مجھے پکارو

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره مؤمن/ آیه 64- 66سوره مؤمن/ آیه 60- 63

گذ شتہ آیات میں بے ایمان ، متکبر اور مغر ور لوگوں کے بار ے میں کچھ تہد ہد کا ذکر تھا . ان آیات میں پروردگار اپنے لطف وکرم کے ساتھ توبہ کرنے والوں کے لیے اپنی رحمت کے در وازے کھول رہاہے . پہلے فرمایاگیاہے : تمہارے پرو ر دگار نے کہاہے کہ مجھے پکار و تاکہ مین ( تمہارری دعاکو ) قبول کروں (وَ قالَ رَبُّکُمُ ادْعُونی اٴَسْتَجِبْ لَکُم)
بہت مفسر ین نے یہاں پر دعا اور پکار نے کی اسی اپنے مشہور معنی میں تفسیر کی ہے اسی طرح ” “ کی . اسی طرح اسی آیت کے ذیل میں دعا اوراس کے ثواب کے بار ے میں بھی متعدد روایات وارد ہوئیں جن کی طرف ہم آگے چل کراشارہ کریں گے . وہ بھی اسی معنی کی گواہ ہیں ۔
جبکہ بعض دوسرے مفسرین نے مشہور مفسر قرآن عبداللہ بن عباس کی پیروی کرتے ہوئے اس احتمال کااظہار کیاہے کہ یہاں پر ” دعا “ کامعنی توحید اور پر ور دگار کی عبادت ہے یعنی ” میری عبادت کرو اور میری وحدانیت کااقرار کرو “ . لیکن بظاہر و ہی پہلی تفسیر بہتر ہے ۔
بہرحال مندرجہ بالا آیت سے چند نکات کااستفادہ کیا جاسکتاہے :
۱۔ دعاکرنا خدا کی پسند یدہ بات ہے اورخود اس کی اپنی منشاء ہے ۔
۲۔ دعا کے بعد قبولیت کاوعدہ کیاگیا ہے اورہم جانتے ہیں کہ یہ ایک مشروط وعدہ ہے نہ کہ مطلق . وہی عاقابل قبول ہو گی جس میں ” دعا “ کی ، دعا کرنے والوں کی اور ” دعا میں طلب کئے جانے والی چیزوں “ کی شرائط جمع ہوں اورہم نے اس موضوع کو فلسفہ دعا اور اس کے حقیقی مفہوم کے عنوان سے سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۱۸۶ کے ذیل میں مفصل طور پر بیان فرمایا ہے اسے یہاں پر دہرانے کی ضرورت نہیں ( ۱)۔
۳۔ دعابذ ا ت خودا یک قسم کی عبادت ہے کیوکہ آیت میں اس کے لیے یہ لفظ آیاہے ۔
اسی آیت میں ان لوگوں کوسخت متنبہ کیاگیاہے جودعانہیں کرتے فرمایاگیاہے : جولوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں وہ بہت جلد ذلت وخواری کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے (إِنَّ الَّذینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبادَتی سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ داخِرین) (۲)۔
دعاکی اہمیّت اور قبولیّت کی شرائط
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے متعدد روایات منقول ہوئی ہیں جودعا کی اہمیت کواچھی طرح واضح کرتی ہیں ، مثلاً :
۱۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
الدعاء ھو العبادة
” دعا عبادت ہی تو ہے “ ( ۳)
۲۔ ایک اورحدیث میں ہے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے آپ علیہ السلام کے ایک صحابی نے سوال کیا :
ماتقول فی رجلین دخلا المسجد جمیعاً کان احد ھما اکثر صلاة والا خرد عاء ، فایھما افضل ؟ قال کل حسن
آپ ان دو لوگوں کے بار ے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں جومسجد میں داخل ہوں ایک بہت زیادہ نمازیں بجالائے اور دوسرابہت زیادہ دعا کرے توان دونوں میں سے کون افضل ہے ؟
امام علیہ السلا م نے فرمایا : دونوں اچھے ہیں ۔ سائل نے پھر عرض کیا :
قد علمت ، ولکن ایھما افضل ؟
جانتا تومیں بھی ہوں کہ دونوں اچھے ہیں ، لیکن یہ فرمائیے کہ ان میں سے افضل کون ہے ؟
تو امام علیہ السلام نے فرمایا :
اکثر ھماد عا ء،اماتسمع قول اللہ تعالیٰ ادعونی استجب لکم ان الذ ین یستکبر ون عن عبادتی سید خلون جھنم داخرین
جوشخص زیادہ دعامانگتا ہے وہی افضل ہے ، کیا تم نے خد ا وند متعال کایہ فرمان نہیں سنا
ادعونی استجب لکم ...
آپھر آپ علیہ السلام نے فرمایا :
ھی العبادة الکبری
دعابہت بڑ ی عبادت ہے ( ۴)۔

۳۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا گیاکہ کونسی عبادت افضل ہے ؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :
مامن شی ء افضل عند اللہ من ان یسئل ویطلب مما عندہ و ما احد ابغض الی اللہ عزو جل ممن یستکبر عن عباد تہ و لا یسئل ماعندہ
کوئی چیز خداکے نزدیک اس بات سے افضل نہیں ہے کہ اس سے سوال کیاجائے اور جوکچھ اس کے پاس ہے اس میں سے طلب کیاجائے اورخدا کے نزدیک اُس سے بڑھ کرمبغوض اور قابل نفرت کوئی نہیں ہے جو اس کی عبادت سے متکبر انہ سرتابی کرتاہے اوراس سے بخشش کی درخواست نہیں کرتا ( ۵)۔
۴۔ حضرت اما م جعفرصادق علیہ السلام کی ایک روایت میں ہے :
ان عنداللہ عزو جل منزلة الابمساٴ لة ، ولوان عبداً سدّ فاء ولم یسئل لم یعط شیئا ،فاسئل تعط ، انہ لیس من باب یقرع الایوشک ان یفعح لصاحبہ
خدا کے نزدیک کچھ مقامات ایسے ہیں جن تک دعا اور در خواست کے بغیر رسائی ناممکن ہے اگر کوئی بندہ دعا کرنے سے اپنا منہ بند کرے اوراس سے کسی چیز کی درخواست نہ کرے تو اسے کچھ نہیں ملے گا . لہذا خداسے مانگو تاکہ تمہیں ملے کیونکہ جو درواز ہ بھی اصرار کے ساتھ کھٹکھٹا یاجائے آخر کار کھول دیاجاتا ہے ( ۶)۔
۵۔ بعض روایات میں دعا مانگنے کوتو قرآن پاک کی تلاوت سے بھی افضل شمار کیاگیا ہے . جیسا کہ اس سلسلے میں پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے :
الدعاء افضل من قرائة القراٰن
دعا مانگنا قرائت قرآن سے بھی افضل ہے ( ۷)۔
ایک مختصر سے تجز یہ وتحلیل کے ذریعے ان تمام احادیث کے اصل فوائد اورمقا صد تک پہنچاجاسکتا ہے اوروہ یہ ہیں ۔
۱۔ دعاانسان کو معرفت خداکی طرف دعوت دیتی ہے جو ہرانسان کابہترین سر مایہ ہے ۔
۲۔ دعااس بات کاسبب بنتی ہے کہ انسان اپنے آپ کوخدا کامحتاج سمجھے اوراس کے سامنے جھک جائے اور تکبر وغرور کو تر ک کردے کو جو ہر قسم کی شفا وتوں ، بدبختیوں اور آیات خدا میں مجادلہ کرنے کامنبع ومرکز اورسرچشمہ ہے اور اس کی ذات پاک کے سامنے اپنے آپ بالکل ہیچ سمجھے ۔
۳۔ انسان تما م نعمتوں کی عطا و بخشش خداکی ذات سے سمجھے اور اسی کے ساتھ محبت کرے جس سے اس کی محبت کے رشتے اورمحکم ہوں گے ۔
۴۔ دعا کرنے والا چونکہ خود کوضرورت مندا ور خداکی نعمتوں کامر ہون منت جانتا ہے لہٰذا وہ اپنے تئین اس کے احکام کا پابند بھی سمجھتاہے ۔
۵۔ دعا کرنے والا چونکہ جانتا ہے کہ دعا کی قبولیت غیر مشروط نہیں ہے بلکہ خلوص دل اورصفائے قلب نیز گناہوں سے توبہ اورضرورت مندوں اور دوستوں کی حاجات کوپورا کر نا اس کے شرائط میں سے ہے ، لہذا خود سازی کرتاہے اوراپنی تربیت کے لیے قدم اٹھاتا ہے ۔
۶۔ دعا، انسان کو خود اعتماد ی کادرس دیتی ہے مایوس اور ناامید ہونے سے بچاتی ہے اور مزید سعی و کوشش کی دعوت دیتی ہے ( ۸)۔
اس تفصیلی گفتگو کے آخر میں ایک نہایت ہی اہم نکتے کی طرف توجہ دلاناضروری ہے اوروہ یہ کہ احادیث کے مطابق دعا ایسے مقامات کے ساتھ مخصوص ہے جب انسان کی تمام کوششیں بے کار ہوجائیں یادوسرے لفظوں میں جوانسان کے بس میں ہے اس حد تک کوشش کرے اور باقی خدا سے طلب کرے . لہذا اگرانسان دعا کوشش کی جگہ لے آئے اور ہر قسم کی تگ ودو سے ہاتھ اٹھالے صرف دعاپر ہی اکتفاکرلے دعاقطعاً مستجاب نہ ہوگی . یہی وجہ ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث ہے :
اربعة لا تستجاب لھم دعوة ، رجل جالس فی بیتہ یقول : اللھم ارز قنی ، فیقال لہ الم امرک بالطب ؟ و رجل کانت لہ امر اٴ ة فد عا علیھا ، فیقال لہ : الم اجعل امرھا الیک : ورجل کان لہ مال فافسد ہ ، فیقول : اللھم ارزقنی ، فیقال لہ : الم امرک بالا قتصاد ؟ الم امر ک بالاصلاح ؟ ورجل کان لہ ما ل فادا نہ بغیر بینة ، فیقال لہ : الم اٰمرک بالشھادة
چار قسم کے افراد ایسے ہیں جن کی دعا قبول نہیں ہوتی . ایک وہ جوگھر میں بیٹھ کردعا مانگے خدا وندا ! مجھے رزق عطافرما ، تواسے کہاجاتاہے : آیا میں نے تجھے تلاش کرنے کاحکم نہیں دیا ؟
دوسرا وہ جس کی بیوی ( اسے ہروقت ستاتی رہتی ) ہو اوروہ اس سے چھٹکا راحاصل کرنے کے لیے بددعا کرے تو اسے کہاجاتاہے آیا میں نے اس کی طلاق کا حق تجھے نہیں دیا ؟
تیسرا وہ جواپنے مال کوفضول خرچی میں ضائع کرڈالے پھر کہے خداوندا ! مجھے رزق عطافر ما ! تو اسے کہاجاتا ہے کہ آیا میں نے تجھےاعتدال اور میانہ روی کے ساتھ خرچ کرنے کا حکم نہیں دیاتھا ؟ کیامیں نے تجھے مال کی اصلاح کاحکم نہیں دیا ؟
اور چوتھا وہ جس کے پاس مال ہو اوروہ بغیر کسی کوگواہ ٹھہرائے کسی کو قرض دے ( اور قرض لینے والا مکرجائے اور قرض دینے والا دعا مانگے خدایا ! اس کے دل کونرم بناتاکہ میراقرض واپس کرے ) تواسے کہاجاتاہے کیامیں نے نہیں کہاتھا کہ قرض دیتے وقت گواہ ٹھہرا لیاکرو ( ۹)۔
ظاہر ہے کہ ایسے مواقع پرانسان نے بھر پور کوشش سے کام نہیں لیاجس کانتیجہ یہ ہوا کہ ایسے مصائب میں گرفتار ہوگیا اور اس کو تاہی،تقصیر اورسستی کے نتیجے میں اس کی دعا بھی مستجاب نہیں ہوگی ۔
یہیں پرسے بہت سی دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی وجو ہات میں سے ایک وجہ کا پتہ چل جاتا ہے ، کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو سعی و کوشش کے بغیر صرف دعاسے کام چلانا چاہتے ہیں ، لیکن خدائی طریقہ ٴ کار یہ ہے کہ ایسی دعاکبھی قبول نہیں ہوتی ۔
البتہ دعاکی عدم قبولیت کے کچھ اوراسباب بھی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے ہے کہ بہت سے مواقع پر انسان اپنے نفع اور نقصان کواچھی طرح نہیں سمجھ سکتا اوراپنے مقصد کے حصول کے لیے بہت دعامانگتا ہے جبکہ ا س کی قبولیت کسی بھی صورت میں اس کے مفاد میں نہیں ہوتی حتٰی کہ ممکن ہے کہ وہ خود بھی بعد میں اس چیز سے واقف ہو جائے .اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ بعض اوقات کوئی بیمار بچہ اپنی دیکھ بھا ل کرنے والوں سے رنگ برنگی غذا ئیں طلب کرتاہے . اگر اس کی بات مان لی جائے تو اس کی جان خطر ے میں پڑ جانے کااندیشہ ہوتاہے . لہذا اس قسم کے مواقع پر خدا وند رحمان و رحیم اس کی دعا کو دنیا میں شرف اجابت نہیں بخشتا بلکہ اس کے لیے آخرت میں ذ خیر ہ کرلیتا ہے ۔
اس کے علاوہ بھی دعا کی قبولیت کی کچھ شرطیں ہیں جوقرآنی آیات اوراحادیث میں بیان ہوئی ہیں جن کے بار ے میں ہم تفسیر نمونہ کی جلد اوّل سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۱۸۶ کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں ۔
دعا کیوں قبول نہیں ہوتی ؟
بعض روایات میں بہت سے ایسے گناہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو دعا کی قبولیت سے مانع ہوتے ہیں . جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں بری نیت ، نماکو دیرسے ادا کرنا ، بد زبانی ، حرام غذااور راہ خدا میں صدقہ وخیرات وغیرہ نہ دینا ( ۱۰)۔

ہم اپنی اس گفتگو کوحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے مندرجہ ذیل معنی خیز فرمان پرختم کرتے ہیں ، جسے مرحوم طبرسی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ” احتجاج “ میں نقل کیا ہے :
انہ سئل الیس یقول اللہ ادعونی استجب لکم ؟ و قد نری المضطر ید عوہ ولایجاب لہ ، والمظلوم یستنصر ہ علی عدو ہ فلا ینصر ہ ، قال ویحک ما ید عوہ احد الا استجاب لہ ، اماالظ لم فد عائہ مردود الی ان یتوب واما المحق فاذا دعا استجاب لہ وصرف عنہ البلاء من حیث لایعلمہ ، او ادخر لہ ثواباً جزیلا لیوم حاجتہ الیہ ، وان لم یکن الا مر الذ ی سئل العبد خیراً لہ ان اعطاہ امسک عنہ
کسی نے آپ سے سوال کیاکہ آیاخدا نہیں فرماتا کہ تم مجھ سے دعا مانگوں میں قبول کروں گا ، جبکہ ہم مضطر اور بے چار ے لوگوں کودیکھتے ہیں کہ وہ دعامانگتے ہیںلیکن ان کی یہ دعا قبول نہیں ہوتی . مظلوموں کو دیکھتے ہیں کہ دشمن کے خلاف خداسے کامیابی کی دعا مانگتے ہیں مگر خداان کی مدد نہیں کرتا ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا ، تجھ پر افسوس ہے . کوئی ایساشخص نہیں جو اُسے پکارے اورخدااس کی دعاقبول نہ کرے لیکن ظالم کی دعااس وقت تک قبول نہیں ہوگی جب تک وہ توبہ نہ کرلے اورمستحق جب بھی دعامانگے قبول ہوتی ہے اوراللہ اس سے بلائیں اس طرح دور کردیتاہے کہ خود سے بھی علم نہیں ہوتایاپھر اس کی ضرورت کے دن ( بر وز قیامت ) کے لیے ، ذخیرہ کردیتاہے ۔
اورجب بندے کسی چیز کاتقاضہ کرتے ہیں اوراس میں مصلحت نہیں ہوتی توخداوہ اس سے روک لیتاہے ( ۱۱)۔
چونکہ دعا اورخدا سے درخواست اس کی معرفت کی ایک شاخ ہے لہٰذا بعد کی آیت میں ان حقائق کے بار ے میں گفتگو ہورہی ہے جوانسان کی سطح معرفت کو بالا کردیتے ہیں اوراجازبت دعاکی شر ائط میں سے ایک شرط کو بیان کیاجارہا ہے جس سے قبولیت دعا کی امید کو تقویت ملتی ہے ، چنانچہ فرمایاگیاہے ۔
خداتووہ ہے جس نے رات تمہارے لیے پیدا کی تا کہ تم اس میں آرام کرو ( اللہ الذی جعل لکم اللیل لتسکنو افیہ )۔
کیونکہ ایک تورات کی تار یکی اس بات کوموجب بنتی ہے کہ انسان کو مجبو راً اپنے دن کے کاموں کوبند کرناپڑ تاہے دوسرے خود یہی تاریکی بدن ،روح اوراعصاء کے آ رام کا سبب بنتی ہے . جبکہ روشنی تحرک اور فعالیت کاذریعہ ہے ۔
اسی لیے فوراً آیت میں فر مایاگیا ہے : اور دن کوروشنی عطا کرنے والابنایاہے ( والنھار مبصراً )۔
تاکہ انسان کے حیاتیاتی ماحول کوروشن کرکے اسے سرگرمی کے لیے آمادہ کرے ۔
یہ بات بھی قابل ِ غور ہے کہ ” مبصر “ کامعنی ہے ” دیکھنے والا “ اوردن کی اس صفت کا بیان درحقیقت لوگوں کے بینا کرنے کے لیے ایک قسم کی تاکید اور مبالغہ ( ۱۲)۔
پھر اضافہ کیاگیا ہے : خد ا لوگوں کے بار ے میں صاحب فضل وکرم ہے ، ہرچند کہ اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے ( إِنَّ اللَّہَ لَذُو فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لا یَشْکُرُونَ)۔
روز شب کا یہ جچا تلا نظام اور نور و ظلمت کا باری کے مطابق آناجانا خدا وند عالم کے اپنے بندوں پرفضل وکرم کاایک نمونہ اورانسان اور دیگر اشیاء کی زندگی کاایک مئوثر عامل ہے ۔
اگر روشنی نہ ہوتی توحیات اورتحرک کا وجود نہ ہوتا، اگر باری کے مطابق تاریکی نہ ہوتی تونور کی شدت تمام موجودات کوتھکا کونا تواں اور فرسودہ کردیتی ، نبا تات کو جلا کربھسم کردیتی لیکن اکثر لوگ قدرت کی ان عظیم نعمات سے بے پرواہ ہوکرگزرجاتے ہیں اور اس کا شکر بجا نہیںلاتے ۔
قاعدے کی روسے دوسرے ” الناس “ ک بجائے ضمیر ہونی چاہیے تھی اور ” ولٰکن اکثر ھم لایشکرو ن“ کہنا چاہیئے تھا لیکن ضمیر کے بجائے ” الناس“ کاذکر گویااس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ( غیرتربیت یافتہ ) انسان کی طبع ہی کفران نعمت ہے ، جیسا کہ سورہ ابراہیم کی آیت ۳۴ میں بھی ہے :
انّ الانسان لظلو م کفار ۔
انسان بہت ہی ظالم اوربڑا نا شکرا ہے ( ۱۳)۔

لیکن اگر انسان کی بینا آنکھیں اور داناقلب ہو ں جوخدا وند عالم کے ہرجگہ بچھے خوان نعمت کو اوراس کے بے حساب باران رحمت کو ملاحظہ کریں جو ہرجگہ پہنچ چکی ہے تو زبان سے بیسا ختہ خدا کی حمد و شکر بجالائے اوراپنے آپ کوخداکی عظمت و رحمت کے سامنے حقیر وپست اوراس کی رحمت کا مر ہون سمجھے ( ۱۴)۔
بعد کی آیت پر ور دگار کی توحید ربوبیت سے شروع ہوکر اس کی توحید خالقیت و ربوبیت پرختم ہوجاتی ہے . چنانچہ ارشاد ہوتاہے : جس نے تمہیں یہ تمام نعمتیں عنایت فرمائی ہیں وہی وہ خدا ہے جوتمہارامالک اور مربی ہے ( ذالکم اللہ ربکم )۔
وہی خدا ہے جو ہرچیز کا خالق ہے ( خالق کل شیء )۔
اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ( لاالٰہ الاّ ھو )۔
درحقیقت خدا کی بے انتہا نعمتیں اس کے ر ب اور مدبر ہونے پر دلالت کرتی ہیں . اورہرچیز کاخالق ہونا اس کی ربوبیت میں وحدا نیت کی ایک اور دلیل ہے کیونکہ اشیاء کاخالق ہی ان کامالک اورمربی ہوتاہے . اس لیے کہ م جانتے ہیں کہ خدا وند عالم کی خالقیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس نے عالم کی تمام موجودات کو پیدا کرکے خود کنارہ کشی اختیار کر لی . ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ ہرہر لمحے اس کی ذات کا فیض کائنات کی ہرایک چیز تک پہنچ رہاہے اوراس قسم کی خالقیت اس کی ربو بیت سے قطعاً جدانہیں ہے ۔
ظاہر ہے ایسی ذات ہی عبادت کے لائق ہے . اسی لیے ” خالق کل شی ء ، کاجملہ ”ذالکم اللہ ربکم “ کی دلیل کے مانند ہے اور” لاالٰہ الاّ ھو “ اس کے نتیجے کی رح (غورکیجئے گا )۔
آیت کے آخر میں فرمایاگیاہے : توایسی صور ت میں تم کس طرح راہ حق سے منحرف ہوسکتے ہو ( فانّٰی تئو فکون ) ( ۱۵)۔
اور کیوں خدا وند وحد ہ لاشریک کوچھوڑ کربتوں کی عبادت بجالاتے ہو ؟
خیال رہے کہ ” تئو فکون “ صیغہ مجہول کی صورت میں آیاہے . یعنی تمہیں حق کے رستے سے منحرف کرتے ہیں ، گو یابت پرست اس قدر بے اختیار وبے ارادہ ہیں کہ اس راہ میں ان کااپنا کوئی ارادہ اوراختیار نہیں ہوتا ۔
زیر تفسیر آیات کے سلسلہ کی آخر ی آیت گزشتہ مطالب کی وضاحت او ر تاکید کی صورت میں ہے . ارشاد ہوتاہے :
جولوگ خڈاکی آیات کاانکار کرتے ہیں اسی طرح حق کے راستے سے منحرف ہوجاتے ہیں (کَذلِکَ یُؤْفَکُ الَّذینَ کانُوا بِآیاتِ اللَّہِ یَجْحَدُونَ )۔
” یَجْحَدُونَ “ ”جحد“ کے مادہ سے ہے جس کااصل معنی ایسی چیز کاانکار ہے جودل میں ہوتی ہے یعنی انسان کسی چیز کااعتقاد تورکھے لیکن ساتھ ہی اس کی نفی بھی کرے ، یاکسی چیزکی نفی کاعقیدہ رکھتاہو لیکن زبان سے اسکااثبات کرے . بخیل اورکنجوس لوگوں کو”جحد “ کہتے ہیں جو عمو ماً اپنی غربت کااظہار کرتے رہتے ہیں اور”ارض جحد ة “ اس زمین کوکہتے ہیں جس میں نباتات بہت کم اگیں ( ۱۶)۔
بعض دیگر صاحبان لغت نے ” جحد “ اور ” جحود“ کی یوں تفسیر کی ہے :
الجحود الانکار مع العلم
جحود ایسے انکار کوکہتے ہیں جس کاعلم ہوتاہے ( ۱۷)۔
پس بنا بریں جحد کے مفہوم میں حق کے مقابلے میں ایک قسم کی ہٹ دھرمی اور عنادپو شیدہ ہوتاہے . ظاہرسی بات ہے جوشخص حقائق کاان صفات کے ساتھ سامنا کرے گا اس کاانجام راہ حق سے انحراف کے علاوہ اورکیا ہو سکتا ہے ؟کیونکہ جب تک انسان حق جو، حق خواہ اورحقائق کے سامنے سرتسلیم خم کر نے والا نہ ہو حق اورحقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ۔
اسی لیے حق تک رسائی کے لیے پہلے سے خود سازی کی ضرورت ہوتی ہے اوراسی کوایمان سے پہلے تقویٰ کانام دیاجاتا ہے جس کی طرف قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں اشارہ کیاگیاہے کہ
ذالک الکتاب لاریب فیہ ھدًی للمتقین
اس آسمانی کتاب میں کوئی شک نہیں ہے . یہ متقین کے لیے سرمایہٴ ہدایت ہے ۔
۱۔ تفسیر نمونہ جلد اول ۔
۲۔ ” داخر “ ” دخو ر “ کے مادہ سے ہے جس کامعنی ذلت اورخواری ہے اور یہ ذلت و خوار ی سی تکبر اورغر ور کی سزا ہو گی ۔
۳۔ مجمع البیان جلد ۸ ،ص ۵۲۸۔
۴۔ مجمع البیان جلد ۸ ،ص ۵۲۹۔
۵۔ کافی جلد ۲ ” باب فضل الد عاء والحث علیہ “ ص ۳۳۸ ۔
۶۔ کافی جلد ۲ ” باب فضل الد عاء والحث علیہ “ ص ۳۳۸ ۔
۷۔ ” مکارم الاخلاق ( منقول از تفسیر ” المیزان “ جلد ۲ ،ص ۳۴ سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۶ کے ذیل میں )۔
۸۔ دعا اوراس کے فلسفہ و شرائط کے بار ے میں تفسیر نمونہ کی دیگر جلدوں میں بھی تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے ملاحظہ ہوجلد ۱۵ سورہ ٴ فر قان کی آیت ۷۷ ، نیز جلد ۶ میں بھی مطالب اورسب سے زیادہ تفصیل جلداوّل میں موجود ہے ۔
۹۔ اصول کافی جلد دوم ” باب من الا یستجاب لہ دعوة “ حدیث ۲۔
۱۰۔ معانی الاخبار ( منقول ازتفسیر نورالثقلین جلد ۴ ،ص ۴ ۵۳ اوراصول کافی )۔
۱۱۔ تفسیر صافی انہی آیات کے ذیل میں ۔
12.نور و ظلمت اور روزی وشب کے اسرار وفلسفہ کے بار ے میں تفسیر نمونہ جلد ۱۶ ،جلد ۱۵ ، اورجلد ۸، میں بالتر تیب سورہ ٴ قصص کی آیت ۷۱ ،سورہ نمل کی آیت ۸۶ اور سورہ ٴ یونس کی آیت ۸۷ کے ذیل میں گفتگو کی گئی ہے ۔
۱۳۔تفسیر المیزان اور تفسیر روح المعانی انہی آیات کے ذیل میں ۔
۱۴۔ ’ ’ شکر“ کے معنی اوراس کی قسموں کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلد۱۰ (سورہ ابراہیم کی آیت ۷ کے ذیل ) میںتفصیل سے گفتگو کی ہے ۔
۱۵۔ ہم پہلے بھی بتاچکے ہیں کہ ” تئو فکون “ ” افک “ کے مادہ سے ہے جس کامعنی حق کے راتے سے بھٹک جانا اورمنحرف ہوجانا ہے اوراگر مخالف ہواؤں کو ” مئو تفکات “ کہاجاتا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے اور جھوٹ کو ” افک “ کہتے ہیں تو اس لیے کہ وہ بیان حق سے منحرف ہوتاہے ۔
۱۶۔ مفردات راغب مادہ ” جحد “ ۔
۱۷۔ صاحب لسان العرب نے اس تعریف کوجرہری سے نقل کیاہے ۔
سوره مؤمن/ آیه 64- 66سوره مؤمن/ آیه 60- 63
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma