صرف خدا کو پکارو

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
سوره مؤمن/ آیه 16- 17سوره مؤمن/ آیه 13- 15

یہ آیات درحقیقت ان مسائل کااستد لال ہیں جو گزشتہ آیات میں وعظ و نصیحت اور تنبیہ و تہدید کی صورت میں بیان ہوائے ہیں .ا ن میں خداوند متعال کی توحید ربوبیت اوراس سے شرک نیز بت پرستی کی نفی پر دلائل ہیں ۔
سب سے پہلے فرمایاگیاہے : وہ ( خدا تو ) وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ( ہُوَ الَّذی یُریکُمْ آیاتِہِ )۔
آفاق اورانفس میں موجود وہی نشانیاں جن سے ساری کائنات بھری پڑی ہے، ایسے عجیب وغریب نقوش جو عالمِ وجود کے درو دیوار پر نمایاں ہیں ،ایسے واضح نقوش جنہیں دیکھ کر اگر کوئی تیری ذات کے متعلق نہ سوچے تووہ خود نقش بر دیوار ہے ۔
پھر ان آیات میں سے ایک نشانی کے متعلق فرمایاگیاہے:تمہارے لیے آسمان سے قیمتی رزق نازل کرتاہے (وَ یُنَزِّلُ لَکُمْ مِنَ السَّماء ِ رِزْقاً)۔
بارش کے حیات بخش قطرے،آفتاب کانور جوتمام موجودات کوزندہ کرتاہے، اورہوا جو تمام حیوانات اور نباتات کا سرمایہٴ حیات ہے .یہ سب آسمان سے نازل ہوتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ تین امور زندگی اورحیات کااہم ترین وسیلہ ہیں اور باقی سب چیزیں ان کی فر و عات ہیں ۔
بعض مفسرین نے آسمان کو ” عالم ِ غیب“ اور زمین کو” عالم ِ شہود“ جاناہے . اور آسمان سے رزقِ الہٰی کے نزول کامعنی ، اس کا عالم غیب سے عالم شہود پر نازل ہوناکیا ہے . لیکن یہ تفسیر قطع نظر اس کے کہ ظاہر آیت کے خلاف ہے اس کی قطعاً ضرورت بھی نہیں ہے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ وحی اور بہت سی آیات جو روحانی غذا ہیں آسمان غیب سے نازل ہوتی ہیں اور بارش اور آفتاب کا نور جو جسمانی غذا ہیں آسمان ظاہر سے نازل ہوتے ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ہم آہنگ بھی ہیں ،لیکن یہ تصوّر ہرگز نہیں کرناچاہیئے کہ زیرتفسیر آیات بھی اس عام مفہوم یا آیات تشریعی کی طرف خصوصی اشارہ ہیں. کیونکہ ” یریکم ایاتہ “ ( وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے )کاجملہ قرآن میں بار بار کا ئنات میں موجود توحیدی آیات کے معنی میں آتاہے . جن میں سے ایک مقام خود اسی سورت موٴمن کے آخر میں ہے جہاں پر خدا وند عالم چوپایوں اور کشتیوں کی نعمتوں کاذکر کرنے کے بعد فرماتاہے :
و یریکم اٰیاتہ فایّ اٰیات اللہ تنکرون
” وہ تمہیں اپنی آیات دکھاتاہے پس تم اس کی کون کون سی آیات کاانکار کرو گے “ ؟( مومن . ۸۱)
اسی طرح کی کئی دوسری آیات بھی ہیں ۔
اصولی طور پر ”یریکم“ (تمہیں دکھاتاہے ) کی تعبیرمناسب ہی آیات ِ تکوینی کے لیے ہے . جہاں تک تشریعی آیات کاتعلق ہے تو ان کے لیے ” وحی بھیجی “ اور ” تمہاری طرف آیا “ جیسی تعبیریں دکھائی دیتی ہیں ۔
بہرحال یہ جو بعض متقدم اور معاصر مفسرین نے آیات کو” تشریعی آیات “ یا” تشریعی اور تکوینی آیات “ کے معنی میں لیا ہے ، اس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن نے یہاں پر آسمان و زمین میں اورخودانسان کے اندر موجود اللہ تعالیٰ کی اور بہت سی آیاتِ عظیمہ کوچھوڑ کرانسان کی روزی کے مسئلے ہی کو کیوں بیان کیا ہے ؟
کیونکہ یہ روزی کامسئلہ ہی ہے جو انسانی فکر کو اپنی طرف مشغول کئے رہتا حتٰی کہ بعض اوقات وہ رزق میں اضافے اور فقروفاقہ سے نجات پانے کے لئے بتوں کے آگے جھک جاتاہے . قرآ ن کہتاہے کہ ہر قسم کی روزی خدا کے ہاتھ میں ہے بُت تو کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔
آیت کے آخرمیں فرمایاگیاہے : اس قدر عظیم کائنات میں اتنی بڑی اورلاتعداد نشانیوں کے باوجود ان کی نابیناآنکھیں اور پردوں میں ڈھکے ہوئے دل کچھ بھی نہیں دیکھ پاتے صرف وہی لوگ ان حقائق کو یاد رکھتے ہیں جو خدا کی طرف لوٹیں اوراپنے قلب وروح کوگناہوں سے پاک کریں (وَ ما یَتَذَکَّرُ إِلاَّ مَنْ یُنیب)۔
بعد کی آیت میں یوں نتیجہ نکالاگیاہے : اب جبکہ صورت حال یہ ہے تو تم خدا کو پکارو اور اپنے دین کو خدا کے لیے خالص کرو (فَادْعُوا اللَّہَ مُخْلِصینَ لَہُ الدِّینَ)۔
اب اٹھ کھڑے ہو اورایمان کابسولالے کر مشرکین کے بتوں پر ٹوٹ پڑواور سب کو اپنی فکر ، ثقافت اورمعاشرے سے باہرنکال پھینکو ۔
البتہ تمہارا یہ کام ہٹ دھرم متعصب کنار کی کلیف کاباعث ضرور بنے گالیکن تمہیں اس بات کی پر وا نہیں کرنا چاہیئے تم اپنے دین کوخالص کئے رکھو ” خواہ یہ کافروں کونا گوار بھی گزرے ‘ ‘ ( وَ لَوْ کَرِہَ الْکافِرُونَ)۔
جس ماحول میں گمراہ بت پرستوں کی اکثریت ہووہاں پرتوحید کی آواز کے لیے ایک وحشت ناک آواز ہوتی ہے جیساکہ جمگادڑوں کے ٹو لے کے لیے طلوع ِ آفتاب وحشت ناک ہوتاہے ، لیکن تم ان کے جاہلانہ اور وقتی ردِ عمل سے مت گھبراؤ ، خم ٹھونک کرمیدانِ عمل میں آجاؤ اور پوری جراٴت کے ساتھ آگے بڑھتے رہو اور توحید واخلاص کا پرچم ہر جگہ لہراؤ ۔
بعد کی آیت خدا وند عالم کوچنداوصاف سے متصف کرتی ہے اور کہتی ہے : وہ درجات بلند کرنے ولا ہے (رفیع الدرجات )۔
وہ اپنے صالح بندوں کے درجات بلند کرتاہے۔
جیساکہ سورہ ٴ مجادلہ کی آیت ۱۱ میں فر مایاگیاہے :
یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ الَّذینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجات
خداند عالم مومنین اورعلماء کے درجا ت بلند کرتاہے ۔
حتٰی کہ ان انبیاء کے درجات بھی بلند کرتاہے اورانہیں فضیلت و برتری عطافرماتا ہے جو امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں اوراخلاص کے عالی مرتبہ تک پہنچے ہیں ۔
سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۲۳۵ میں ارشاد ہوتا ہے :
تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنا بَعْضَہُمْ عَلی بَعْض
اس نے انسانوں کو اس زمین میں اپنا خلیفہ او ر نمائندہ قرار دیاہے اور ہرایک کواس لیاقت ، اہلیت اور استعداد کے مطابق برتری عطافرمائی ہے ۔
سورہ ٴ انعام کی آیت ۱۶۵ میں فر مایاگیاہے :
وَ ہُوَ الَّذی جَعَلَکُمْ خَلائِفَ الْاٴَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْض دَرَجات
اگرگذشتہ آیت میں دین میں اخلاص برتنے کی دعوت دی گئی ہے تواس آیت میں فرمایاگیا ہے کہ خدا وندعالم تمہارے درجات تمہارے اخلاص کے مطابق بلند کرے گا کیونکہ وہ ” رفیع الدرجات “ ہے ۔
یہ سب کچھ اس صورت میں ہے جب ہم ” فیع “ کو ” رافع “ یعنی بلند کرنے و الا کے معنی میں لیں . لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ” رفیع “ یہاں پر ” مرتفع“ کے معنی میں ہے ، توایسی صورت میں رفیع الدرجات ، خدا وندعالم کی بلند اورعالی صفات کی طرف اشارہ ہے ، بے شک وہ علم کے لحاظ سے بھی بلند مرتبہ ہے اورقدرت کے لحاظ سے بھی ، اس کے کمال وجمال کے تمام اوصاف اس قدر بلندہیں کہ انسانی عقل ودانش کا بلند پرواز ہمابھی اس کے بلند مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا ۔
لغت میں ” رفیع “ دونوں معانی کے لیے آتاہے لہذا آیت کی بھی دونوں معنوں کے لحاظ سے تفسیر کی جاسکتی ہے . لیکن چونکہ آیات میں نیک بندوں کوجزائے خیر اور بلند درجات عطاکرنے کی بات ہو رہی ہے لہذا پہلا معنی وہ مناسب معلوم ہوتاہے . ہرچند ہمارے نظر یہ کے مطابق لفظ کا ایک سے زیادہ معانی میں استعمال جائز ہے لہذا دونوں تفاسیر بھی صحیح ہیں خاص کر قرآنی آیات کے بار ے میں کہ جن کے الفاظ کامفہوم بہت ہی وسیع ہے ۔
پھر فرمایاگیا ہے : وہ عر ش کامالک ہے ( ذوالعرش )۔
ساری کائنات اس کی قدر ت اورحکومت کے تابع ہے اوراس کے ملک و حکومت میں کوئی شریک نہیں ہے اور یہ بات بذاتِ خوداس امر کی دلیل ہے کہ لیاقت اور استعداد کے مطابق بندوں کے درجات کی طبقہ بندی اسی کے قبضہ ٴ قدر ت میں ہے ۔
اس سے پہلے کی آیت میں” عرش “ کے بار ے میں کافی گفتگو ہوچکی ہے لہذایہاں پراسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
تیسری تعریف بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : خدا وندعالم ہی اپنے فرمان کے مطابق اپنے بندوں میں سے جس پرچاہے روح القاء کرتا ہے ( یُلْقِی الرُّوحَ مِنْ اٴَمْرِہِ عَلی مَنْ یَشاء ُ مِنْ عِبادِہِ)۔
یہ روح قرآن ،مقام نبوت اوروحی ہی ہے جوجِسم انسانی میں روح کے مانند دلوں کی حیات کاسبب ہے ۔
اگرچہ یہاں پر مفسرین نے ” روح “ کے معنی کی وضاحت کے لیے کئی احتمالات ذکر کیے ہیں . لیکن اس آیت میں اورسورہ ٴ نحل کی دوسری آیت میں اوراسی طرح سورہ ٴ شوریٰ کی آیت ۵۲ میں موجود قرائن سے معلوم ہوتاہے کہ ایسے مقامات پرروح سے مراد وحی ، قرآن اورشرعی فرائض ہیں ۔
ملاحظہ ہو سورہ ٴ نحل کی دوسری آیت :
یُنَزِّلُ الْمَلائِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اٴَمْرِہِ عَلی مَنْ یَشاء ُ مِنْ عِبادِہِ اٴَنْ اٴَنْذِرُوا اٴَنَّہُ لا إِلہَ إِلاَّ اٴَنَا فَاتَّقُونِ
اسی طرح سورہ شورٰی کی ۵۲ ویں آیت میںپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومخاطب کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن ، ایمان اورروح کے نزول کوبیان فرمایا گیاہے :
وَ کَذلِکَ اٴَوْحَیْنا إِلَیْکَ رُوحاً مِنْ اٴَمْرِنا ما کُنْتَ تَدْری مَا الْکِتابُ وَ لاَ الْإیمان
” من امرہ “ ( ” اس کے حکم کے مطابق “ ) یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر فرشتہ وحی بھی اس روح کے پہنچانے پر مامور ہے تووہ بھی خداہی کی طرف سے بات کرتاہے نہ کہ اپنی جانب سے ۔
’ ’ علیٰ من یشاء من عبادہ“ ” اپنے بندوں سے جس پر چاہے “ اس کایہ معنی نہیں ہے کہ وہ وحی کی نعمت بغیرکسی حساب و کتاب کے عطافرمادیتاہے کیونکہ اس کی مشیت اس کی عین حکمت ہوتی ہے .جیسے اس مقام کے لائق سمجھتاہے اسے عطافر ماتا ہے جیساکہ سورہ ٴ انعام کی آیت ۱۲۴ میں فرمایا گیاہے :
اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ
خدا وندعالم سب سے بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں قرار دے ۔
اہل بیت علیہم السلا م کی بعض رویات میںمندرجہ بالا آیت میں ” روح “ کی تفسیر” روح القدس “ کی گئی ہے اوراپنے پیغمبراورمعصوم اماموں سے مخصوص بتا یاگیاہے . یہ بھی ہماری ان تصریحات کے منافی نہیں ہے جوہم اوپربیان کرچکے ہیں . کیونکہ ’ ’ روح القدس‘ ‘ وہ مقدس اوربلند مرتبہ معنوی روح ہے جوبطور کامل اور بدرجہ اتم ان معصومین میں موجود ہے . اکثر مشاہد ے میں آیاہے کہ اس کا پرتو دوسرے افرادمیں بھی متجلی ہوتاہے . اورجب بھی ” روح القدس“ کافیض ان کی کمک کرتاہے توان سے نہایت ہی اہم باتیں اوراہم امور سرزد ہوتے ہیں ( ۱)۔
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ گذشتہ آیات میں بارش کے نزول اورجسمانی رزق کی بات ہو رہی تھی اوریہاں پرنزولِ وحی اور روحانی رزق کی بات ہو رہی ہے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام پرروح القدس نازل کرنے کا کیامقصد ہے ؟اور اس پُر نشیب وفراز ،طویل اور پُر مشقت سفر میں ان کامقصد اور ہدف کیاہے ؟
اسی سلسلے کی آیت کے آخر ی جملے میں اس سوال کاجواب دیتے ہوئے خود قرآن فرماتاہے : مقصد یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ملاقات کے دن سے ڈرائیں (لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلاق)۔
جس دن بندے اپنے پروردگار سے شہود باطنی کے ذ ریعے ملاقات کریں گے ،
جس دن گزشتہ اور آئندہ زمانے کے لوگ آپس میںملاقات کریں گے ،
جس دن حق اور باطل کے پیشوااپنے پیروکاروں سے ملاقات کریں گے ،
جس دن مستضعفین اورمستکبرین باہم ملاقات کریں گے ،
جس دن ظالم اورمظلوم آپس میں ملاقات کریں گے ،
جس دن انسان اور فرشتے ملاقات کریں گے ،
خلاصہ یہ کہ جس دن انسان اپنے اعمال ، گفتاراور کردار سمیت ،اللہ کی بار گاہ ِعدل کی ملاقا ت کرے گا ۔
تمام آسمانی کتابوں اورخدا وندعالم کے تمام منصوبوں کامقصد بھی یہی ہے کہ وہ لوگوں کو ” ملاقات کے اس عظیم دن “ سے ڈرائیں، اور اس آیت میںقیامت کا کیاہی عجیب نام منتخب کیاگیاہے ” یَوْمَ التَّلاق“۔
 ۱۔ مزید تفصیل کے لی تفسیرنمونہ کی جلد اول سورہ بقر ہ کی آیت۸۷ کی تفسیر ملاحظہ ہو ۔
سوره مؤمن/ آیه 16- 17سوره مؤمن/ آیه 13- 15
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma