پھر بھی صبر کیجئے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره مؤمن/ آیه 79- 81سوره مؤمن/ آیه 77- 78

گزشتہ آیات میں کفار کے روڑ ے اٹکانے ، تکبراور غرور کااظہارکرنے اورآیات الہٰی کوجھٹلانے کا ذکرتھا . زیرنظردو آیات میں پیغمبر السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلجوئی اورانہیں ان مشکلات کے مقابلے میںصبرو شکیبائی اختیار کرنے کاحکم دیاجارہا ہے ۔
سب سے پہلے فرمایاگیا ہے : اب جبکہ صور ت حال یہ ہے توتو صبر کرکیو نکہ خدا کاوعدہ برحق ہے (فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَق)۔
آپ سے فتح و کا مرانی کاجو وعدہ کیاگیاتھا وہ بھی اورمغرور متکبر ین اورجھٹلا نے والوں سے جس درد ناک عذاب کاوعدہ کیاگیاہے وہ بھی دونوں برحق ہیں او ر یقینا ظہور پذیر کررہیں گے . اس لیے حق کے دشمن یہ نہ سمجھ لیں کہ ان کی سزا میں تاخیر ہوگئی ہے لہذا وہ عذاب الہٰی سے بچ جائیں گے اس لیے فر مایاگیاہے : ہم نے ان سے جس عذاب کررکھا ہے اگراس کاکچھ حصہ تیری زندگی میںتجھے (کھلائیں یاان کے عذاب میںمبتلا ہونے سے پہلے تجھے اس دنیا سے اٹھالیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑ تاکیونکہ وہ بہرحال ہماری طرف لوٹ کرآئیں گے اور ہم ان سے کئے ہوئے اپنے وعدے پرعمل درآمد کریں گے (فَإِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذی نَعِدُہُمْ اٴَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَإِلَیْنا یُرْجَعُونَ) (۱) ۔

آپ کا کام صرف یہی ہے کہ آپ ان لوگوں کوواضح طو پر تبلیغ کریں اوران پر اتمام حجت کریں تاکہ آپ کی تبلیغ کی برکت سے بیدار دل روشن ہوجائیں اور مخالفین کیلئے کسی عذر اوربہانے کی گنجائش باقی نہ رہ جائے . آپ کواپنے فریضے کی ادائیگی کے علاوہ کسی اور چیز سے سر و کار نہیں ہو نا چاہیے . حتٰی کہ آپ کو اس بات کی فکر بھی نہیں ہونی چاہیے کہ ان پرجلد عذاب ِ الہٰی کے سبب آپ کے جلتے دل کو تسکین ہوجائے ۔
یہ بات درحقیقت کفار کوضمنی طور پر ایک واضح دھمکی ہے تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ وہ کسی بھی وقت عذاب الہٰی کے چنگل میں پھنس سکتے ہیں جس طرح کہ ان کے دوسرے دوست جنگ بدر جیسے میدانوں میں اپنے اپنے کیفر کر دار کوپہنچ چکے ہیں اوران میں سے اکثر لو گ بروز قیامت اپنے اعمال کی سزا پائیں گے ۔
پھر آنحضرت کی مزید تسلی اور دلجوئی کی خاطر گزشتہ انبیاء کے حالات کی طرف اشارہ کیاجارہا ہے کہ وہ بھی آپ جیسی مشکلات میں پھنسے ہوئے تھے لیکن انھوں نے اپنے کام کوجاری رکھا اورساحل کامرانی سے ہمکنار ہوئے ، ارشاد ہوتاہے : ہم نے تجھ سے پہلے بھی رسولوں کوبھیجا ہے ان میں سے بعض پیغمبروں کاذکر تو قرآن میںتجھ سے کردیاہے اور بعض کانہیں کیا(وَ لَقَدْ اٴَرْسَلْنا رُسُلاً مِنْ قَبْلِکَ مِنْہُمْ مَنْ قَصَصْنا عَلَیْکَ وَ مِنْہُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَیْک)۔
ان میں سے ہرایک اس قسم کے حالات اور طاقت فر سامشکلات سے دوچار رہاہے .ان کاسامنا کثیر تعداد میں ضدی مزاج ، متکبر اور مغر ور لوگوں سے تھا . آخر کارحق کو کا میابی حاصل ہوئی اور ظالم و مجرم لوگ مغلوب ہوئے ۔
چونکہ مشرک اورہٹ دھرم اورضدی مزاج کافر ہرروز خدا کے ابنیاء سے اپنے من پسند معجزے کاتقاضاکیاکرتے تھے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے کے مشرکین نے بھی اسی طرز عمل کو اپنایاتھا لہذا اسی کے ساتھ ساتھ ارشاد فرمایاگیاہے : کسی پیغمبرکو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ حکم خدا کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے (وَ ما کانَ لِرَسُولٍ اٴَنْ یَاٴْتِیَ بِآیَةٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّہ)۔
چونکہ اصولی طور پر تمام معجزات خدا کے اختیار میں ہیں اور کفّار کی خاطر انہیں باز یچہ ٴ اطفال نہیں بنا یاجاسکتا اورپیغمبر بھی ان کی روز روز کی مانگ کے آگے سرتسلیم خم نہیں کرسکتے لہذا جب لوگوں کی ہدایت اور حق کے اظہار کے لیے ضروری ہوتاہے خدااپنے ابنیاء کے ذ ریعے ظاہر فرماتاہے ۔
پھرسنجیدہ انداز میں لیکن تنبیہ کی صورت میں ان لوگوں کو خبر دار کیا جارہاہے جویہ کہتے تھے کہ اگرسچ مچ آپ ہمیں عذاب الہٰی کی دھمکی دے رہے ہیں تو پھروہ کیوں ہم پرنازل نہیں ہوتا ؟ارشاد ہوتاہے : جب ان ضدی مزاج منکرین کے لیے عذاب الہٰی کا فرمان جاری ہوگاتوان کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کیاجائے اوراس وقت باطل کے پیرو کار نقصان اٹھائیں گے (فَإِذا جاء َ اٴَمْرُ اللَّہِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ ہُنالِکَ الْمُبْطِلُونَ )۔
اس وقت توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے ، واپسی کی راہیں مسد ود ہو جائیں گے ، فریاد و واویلا اور چیخ پکار نہیں سنی جائے گی تب باطل کے پیرو کاروں کوپتہ چلے گا کہ وہ تو اپنا سب کچھ گنوار چکے ہیں اورکچھ بھی حاصل نہیں کر پائے . بلکہ الٹا خدائی غیظ وغضب اوردرد ناک الہٰی عذاب کاشکار ہوچکے ہیں ، لہذا وہ کس لیے اس بات پر مُصر ہیں کہ وہ دن جلد آجائے ؟
اس تفسیر کے مطابق مندرجہ بالاآیت ” استیصالی عذاب “ کی جانب اشارہ کررہی ہے ۔
لیکن کچھ مفسرین نے اس کو بر وز قیامت عذاب کے فرمان کی طرف اشارہ سمجھاہے اور وہیں پرسب لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کیاجائے گا اورباطل کے پیرو کار ہر لحاظ سے اپنے خسارہ اٹھا نے سے آگاہ ہوجائیں گے ۔
سور ہ جاثیہ کی آیت ۲۷ کی تعبیربھی اسی تفسیر کی مئوید ہے جہاں پر فاما یاگیاہے :
ویوم تقوم الساعة یو مئذ یخسر المبطلون
لیکن ” امر اللہ“ وغیرہ ” جیسی تعبیرات جو متعدد آیات میں ذکر ہوئی ہیں دنیاوی عذاب کے بار ے میں استعمال ہوئی ہیں ( ۲)۔
یہ احتمال بھی ہے آیت کامفہوم وسیع ہوکرجودنیاوی عذاب ہواور آخرت کی سزادونوں کواپنے دامن میں لیے ہوئے ہو . عذاب خواہ کہیں کاہو باطل کے پیر و کاروں کی زیاں کاری ضرور آشکار ہوجائے گی ۔
شہر مدینہ میں ایک مسخرہ رہتاتھا جولوگوں کوہنسایاکرتاتھا . کبھی کبھار وہ یہ بھی کہتا تھاکہ اس شخص (حضرت امام زین العابدین ) علیہ السلام نے مجھے عاجز کردیاہے کہ میں نے اسے جنتا بھی ہنسانے کی کوشش کی ہے میری کوئی کا ر گر ثابت نہیں ہوئی اوروہ کبھی میری باتوں پر نہیں ہنسا ۔
ایک دن حضر ت امام علیہ السلام کہیں سے گزررہے تھے تووہ مسخرہ آیااورآپ کے دوش مبارک سے عبا اُٹھا کرچلتا بنا، لیکن امام نے پھربھی اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی . آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے اس کاتعاقب کر کے عبا واپس لے کر کندھوں پر ڈال دی . امام نے پوچھایہ کون شخص ہے ؟ ساتھیوں نے عرض کی یہ ایک مسخرہ ہے جوشہروالوں کوہنساتا رہتاہے ، امام نے فرمایا کہ اس سے کہہ دو ” ان اللہ یوماً یخسر فیہ المبطلون “ (خدا کاایک دن ایساہے جس میں اہل باطل نقصان اٹھائیں گے ( ۳)۔

انبیاء کی تعداد

بہت سے مفسرین نے آیات کے مناسبت سے یہاں پر ابنیاء کی تعداد کے بار ے میں گفتگو کی ہے اوربا رے میں مختلف روایات نقل کی ہیں ۔
اس بار ے میں مشہور روایت سے انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار معلوم ہوتی ہے . جبکہ کچھ اور رویات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد آٹھ ہزار تھی . جن میں سے چار ہزار بنی اسرائیل سے تھے اور چار ہزار ان کے علاوہ تھے ( ۴)۔
حضرت امام علی رضاعلیہ السلام کی زبانی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے :
خلق اللہ عز و جل ماٴ ة الف نبی وا ربعة و عشرین الف نبی انااکرمھم علی اللہ ولا اکرمھم علی اللہ وافضلھم
خدا وندعالم نے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی خلق کئے ہیں اور میں اللہ کے نزدیک ان سب سے زیادہ معزّز ہوں لیکن میں اس بات پر مغرور نہیں ہوں اورخدا نے ایک لاکھ چوبیس ہزار وصی پید اکئے ہیں اوراللہ کے نزدیک علی ان سب سے زیادہ معزز اورافضل ہیں ( ۵)۔

ایک اورروایت میں انس بن مالک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یوں نقل کرتے ہیں:
بعثت علی اثر ثما نیة اٰلاف نبی ، منھم اربعة الاف من بنی اسرائیل
” میں آٹھ ہزار انبیاء کے بعد مبعوث ہوا ہوں جن میں سے چار ہزار بنی اسرائیل سے تھے ( ۶)۔
ان دو حدیثوں کاآپس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے دوسری حدیث اللہ کے عظیم ابنیاء کی طرف اشارہ ہو ( جیساکہ اسی بات کی وضاحت علامہ مجلسی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی کی ہے )۔
ایک اورحدیث میں ہے کہ جناب ابوذر ررضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انبیاء کی تعداد کے بار ے میں سوال کیاتوآپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار،اور جب پوچھا کہ ان میں رسول کتنے ہیں تو فرمایاتین سوتیرہ ( ۷)۔
ایک اورحدیث میں ہے کہ پیغمبرگرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی ہے جن میں سے پانچ او لو العزم پیغمبربتائے ہیں یعنی جناب نوح ، جناب ابراہیم،حضرت موسٰی،حضرت عیسٰی اور پیغمبراسلام حضرت محمد ( علیہم الصلوٰة والسلام ) ( ۸)۔
اس بار ے میں اوربھی روایات منقول ہوئی ہیں جومندرجہ بالا عدد کی تائید کرتی ہیں ۔
بہرحال ان تصریحات سے واضح ہوتاہے کہ یہ روایت خبر واحدنہیں ہے جیساکہ ” برسوئی “ نے ” روح البیان “ میں لکھاہے . بلکہ متعدد روایات اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی اوراس با رے میں مختلف اسلامی مآخذ میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں ۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جن انبیاء کاصراحت کے ساتھ قرآن مجیدمیں نام آیاہے ان کی تعداد ۲۶ ہے . اور وہ یہ ہیں . آدم ، نوح ، ادریس ، صالح ، ہود، ابراہیم،اسماعیل،اسحاق،یوسف،لوط،یعقوب،موسٰی،ہارون ، شعیب ، زکریا ،یحیٰی ، عیسٰی ، داؤد ، سلیمان ، الیاس،الیسع ، ذو الکفل ، ایوب ،یونس،عزیر اور حضرت محمد (علیہم الصلوٰة والسلام )۔
لیکن کچھ انبیاء ایسے ہیں جن کی طرف قرآن میںصرف اشارہ ہواہے وضاحت کے ساتھ ان کا نام نہیں لیاگیاہے جیسے حضر ت ”اشموئیل “ کہ جن کی طرف سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۲۴۸ میں ” و قال لھم نبیھم “ کے ہیں اشارہ کیاگیاہے ۔
اورحضرت ” ارمیا“ ہیں کہ سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۲۵۹ میں ” واذ قال موسٰی لفتاہ “ میں اشارہ کیاگیاہے . ( بنابریں جنا ب ، یوشع علیہ السلام کاشمار بھی انبیاء میں ہوتاہے ) (۹) ۔
اور جناب ” خضر “ علیہ السلام ہیں جن کی طرف سور ہ کہف کی آیت ۶۵میں ” فوجد اعبداً من عبادنا “ میں اشارہ کیاگیاہے ۔
اسی طرح ” اسباط بنی اسرئیل “ ہیں جو اپنے قبیلوں کے سر دار تھے اور سورہ نسا ء کی آیت ۱۶۳ میں صراحت کے ساتھ آیاہے کہ ان کی طرف وحی ہوتی تھی ۔
واو حینا الیٰ ابراھیم واسماعیل واسحاق ویعقوب والا سباط--...
اگریوسف علیہ السلام کے بھائیوں میں بھی کوئی تھاتو اس کی طرف بھی سورہ یوسف میں کئی بار اشارہ ہوچکاہے ۔
قصہ مختصر ، جن انبیاء کی داستان اورسر گذشت کی طرف خدا و ند عالم نے اشارہ فر مایاہے ان کی تعداد ۲۶ سے بہت زیادہ ہے اوریہ تعداد صرف ان کی ہے جن کانام صراحت کے ساتھ قرآن میں آیاہے ۔
اس مقام پر آخری بات اور وہ یہ کہ بعض شیعہ اورسنی کتابوں کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ خداوند عالم نے سیاء فاموں سے بھی ایک پیغمبرمبعوث فرمایا ہے جیساکہ طبری رحمتہ اللہ علیہ ” مجمع البیان “ میں لکھتے ہیں :
روی عن انہ قال بعث اللہ نبیاً اسود لم یقص قصتہ
حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا : خدا نے ایک سیاء فام بنی بھیجاہے لیکن اس کی داستان قرآن میں بیان نہیں کی ( ۱۰)۔
۱۔ اس قسم کامفہوم سورہ ٴ یونس کی آیت ۴۶ میں بھی گز رچکاہے ۔
۲۔ مانند سورہ ٴ ہود آیات ۴۳ ، ۷۶ اور۱۰۱۔
۳۔ امالی شیخ صدوق منقول از تفسیر نورالثقلین جلد ۴ ،ص ۵۳۷۔
۴۔ تفسیر مجمع البیان انہی آیات کے ذیل میں ۔
۵۔ بحارالانوار جلد ۱۱ ،ص ۳۰ (حدیث ۲۱)۔
۶۔ بحارالانوار جلد ۲۲ ،ص ۳۱ (حدیث ۲۲)۔
۷۔ بحارالانوار جلد ۱۱ ،ص ۳۲ (حدیث ۲۴ )۔
۸۔ بحارالانوار جلد ۱۱ ،ص ۴۱ (حدیث ۴۳)۔
۹۔ البتہ اس بار ے میں بعض مفسرین میںاختلاف ہے کہ بعض اسے ” ار میا“ بعض ” خضر “ او ر بعض ” عزیر “ سمجھتے ہیں ۔
۱۰۔ تفسیر ” مجمع البیان “ انہی آیات کے ذیل میں . نیز تفسیر کشاف کے حواشی میں بھی اس بار ے میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں ( دیکھئے کشاف جلد ۴ ،ص ۱۸۰ مطبوعہ وار لکتب العربی ۔
سوره مؤمن/ آیه 79- 81سوره مؤمن/ آیه 77- 78
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma