تخلیق انسانی کے سات مرحلے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره مؤمن/ آیه 69- 76سوره مؤمن/ آیه 67- 68
توحید سے متعلق آیات کو جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر کچھ ” انفسی آیات“ کوبیان کرتے ہوئے تخلیق انسانی کے مختلف مراحل کاذکر فرمایاجارہاہے . پہلے پہل انسان کی مٹی سے تخلیق کاتذ کرہ ہے ، پھر شکم مادرمیں رہنے کی مدت کاذکر ، اس کے بعد مرتے دم تک دنیاوی زندگی کادورانیہ ، غرض اس طرح کے ساتھ مراحل کو بیان کیاجارہاہے . تاکہ ایک طرف تو اس کی قدرت اورربوبیت کی عظمت ہو جائے اور دوسری طرف اس کی اپنے بندوں پرعطاوبخشش اور نعمتوں کی عظمت کااظہار ہوجائے ۔
چنانچہ فرمایاگیاہے : وہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیداکیانطفے سے ، پھر جمے ہو ئے خون کے مانند چیز سے پھر تم کو بچے کی صورت میں شکم مادر سے باہر بھیجتا ہے . پھر تم اپنی طاقت وتوانائی اورکمال کے مرحلے کوپہنچتے ہو ، اس کے بعد تم بڑھاپے کے مرحلے کوپہنچ جاتے ہو ، ہرچند کہ تم سے کچھ لوگ اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں اور مقصد یہ ہے کہ تم اپنی زندگی کی مقررہ مدت تک پہنچ جاؤ اور شاید عقل سے کام لو (ہُوَ الَّذی خَلَقَکُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوا اٴَشُدَّکُمْ ثُمَّ لِتَکُونُوا شُیُوخاً وَ مِنْکُمْ مَنْ یُتَوَفَّی مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوا اٴَجَلاً مُسَمًّی وَ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ )۔
اس لحاظ سے تخلیق کاپہلا مرحلہ مٹی ہے ، جوہمار ے جدامجد اورپہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی جانب اشارہ ہے یاپھر تمام انسانوں کی خاک سے تخلیق کی طرف اشارہ ہے .کیونکہ وہ تمام غذائی مواد جوانسانی وجود بلکہ اس کے نطفے تک کوتشکیل دیتا ہے خواہ وہ مواد حیوانی ہو یانباتی سب کی بنیاد مٹی ہی ہے ۔
دوسرا مرحلہ ، نطفے کا ہے جس کاتعلق جناب آدم علیہ السلام اوران کی بیوی جناب حوا کے علاوہ باقی تمام انسانوں سے ہے ۔
تیسرا مرحلہ وہ ہے جس میں نطفہ ارتقاء کی منزل کوپہنچ جاتاہے اورایک بڑی حد تک نشو و نما پاکرجمے ہوئے خون کی صورت اختیار کر لیتاہے ۔
اس کے بعد ’ ’ مضغہ “ (خون کے لوتھڑے ) کاپھر اعضاء کے ظاہر ہونے کامرحلہ ہے ، پھر حس وحرکت کامرحلہ ہے . البتہ قرآن مجید میں اس مقام پران تین مراحل کاتذ کرہ نہیں ہے اگر چہ دوسری کئی آیات میں ان کی طرف اشارات ملتے ہیں ۔
اس جگہ پرچوتھا مرحلہ ” تولد جنین “ کا بتایاگیاہے اور پانچواں مرحلہ جسمانی طاقت کے کمال کامرحلہ ہے جسے بعض لوگ تیس سال کی عمر بتاتے ہیں . جس میں زیادہ سے زیادہ جسمانی نشوو نما ہوچکی ہوتی ہے . بعض لوگ اسے اس سے زیاد ہ اور کچھ لوگ اس سے زیادہ اور کچھ لوگ اس سے کم عرصہ بتاتے ہیں . البتہ ممکن ہے کہ مختلف افراد میں یہ مراحل مختلف ہوں . قرآن نے اسے ” بلوغ اشد “ سے تعبیر کیاہے ۔
اس کے بعد پیچھے کی طرف لوٹنے اور توانا ئیوں کے آہستہ آہستہ ختم ہوجانے کامرحلہ شروع ہوکر بڑھاپے کے دوران تک جاپہنچتاہے جو کہ چھٹا مرحلہ ہے ۔
آخر کار عمر کے خاتمے کامرحلہ ہے جوآخری مرحلہ ہے اورجواس سرائے فانی سے اس عالم جاودانی کی طرف منتقل ہونے کاوقت ہے ۔
آیاان تمام منظم اور باقاعدہ تبدیلیوں کے باو جود کائنات کے مبداء کی قدرت و عظمت اوراس کے الطاف واحسنات میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟
یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ پہلے چار مراحل میں جوکہ مٹی ، نطفہ ، علقہ اوربچے کی پیدائش سے متعلق ہیں ” خلقکم “ ( تمہیں پیدا کیا) کہاگیاہے اوران مراحل میں انسان کے کسی قسم ک ارادہ واختیار کو عمل دخل کاحق حاصل نہیں ہے ، لیکن بعد کے تین مراحل میں جو قوت جسمانی کی انتہاکوپہنچنا ، اس کے بعد بڑھاپا اور پھر عمر کے خاتمے سے متعلق ہیں ” لتبلغوا “ ( تاکہ تم پہنچو ) اور ” لتکو نوا“ تاکہ تم ہو جاؤ ) کہاگیا ہے جو ایک توولادت کے بعدانسان کی اپنی اچھی یابری تدبیر کی وجہ سے آگے یاپیچھے ہوجائیں . ہوسکتاہے کہ انسان ایسے کام کرے جس سے وہ جلد بوڑھا ہوجائے یاقبل ازوقت اس کی موت واقع ہوجائے . اس سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآنی تعبیرات کس قدر جچی تلی اورحساب وکتاب کے تحت ہوتی ہیں ۔
موت کے بارے میں ” یتونی “ کے لفظ کااستعمال ( جیسا کہ ہم پہلے بھی بتاچکے ہیں ) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کی منطق میں موت فنااور نیستی کا نام نہیں ہے ، بلکہ موت کے فرشتے انسان کی روح قبوض کرکے موت کے بعد کے عالم میں منتقل کردیتے ہی . قرآن مجید میں بار ہااستعمال ہونے والی اس تعبیر سے پتہ چلتاہے کہ موت کے بار ے میں اسلام کانقطہ نظر کیاہے ؟ یعنی موت کے مادی مفہوم فنا اور نیستی کی نفی کرکے اسے بقاء ابدی کا نام دیتاہے ۔
” وَ مِنْکُمْ مَنْ یُتَوَفَّی مِنْ قَبْل“ ( تم میں سے کچھ لوگ اس سے پہلے مرجاتے ہیں ) کاجملہ ممکن ہے کہ بڑھاپے کے مرحلے کی طرف یااس سے پہلے کے مراحل کی طرف اشارہ ہو . یعنی ان مراحل تک پہنچنے سے پہلے ہرموڑ پرموت کاامکان موجود ہے ۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان تمام مراحل کو”ثم “ کے کلمہ کے ساتھ ایک دوسرے پرعطف کیاگیاہے جوفاصلے کے ساتھ ترتیب کی علامت ہے سوائے آخری یعنی زندگی کے خاتمے کے مرحلے کے جسے داؤ کے ساتھ عطف کیاگیاہے ، ممکن ہے تعبیر کا یہ فرق اس لئے ہو کہ عمر ِ کی انتہائی کوجاپہنچنا ہمیشہ بڑھا پے کے بعد ہی نہیں ہوتا کیونکہ بہت سے لوگ بوڑھا ہونے سے پہلے جوانی کے عالم ہی میں عالم بقا ء کو سدھا رجاتے ہیں .حتٰی کہ جوانی کے عالم تک پہنچنے سے بھی پہلے رخصت ہو جاتے ہیں ۔
” اجل مسمّی “ کے بار ے میں تفسیر نمونہ کی پانچوین ، چھٹی اور گیارہویں جلد میں تفصیلی گفتگو ہوچکی ہے ۔
اسی سلسلے کی آخری آیت میں خدا وند عالم کے اہم مظاہر یعنی موت اورحیات کی بات ہو رہی ہے .دو ایسی مخلو قات کہ انسان کی تمام علمی ترقی ک باوجود ابھی تک ایک معمہ بنی ہو ہوئی ہیں چنانچہ فرمایاگیاہے : خدا تووہ ہے جوزندہ بھی کرتاہے اورمارتا بھی ہے (ہُوَ الَّذی یُحْیی وَ یُمیت)۔
جی ہاں ! موت اورحیات اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے وہ نبا تا ت میں ہو یاحیوانات اورانسانوں میں سب خدا کے ہاتھ میں ہے اورزندگی مختلف او ر گو ناگون صورتوں میںظاہرہوئی ہے ۔
یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق سے لے غور پیکر حیوانا ت تک اور بحراوقیانوس کی تا ریک اورظلمانی گہرا ئیوں سے لے کر آسمان کی بلندیوں پر پرواز کرنے والے پرندوں تک سمندروں کی موجوں کے درمیان میکر وسکوپ کے بغیر دکھائی نہ دینے والے باریک ترین نباتات سے لے کربیسیوں گز لمبے درختوں تک کی اپنی مخصوص زندگی اوراپنے مخصوص حالات ہوتے ہیں . اسی لحاظ سے ان کی موت بھی مختلف ہوتی ہے اوراس میںشک نہیں ہے کہ زندگی کے مختلف روپ کائنات اور عالم خلقت کے نہایت ہی تعجب انگیز روپ ہوتے ہیں ۔
خاص کران مخلوقات کاایک بے جان عالم سے زندگی کی منزل میں قدم رکھنا یاعلم حیات سے موت کی وادی میں منتقل ہونااس حد تک قابل ِ تعجب ہے کہ ان میں سے ہرایک اسرار آفرینش کوبیان کررہا ہے اپنے رب کی آیات میں سے ایک آیت ہے ۔
لیکن یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان اہم اور پیچیدہ مسائل میں سے کوئی بھی مسئلہ اس کی قدرت کاملہ کے سامنے مشکل اور پیچیدہ نہیں ہے ، بلکہ اس کے ایک ارادے اور فرمان کامنتظر ہے ۔
لہذاآیت کے آخرمیں فرمایاگیاہے : وہ جب بھی کسی چیز کاارادہ کرتاہے توصرف اس سے یہی کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، تووہ فوراً ہوجاتی ہے ۔ (فَإِذا قَضی اٴَمْراً فَإِنَّما یَقُولُ لَہُ کُنْ فَیَکُون)۔
حتٰی کہ ” کن “ ( ہوجا) کے بعد ” فیکون “ ( ہو جاتی ہے ) کہ تعبیر بھی الفاظ میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ہے . وگرنہ لفظ ” کن “ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی . ادھر خدا کا ارادہ ہو ا ادھر مخلوقات نے وجود پیدا کر لیا (۱)
 ۱۔ ’ ’ کن فیکون “ کی تفسیر کے سلسلے میں ہم جلداوّل میں سورہ بقرہ کی آیت ۱۱۷ کی تفسیر میں تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں ۔
سوره مؤمن/ آیه 69- 76سوره مؤمن/ آیه 67- 68
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma