آخری بات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
۱۔ مومن آل فرعون کی داستان ایک درس ہےسوره مؤمن/ آیه 41- 46

پانچویں اور آخری مرحلے پرموٴمن آل فرعون نے تمام حجاب الٹ دیئے اوراس سے زیادہ اپنے ایمان کونہ چھپا سکا . وہ جوکچھ کہنا چاہتاتھا کہ چکااور فرعون والوں نے بھی ... جیسا کہ آگے چل کرمعلوم ہوگااس کے بار ے میں بڑا خطر ناک فیصلہ کیا ۔
قرآئن بتاتے ہیں کہ اس خود غرض ، معز ور اور ضدی مزا ج قوم نے اس بہا در اورایمان شخص کی باتوں کوسُن کرخاموشی اختیار نہیں کرلی بلکہ اس کے برعکس شرک کے فوائد بیان کئے اوراسے بُت پرستی کی دعوت دی ۔
اسی لیے تو اس نے پکار کرکہا : اے قوم ! آخر کیاوجہ ہے کہ میں تو تمہیں نجات کی طرف دعوت دوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلا ؤ (وَ یا قَوْمِ ما لی اٴَدْعُوکُمْ إِلَی النَّجاةِ وَ تَدْعُونَنی إِلَی النَّار)۔
میں تمہاری سعادت کاطالب ہوں اور تم میرے بدبختی کے خوا ہاں ، میں تمہیں شاہراہ ہدایت پر لانا چاہتاہوں اور تم مجھے صحیح راہ سے ہٹانا چاہتے ہو ۔
توکیا ” تم مجھے د عوت دہتے ہو کہ خدا ئے واحد کاکافر ہوجاؤ ں اوراس کے لیے وہ شریک قرار دوں جس کامجھے علم تک نہیں ہے حالانکہ میںتمہیں خداوند عزیز و غفار کی طرف دعو ت دیتاہوں (تَدْعُونَنی لِاٴَکْفُرَ بِاللَّہِ وَ اٴُشْرِکَ بِہِ ما لَیْسَ لی بِہِ عِلْمٌ وَ اٴَنَا اٴَدْعُوکُمْ إِلَی الْعَزیزِ الْغَفَّار)۔
قرآن پاک کی مختلف آیات اورمصر کی تاریخ سے بخوبی معلوم ہوتاہے کہ مصری عوام فراعنہٴ مصرکی پرستش کے علاوہ بتوں کی پوجا پاٹ بھی کیاکرتے تھے . جیساکہ سورہٴ اعراف کی آیت ۱۲۷ میں ہے کہ فرعون کے حواریوں نے اسے کہا :
اٴَ تَذَرُ مُوسی وَ قَوْمَہُ لِیُفْسِدُوا فِی الْاٴَرْضِ وَ یَذَرَکَ وَ آلِہَتَک
ّآیاتو اس بات کی کھلی چھٹی دے سکتاہے کہ موسٰی اوراس کی قوم زمین میں فساد بر پاکریں اور تجھے اور تیرے خداؤں کو ترک کردیں ؟
حضر ت یوسف علیہ السلام نے بھی فرعون مصر کے زندان میںاپنے قیدی ساتھیوں سے کہاتھا :اٴَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ اٴَمِ اللَّہُ الْواحِدُ الْقَہَّار
آیا مختلف معبود بہتر ہیں یا ایک عذاب قہار خدا ؟(یوسف . ۳۹)
بہر حال موٴ من آل فرعون نے ایک مختصر اور سرسری سے تقابل سے انہیں اس بات کی یاددہانی کروادی کہ تمہاری دعوت شرک کی طرف ہے اور یہ ایسی چیز ہے کہ جس کی کم ازکم کوئی دلیل نہیں ملتی.یہ ایک تاریک اورخطر ناک راستہ ہے لیکن میںایک واضح اور روشن راستے کی طرف بلاتاہوں ایساراستہ جوتمہیں خداوند عزیز وتوانا اورغفارتک پہنچاتاہے ۔
” عزیز “ اوعر” غفار“ کی تعبیر جہاں ایک طرف خوف اورا مید کے عظیم مبداٴ کی طرف اشارہ ہے وہاں دوسری طرف بتو ں اورفرعونوں کی الوہیت کی نفی کی طرف بھی اشارہ ہے جن میں نہ تو عزت کی بوپائی جاتی ہے اور نہ ہی عفوود رگزشت کی ۔
مزید کہتاہے : اور جن چیزوں کی طرف تم مجھے بلاتے ہو ان کی یقینا نہ تو دنیا میں کوئی دعوت ہے اور نہ ہی آخرت میں ( ان کی حکومت ہوگی ) (لا جَرَمَ اٴَنَّما تَدْعُونَنی إِلَیْہِ لَیْسَ لَہُ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیا وَ لا فِی الْآخِرَةِ )۔
حس وشعور سے خالی یہ چیزیں نہ توپہلے کبھی کسی حرکت کامبداٴ رہی ہیں اور نہ ہی کبھی بعد میں ہوں گی یہ بت نہ تو بول سکتے ہیں ، نہ ان کے رسول ہیں اور نہ ان کے پاس عدالت کاکوئی محکمہ ہے المختصر نہ توکسی کی مشکل دور کرسکتے ہیں اورنہ ہی کسی کو مشکل میںڈال سکتے ہیں ۔
اسی لیے تمہیں اچھی طرح سے جان لیناچاہیے کہ ” بر وزقیامت ہماری باز گشت صرف اورصرف خداہی کی طرف ہوگی “(وَ اٴَنَّ مَرَدَّنا إِلَی اللَّہِ ) ۔
اسی نے تو انسان کی ہدایت کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں اور وہی ہے جوانسانوں کو ان کے اعمال کی وجہ سے جزااور سز اد ے گا ۔
اور یہ بات بھی تمہیں جان لینی چاہیے کہ ” اسراف کرنے والے اورحد سے بڑھ جانے والے جہنمی ہیں “ (وَ اٴَنَّ الْمُسْرِفینَ ہُمْ اٴَصْحابُ النَّارِ)۔
آخر کار اس مرحلے پرمومن آل فرعون نے اپنے ایمان کو آشکار کرہی دیا اوراپنے توحید پرستی کے رستے کو اس قوم کے شرک آلودرستے سے جدا کر لیااس استد لال کے ساتھ اس قوم کو اپنے سے جھٹک دیااور اپنی مدلل گفتگو کے بل بوتے پر ان سب کا تنہا ڈٹ کرمقابلہ کیا ۔
اپنی آخری گفتگو میں بڑی معنی خیز دھمکی کے ساتھ کہا : جلد تمہیں اس چیز کاپتہچل جائے گا جس کے متعلق میں آج کہہ رہاہوں ، جب غیظ وغضب الہٰی کی آگ تمہیں اس جہان میں آلے گی پھر تم میری باتوں کی تصدیق کروگے (فَسَتَذْکُرُونَ ما اٴَقُولُ لَکُم )۔
لیکن افسوس کہ اس وقت بہت دیرہوچکی ہوگی ، اگر یہ عذاب ِ آخرت میں ہوتو اس وقت واپسی کے تمام دروازے بندہو چکے ہوں گے اور اگر دنیا میں ہو تو توبہ کے تمام درواز ے بند ہوچکے ہوں گے ۔
پھر اس نے کہا : اور میں اپنے تمام کام خدا وند یکتا کے سپر د کرتا ہوں جو اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح آگاہ ہے (وَ اٴُفَوِّضُ اٴَمْری إِلَی اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ بَصیرٌ بِالْعِبادِ )۔
اسی لیے نہ تومیں تمہاری دھمکیوں سے ڈرتاہوں نہ مجھے تمہاری کثرت اور طاقت کاخوف ہے اور نہ ہی میری تنہائی مجھے وحشت میں ڈال سکتی ہے کیونکہ میں نے اپنے سارے وجود کو اس قادر مطلق کے سپر د کردیاہے جو بے انتہا قدرت کامالک اور اپنے بندوں کے حالات سے بخوبی آگاہ ہے ۔
یہ جملہ درحقیقت اس مرد مومن کی ایک مئود بانہ دعا ہے کیونکہ وہ اس وقت ایسے طاقتور دشمن کے ہاتھو ں میں پھنسا ہوا تھا جو بے رحم خو نخوار تھا .اس کی با ر گاہ رب العزت میں ایک مئودبانہ درخواست تھی کہ وہ ان مشکل حالات میں اس کی مدد فرمائے ۔
خدا وند عالم نے بھی اپنے اس مومن اور مجاہد بندے کو تنہا نہیں چھوڑا جیساکہ بعد کی آیت میں ہے : خدا نے بھی اسے ان کی ناپاک چالوں اور سازشوں سے بچالیا (فَوَقاہُ اللَّہُ سَیِّئاتِ ما مَکَرُوا)۔
” سَیِّئاتِ ما مَکَرُوا“ کی تعبیر سے واضح ہوتاہے کہ فرعونیوں نے اس کے بار ے میں مختلف سازشیں اور منصوبے تیار کر رکھے تھے او ر وہ منصوبے کیاتھے؟ قرآن نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی ظاہر ہے کہ مختلف قسم کی سزا ئیں، اذ یتیں اور آخر کار قتل اور سزائے موت ہی ہو سکتی ہے لیکن خداوندعالم کے لطف وکرم نے ان سب کو ناکام بنادیا ۔
چنانچہ بعض تفسیروں میں ہے کہ وہ ایک مناسب موقع سے فائد اٹھا تے ہوئے موسٰی علیہ السلام تک پہنچ گیااور اس نے بنی اسرائیل کے ہمراہ دریائے نیل کو عبور کیا . نیز یہ بھی کہاگیاہے کہ جب اس کے قتل کامنصوبہ بن چکا تو اس نے اپنے آپ کو ایک پہاڑمیں چھپالیا اور نگاہوں سے اوجھل ہوگیا ( 1)۔
یہ دونوں روایات آپس میں مختلف نہیں ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ پہلے وہ شہر س مخفی ہوگیا ہو اور پھر بنی اسرائیل سے جا ملاہو ۔
ہو سکتاہے ان سازشوں میں بت پرستی کے مسلّط کرنے اور راہ توحید سے منحرف کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہو ، چنانچہ خداوند عالم نے اسے اس منصوبے سے بھی بچا لیااور اسے ایمان ، توحید اور تقویٰ کی راہ پر ثابت قدم رکھا ۔
اس نے ” آ ل فرعون پر سخت عذاب نازل کیا‘ ‘ (وَ حاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوء ُ الْعَذاب) ( 2)۔

ویسے خداکی تمام سزائیں اورعذاب درد ناک ہی ہیں لیکن ” سو ء العذاب “ کی تعبیر سے واضح ہوتاہے کہ خداوند عالم نے ان لوگوں کے لیے سب سے زیادہ درد ناک عذاب کاانتخاب کیااور یہ وہی عذاب ہے جس کی طرف بعدکی آیت میں اشارہ کیاگیاہے ۔
ویسے خداکی تما سز ائیں اورعذاب درد ناک ہی ہیں لیکن ” سوء العذاب “ کی تعبیر سے واضح ہوتاہے کہ خداوند عالم نے ان لوگوں کے لیے سب سے زیادہ درد ناک عذاب کاانتخاب کیااور یہ وہی عذاب ہے جس کی طرف بعد کی آیت میں اشار ہ کیاگیاہے ۔
فر مایاگیا ہے : ان کے لیے درد ناک عذاب وہی آگ ہے جس پروہ صبح وشام پیش کئے جاتے ہیں (النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْہا غُدُوًّا وَ عَشِیًّا) (3 )۔
اورجس دن قیامت برپاہو گی توحکم دیاجائے گا کہ آل فر عون کی سخت ترین عذاب میں داخل کردو (وَ یَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذابِ )۔
اس آیت میں چند باتیں قابل غور ہیں ۔
اوّل یہ کہ یہاں پر فرعون کے بجائے آل فرعون کاتذکرہ ہے جوفرعون کے گمراہ خاندان ،حواریوں اورساتھیوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ اس بات کا غماز ہے کہ جب ان لوگوں کا یہ انجام ہوگاتوخود فرعون کاانجام واضح ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ انہیں صبح وشام آگ پرپیش کیاجاتاہے لیکن بروز قیا ت وہ سخت عذاب میں داخل ہوں گے اس سے یہ با ت بخوبی واضح ہوتی ہے کہ ان کا پہلا عذاب ” برزخی عذاب “ ہے جو اس دنیا کے بعد اورقیامت سے پہلے تک کے درمیانی عرصے کاعذاب ہے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ انہیں صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے لاکر اس کے نزدک کردیاجاتا ہے جس سے جان بھی لرز جاتی ہے اورجسم پر بھی اس کازبردست اثر ہوتاہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ ” غدو “ اور ” عشی “ (صبح و شام ) کی تعبیر یاتو اس عذاب کے دائمی ہونے پر دلالت کررہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص صبح وشام ہمارا وقت ضائع کرتاہے یعنی ہمیشہ اورہر وقت . یاپھر اس کے صبح وشام دووقت ہونے کی طرف اشارہ ہے جو فرعونوں کے اظہار قدرت اوعیش ونوش کے وقت ہواکرتے تھے ۔
” غدو “ ور ” عشی “ (صبح و شام ) کی تعبیرپر تعجب نہیں کرناچاہیے کہ آیاعالم برزخ میں بھی یہ چیز ہوگی کیوکہ آیات قرآنی سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ آخرت میں بھی صبح وشام ہوں گے جیسا کہ سورہ ٴ مریم کی آیت ۶۲ میں ہے ۔
ولھم ر زقھم فیھابکرة وعشیًّا
” ان بہشتی لوگوں کے لیے صبح وشام مخصوص رزق ہے “ ۔
اور یہ تعبیر بہشتی نعمتوں کے دائمی ہونے کے منافی نہیں ہے . جیساکہ سورہ رعد کی آیت۳۵ میں ہے :
اکلھا دائم وظلّھا
” وہاں کی غذ ااور سایہ دائمی ہوں گے “ ۔
کیونکہ ممکن ہے کہ جہاں روزی کی یہ نعمتیں دائمی ہوں گی وہاں ان دو وقتوں میںخدا کے مخصوص لطف وکرم اہل بہشت کونصیب ہوں گی ۔
1۔ تفسیر ” مجمع البیان “ اسی آیت کے ذیل میں ۔
2۔ ” حاق “ کامعنی ہے ’ ’ پہنچ گیا “ ” نازل ہوگیا “ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ اس کی اصل ” حق “ ہو ایک قاف کو الف میں تبدیل کرکے ” حاق “ بنادیاگیا ہو . ( دیکھئے مفردات راغب ، مادہ ”حق “ اور ” سوء العذاب “ صفت کی موصوف کی طرف اضافت ہے جواصل میں ” العذاب السوء “ تھا ۔
3۔” النار “ سوء العذاب “ کا بدل ہے ۔
۱۔ مومن آل فرعون کی داستان ایک درس ہےسوره مؤمن/ آیه 41- 46
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma