سوره حم سجده «فصّلت» کے مطالب و فضیلت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره فصلت/ آیه 1- 5 اپنے علم پر گھمنڈکرنے والے
سورہٴ حم سجدہ (فصّلت)

مکّہ میں نازل ہوئی اس کی ۵۴ آیتیں ہیں

سورہٴ حٰم سجدہ کے مندرجات

چونکہ یہ سورت مکی ہے لہذا اس میں مکی سورتوں کی خصوصیات پائی جاتی ہیں ، یعنی وہی معارف اسلامی کی تاکید ،اعتقاد ی مباحث،جنت کی خوشخبری اور جہنم سے ڈ ر انے کے مسائل.لیکن اس کے باجود اس میں کچھ ایسے مسائل بھی بیان ہوئے ہیں جو دوسری سورتوں میں بیان نہیں ہوئے اور جواسی سورت کے ساتھ مختص ہیں۔
اس سورت کے مندرجات کومندر جہ ذیل حصّوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے:
۱۔ قرآن مجید کی طر ف تو جہ اوراس کے بار ے میں تفصیل سے گفتگو اس سورت کی مختلف آیات میں بیان ہوئی ہے ان میں سے یہ باتیں بھی ہیں کہ قرآن کی حاکمیت ہردور میں باقی ہے اور ہرزمانے میں اس کامنطقی تسلط بحال اور بر قرار ہے . جیسا کہ اسی سورت کی ۴۱ ویں اور ۴۲ آیات میں صراحت کے ساتھ فرمایاگیاہے :
” یہ ناقابل شکست کتاب ہے اور باطل ہرگز اس پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتا “۔
یہ بات اس میں تحریف نہ ہونے کی بھی دلیل ہے . نیز اسی سورت میں اس آسمانی کتاب کے مقابلے دشمن کی سخت محاذ آرائی کاتذ کرہ بھی ہے اور یہ بتایاگیاہے کہ ان کی مخالفت کی یہ حالت تھی کہ وہ لوگوں کوآیات قرآنی سننے سے بھی روکاکرتے تھے۔
۲۔ تخلیق زمین و آسمان ،خصوصاً گیس کی شکل کے مادہ ( وخان ) سے کائنات کی آفرینش کا آغاز اور کرہٴ زمین ، پہاڑ وں ، نباتات اورحیوانات کی پیدائش کے مراحل کی طرف توجہ دی گئی ہے۔
۳۔ قوم عاد و ثمود سمیت گزشتہ مغروراور سرکش اقوام کے حالات زندگی اوران کے درد ناک انجام اورحضرت موسٰی علیہ السلا م کی داستان کی طرف بھی اشارہ ہے۔
۴۔ مشرکین اور کفار کو ڈرایاگیاہے . خاص کرقیامت کے بار ے میں لرزادینے والی آیات انسان کے اعضاء حتٰی کہ بدن کی کھال کی گواہی کاذکر بھی ہے اور جب وہ عذاب الہٰی کے سامنے پیش ہوں گے توخداان کو زبردست طور پرجھڑکے گا ۔
۵۔ معاد اور قیامت کے کچھ دلائل اوراس کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔
۶۔ مندر جہ بالاعناویں کے ضمن میں جو وعظ ونصیحت کی گئی ہے وہ انسان کی روح کی تقویت کاسبب ہے . خاص کر راہِ حق میں استقامت ، دشمن سے منطقی مقابلے کاطریقہ کار اور دین الہٰی کی طرف راہنمائی کے اسلوب کار کی نشاندہی کی گئی ہے۔
۷۔ سورت کو پرور دگار عالم کی آفاقی اورانفسی آیات کے بار ے میں دلچسپ لیکن مختصر گفتگو اور معاد ک مسئلے پر ختم کردیاگیاہے۔

اس سُورت کی تلاوت کی فضیلت

اسلام کے عظیم الشان پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے:
من قراٴ ” حٰم السجدة “ اعطی بکل حرف منھا عشرحسنات
جوشخص حٰم سجدہ کی تلاوت کرے ،اسے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں عطاکی جائیں گی ( ۱)۔  
امام جعفرصادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے :
من قراٴ ” حٰم السجدة “ کانت لہ نوراً یوم القیامة مد بصرہ ، وسرو راً وعاش فی ھٰذہ الدنیا مخبوطاً محموداً
” جوشخص ” حٰم سجدہ“ کی تلاوت کرے گا قیامت کے دن ہی سورت اس کے سامنے نور بن کرآجائے گی جہاں تک کہ اس کی نگاہ پہنچے گی نورہی نور ہوگا اوراس کی مسرت اورخوشی کاسبب ہوگی . اوراس دنیامیں بھی وہ شخص ایسااچھامقام پیدا کرے گا کہ جو دوسروں کے لیے باعث رشک ہوگا ( ۲)۔ 
ایک اورحدیث میں جو ” بہیقی “ سے نقل ہوئی ہے خلیل بن مرہ کہتے ہیں :
کوئی رات بھی ایسی نہیںہوئی تھی جس میں پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورہ ” تبارک “ اورسورہ ” حٰم سجدہ “ پڑھ کرنہ سوتے ہوں ( ۳)۔  
مسلّم ہے کہ اس سورت کی بیدارکن آیات میں جن میں روشنی عطا کرنے والی نصیحتیں بھی ہیں اورمطالب ومعانی سے بھرپور معارف،جب تلاوت کے ذریعے انسانی روح میں جذب ہوجائیں اوراس کی زندگی میں اس کی راہنمائی کریں تو یقینا بروز قیامت اس کے نور اوراس دنیا میں مئوثرکامیابی کاذریعہ ثابت ہوں گی،کیونکہ تلاوت غورو فکرکامقدمہ ہوتی ہے اورغور وفکرعمل کامقدمہ ۔
اس سور ت کو” سورت فصلت بھی کہتے ہیں اور وہ اس لیے کہ اس کی تیسری آیت میں لفظ آیات اور یہ سورت ’ ’ حٰم سجدہ “ سے اس لیے موس ہے کہ ” حٰم “ سے اس کاآغاز ہوا ہے اوراس کی ۳۷ ویں آیت میں سجدہ کاحکم ہے.
۱۔ تفسیر ” مجمع البیان “ سور ہ حٰم سجدہ کے آغاز میں ( جلد ۹ ص ۲)۔  
۲۔ تفسیر ” مجمع البیان “ سور ہ حٰم سجدہ کے آغاز میں ( جلد ۹ ص ۲)۔  
۳۔ تفسیر روح المعانی جلد ۲۴ ،ص ۸۴۔
سوره فصلت/ آیه 1- 5 اپنے علم پر گھمنڈکرنے والے
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma