۲۔ تقیّہ ... مقابلے کاایک موٴثر ذریعہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
۳ صدیقین کون ہیں ؟۱۔ موٴمن آل ِفرعون کون تھا ؟

” تقیہ “ یا” عقیدہ باطنی کاچھپانا“ بعض لوگوں کے گمان کے برخلاف کمزور ی ، خوف اورمطلب بر اری کانام نہیں ہے بلکہ طاقتوروں ،ظالموں اورجابروں کے ساتھ مقابلے کے ایک موٴثر ذریعے کے عنوان سے اس سے کام لیا جاتاہے ،دشمن کے رازوں کا پتہ لگا ناایسے افراد کے بغیر ناممکن ہے جو تقیہ کے طریقہٴ کار سے کام لیتے ہیں ۔
دشمن کوغافل کرکے اس کے پیکرپر کا ری ضربیں لگانااس وقت تک ناممکن ہے جب تک اپنے منصوبوںکوچھپایانہ جائے اور تقیہ سے کام لیانہ جائے ۔
موٴمن آل ِ فرعون کاتقیہ بھی موسٰی علیہ السلام کے دین کی خدمت اورحساس ترین بلکہ بحرانی لمحات میں ان کی جان کی حفاظت کے لیے تھا . اس سے بہتر اورکیا ہوسکتاہے کہ انسان کااپنا کوئی نہ کوئی آدمی دشمن کے گروہ میں موجود ہوتاکہ اس کی چالوں اورمنصوبوں کی اچھی طرح معلومات حاصل کرکے ان سے پوری طرح باخبر ہو اور بوقت ضرورت دوستوں کواس سے مطلع کرے.بلکہ اگرضرورت پڑ جائے تودشمن کی سوچ اور فکر تک رسائی حاصل کرکے اس کے منصوبوں اورچالوں کو ناکام بنادے ۔
اگرموٴ من آل ِ فرعون ” تقیہ “ کی ٹیکنیک سے استفادہ نہ کرتا توکیااس قدر عظیم خدمات انجام دے سکتا تھا ؟
اسی لیے توحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں آیاہے :
التقیة دینی ودین اٰبائی ،ولادین لمن لا تقیة لہ ، والتقیة ترس اللہ فی الارض ، لان موٴ من اٰل فرعون لواظہر الاسلام لقتل
تقیہ میرا دین ہے اور میرے آباؤ اجداد کادین ہے . جس کاتقیہ نہیں اس کادین نہیں ،تقیہ روئے زمین پر خدا کی طرف سے ایک ڈھال ہے کیونکہ اگرموٴ من آل فرعون اپنے ایمان کااظہار کردیتا تو قتل کردیاجاتا (1)۔
خاص ایسے مقامات پرجہاں مومنین اقلیت میں ہوں اورایسی اکثریت کے درمیان پھنسے ہوئے ہوں جونہ تو کسی دلیل اورمنطق کوسمجھتی ہو اورنہ ہی اس میں رحم کاذرہ ہوتو ایسی صورت میں کوئی بھی عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ سوائے ضرورت کے خاص موقع کے اپنے ایمان کااظہار کرکے اپنی فعال تو انائیاں ضائع کردی جائیں . بلکہ ایسے خاص حالات کے پیش نظر اپنے عقیدے کو چھپا کراپنی تو ا نائیوں کویکجا اوراکٹھا کرکے آخر ی حملے کے لیے آمادہ کیاجانا چاہیے ۔
خود پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی نے بھی اپنے قیام کے آغاز کئی سالوں تک اپنی دعوت کومخفی رکھا اوراسی طریقہ کار سے کام لیتے رہے . جب ایک عرصہ کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوستوں کی تعداد زیادہ ہوگئی اور مر کزی بنیاد مضبوط ہوگئی توپھر اسلام کی کھلم کھلا دعوت کااظہار فرمایا ۔
اس ضمن میں دوسرے انبیاء عظام میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کانام لیاجاسکتا ہے . باوجود یکہ آپ علیہ السلام ایک شجا ع اور نڈرانسان تھے لیکن بتوں کے توڑنے کے موقع پرآپ علیہ السلام نے تقیہ کے طریقہ ٴ کار سے کام لیااور اپنے منصوبے کوبت پرستوں سے مخفی رکھ. اگر آپ علیہ السلام نہ کرتے تو اپنے مقصد میں کبھی کا میاب نہ ہوتے ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا بزرگوار جناب حضرت ابوطالب نے آخری عمرتک تقیہ کی روش ترک نہیں کی . صرف چند ایک لیکن خاص موقعوں پراپنے ایمان کااظہار کیااوردوسرے مواقع پرصراحت کے ساتھ کوئی بات نہیں کی تاکہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان بچانے کے سلسلے میں موٴ ثر کردار اداکر سکیں اورہٹ دھر م ،بے رحم اور کینہ پروربت پرست آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوکوئی گزند نہ پہنچاسکیں ۔
بہرحال بعض جاہل اورحقائق سے بے خبر لوگو ں نے جو یہ سمجھ رکھاہے کہ تقیہ صرف مذہب شیعہ ہی کے لیے مخصوص ہے یایہ کمزوری اورجھوٹ کی علامت ہے تو ان کی یہ سو چ مکمل طور پر بے بنیاد اورہر قسم کی منطق سے دور ہے کیونکہ کسی استثناء کے بغیر تمام مذاہب اورمکاتب فکرمیں کسی نہ کسی صورت میں یہ ضرور موجود ہے ۔
مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ کی دوسری جلد کا ( سورہ آل عمران آیت ۲۸ کے ذیل میں ) اور گیارہویں جلد کا (سورہ ٴ نحل کی آیت ۱۰۶ کے ذیل میں ) مطالعہ فرمائیں ۔
 1۔ ” مجمع البیان ‘ ‘ جلد ۸ ،صفحہ ۵۲۱ (زیر بحث آیات کے ذیل میں )۔
۳ صدیقین کون ہیں ؟۱۔ موٴمن آل ِفرعون کون تھا ؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma