تم میری پیروی کرو

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره مؤمن/ آیه 41- 46سوره مؤمن/ آیه 38- 40

ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ موٴ من آل ِ فرعون نے اپنی گفتگو چندمرحلوں میں بیان کیاہے اور یہ آیات اس کی گفتگو کی چوتھامرحلہ ہے جس میں اس نے اپنے موضوع کوایک اور طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ ہے انہیں دنیاوی زندگی ناپائیداری اورحشر ونشرکے مسئلے کی طرف متوجہ کرنااوران کی طرف توجہ کسی قسم کے شک وشبہ کے بغیر انسانوں کی تربیت میں گہرا اثررکھتی ہے قرآن کہتاہے : جوشخص ایمان لاچکا تھااس نے پکار کر کہا اے میری قوم ! میری پیروی کرو تاکہ میں تمہیں راہ حق کی رہنمائی کروں (وَ قالَ الَّذی آمَنَ یا قَوْمِ اتَّبِعُونِ اٴَہْدِکُمْ سَبیلَ الرَّشادِ) ۔
اس سے چند آیات قبل ہم نے پڑھا تھاکہ فرعون نے کہاتھا کہ جوکچھ میں کہتاہوں وہی ہدایت اوربھلائی کاراستہ ہے لیکن مومن آل فرعون نے یہ بات کہہ کر درحقیقت فرعون کا جواب دیا اوراس کے دعویٰ کی تردید کردی اورحاضرین کو بتادیاکہ فرعون کی وسوسہ انگیز باتوں میں نہ آجائیں کیونکہ اس کی سب چالیں اور تدبیریں ناکامی کاشکار ہوجائیں گی صحیح راہ وہی ہے جومیںبتارہا ہوں یعنی تقویٰ اورخدا پرستی کی راہ ۔
پھراس نے کہا : اے میری قوم ! اس دنیا سے دل نہ لگاؤ کیونکہ یہ چند روز ہ زندگی جلد ختم ہوجانے والی متاع ہے اور آخرت ہی تمہارے آرام کاابدی ٹھکاناہے (یا قَوْمِ إِنَّما ہذِہِ الْحَیاةُ الدُّنْیا مَ تاعٌ وَ إِنَّ الْآخِرَةَ ہِیَ دارُ الْقَرارِ)۔
ممکن ہے کہ ہم لاکھوں فریب کے ذریعے کامیاب ہوبھی جائیں حق کوپس پشت بھی ڈال دیں ، ہزاروں ظلم کاارتکاب کر بھی ڈالیں ، بے گناہوں کے خون سے اپنے دامن کو آلودہ بھی کرلیں لیکن آخرکتنے دنوں تک ؟ اس دنیامیں ہماری زندگی ہے کتنی ؟ یہ چند روزہ زندگی بہت جلد گزر جائے گی اور موت کے بے رحم پنچہ ہماری گردنوں کوضر ورپکڑ ے گا با شکوہ اور بلند و بالا محلات وقصور سے اٹھا کرمنو مٹی تلے دبادے گا . ہمارے لیے آرام وآسائش کااصل ٹھکانا توکوئی اور ہے ۔
پھر اس دنیا کے فانی اور آخرت کے باقی ہونے کی ہی بات نہیں اس سے بھی اہم مسئلہ حساب و کتاب اور سزا وجزا کاہے ” جوشخص بُرے کام انجام دے گااس کے مطابق اسے سزادی جائے گی اور جونیک اعمال بجالائے گا خواہ وہ مرد ہو یاعورت بشرطیکہ وہ موٴمن ہو وہ بہشت میں داخل ہوگااوراسے بے حدو حسا ب رزق وروزی دی جائے گی (مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلا یُجْزی إِلاَّ مِثْلَہا وَ مَنْ عَمِلَ صالِحاً مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنْثی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُولئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُونَ فیہا بِغَیْرِ حِساب)۔
وہ اپنی اس جچی تلی گفتگو میں ایک طرف توخدا وندعالم کے عدل وانصاف کی طرف اشارہ کررہاہے کہ وہ مجرموں کوصرف ان کے جرم کے مطابق سزاد ے گا ۔
دوسری طرف اس کے بے انتہا فضل وکرم کی طرف اشارہ کررہاہے کہ مومنین کوان کے ایک نیک عمل کے بدلے میں بے حد وحساب جزا عطا فرمائے گا ، اوراسلسلے میں اس امر کو مد نظر نہیں رکھاجائے گا کہ ایک نیکی کے بدلے صرف ایک جزا ملے ، نہیں بلکہ حدو حساب جزاملے گی اور جزابھی ایسی کہ جسے نہ توکسی آنکھ نے دیکھااور نہ کسی کان نہ سنا ہوگابلکہ کسی شخص کے تصوّر تک میں نہیں آئی ہوگی ۔
ساتھ ہی وہ اپنی گفتگو میں ایمان اور عمل صالح کے لازم ملزوم ہونے کی یاد دہانی بھی کر وا رہاہے ۔
اور یہ بھی بتارہا ہے کہ انسانی اقدار کے لحاظ سے اللہ کی بار گاہ میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیںہے ۔
بہرحال وہ اپنی اس مختصر سی گفتگو کے ذریعے یہ حقیقت بیان کر رہاہے کہ اگرچہ اس دنیا کی متاع ناچیز اور نا پائیدارہے لیکن اس میں اس قدر صلاحیت ضرور پائی جاتی ہے کہ وہ بے حدوحساب جزاتک پہنچنے کاوسیلہ بن سکتی ہے اوراس معاملے سے زیادہ منافع بخش اور کیا معاملہ ہوسکتاہے ؟
ضمنی طورپر یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ” مثلھا “ کی تعبیرسے معلوم ہوتاہے کہ دوسرے جہان کی سزائیں بالکل اسی طرح ہیں جس طرح انسان اس دنیا میں کام انجام دیتاہے . اور ” غیر حساب “ کی تعبیربتاتی ہے بخشش کاحساب و کتاب وہی رکھتاہے جس کے پاس نعمتیں اورمال محدود ہوتاہے اوراسے اس بات کاخوف ہوتاہے کہ اگرحساب وکتاب نہ رکھاگیاتو مال ختم ہوجائے گا یاکم از کم ،گھٹ جائے گا، لیکن جس کی نعمتوں کے خزانے بے انتہا اور غیر محدود ہوں،جتنابھی کسی کو بخش دے پھربھی کوئی خزانہ کم نہ ہونے پائے اسے حساب وکتاب کے ساتھ عطاکرنے کی کیا ضرورت ہے ؟( کیونکہ جس قدر بھی ان سے اٹھالیں پھر بھی غیر محدود اور بے انتہا ہیں )۔
یہاں پر ایک سوال پیداہوتاہے کہ اور وہ یہ کہ آیات یہ آیت سورہ ٴ انعام کی آیت ۱۶۰ کے ساتھ متصادم نہیں ہورہی جس میں کہا گیاہے کہ :
من جا ء بالحسنة فلہ عشر امثالھا
جو ایک نیکی لائے گا اس جیسی دس پائے گا ۔
توجواب کے لیے اس نکتے کی طرف توجہ کرنا چاہیئے کہ یہ دس گنااجر توا س کی کم ازکم حد ہے یہی وجہ ہے کہ راہ خدامیں خرچ کرنے کاثواب ساتھ سو گنا بلکہ اس سے بھی بیشترہے جو بے حد و حساب مرحلے تک جا پہنچتاہے او ر یہ حد اور حساب صرف خداکے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہے ۔
سوره مؤمن/ آیه 41- 46سوره مؤمن/ آیه 38- 40
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma