سوره سبأ / آیه 34 - 38

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 18
مال و اولاد قرب خدا کی دلیل نہیں ہیں مستضعفین اور مستکبرین کی گفتگو

۳۴۔ وَ ما اٴَرْسَلْنا فی قَرْیَةٍ مِنْ نَذیرٍ إِلاَّ قالَ مُتْرَفُوہا إِنَّا بِما اٴُرْسِلْتُمْ بِہِ کافِرُونَ
۳۵۔ وَ قالُوا نَحْنُ اٴَکْثَرُ اٴَمْوالاً وَ اٴَوْلاداً وَ ما نَحْنُ بِمُعَذَّبینَ
۳۶۔ قُلْ إِنَّ رَبِّی یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یَقْدِرُ وَ لکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لا یَعْلَمُونَ
۳۷۔وَ ما اٴَمْوالُکُمْ وَ لا اٴَوْلادُکُمْ بِالَّتی تُقَرِّبُکُمْ عِندَنا زُلْفی إِلاَّ مَنْ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً فَاٴُولئِکَ لَہُمْ جَزاء ُ الضِّعْفِ بِما عَمِلُوا وَ ہُمْ فِی الْغُرُفاتِ آمِنُونَ
۳۸۔ وَ الَّذینَ یَسْعَوْنَ فی آیاتِنا مُعاجِزینَ اٴُولئِکَ فِی الْعَذابِ مُحْضَرُونَ

ترجمہ

۳۴۔ ہم نے کسی شہر اوربستی میں کوئی ڈرانے والا پیغمبرنہیں بھیجا مگر یہ اس کے متر فین ( جو نازو نعمت میں مست تھے ) نے کہا کہ ہم اُس سے کہ جوکچھ تم دے کر بھیجے گئے ہو کافر ہیں ۔
۳۵۔ اورانہوں نے یہ کہا کہ ہمارے اموال اوراولاد (سب سے ) زیادہ ہیں (اور یہ اس بات کی نشانی ہے کہ خدا کا ہمارے ساتھ تعلق ہے ) اور ہمیں ہرگز عذاب نہیں ہوگا ۔
۳۶۔ کہہ دے کہ میرا پرو ر دگار جس کی چاہتا ہے روزی وسیع پاتنگ کردیتا ہے ، (اور یہ بات اس کی بار گاہ میں قرب سے کوئی ربط نہیں رکھتی ) اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
۳۷۔ تمہارے مال اور اولاد ہرگز تمہیں ہمارا مقرب نہیں بنا تے ، سوائے ان کے کہ ایمان لے آئیں اورعمل صالح انجام دیں ، ان کے لیے ہی ان کے اعمال کے بد لے میں جو انہوں نے انجام دئے ہیں کئی گنا جزا ٴ ہے ،اور وہ (جنت کے ) بالا خانوں میں (انتہائی ) امن وامان میں ہوں گے ۔
۳۸۔ اوروہ لوگ کہ جو ہماری آیات کے انکا ر و ابطال کی کوشش کرتے رہے اور یہ خیال کرتے رہے کہ ہماری قدرت کے چنگل سے نکل کربھاگ جائیں گے ، وہ عذاب ِ (الہٰی ) میں داخل ہوں گے ۔
مال و اولاد قرب خدا کی دلیل نہیں ہیں مستضعفین اور مستکبرین کی گفتگو
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma