکیل کا اعلان کیا گیا تو پورے جہان میں لوگ اس انجمن کے نہائی نظریہ کے لئے لحظہ شمار ی کررہے تھے، انھوں نے ١٨ مہینوں تک اس موضوع کے تحت کام کیا ، روحوں سے رابطہ کے جلسات میں شرکت کی اور نزدیک سے خارق العادہ امور مشاہدہ کئے ، آخر کار انہوں نے اپنا بیانیہ صادر کیاکہ جس کاایک حصہ درج ذیل ہے :
... اس انجمن نے روحوں سے رابطہ کے سلسلہ میں جو تحقیقات بھی انجام دی ہیں ان کا نہائی نتیجہ ان مشاہدات کی بنیاد پر مرتب ہوا ہے کہ جو اس انجمن کے تمام اعضا کے لئے حسی اور قطعی قرائن کے ہمراہ تھا ۔
قابل توجہ نکتہ تو یہ ہے کہ اس تحقیق کے آغاز سے پہلے ٥٤ اعضاء اس عقیدہ کے منکر تھے ،اسے حیلہ ، مکر وفریب یا کم از کم عصبی اضطراب کا نتیجہ سمجھتے تھے ۔
لیکن آنکھوں کے سامنے ہونے والے بے شمار خار ق العادہ امور جو ایسے شرائط کے تحت انجام پائے تھے کہ جس کے بعد انکار کی گنجائش باقی نہیں بچی تھی اور مسلسل آزمائشات کے نتیجہ میں اس انجمن کے تمام اعضا اسے قبول کرتے ہوئے یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوگئے کہ یہ خارق العادہ امور ایک ( مرموزعامل) کا نتیجہ ہیں ۔
آپ غور کریں کہ ان لوگوں نے ایک مرموز عامل کے ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔
٢۔کرو کس کا استاد جو انگلستا ن کے علمی انجمن کا رئیس تھا ،اس نے سیکڑوں لو گوں کے سامنے اسپر یتسم کی مناسبت سے صریحاً یہ اعلان کردیا کہ میں اسے صرف ایک امر ممکن نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک عینی واقعیت کا نا م دیتا ہوں ۔
اس کے علاوہ اسی نے اپنی کتاب( پدیدہ ہای روحی)جو کئی بار چھپ چکی ہے ،اس میں لکھتے ہیں: چونکہ میں اس عقیدہ کا حامی ہوں میرا ایک ادبی خوف و ترس جو لوگوں کے انتقاد، استہزاء سے وحشت کا نتیجہ ہے جو اس مو ضوع کے تحت کچھ بھی نہیں جا نتے اور وہ لوگ کہ جو اوہام و عقائد پر ایمانرکھنے کی بنا پر قضاوت کی قدرت سے بر خوردار نہیں ہیں،میں ایسے لوگوں سے وحشت کی بناپر روحوں کے آثار کی شہادت اور گواہی دینے سے شانہ خالی کرتا ہوں لیکن یہاں پر میری آنکھوں نے جو کچھ دیکھا ہے اور اپنی مسلسل تحقیقات کی وجہ سے جس نتیجہ تک پہونچا ہوں اسے( اس کتاب میں بیان کر تا ہوں)۔
٣۔روسل والاس جو( انتخاب طبیعی) کے قانون کو کشف کر نے میں ڈاروین کا مددگار تھا اپنی کتاب (اسپریتسم کے عجا ئبات)میں اس طرح لکھتا ہے ۔
(میں ایک خالص ماٹریا لیسٹ مادہ پرست تھا اور اس پر نہایت درجہ ایمان رکھتا تھا لہٰذامیرے نزدیک کسی بھی حال میں روح کو قبول کر نے کا امکان نہ تھااور نہ ہی اس جہان مادی کے علاوہ کسی اور طاقت اور مبدأ کے وجود کو ما نتا تھا ...لیکن میں اپنے حسی مشاہدات کا انکار نہیں کر سکتا ،اس وجہ سے مجبور ہو گیا ہوں کہ بعض حقیقتوں کو قبل اس کے کہ یہ معلوم ہوسکے یہ روح سے مر بو ط ہیں یا نہیں ۔قبول کرلوں ، میرے ان مشاہدات نے ذہن کے ایک حصہ کو اپنے قبضہ میں کر لیاہے لیکن یہ بات واضح کر دینا چا ہتا ہوں کہ یہ ذہنی استد لات کا نتیجہ نہ تھا بلکہ حسی مشاہدات کی وجہ سے تھا لہٰذا رو ح کے علاوہ کسی اور شی کو عامل نہیں ما ن سکتا تھا...(اور روح کو اصلی سبب ماننا پڑا)
نتیجہ
ایسی گواہیاں بہت سے دانشمندوں نے اپنی خصوصی رسالوں اور کتابوں میں بیان کی ہیں یا دوسری کتابوں میں اس مطلب کا اشارہ کیا ہے اوراگر شرقی دانشمندوں کی گواہیاں اگر جمع کی جائیں تو ایک بڑی کتاب کی شکل اختیار کرلے گی ، دانشمندوں کی طرف سے اتنی گواہیاں صادر ہو نے کے بعد یہ ما نا جا سکتا ہے کہ روح سے رابطہ کا مسئلہ فطری مسائل کی حد سے گزر کر ایک حسی اور تجربی مسئلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور میرا گمان ہے کہ جو کو ئی بھی دور بیٹھے قضاوت کے بدلے نزدیک سے ان گواہیوں کامطالعہ کرے تو وہ بھی یہی کہے گا جو تمام دانشمندوں نے کہا ہے ۔
لہٰذا یہ کہنا بجا ہے کہ روحوں سے رابطہ کے مسئلہ کو رائج حقیقت ما نتے ہو ئے قبول کرلیا جائے لیکن اس نکتہ سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ یہ رابطہ بہت سے لو گوں کا بازیچہ بن گیا ہے یا چند سادہ لوح افراد اپنی خام خیالی اور علمی قوانین سے آشنا ہو ئے بغیر سفید کاغذ لے کرمیز یا ایک کپ اورچند حروف کے ذریعہ روحوں سے را بطہ کر نے میںمشغول ہو جا ئیں اور ایسی میزوں کا کھیل رونق بازار بن جا ئے اور یہی کھیل آہستہ آہستہ تناسخ اور روحوں کا دوسرے اجسام میں حلول کے عقیدہ کی پیدائش کا سبب بنا اور ایک واقعیت کو ہزاروں اوہام سے ملا دیا گیا لیکن یہ مسلم ہے کہ یہ رابطہ ممکن ہے اور ہزاروں دعویداروں کے درمیا ن تنہا کسی ایک کے سچے ہونے کا امکان ضرور ہے ۔
علم اسپریتسم
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma