کس د لیل کے ساتھ ہماری آیات کاانکار کرتے ھیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 18
سوره سبأ / آیه 46سوره سبأ / آیه 43 - 45

گزشتہ آیات میں مشرکین اور بے ایمان افراد کی وضع و کیفیت کے بار ے میں گفتگو تھی ، زیرِبحث آیات میں دوبارہ اس دُنیا میں ان کی وضع وکیفیت کو بیان کرتے ہوئے قرآن سننے کے مقابلہ میں ان کے ردِّ عمل کو بیان کیاجارہاہے ، تاکہ یہ بات واضح وروشن ہوجائے کہ قیامت میں ان کاوہ بُرا انجام دنیامیں آیاتِ الہٰی کے مقابلہ میں اس غلط تنقید اور طرزِ عمل کے باعث ہوگا ۔
پہلے کہتا ہے : ” جس وقت ہماری واضح کرنے والی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تووہ کہتے ہیں کہ یہ مرد توصرف یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اُس سے کہ جس کی تمہارے بڑے عبادت کرتے تھے بازر کھے “ (وَ إِذا تُتْلی عَلَیْہِمْ آیاتُنا بَیِّناتٍ قالُوا ما ہذا إِلاَّ رَجُلٌ یُریدُ اٴَنْ یَصُدَّکُمْ عَمَّا کانَ یَعْبُدُ آباؤُکُمْ ) ۔
اِن ” آیات ِ بیّنات “ کے مقابلہ میں ان کا یہ پہلا ردِّ عمل تھا ، کہ جو وہ اس متعصب قوم میں تعصب کے احساس کو تحریک کرنے کے لیے پیش کرتے تھے ۔
خصوصاً ” اٰباؤکم “ (تمہارے آباؤ اجداد ) کی تعبیر ” اٰبائنا “ (ہمارے آباؤ اجداد ) کے بجائے زیادہ تراسی بناء پر ہے تاکہ اس متعصب قوم کوسمجھائیں کہ تمہارے بزرگوں کی میراث خطرے میں ہے لہٰذا تم کھڑے ہوجاؤ اوراس شخص کو اس کام سے روکو ۔
” ما ھٰذا الاٰ رجل “ کی تعبیر دولحاظ سے پیغمبرکی تحقیر وتوہین ہے ، ایک لفظ ” ھذا “ (یہ ) اور دوسرا ”رجل “ (مرد) نکرہ کی صورت میں ، درآنحالیکہ وہ سب کے سب پیغمبرکواچھی طرح سے اس کے سابقہ واضح و روشن کار نا موں کی وجہ سے پہچانتے تھے ۔
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ قرآن ” آیات “ کی ” بیّنات “ کے ساتھ توصیف کرتاہے ،یعنی اس کی حقا نیت کی دلیلیں اس کے ساتھ ہیں ، اور جب بات عیاں ہو تو بیا ن کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
اس کے بعدا ن کی اُس دوسری گفتگو کو جو وہ پیغمبرکی دعوت کی باطل کرنے کے لیے پیش کرتے تھے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن ) ایک بڑے جھوٹ کے سوا کہ جو خدا پر باندھا گیاہے اور کچھ نہیں ہے “ (قالُوا ما ہذا إِلاَّ إِفْکٌ مُفْتَری) ۔
” افک “ (بروزن فکر ) جیساکہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں ، کہ یہ ہراُس چیز کو کہتے ہین جواپنی اصلی صورت سے بدلی ہوئی ہوا ، اسی لیے مخالف ہَوَا ؤں کو ” مئو تفکات “ کہتے ہیں ،اس کے بعد جھوٹ ، تہمت اور ہرقسم کی غلط بات کو ” افک “ کہاگیا ، لیکن بعض کے قول کے مطابق ” افک “ بہت بڑے جھوٹ کے لیے بو لا جاتا ہے ۔
باوجود اس کے کہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کوجھوٹ کے متہم کرنے کے لیے ”افک “ کی تعبیر کافی تھی ،لیکن وہ لفظ ” مفتری “ کے ذریعہ اس میں مزید تاکیدپیدا کرتے تھے ، جبکہ ا ن کے پاس اپنے اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں تھی ۔
آخر میں تیسرااتہام یہ ہے کہ گمراہ گردہ اپنی تینوں تہمتوں ”سحر “ (جادو ) کی تہمت تھی ، جیسا کہ زیر ِ بحث آیت کے آخر میں بیان ہوا ہے : ” وہ لوگ کہ جو کافر ہوگئے ، جس وقت حق ان کے پاس آیاتو انہوں نے کہا کہ یہ چیز سوائے واضح جادو کے اور کچھ نہیں “ (وَ قالَ الَّذینَ کَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جاء َہُمْ إِنْ ہذا إِلاَّ سِحْرٌ مُبین) ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ گمراہ گروہ اپنی تینوں تہمتوں کی صریح ترین تاکید کے ساتھ اسی حصر کے ذریعہ بیان کرتے تھے ، ایک جگہ کہتے تھے یہ فقط سحر ہے دوسری جگہ کہتے تھے ، یہ فقط جھوٹ ہے ، اور آخر مین تیسری جگہ کہتے تھے کہ : وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے بزر گوں کے معبودوں سے روک دے ۔
یقینا یہ تینوں ناروا نسبتیں آپس میں متضاد نہیں ہیں . اگر چہ وہ ضد و نقیص گفتگو سے انکار نہیں رکھتے تھے . اس بنا ء پر کوئی وجہ نہیں ہے کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق ہم ان تہمتوں میں سے ہر ایک کو کافروں کے ایک گروہ سے نسبت دیں ۔
یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ قرآن نے پہلے اور دوسرے مرحلہ میں لفظ ” قالوا “ کااستعمال کیاہے لیکن تیسرے مرحلے میں اس کے بجائے ( قال الذین کفروا ) کاجملہ استعمال کیاہے ، جواس با ت کی طرف اشارہ ہے ، کہ یہ بد بختیاں کفر ، حق کے انکار اورحقیقت کے ساتھ دشمنی سے پیدا ہوتی ہیں . ور نہ کس طرح ممکن ہے کہ انسان کسی دلیل کے بغیر ان تمام تہمتوں کو یکے بعددیگر ے ایسے مرد کی طرف منسوب کرے جس ی حقانیت کے دلائل اس کی گفتگو ، اس کے عمل اوراس کے سابقہ کار ناموں سے واضح ہیں ۔
گویاوہ ان تینوں تہمتوں کے ساتھ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مبارزہ کرنے میں ایک سوچے سمجھے پرو گرام کو روبہ عمل لاتے تھے ،ایک طرف وہ یہ دیکھتے تھے کہ یہ ایک نیادین و آئین ہے ،اوراس میں جذب وکشش موجود ہے ۔
دوسری طرف ، پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا و آخرت میں عذابِ الہٰی سے تہدید خواہ مخواہ ایک گرہ کو وحشت زدہ بناتی تھی ۔
اور تیسری طرف پیغمبرصلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کے معجزات خواہ مخواہ عام لوگوں کے نفوس میں اثر انداز ہوتے تھے ۔
انہوں نے ان تینوں موضوعات کوبے اثر کرنے کے لیے ایک نہ ایک تدبیر سوچ رکھی تھی، اس نئے دین و آئین کے مقابلہ میں اپنے گزر ے ہوئے بزرگوں اور آباؤ اجداد کی میراث کی حفاظت کے مسئلہ کو سامنے لے آتے حالانکہ ان کے گزر ے ہوئے بزرگ قرآن کے قول کے طابق ( لایعقلون شیئًا ولا یھتدون ) کچھ نہیں سمجھتے تھے اور ہدایت یافتہ نہیں تھے “ کے مصداق تھے . ( بقراہ . ۱۷۰(
اس میں کوئی گنا ہ کی بات نہیں ہے کہ لوگوں کو اس قسم کی بیہودہ رسو مات سے کہ جو بے وقوف جاہلوں کی میراث ہوں ، سے باز رکھے ۔
اور عذاب ِ الہٰی سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تہدید وں کے مقابلہ میں دروغ گوئی ، اور جھوٹ کامسئلہ گھڑا کے تیار کرلیا تھا تاکہ عامتہ الناس کوخاموش کرسکیں ۔
اور معجزا ت کے مقابلہ میں ” سحر “ ( جادو ) کی تہمت لگاتے تھے ، تاکہ اس کی اس ذریعہ سے توجیہہ کرکے لوگوں کواس کے سامنے جھکنے سے بازر کھیں ۔
لیکن جیساکہ ہم جانتے ہیں ، اور تاریخ اسلام اس بات کی گواہ ہے ، کہ ان شیطانی وسوسوں میں سے کوئی بھی مئوثر نہ ہوا ،اورآخر کار لوگ فوج اس آمین و دین ِ پاک میں داخل ہوئے ۔
قرآن بعد والی آیت میں ان کے تمام دعووں پر خطِ بطلان کھینچ دیتاہے اگرچہ بغیر کسی بیان کے بھی ان کابطلان واضح ہے ،ان کے تمام فضول اوربیہودہ دعووں کاایک ہی جملہ کے ساتھ جوا ب دیتے ہوئے کہتا ہے : ” ہم نے اس سے پہلے آسمانی کتابوں میںسے کوئی چیز انہیں نہیں دی ہے کہ جسے وہ پڑھ کر اس بنیاد پر تیری دعوت کاانکار کریں ،اور تجھ سے پہلے کوئی پیغمبربھی ہم نے ان کے لیے نہیں بھیجا“ (وَ ما آتَیْناہُمْ مِنْ کُتُبٍ یَدْرُسُونَہا وَ ما اٴَرْسَلْنا إِلَیْہِمْ قَبْلَکَ مِنْ نَذیر) ۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دعوے ایسا شخص کرسکتاہے کہ جس کے پاس پہلے کوئی پیغمبرآیاہو اور آسمانی کتاب اس کے پاس لے کر آیاہو . اوروہ نئی دعوت کے مضمون کواس کے مخالف پایاہو ، لہٰذا اس کی تکذیب کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے ، کبھی تووہ یہ کہتا ہے کہ تمہارے بزرگوں کادین تمہارے ہاتھ سے نہ جانے پائے ، اور کبھی یہ کہتا ہے کہ یہ نئی دعوت جھوٹی ہے ،اور کبھی اس کے لانے والے کو ساحر اور جادو گر کہتا ہے ۔
لیکن وہ شخص کہ جس نے اپنی فکر پر تکیہ کرتے ہوئے . کسی قسم کی آسمانی وحی کے بغیر . کچھ بھی علم نہ رکھنے کے باوجود ،خرافا ت کو دل سے گھڑلیاہے ، اس قسم کافیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا ۔
اس آیت سے ضمنی طور پر اس نکتہ کااستفادہ ہوتاہے ، کہ انسان صرف اپنی قوت عقل کے بل بوتے پر زندگی کی نشیب وفراز سے پُر راہ طے نہیں کر سکتا ، بلکہ اُسے وحی کی قوت سے مدد لینا چاہیئے اورخضر ِ رسالت کی مدد سے قدم اٹھاناچاہیئے ، ورنہ اندھیر اہی اندھیرا ہے کہ جس میں گمراہ ہوجانے کے خطرے سے ڈر ناضروری ہے ۔
آخر ی زیربحث آیت میں اس سرکش گروہ کو ایک مئوثر اور بلیغ بیان کے ساتھ تہدید کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے : ” وہ لوگ کہ جوان سے پہلے ہو کرگزرے ہیں انہوں نے بھی آیات ِ الہٰی کی تکذیب کی تھی “ (وَ کَذَّبَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِہِمْ) ۔
” درآنحالیکہ یہ لوگ قوت وقدرت کے لحاظ سے اس قوت کے دسویں حصّہ کوبھی نہیں پہنچے کہ جو ہم نے گزشتہ اقوام کو دی تھی “ (وَ ما بَلَغُوا مِعْشارَ ما آتَیْناہُمْ) ۔
لیکن دیکھو ! ان کاانجام کیاہوا ؟ ہاں ! ” انہوں نے ہمارے رسولوں کی تکذیب کی تھی ،تودیکھ لو میرا عذاب ان کے لیے کس طرح کا تھا “ (فَکَذَّبُوا رُسُلی فَکَیْفَ کانَ نَکیرِ) ۔
ان کے ویران شدہ شہر ،جو سر کوبی کرنے والے عذاب ِ الہٰی کی ضربوں کے ذریعہ تباہ وبرباد ہوئے تھے ، تمہارے نزدیک ہی او رشام کی طرف جاتے ہوئے تمہارے راستے میں پڑ تے ہیں ،اُن سے عبرت حاصل کرو ، اوران ویرانوں کی زبان سے ضروری ولازمی پند ونصائح سنو ، اوراپنے انجام کااس پرقیاس کرو کیونکہ نہ تو سنتِ الہٰی تغیّر پذیر ہے ، اورنہ ہی تم اُن سے برتر ہو ۔
”معشار “ ”عشر “ کے مادہ سے ہے اوروہی معنی (دسواں حصہ ) دیتا ہے ۔
بعض نے اس کو ”عشر عشر “ کے معنی ،یعنی سواں حصہ مراد لیا ہے ،لیکن زیادہ ترکتب لغت و تفسیر نے اس پہلے معنی کو ہی ذکر کیا ہے ، لیکن بہرحال اس قسم کے اعداد تعدادی پہلو نہیں رکھتے ،اور تقلیل کے لیے ہیں ، سات ،ستر اور ہزار کے مقابلہ میں کہ  جوتکثیر کے لیے ہیں ۔
اس بناء پر آیت کامفہوم اس طرح ہے کہ ہم نے توایسے ایسے سرکشوں کو در ہم برہم کرکے رکھ دیا ہے ، جبکہ یہ توان کی قدرت کاایک چھوٹا ساحصہ بھی نہیں رکھتے ۔
اس معنی کی مثال قرآن کی دوسری متعدد آیات میںبھی وارد ہوئی ہے ، منجملہ ان کے سورہ انعام کی آیہ ۶ میںبیان ہو ا ہے کہ : ” الم یرواکم اھلکنا من قبلھم من قرن مکنا ھم فی الارض مالم نمکن لکم وارسلناالسمآء علیھم مد را راً وجعلنا الانھا رتجری من من تحتھم فاھلکناھم بذ نوبھم وانشاٴ نا من بعد ھم فرناً اٰخرین “ ” کیا انہوں نے اس بات کا مشاہدہ نہیں کیاکہ ہم نے گزشتہ اقوام میںسے کتنوں کوہلاک کیا ہے ،ایسی اقوام کہ جوتم سے زیادہ طاقتور تھیں ، انہیں ہم نے ایسے وسائل عطاکیے تھے کہ جو تمہیں نہیں دیئے ، ہم نے ان کے لیے پے درپے بارشیں برسائیں اوران کے باغوں کے درختوں کے نیچے ہم نے نہریں جاری کررکھی تھیں ،لیکن جس وقت انہوں نے سرکشی اختیار کی ، توہم نے ا ن کے گناہوں کی وجہ سے انہیں نیست ونابود کردیا، اوران کے بعدہم ایک دوسراگروہ وجود میں لے آئے “ ۔
اسی معنی کی مثال سورہٴ مومن آیہ ۲۱ اور سورہ روم کی آیہ ۹ میں بھی وارد ہوئی ہے ۔
” نکیر “ کالفظ ، انکار کے مادہ سے ہے ، اور انکار ہی کے معنی میں ہے ، اورخدا کے انکار کرنے سے مراد وہی سز ا اور عذاب ہے (۱) ۔
۱۔ بعض مفسرین نے ایک اورخیال کا بھی اظہار کیاہے ، اوروہ یہ ہے کہ (وما بلغو امعشار مااٰتیناھم ) کاجملہ سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اتمام حجت کے لیے گز شتہ اقوام کے اختیار میں ان آیات کا دسواں حصہ بھی قرار نہیں دیاتھا کہ ومشرکین قریش کے اختیار میں دی ہیں ، توجب گزشتہ لوگوں کوہم نے اتنا سخت عذاب کیا ہے تو پھر مشرکین قریش کی حالت کہ جن پران سے دس گنازیادہ اتمامِ حجت کیاہے اورواضح ہے . لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے . پہلی تفسیر کے مطابق آیت میں جو چار ضمیر یں ہیں ان میں سے پہلی اوردوسری ضمیر تو کفارِ قریش کی طرف لوٹتی ہے اور تیسری اور چوتھی گزشتہ مشرکین کی طرف . لیکن دوسری تفسیر کے مطابق پہلی مشرکین ِ قریش ، دوسری گزشتہ کفار ، تیسری مشرکین ِ قریش اور چوتھی گزشتہ کفار کی طرف لوٹتی ہے ۔ (غور کیجئے ) ۔
سوره سبأ / آیه 46سوره سبأ / آیه 43 - 45
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma