جب جان لبوں تک پہنچے گی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره مؤمن/ آیه 21- 22سوره مؤمن/ آیه 18- 20
یہ آیات بھی حسب سابق اوصافِ قیامت کے سلسلے کی کڑی ہیں اور درحقیقت ان آیات میں قیامت کے اوصاف میں سے سات اور اوصاف اورہو لناک اوروحشت ناک حوادث کا بیان ہے جوہرصاحب ِ ایمان شخص کوگہرے غور وفکر کی دعوت دیتاہے ۔
سب سے پہلے فرمایاگیاہے : انہیں اس دن سے ڈرائیے جوقریب ہے (وَ اٴَنْذِرْہُمْ یَوْمَ الْآزِفَة)۔
” اٰزفة “ لغت میں ” نزدیک “ کوکہتے ہیں اور یہ کیسا عجیب وغیرب نام ہے جو ” یوم القیامة “ کے بجائے آیا تاکہ ناآگا ہ اور بے خبرلوگ یہ نہ کہیں کہ ابھی قیامت برپا ہونے میں بہت بڑاعرصہ باقی ہے ، اپنے دھیان کوابھی سے قیامت کی طرف لگانے کی ضرورت نہیں ہے یہ ایک ادھار کاوعدہ ہے ۔
اگرہم غور سے دیکھیں تومعلو م ہوگا کہ کل دنیاوی عمرقیامت کی عمر کے مقابلے میں ایک زود گز ر لمحے سے زیادہ نہیں ہے اور چونکہ اس کی حتمی تاریخ خدانے ابنیاء ومر سلین تک کو نہیں بتائی لہذا ہمیشہ اس کے استقبال کے لیے آماد ہ رہنا چاہیئے ۔
دوسری صفت یہ ہے کہ : اُس روز بردست خوف دہرا س کی وجہ سے دل حلق تک پہنچ جائیں گے ( إِذِ الْقُلُوبُ لَدَی الْحَناجِرِ )۔
جب انسان زبردست مشکلات میں پھنس جاتاہے تواسے محسوس ہوتاہے کہ گویااس کادل اپنی جگہ چھوڑ کرحلق سے باہر آناچاہتا ہے .عرب ایسی صورت حال کو ” بلغت القلوب الحناجر“ سے تعبیر کرتے ہیں اور شاید اس کا فارسی صحیح نعم البدل ” جان لبوں تک پہنچ چکی ہے “ ہی ہوسکتا ہے . ورنہ ظاہر ہے کہ دل جوخون کی تقسیم کامرکز ہے وہ نہ توکبھی اپنی جگہ سے ہلتاہے اور نہ ہی حلق تک پہنچتا ہے ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ” قلب “ دراصل ” جان “ کے لیے کنایہ ہو ، مثلاً کہاجاتاہے کہ اس جان حلق تک پہنچ چکی تھی اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا اس کی روح اس کے بدن سے بالتد ریج خارج ہوتے ہوتے باقی تھوڑی سی رہ چکی ہے ۔
بہرحال اس دن انسان خدا کے سخت حساب وکتاب ، تمام مخلوق کے سامنے رسوائی کے خوف اورناقابل ِ نجات درد ناک عذاب میںمبتلا ہونے کے ڈر سے اس قدر ہوں واضطراب کاشکار ہوجائے گا جو بیان نہیں ہو سکتا ۔
اس کی تیسری صفت کے بار ے میں قرآن کہتاہے : ان کاتمام وجود غم واندوہ سے بھرا ، ہوگالیکن وہ اس کااظہار نہیں کرسکیں گے ( کاظِمینَ)۔
” کاظم “ ” کظم“ کے مادہ سے ہے جس کالغوی معنی ہے ” پانی بھری مشک کامنہ باندھنا“ بعد ازاں اس کااطلاق ان لوگوں پر بھی ہونے لگا جوغصّے سے بھرے ہوئے ہیں لیکن مختلف وجوہ کی بناپر اس کااظہار نہیں کرسکتے ۔
اگرانسان کسی وقت غمِ جانکاہ اوراندوہ کاشکار ہوجائے لیکن وہ فریاد کرسکتا ہوتوممکن ہے کہ اس کاکچھ غم ہلکا ہوجائے اوراس کے د ل کوکچھ آرام آجائے لیکن افسوس کہ وہاں پرتلاچلّا نے اور فریاد کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی ، وہاں پرتو تمام مخفی رازوں کے ظاہرہوجانے ، حق کی عدالت میں پیش ہونے ، عدالتِ پروردگار میں حاضر ی دینے اورمخلو ق ِ خداکے موجود ہونے کے مسا ئل ہوں گے پھر چیخ وپکار کیافائدہ پہنچائے گی ؟
چوتھی صفت یہ ہے کہ :ظالموں کاکوئی دوست نہیں (ما لِلظَّالِمینَ مِنْ حَمیمٍ )۔
وہ یار اور مکار دوست جواقتدار کے زمانے میں اس کے دستر خوان کی مکھی بنے اس کے گرد منڈلاتے رہتے تھے اورخوشامد وچاپلوسی کے ذریعے اپنے آ پ کو وفادار دوست اورجان نثار ساتھی یاخاندانی غلام بتایا کرتے تھے ان سب کواپنی اپنی پڑی ہے دوسرے کاکسی کو کچھ خیال نہیں . الغرض اس دن نہ تو کسی انسان کاکوئی دوست ہوگا ، اورنہ ہی دردِ دل بانٹنے کے لیےکوئی غمخوار ۔
پانچویں صفت کے بار ے میں فرمایاگیاہے:اورنہ ہی کوئی ایساشفاعت کرنے والا ہے کہ جس کی شفاعت قبول کی جائے (وَ لا شَفیعٍ یُطاع)۔
کیونکہ انبیاء اوراولیا ء جیسے سچے شفاعت کرنے والوں کی شفاعت بھی خدا وند عالم کے حکم پر منحصر ہوگی . اس طرح سے بت پرستوں کے اس گمان پر بھی خط تنسیخ پھرجاتاہے کہ بت ان کی شفاعت کریں گے ۔
چھٹے مرحلے پرقیامت کی کیفیت کے ضمن میںخدا کاایک وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا خیانت سے دیکھنے والی آنکھوں کوجانتا ہے اورجوکچھ سینوں میںپوشیدہ ہے اس سے بھی باخبر ہے (یَعْلَمُ خائِنَةَ الْاٴَعْیُنِ وَ ما تُخْفِی الصُّدُورُ ) ( ۱)۔
جی ہاں ! جو خدا آنکھ کی مخفی حرکتوں اورسینے کے اندرونی رازوں سے آگاہ ہے وہی اس دن اپنی مخلوق کے بار ے میں عدل وانصاف کرے گا اوراس کے اس صحیح معنوں میں علم و آگاہی کی وجہ سے گناہ گاروں کے لیے دن نہایت تاریک ہیں ۔
ایک روایت میں ہے کہ جب امام جعفرصادق علیہ السلام سے اس آیت کے بار ے میں سوال کیاگیا توآنجناب علیہ السلام نے فرمایا :
الم ترالی الرجل ینظر الی الشیء وکا نہ لاینظر الیہ ،فذ الک خائنة الاعین
کیاتم نے نہیں دیکھا کہ کبھی انسان کسی چیزکو دیکھ رہاہوتاہے اورظاہر کرتاہے کہ وہ اسے نہیں دیکھ رہا؟یہی خیانت آلودہ نگا ہیں ہیں ( ۲)۔
جی ہاں ! اس قسم کی نگاہ خواہ لوگوں کی ناموس کی طرف ہو یاکسی اورایسی چیز کی طرف کہ جس دیکھناممنوع ہے اس خدا سے چنداں مخفی نہیں رہ سکتی جس کے لیے زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے . جیساکہ سورہٴ سبا کی آیت ۳ میں ارشاد فر مایا گیاہے :
لا یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ فِی السَّماواتِ وَ لا فِی الْاٴَرْض
ایک اورروایت میں ہے کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاایک ساتھی جوآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور میں اسلام کے ایک جانی دشمن کے ساتھ بیٹھا ہواتھا ، جب وہ مخالف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے امان نامہ حاصل کرکے باہر چلاگیا توا س ساتھ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میںعرض کی اس کے امان حاصل کرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیوں نہیں فرمایا تا کہ ہم کھڑے ہوکراس کی گردن اڑا دیتے توآنجناب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
ان النبی لاتکو ن لہ خائنة الاعین
انبیاء کے پاس مخفی اورخائن آنکھیں نہیں ہوتیں ( ۳)۔
البتہ خیانت ِ چشم کی مختلف صورتیں ہیں. ایک صورت یہ ہے کہ غیرعورتوں کی طرف چوری چوری دیکھاجائے یااس سے آنکھ لڑانے کی کوشش کی جائے ،دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کی عیب جوئی اورتحقیر کی غرض سے آنکھ کااشارہ کیاجائے ، تیسری صورت یہ ہے کہ سازشو ں اور شیطانی منصوبوں پرعمل کرنے کے لیے آنکھوں سے اشارے کیے جائیں و غیرہ ۔
حقیقت یہ ہے کہ اگرانسان کااس با ت پر ایمان ہوکہ بروزقیامت اس کی نگاہوں ، سوچوں ،خواہشوں اوران کے اسباب تک کا پورا پورا محاسبہ ہوگا اورہرایک سے تعلق پوری تحقیق پوری کی جائے گی اور سوال کیاجائے گا تو وہ یقینا کے اعلیٰ مدارج پر فائز ہوجائے اور نفوسِ انسانی کی تر بیت میںمعاد ، خدا کی طرف سے نگرانی اورقیامت کے دن حساب وکتاب پرایمان کتنا موٴثر ہے ؟
کہتے ہیں کہ ایک بزرگ عالم جب اپنی اعلیٰ تعلیم نجف اشرف کے حوزہٴ علمیہ میں مکمل کرچکے اوراپنے وطن واپس جانے کے لئے اپنے استاد سے الوداع کی غرض سے ان کے حضور پہنچے اوران سے آخری وعظ و نصیحت کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا اس قدر تکالیف اٹھانے کے بعد پھر بھی آخری نصیحت کلام اللہ مجید ہے اورآپ اس آیت کوہرگز فراموش نہ کریں ۔
الم یعلم بان اللہ یرٰی
کیاانسان نہیں جانتا تھاکہ خداہرچیز کودیکھ رہاہے ۔( علق . ۱۴)
یقینا ایک صحیح معنوں میں موٴمن شخص کی نگاہ میںیہ تمام کائنات خداکے حضور میں ہے اورتمام کام اسی کے سامنے انجام پاتے ہیں اور یہی تصور گناہوں سے اجتناب کے لیے کافی ہے ۔
قیامت کی ساتویں صفت جوچھٹی صفت کی طرح خدا کی صفت کے طور پربیان ہوئی ہے قرآن کے الفاظ میں : خداحق پرمبنی فیصلہ کرے گا (وَ اللَّہُ یَقْضی بِالْحَقِّ )۔
اوروہ اس کے علاوہ جن معبودوں کوپکارتے ہیں ان میں سے کوئی بھی فیصلہ نہیںکرسکتا (وَ الَّذینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ لا یَقْضُونَ بِشَیْء)۔
جی ہاں ! اس دن فیصلے کااختیارصرف اورصرف خداکے پاس ہوگا اوروہ بھی حق سچ کے علاوہ کوئی فیصلہ نہیںکرے گا کیوکہ ظلم پرمبنی فیصلہ یاتوجہالت اورناآگاہی کی بناپر ہوتاہے جب کہ وہ تمام اسرار اور بھید وں تک سے اچھی طرح واقف ہے اور یا پھرعاجز آجانے یاضرورت کی وجہ سے ہوتاہے اوریہ سب اُس کی ساحتِ مقدس سے دور ہیں ۔
ضمنی طورپر یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ جملہ ” توحید معبود“ پرایک دلیل ہے کیونکہ معبودبننے کی صلاحیت وہی رکھتاہے کہ آخرکارفیصلہ جن کے ہاتھ میں ہو لہذا وہ بت کہ جونہ اس دنیا میں کسی خاصیت کے مالک ہیں اورنہ ہی قیامت کے دن کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں تو ان میں معبود بننے کی صلاحیت کیونکرہوسکتی ہے ۔
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ حق کی جانب سے حق پر مبنی فیصلہ جات کے بہت سے اوروسیع معانی ہیں جو عالم تکوین اورعالم تشریع دونوں پرمحیط ہیں جس طرح کہ قرآنی آیات میں ”قضاء “ کی تعبیردونوں معانی پرمشتمل ہے . چنانچہ ایک مقام پرفرمایا گیاہے :
وقضٰی ربک الاّ تعبدوا الاّ ایّاہ
” تیرے پروردگار نے حکم دیاہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو “۔ ( سورہ ٴ بنی اسرائیل . ۲۳)
یہ قضاوت تشریعی ہے . اور دوسری جگہ پر ارشاد ہوتاہے :
إِذا قَضی اٴَمْراً فَإِنَّما یَقُولُ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ
جب وہ کسی چیزکے بار ے میں حکم جاری کرتاہے تواسے کہتاہے ” ہوجا “ تووہ فوراًہوجاتی ہے ۔ ( آل عمران . ۴۷)
یہ قضاوت تکوینی ہے ۔
آخر میں گزشتہ آیات پر تاکید کرتے ہوئے قرآن کہتاہے : خداسننے اور دیکھنے والاہے(إِنَّ اللَّہَ ہُوَ السَّمیعُ الْبَصیر)۔
بلکہ یہ دیکھنا اورسننا اپنے صحیح معنی کے لحاظ سے ، یعنی تمام سنی جانے والی اور تمام دیکھی جانے والی چیزیں ہمہ وقت اس کے حضور ہر وقت موجود رہتی ہیں اور یہ اسی کی ذات پاک سے مخصوص ہے اور یہ چیز اس بات کی تاکید ہے کہ اس کاعلم ہرچیزپرمحیط ہے اورحق کافیصلہ بھی اسی کے ساتھ خاص ہے کیونکہ جب تک کائی سمیع وبصیر مطلق نہ ہو وہ حق پر مبنی فیصلہ نہیں کرسکتا ۔
۱۔ ” یَعْلَمُ خائِنَةَ الْاٴَعْیُن“ کے جملے میں نحوی ترکیب کے لحاظ سے دواحتمال ہیں . پہلایہ کہ ’ ’ خائِنَةَ “ مصدری معنی میں ہے جس کامعنی ” خیانت “ ہے ، (جیسا کہ ” کاذبة “ اور’ لاغیة “ کہ جن کامعنی ” کذب “ اور” لغو“ ہے ) دوسر ا یہ کہ موصوف سے صفت مقدم ہو اور اصل میں ” الاعین الخائنة “ ہوتو پھر اس صورت میں لفظ ” خائِنَةَ “ اسم فاعل ہوگا ۔
۲۔ ” تفسیر صافی “ اسی آیت کے ذیل میں ۔
۳۔ تفسیرقرطبی جلد۸ ،ص ۵۷۴۷( کچھ خلاصے کے ساتھ )۔
سوره مؤمن/ آیه 21- 22سوره مؤمن/ آیه 18- 20
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma