موسٰی کے خدا کی خبر لاتاہوں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره مؤمن/ آیه 38- 40سوره مؤمن/ آیه 36- 37

اگرچہ موٴ من آل فرعون کی باتوں نے فرعون کے دل پر اس قدر اثر کیاکہ وہ موسٰی کے قتل سے توباز آگیا لیکن پھربھی غرور کی چوٹی سے نیچے نہ اتر ااور اپنی شیطنت سے بھی باز نہ آیااور نہ ہی حق بات قبول کرنے پرآمادہ ہو. کیونکہ فرعون میں اس بات کی نہ تو حلاحیت تھی اور نہ ہی لیاقت . لہذاپنے شیطنت آمیز اعمال کوجاری رکھتے ہوئے اس نے ایک نئے کام کی تجویزپیش کی اور وہ ہے آسمانوں پرچڑھنے کے لیے ایک بلند و بالا برج کی تعمیر تاکہ اس پرچڑھ کرموسٰی کے خدا کی ” خبر“ لے آئے ! جیساکہ زیرنظر آیات میں ہے ۔
فرعون نے کہا : اے ہامان ! میری لیے ایک بلند عمار ت تیار کروتاکہ میں اسباب وذرائع تک پہنچ سکون : (وَ قالَ فِرْعَوْنُ یا ہامانُ ابْنِ لی صَرْحاً لَعَلِّی اٴَبْلُغُ الْاٴَسْبابَ)۔
ایسے اسباب وذرائع جومجھے آسمانوں تک لے جائیںتاکہ موسٰی کے خدا سے باخبر ہوسکوں ہرچند کہ میں گمان کرتاہوں کہ وہ جھوٹاہے (اٴَسْبابَ السَّماواتِ فَاٴَطَّلِعَ إِلی إِلہِ مُوسی وَ إِنِّی لَاٴَظُنُّہُ کاذِباًِ )۔
جی ہاں اس قسم کے بُرے اعمال فر عون کی نظر میں مزین کردیئے گئے تھے اورانھوں نے اسے راہ حق سے روک دیاتھا ( وَ کَذلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوء ُ عَمَلِہِ وَ صُدَّ عَنِ السَّبیل)۔
لیکن فرعون کی سازش اور چالوں کاانجام نقصان اور تباہی کے سواکچھ نہیں (وَ ما کَیْدُ فِرْعَوْنَ إِلاَّ فی تَبابٍ)۔
” صرح “ دراصل وضاحت اور روشنی کے معنی میں ہے .اسی سے” تصریح“ ہے جس کامعنی ہے واضح اورآشکار کرنا .بعد ازاں اس کااطلاق بلند و بالا عمارتوں اورخوبصورت اور سر بفلک محلوں پربھی ہونے لگا کیونکہ اس نوعیت کی عمارتیں کامل طورپر واضح اورظاہر ہوتی ہیں . بہت سے مفسرین اور ارباب لغت نے اسی معنی کی تصریح کی ہے ۔
اور ” تباب “ کامعنی خسارہ اور ہلاکت ہے ۔
سب سے پہلی چیزجو یہاں پر نظرآتی ہے وہ یہ ہے کہ آخراس کام سے فرعون کامقصد کیاتھا ؟ آیا وہ واقعاًاس حد تک احمق تھاکہ گمان کرنے لگا کہ موسٰی کاخدا آسمان میں ہے ؟بالفرض اگرآسمان میں ہو بھی تو آسمان سے باتیںکرنے والے پہاڑ وں کے ہوتے ہوئے اس عمارت کے بنانے کی کیاضرورت تھی جو پہاڑوں کی اونچائی کے سامنے بالکل ناچیز تھی ؟اور کیااس طرح سے وہ آسمان تک پہنچ بھی سکتا تھا ؟
یہ بات توبہت ہی بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ فرعون مغرور اور متکبر ہونے کے باوجود سمجھ دار اور سیاستدان شخص تو ضرورتھا جس کی وجہ سے اس نے ایک عظیم ملت کواپنی زنجیروں میں جکڑ ہواتھا اور بڑے زور دار طریقے سے اس پرحکومت کرتا رہ. لہذااس قسم کے افرا د کی ہر ہر بات اورہر ہر حرکت شیطانی حرکات وسکنات کی آئینہ دار ہوتی ہیں . لہذاسب سے پہلے اس کے اس شیطانی منصوبے کاتجز یہ وتحلیل کرناچاہیے کہ آخرایسی عمارت کی تعمیر کامقصد یہ کیاتھا ؟
بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ فرعون نے ان چندمقاصدکے پیش نظرایسااقدا م کیا:
۱۔ وہ چاہتاتھا کہ لوگوں کی فکر کومصروف رکھے . موسٰی علیہ السلام کی نبوت اوربنی اسرائیل کے قیام کے مسئلے سے ان کی توجہ ہٹانے کے لیے اس نے یہ منصوبہ تیار کی. بعض مفسرین کے بقول یہ عمارت ایک نہایت ہی وسیع وعریض زمین میںکھڑی کی گئی جس پرپچاس ہزار راج اورمزدور کام کرنے لگے . اس تعمیر ی منصوبے نے دوسرے تمام مسائل کوبھلا دی. جو ں جوں عمارت بلند ہوتی جاتی تھی توں توں لوگوں کی توجہ اس کی طرف زیادہ مبذول ہوتی جاتی تھی . ہرجگہ او ر ہرمحفل میں نئی خبرکے عنوان سے اس کے چرچے تھے اس نے وقتی طورپر جادوگروں پرموسٰی علیہ السلام کی کامیابی کوجوکہ فرعون اورفرعو نیوں کے پیکرپرایک کاری ضرب تھی لوگوں کے ذہنوں سے فراموش کردیا ۔
۲۔ وہ چاہتاتھا کہ اس طرح سے زحمت کش اور مزدو ر طبقے کی جز وی مادی اوراقتصادی امداد کرے اور عارضی طورپر ہی سہی بیکار لوگوں کے لیے کام مہیّا کرے تاکہ تھوڑاسااس کے مظالم کوفراموش کردیں اوراس کے خزانے کی لوگوں کوزیادہ سے زیادہ احتیاج محسوس ہو ۔
۳۔ پروگرام یہ تھا کہ جب عمارت پایہ ٴ تکمیل کوپہنچجائے ،تووہ اس پرچڑ ھ کرآسمان کی طرف نگاہ کرے اور شاید چلہ کمان میں رکھ کرتیرچلائے اوروہ واپس بالکل مطمئن ہوکراپنے اپنے کام میں مصروف ہوجائے ۔
و گرنہ فرعون کے لیے تو صاف ظاہرتھاکہ اس کی عمارت جتنی بھی بلند ہو سو میٹر سے زیادہ تو اونچی نہیں جاسکتی تھی ، جبکہ آسمان اس سے کئی گنابلند اوراونچے تھے . پھر یہ کہ اگر بلند ترین مقام پر بھی کھڑے ہوکرآسمان کی طرف دیکھاجائے تو اس کامنظر بغیر کسی کمی بیشی کے ویسے ہی نظر آتاہے جیسے سطح زمین سے ۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ فرعون نے یہ بات کرکے درحقیقت موسٰی کے مقابلے سے ایک قسم کی پسپائی اختیار کی .جبکہ اس نے کہا کہ میں موسٰی کے خدا کے بار ے میں تحقیق کرناچاہتاہوں ” فَاٴَطَّلِعَ إِلی إِلہِ مُوسی “ اور ساتھ ہی یہ بھی کہتاہے کہ ” ہرچندکہ میںاسے جھوٹا گمان کرتاہوں“ اس طرح سے وہ یقین کی منزل سے ہٹ کرشک اور گمان کے مرحلے تک نیچے آ جاتاہے ۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید ” وَ کَذلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوء ُ عَمَلِہِ وَ صُدَّ عَنِ السَّبیلِ وَ ما کَیْدُ فِرْعَوْنَ إِلاَّ فی تَبابٍ “ میں سب سے پہلے فرعون کے انحراف کی بنیاد ی وجہ بتائی ہے اوروہ ہے تکبر، غرور اورخود خواہی جیسے قبیح اور بُرے اعمال کا اس کی نگاہوں میں مزین ہونا ۔
پھر اس کانتیجہ بیان کیاہے جوراہ حق سے گمراہی کی صورت میں نکلاہے . تیسرے مرحلہ میںاس کے منصوبوں کی ناکامی کااعلان کرتاہے . گویہ تین مختصر سے جملوں میں تین جامع مطالب ۔
یقینااس قسم کی سیاست بازی مختصر سے عرصے کے لیے موٴثر واقع ہوسکتی ہے لیکن کاٹھ کی ہنڈ یابار بار چولہے پر نہیں چڑھ سکتی ۔
بعض روایات میں ہے کہ ” ہامان “ اس فرعونی بُرج کواس قدر اونچا لے گیا کہ اس کے اوپر تیز ہوا ؤں کی وجہ سے کام کرنا دشوار ہوگیا . را ج اور مستری فرعون کے پاس آکر کہنے لگے اس سے اُوپرمزید بلندی پرکام کرنا ہمارے بس سے باہر ہے . اس کی تعمیر کوتھوڑاہی عرصہ گزراتھا ک ایسی زبردست تیز وتند ہواچلی کہ جس نےاسے تہ وبالا کرکے رکھ دیا ( ۱)۔
۱۔ ” بحا رالانوار “ جلد ۱۳ صفحہ ۱۲۵( نقل از تفسیرعلی بن ابراہیم )۔
معلوم ہوگیاکہ فرعون کی تمام طاقت اور قدرت نمائی ہواکے ایک جھونکے کوبھی برداشت نہ کرسکی ۔
سوره مؤمن/ آیه 38- 40سوره مؤمن/ آیه 36- 37
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma