عذاب کے موقع پرایمان لانافضول ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
اپنے علم پر گھمنڈکرنے والے سوره مؤمن/ آیه 82- 85
یہ آیات جوسورہٴ مومن کی آخری آیات ہیں درحقیقت تمام سورت کاخلاصہ اور گزشتہ تمام گفتگو کانچوڑ ہیں کیونکہ آفاق وانفس پر مشتمل اس قدر آیات کے بیان،معاداور قیامت کی عظیم عدالت کے بار ے میں قدر لطیف و دلنشین مواعظ و گفتگو کے بعد ضدی مزاج منکروں اور مستکبرکافروں کوزبردست لیکن استد لال پرمشتمل تنبیہ کرتے ہوئے ان کے انجام کوبڑی وضاحت ک ساتھ بیان کیاگیاہے۔
سب سے پہلے فرمایاگیا ہے : آیاانہوں نے روئے زمین کی سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جولوگ ان سے پہلے ہوگزر ے ہیں ان کا کیانجام ہوا ؟ (اٴَ فَلَمْ یَسیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الَّذینَ مِنْ قَبْلِہِمْ )۔
اگرانہیں مدُدّن اور مرتبہ تاریخ او ر تاریخی صفحات میں مندرجہ واقعات کی حقیقت اوراصلیت میں شک ہے تووہ باد شاہوں کے ویران شدہ محلات،زمین کے اندر گلی سڑی ہڈیوں ، مصائب کے شکار شہروں کے کھنڈرات اوران کے آثار میں شک نہیں کرسکتے جو زبان حال سے پکار پکار کران کی حقیقت بیان کررہے ہیں ۔
” وہی لوگ جو افرادی قوت کے لحاظ سے بھی اور زمین میں اپنی طاقت اور آثار کے لحاظ سے بھی ان سے زیادہ تھے (کانُوا اٴَکْثَرَ مِنْہُمْ وَ اٴَشَدَّ قُوَّةً وَ آثاراً فِی الْاٴَرْضِ)۔
ان کی افرادی قوت ان کی قبروں سے اوران کی طاقت اور آثا ر کی فراوانی روئے زمین پر چھوڑی ہوئی ان کی یاد گار وں سے سمجھی جاسکتی ہے ۔
” اٰثارًا فی الارض “ کی تعبیرسے ممکن ہے کہ ان کی زراعت کی ترقی کی طرف اشارہ ہو . .. جیساکہ ہم اسی سورت کی اکیسویں آیت کی تفسیر میں جواس سے ملتی جلتی ہے ،بیان کرچکے ہیں ... (نیز جیساکہ سورہ ٴ روم کی آیت ۹ میں بھی گزرچکاہے )۔
یاپھرگزشتہ اقوام کی پہاڑوں کے اندریا صحراؤں کے سینے پرموجود عمارتوں کی طرف اشارہ ہو ( جیساکہ سورہ شعراء کی آیات ۱۲۸ ، ۱۲۹ میں بیان ہوچکاہے )۔
لیکن اس کے باوجود ” جوکچھ بھی انھوں نے کمایا وہ طوفانِ بلا اورعذابِ الہٰی کے موقع پر انہیں بے نیاز نہ کر سکااور نجات و دلا(فَما اٴَغْنی عَنْہُمْ ما کانُوا یَکْسِبُونَ ) (۱)۔
بلکہ یہ تمام طاقتیں پلک جھپکنے میں نیست ونابود ہوگئیں ،محلات ایک دوسرے پر گر پڑے اور ویران ہوگئے ،عظیم اور طاقتو ر لشکر جھڑکے موسم میں درخت کے پتوں کی طرح روئے زمین پر گر پڑے یاپھر کوہ پیکرموجوں کی نذر ہوگئے ۔
جہاں اس قدر عظیم وجرارلشکروں اور بے انتہاطاقتور کا یہ انجام ہو اہو وہاں پر مکہ کہ یہ کمزور اور نا تواں مشرکین جن کاکسی کھاتے میں شمارنہیں ، کیاسمجھتے ہیں ؟
بعدکی آیت میں ان لوگوں کے ابنیاء کے واضح اور روشن معجزات کے ساتھ سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :جب ان کے رسول ان کے پاس معجزا ت اور روشن دلائل لے کر آئے توانھوں نے ان سے روگردانی کی اورصرف انہی معلومات پرخوش رہے جوان کے پاس پہلے سے تھیں . ان کے علاوہ باقی سب کو کچھ نہ سمجھا (فَلَمَّا جاء َتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّناتِ فَرِحُوا بِما عِنْدَہُمْ مِنَ الْعِلْمِ )۔
یہی امر اس بات کاسبب ہوا کہ ” وہ خدا کی جد دھمکی اورعذاب کامذاق اڑا یاکرتے تھے و ہی ان پرنازل ہو کررہا (وَ حاقَ بِہِمْ ما کانُوا بِہِ یَسْتَہْزِؤُن )۔
اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ وہ معلومات اور علم کیاتھا جس پروہ نازاں تھے اوراس کے ہوتے ہوئے خود کو بے نیاز تصّورکرتے تھے ؟اس بار ے میں مفسرین نے مختلف قسم کے خیالات کااظہار کیاہے جو سب کے سب باہم جمع ہوسکتے ہیں ۔
۱۔ وہ بے بنیاد شکوک و شبہات اور بے اساس اوہام کوعلم سمجھتے تھے اورانہی پران کو ناز تھا کہ جن کے کچھ نمونے قرآنی آیت میں ذکر ہوئے ہیں،کبھی تووہ کہتے :
می یحی العظام وھی رمیم
کون ان گلی سٹری ہڈ یوں کوزندہ کرے گا ؟( یٰس . ۷۸)
کبھی کہتے :
ء اذا ضللنا فی الارض و انّا لفی خلق جدید
ہم مٹی ہوکرمٹی میں گم ہوجائیں گے توکیا ممکن ہے کہ دوبارہ نئی تخلیق حاصل کرلیں ( سجدہ . ۱۰)
کبھی کہتے :
ماھی الاّ حیاتنا الد نیا نموت ونحیا و مایھلکنا الاّ الدھر
بس اس دنیاوی زندگی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے،کچھ لوگ مرر ہے ہیں کچھ پیداہو رہے ہیں اورصرف فطرت ہی ہمیں مارر ہی ہے ۔
( جاثیہ ۲۴)
اس قسم کے دوسر ے واہیات اور بے بنیاد دعوے جنہیں وہ علم سمجھتے تھے ۔
۲۔ اس سے مراد دنیا اورنظام زندگی کوچلانے کے متعلق معلومات ہیں جیسا کہ قارون نے کہاتھا :
انما اوتیتہ علیٰ علم عندی
میں نے اس مال ودولت کواپنی خاص معلومات کی وجہ سے حاصل کیاہے جومیرے پاس تھیں ۔ ( قصص .۷۸)
۳۔ اس سے مرادعقلی اور فلسفی دلائل یعنی علوم و فنون ہیں خواہ وہ رسمی شکل میں ہوں یاغیر رسمی صورت میں کہ کچھ لوگ انکی معلومات رکھنے کی وجہ سے خود کوابنیاء سے بے نیاز سمجھتے تھے ، ایسے لوگ پہلے زمانہ کے ہوں یاموجودہ دور کے۔
جیساکہ ہم بتاچکے ہیں کہ ان تفسیر وں کاآپس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ مقصد یہ ہے کہ محدود بشری علوم خواہ وہ عقلی معارف اور عقائد ہوں یاواہیات شکوک و شبہات کہ جنہیں وہ علم سمجھتے تھے کے بل بوتے پر وہ ایسے علوم کی نفی کیاکرتے تھے اوران کامذاق اڑا یاکرتے تھے کہ جس کامآخذ اور سردچشمہ وحی الہٰی ہوتاتھا اوراپنی ان محدو د اور مختصر سی معلوم پر نازاں اور مسرور تھے اورخود کوانبیاء سے بالکل بے نیاز سمجھتے تھے ( ۲)۔
لیکن قرآن مجید نے اس خودخواہی ، غر ور اور تکبر کے نتیجے کوبعد کی آیات میں یوں بیان کیاہے : ” جب انہوں نے ہمارے عذاب کی شدت کودیکھا،جوان کے نیست و نابود کرنے کے لیے نازل ہوچکاتھا اوران کی نابودی کے لیے اپنے پر وردگا ر کاآخری حکم لے کر آگیاتھا،تووہ اپنے کئے پرپشیمان ہوگئے اوراپنے آپ کوذرہ ٴ ناچیز و ناتواں سمجھنے لگے تو بار گاہ حق کی طرف متوجہ ہوگئے اور چلاکر کہا : اب ہم خدائے واحد پر ایمان لے آئے ہیں اور جن معبودوں کو ہم اس کاشریک ٹہر اتے تھے ان سے پھر چکے ہیں (فَلَمَّا رَاٴَوْا بَاٴْسَنا قالُوا آمَنَّا بِاللَّہِ وَحْدَہُ وَ کَفَرْنا بِما کُنَّا بِہِ مُشْرِکین)۔
لیکن جب انہوں نے ہمارے عذاب کامشاہد ہ کرلیا تو ان کاایمان ان کے لیے سود مند ثابت نہ ہوا (فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ إیمانُہُمْ لَمَّا رَاٴَوْا بَاٴْسَنا)۔
کیونکہ ” استیصالی عذاب “ کے نزول کے وقت توبہ کے دروازے بندہوجاتے ہیں اوراصولی طور پر اسے مجبور ی کے ایمان کااختیا ر ی ایمان جیسافائد ہ بھی نہیں ہوتااور مجبور ی کے ایمان کی کچھ خاص وجو ہات ہوتی ہیں اورجب یہ وجوہات ختم ہوجاتی ہیں اور طوفان بلا تھم جاتا ہے تو پھر ۔
و ہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سواب بھی ہے ۔
یہ یہی وجہ ہے کہ جب فرعون نے نیل کی امواج ِ بلا میں گھر کر ایما ن کااظہار کیاتو قبول کیاگیا ۔
یہ حکم کچھ خاص افراد یااقوام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ایسا ہے جب کہ خود قرآن اسی آیت کے ضمن میں کہتاہے :
یہ ایک خدا ئی طریقہ کارہے جواس کے گزشتہ بندوں میں بھی نافذ العمل رہاہے ۔ ( سُنَّتَ اللَّہِ الَّتی قَدْ خَلَتْ فی عِبادِہِ)۔
آخر میں زیرتفسیر آیات میں سے آخر ی آیت کو ان الفا ظ کے ساتھ ختم کیاگیاہے : جب خدائی عذاب نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیاتو کا فروں کاخسارہ اورنقصان ظاہر ہوگیا (وَ خَسِرَ ہُنالِک َ الْکافِرُون)۔
اب انہیں پتہ چلا کہ ان کے پاس توصرف غرور اور تکبر کامٹھی بھر سر مایاتھا ، جسے وہ آب حیات سمجھتے تھے وہ تو سراب نکلا،اپنے تمام سرما یہٴ وجودی کو دنیا کی اس بے راہر وی میں گنواچکے ہیں جس کانتیجہ گناہ اورخدا کے دردناک عذاب کے سوااور کچھ نہیں نکلا . اس سے بڑھ کر اور کیا نقصان اورخسارہ ہوگا ؟
تواس طرح سے سورہ مومن اپنے اختتام کوپہنچی،جس کاآغاز مغرور کفار کے حالات سے ہواتھا اوراختتام ان کے درد ناک انجام پر ۔

۱۔”مااغنٰی“میں”ما“ کونساہے،نافیہ ہے یااستفہامیہ ؟ دونوں احتمال پائےجاتے،ہیں لیکن بظاہر نافیہ ہےاور ” ماکانوایکسبون “میں”ما“ موصولہ ہے یامصدریہ ؟اس ابارے میں دواحتمال ہیں،لیکن پہلے معنی کومسلما ترجیح حاصل ہے ۔
۲۔ بعض مفسرین نے یہ سمجھتے ہیں کہ ” جاء تھم “ کی ضمیر ابنیاء کی طرف لوٹ رہی ہے لہذا یہاں پر علوم سے مراد ، ابنیاء کے علوم ہیں اور ” فرحوا“ سے مراد کفار کا ابنیاء کے علوم کے ساتھ ہنسی مذاق اور استہزاء ہے لیکن یہ تفسیر بہت بعید نظر آتی ہے . (غورکیجئے گا )۔
اپنے علم پر گھمنڈکرنے والے سوره مؤمن/ آیه 82- 85
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma