۴۔ لا إِلہَ إِلاَّ ہُو کامفہوم اس آیت میں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 20
۵۔ قرآن میں بخشش کے ذ رائع ۳۔ َ إِلَیْہِ الْمَصیرکامفہوم
یہ امر بھی توجہّ ہے کہ ”لا إِلہَ إِلاَّ ہُو “ کاجملہ جوآخری صفت کے طور پر آیاہے اور ” توحید عبودیت “ کوبیان کررہاہے اورغیر اللہ کی نفی کررہاہے درحقیقت آخری صفت اورآخری نتیجہ کے طور پر بیان ہوا ہے . یہی وجہ ہے کہ ہم ابن عباس کی بیان کردہ ایک روایت میںپڑھتے ہیں کہ :
” وہ ” غافِرِ الذَّنْبِ“ ہے ا س شخص کے لیے جو ” لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ کہے “
” وہ ” َ قابِلِ التَّوْب“ ہے اس شخص کے لیے جو ” لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ کہے “
” وہ ” شَدیدِ الْعِقاب“ ہے اس شخص کے لیے جو ” لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ نہ کہے اور
” وہ ”ذِی الطَّوْل “ ہے اس شخص کے لیے جو ’ ’لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ نہ کہے “ ۔
پس بنابریں ان تمام صفات کا محوردہ لوگ ہیں جو توحید پر ایمان رکھتے ہیں اوران کاقول وعمل توحید کے جادہ سے منحرف نہ ہو ۔
۵۔ قرآن میں بخشش کے ذ رائع ۳۔ َ إِلَیْہِ الْمَصیرکامفہوم
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma