خدا کا اٹل فرمان

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
۱۔ کافروں کی ظاہری شان و شوکتسوره مؤمن/ آیه 4- 6
خداوند عالم کی طرف سے نزو ل قرآن کے ذکر اورخدا کی ان صفات کے بیان کے بعد جوخوف اورامید کاسبب بنتی ہیں ، ایسے لوگوں کاتذ کرہ فرما یاگیاہے جنھوں نے ان آیات الہٰی کے مقابلے کی ٹھان لی تھی اورمختصر سے جملوں میں ان کاانجام بھی واضح کردیاگیا ہے . چنانچہ فرمایاگیاہے : خدا کی آیات کے بار ے میں صرف وہی لوگ مجادلہ کرتے ہیں جوعناد اوردشمنی کی وجہ سے کافرہو چکے ہیں (ما یُجادِلُ فی آیاتِ اللَّہِ إِلاَّ الَّذینَ کَفَرُوا)۔
یہ ٹھیک ہے کہ ان لوگوں کے پاس بسااوقات طاقت ، اقتدار اور افرادی قوت بھی ہوتی ہے لیکن ” کہیں ایسانہ ہوکہ ان کی شہروں میںآمد ورفت اور قدرت نمائی تمہیں دھوکے میں ڈال دے “ (فَلا یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلاد)۔
یہ ان کی چند روزہ کرو فر اور مختصر سی مدت کے لیے ان کی شان وشوکت ہے اور بہت جلدان کے بلبلے سے ہو انکل جائے گی اوروہ نیست ونابود ہوجائیں گے یاتیز ہوا کے جھو نکوں میںراکھ کے مانند پراگندہ ہوجائیں گے
” یجادل “ ” جد ل “ کے مادہ سے ہے جورسی کو بل دینے اوراسے مضبوط بنانے کے معنی میںآتاہے . ا س کا استعما ل عمارتوں اور زر ہوں وغیرہ پربھی ہوتاہے اسی بناء پر ان لوگوں کے طریقہ کار کو ” مجادلہ “ کہتے ہیں جو ایک دوسرے کے مقابلے میںآکر مناظرہ کرتے اوراپنے مضبوط و محکم دلائل کے ذ ریعے ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
لیکن توجہ رہے کہ عربی لغت کے لحاظ سے ہرمقام پر” مجادلہ “ مذموم بات نہیں ہے ( ہر چند کہ ہمار روز مرہ کی زبان نے اسے مذ موم بنادیاہے ) کیونکہ اگراسے حق کی راہ میں استعمال کیاجائے اور وہ منطق واستد لال پر مبنی ہو اور بے خبر لوگوں کی ہدایت اور حقیقت کے بیان کی خاطر ہو تو قابل مذ مت ہی نہیں بلکہ لائق تعریف بھی بن جاتاہے . ہاں البتہ اگرپورے دلائل اور تعصب ، جہالت اورغر ور پر مبنی استد لال کے ذریعے لوگوں کوبے وقوف بنایاجا ئے توپھر مذموم اور پسندیدہ ہے . اتفاق سے قرآن مجید میں یہ لفظ دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے . چنانچہ ہم ایک جگہ پرپڑھتے ہیں :
و جاد لھم بالتی ھی احسن
ان لوگوں کے ساتھ اچھے انداز میں مجادلہ کریں ( نحل . ۱۲۵)۔
لیکن دوسرے مقامات پر مذ موم مفہوم میں استعمال ہوا ہے . جیسے زیر تفسیر آیت یااس کے بعد والی آیت میں ہے ۔
” جدال “ اور ” مجادلہ “ کے بار ے میں ہم ” چنداہم نکات “ کے زیر عنوان تفصیلی گفتگو کریں گے ۔
” تقلب “ ” قلب “ کے مادہ سے ہے جس کامعنی ہے دگر گوں کرنا ،الٹ پلٹ کرن. اور یہاں پر مختلف علاقوں اور شہروں پرحکومت ،تصرف ،تسلط اور غلبہ پانے اور آمد ورفت نکلنے کے معنی میں آیاہے ۔
مذ کورہ بالاآیت کااصل مقصد پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورابتدائے اسلام کے غریب مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ کہیں وہ کافروں کے مادی ومالی وسائل اورسیاسی واجتماعی طاقت کو ان کی حقا نیت اورحقیقی قوت کی دلیل نہ سمجھ لیں ان جیسے بہت سے افراد دنیا میں گزر ے ہیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ جب ان پرعذاب الہٰی نازل ہو اتووہ کس قدرعاجز اور بے بس نظر آئے اور موسم خزاں کے پژ مردہ پتوں کی طرح ٹوٹ کرزمین پرگرپڑے ۔
موجودہ دور میں بھی ظالم ومستکبر کفاراپنا و جود منوانے یادنیا کے مستضعف اور غریب لوگوں پراپنا رعب جمانے کے لیے بھا گ دوڑ ، پر و پیگنڈ ے ، کانفرنسیں ،سیاسی دور ے ، جنگی مشقیں ، اپنے حلیفوں کے ساتھ جنگی اور اقتصادی معاہدے وغیرہ کرتے رہتے ہیں تاکہ اپنے ناپاک عزائم کو پا یہٴ تکمیل تک پہنچانے کے لئے فضا کو سازگار بنائے رکھیں . لیکن یہ مومنوں کاکام ہے کہ وہ بیدار رہیں اور کفار کی اس پُرانی روش کے فریب میں نہ آئیں اوران سے کبھی مرعوب وپر یشان نہ ہوں۔
لہذا بعد والی آیت میں بعض سابق سرکش اور گمراہ قوموں کے انجام کومختصر لیکن جامع انداز میںبیان فر مایاگیاہے : ان سے پہلے نوح کی قوم نے اوران کے بعد آنے والی قوموں نے اپنے پیغمبروں کوجھٹلا یا (کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَ الْاٴَحْزابُ مِنْ بَعْدِہِمْ )۔
”احزاب “سے مراد قوم عاد ، قوم فرعون ، قوم لوط اور اس طرح کے دوسرے لوگ ہیں جنہیں سورہٴص کی آیت ۱۲ اور ۱۳ میں ” احزاب “ کے نام سے یاد کیاگیا ہے . چنانچہ ارشاد ہوتاہے :
کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَ عادٌ وَ فِرْعَوْنُ ذُو الْاٴَوْتادِ،وَ ثَمُودُ وَ قَوْمُ لُوطٍ وَ اٴَصْحابُ الْاٴَیْکَةِ اٴُولئِکَ الْاٴَحْزابُ
جی ہاں یہ وہ ” احزاب “ تھے جنہوں نے ایک دوسر ے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کراپنے اپنے دورکے انبیاء کوجھٹلا یاکیونکہ ان انبیاء کی دعوت ان لوگوں کے ناجائز مفادات اورخواہشات ِ نفسانی کے خلاف تھی ۔
پھر ارشاد ہوتاہے کہ ان لوگوں نے صرف جھٹلا نے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ” ان سے ہر امت نے سازش تیارکی کہ اپنے نبی کو پکڑ یں ، انہیں تکلیف پہنچائیں ، قیدخانے میںڈال دین یاقتل کرڈالیں “ (وَ ہَمَّتْ کُلُّ اٴُمَّةٍ بِرَسُولِہِمْ لِیَاٴْخُذُوہُ )۔
انھوں نے پھر اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ” حق کو مٹا نے کے لیے باطل باتوں کاسہارا لیا اور لوگوں کو گمراہ کرنے پرڈٹے رہے “ ۔ (وَ جادَلُوا بِالْباطِلِ لِیُدْحِضُوا بِہِ الْحَقَّ ) (۱) ۔
لیکن یہ چیزیں ہمیشہ کے لیے برقرارنہ ہیں اور مناسب موقع پر” میں نے انہیں پکڑ لیااور سخت سزادی ،دیکھئے ! عذابِ الہٰی کیساتھا ؟ “ ( فَاٴَخَذْتُہُمْ فَکَیْفَ کانَ عِقابِ) ۔
تمہارے سفر کے دوران میں ان کے شہروں کے کھنڈرات تمہیں نظرآتے ہیں . ان کا بر ااور تاریک انجام تاریخ کے صفحات اورصاحبان دل کے سینوں میں محفوظ ہے دیکھو اورعبرت حاصل کرو ۔
مکہ کے ان سرکش کفار اور عرب کے ظالم مشرکین کابھی ان سے بہترانجام نہیں ہوگا . مگر یہ کہ تو بہ کریں اوراپنی کارستانیوں پر نظر ثانی کریں ۔
مندرجہ بالا آیت سرکش احزاب کے طرز عمل کو تین حصول میںخلاصہ کے طور پر بیان کر رہی ہے :
الف : تکذیب اورانکار ۔
ب: مردانِ حق کے خاتمے کی سازش ۔
ج: عوام الناس کوگمراہ کرنے کے لیے جھوٹا پرو پیگنڈہ۔
عرب کے مشرکین نے بھی پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سا منے اسی طریقِ کار کودہرا یا، لہذا اگرقرآ ن نے انہیں گذشتہ اقوام جیسے انجام سے دوچار ہو نے کی دھمکی دی ہے تواس پرتعجب نہیں کرنا چاہیئے ۔
اس سلسلے کی آخری آیت میں اس دنیا میں عذاب سے دوچار ہونے کے علاوہ دوسرے جہان میں بھی ان کے عذاب میں مبتلا ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیاہے:تمہارے پر وردگار کااس قسم کافرمان ان لوگوں کے لئے مسلم ہوچُکا ہے جو کافر ہوچکے ہیں کہ وہ اہل جہنم ہیں (وَ کَذلِکَ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ عَلَی الَّذینَ کَفَرُوا اٴَنَّہُمْ اٴَصْحابُ النَّارِ) ۔
آیت کامعنی بڑا ہی وسیع ہے جو ہرقوم کے ضدی مزاج اورہٹ دھرم کافروں کے شاملِ حال ہے اور جیساکہ بعض مفسرین کا خیال ہے یہ صرف کفار ہی سے مخصوص نہیں۔
ظاہرسی بات ہے کہ ا ن لوگوں کے بار ے میں پروردگار عالم کے عذاب کامسلّم ہوناان کے مسلسل گناہ اور با ر بار کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے جووہ اپنی مرضی کے مطابق انجام دیاکرتے تھے . لیکن جناب فخر رازی جیسے بعض مفسرین پرتعجب ہوتاہے کہ جنھو ن نے اس کو مختلف اقوام کے جبری انجام سے دوچار ہونے اوران کے ارادہ واختیار کے سلب ہوجانے کی ایک دلیل سمجھا ہے.حالانکہ اگروہ فرقہ وارانہ تعصب کی عینک اتار کر اس کامطالعہ کرتے اوراس میں تھوڑا سابھی غور وفکر کرتے تو آیات کا صحیح مطلب ان کے لیے واضح ہوجاتا کہ خداوندعالم نے ان کے لیے برا انجام اس وقت مقرر کیا جب انہوں نے ظالم اور جرائم کے تمام راستے خود اپنے ہی پاؤں سے طے کئے۔
 ۱۔” لید حضوا “ ” ادحاض “ کے تین مادوں سے مٹانے اور باطل کرنے کے معنی میں ہے۔ 
۱۔ کافروں کی ظاہری شان و شوکتسوره مؤمن/ آیه 4- 6
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma