مستضعفین اور مستکبرین کی گفتگو

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 18
سوره سبأ / آیه 34 - 38سوره سبأ / آیه 31 - 33
اس بحث کی مناسبت سے کہ جو گزشتہ آیات میں مسئلہ معاد پر مشرکین کی طرف سے اعتراضات کے بارے میں تھی ، زیر ِبحث آیات میں ان کے لیے معاد کے بعض درد ناک مناظر کی تصویر کشی کرتاہے ، تاکہ و ہ اپنے کام کے انجام سے واقف ہوجائیں ۔
پہلے کہتا ہے کہ : ” ہم اس قرآن پراورجو کتابیں اس سے پہلے تھیں ہرگز بھی ایمان نہیں لائیں گے “ (وَ قالَ الَّذینَ کَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِہذَا الْقُرْآنِ وَ لا بِالَّذی بَیْنَ یَدَیْہ)۔
لفظ ” لن “ جیساکہ ہم جانتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کی نفی کے لیے ہے ، اس بناء پر وہ کہنایہ چاہتے ہیں کہ اگرتم ابد تک بھی ہمیں تبلیغ کرو تو ہم ایمان نہیں لائیں گے ، اور یہ ان کی ہٹ دھرمی کی دلیل ہے کہ انہوں نے ابدتک . کے لیے اپنے اراد ے کوپختہ کرلیاتھا ، حالانکہ ایک حق طلب آدمی اگر کسی دلیل سے مطمئن نہ ہو تو وہ آئندہ کی احتمالی دلیلوں کاسنے بغیر انکار نہیں کرسکتا ،اور یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں دوسرے دلائل کوبھی رد کرتاہوں ۔
اس بار ے میں کہ ” الذین کفروا “ سے کون لوگ مراد ہیں ،مفسرین کی ایک جماعت نے تو اس کی مشرکین کے ساتھ تفسیر کی ہے ، اور بعض نے یہود اور اہل کتاب کے ساتھ ، لیکن بعد والی آیات کے قرائن ، کہ جو شرک کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں . اس بات کی دلیل ہیں ، کہ اس سے مراد مشرکین ہی ہیں ” الذی بین یدیہ “ سے مراد وہی کتبِ آسمانی ہیں کہ جو قرآن سے پہلے دوسرے پیغمبروں پر نازل ہوئی تھیں ، کیونکہ قرآن کی بہت سی آیات میں یہ تعبیر . خصوصاً ذکر ِ قرآن کے بعد. .. اسی معنی میں استعمال ہوئی ہے ، اور یہ بات جس کابعض نے احتمال دیا ہے کہ اس سے مراد ” معاد “ اور یاقرآن کے مضامین تھے ، بہت ہی بعید نظر آتا ہے ۔
بہرحال پہلے انبیا ء کی کتب پرایمان سے انکار شاید اس بناء پر تھا کہ قرآن اس مطلب پر تکیہ کرتاہے کہ پیغمبرِ السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نشانیں و رات وانجیل میں وضاحت کے ساتھ آئی ہیں ، اورپیغمبرِ السلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کی نفی کرنے کے لیے دوسری کتب آسمانی کی بھی نفی کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں ، کہ نہ ہم اِس کتاب پرایمان لاتے ہیں ،اورنہ اس سے پہلے کی کتب پر ۔
اس کے بعد پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رُوئے قیامت میں ان کی وضع وکیفیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ : اگر تُو دیکھے کہ جب یہ ستمگر اپنے پر وردگار کی بار گاہ میں حساب وکتاب اور داد رسی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے ( توان کی وضع وکیفیت سے تُو حیرت میں ڈوب جائے گا ) جبکہ ان میں سے ہرایک ا پنا گناہ دوسرے کی گردن میں ڈالے گا ، اور ایک دوسرے کے خلاف جھگڑ ا اور لڑائی کر رہے ہوں گے “ (وَ لَوْ تَری إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِنْدَ رَبِّہِمْ یَرْجِعُ بَعْضُہُمْ إِلی بَعْضٍ الْقَوْل) (۱)۔
اوپر والی آیت سے ایک دفعہ اور یہ معلوم ہوتاہے کہ ” ظلم “ کے اہم ترین مصادیق میں سے ایک وہی ”شرک “ اور ” کفر “ ہے ۔
” عند ربھم “ کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایسی ہستی کابارگاہ میںحاضر ہوں گے کہ جو اُن کامالک اور پر ور دگار ہے ، اور اس سے بڑھ کر شرمندگی و شرمساری کی اور کیابات ہوگی کہ انسان ایک ایسی ہستی کے سامنے پیش ہو کہ نہ تُو وہ اس پرا یمان لایاہو او ر نہ ہی اس کے احکا مات وفرامین پر ، درآنحا لیکہ اس کا سارا وجود اسی کی نعمتوں کامرہون منت ہو ۔
” اس حال میں ” مستضعفین “ و ہی بے خبرلوگ کہ جو آنکھ ، کان بند کیے ہوئے دوسروں کے پیچھے لگے ہوئے تھے مستکبرین سے . .. یعنی اُنہیں لوگوں سے . کہ جو کبر وغرور اور دوسروں پر تسلط جمانے اورانہیں شیطانی سوچ کاراستہ دکھاتے تھے ، اس طرح کہیں گے : ” اگر تم نہ ہوتے اور اگر تمہارے شیطنت آمیز فریب دینے والے وسوسے نہ ہوتے توہم مومنین میں سے ہوتے “ ( یَقُولُ الَّذینَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذینَ اسْتَکْبَرُوا لَوْ لا اٴَنْتُمْ لَکُنَّا مُؤْمِنین) ۔
وہ اس طرح سے اپنے تمام گناہ ان بے رحم مستکبرین کی گردن میںڈالنا چاہیں گے ، اگر چہ دُنیا میںوہ اس قسم کی قطعی اور دوٹوک بحث کرنے کی مجال نہ رکھتے تھے ، چونکہ ضعف وناتوانی ان کے وجود پر غالب آئی ہوئی تھی اور وہ اپنی حریت و آزادی کھو چکے تھے ، لیکن اب جبکہ وہ تمام جھوٹے مفاہیم جنہوں نے مستکبرین کوان سے جُدا کیاہوا تھا برباد ہوگئے ،اورسب کے اعمال کے نتائج ظاہر و آشکار ہوگئے توان کے عین سامنے کھڑے ہوجائیں گے اورصراحت کے ساتھ ان سے بات کریںگے ، اوران سے پر خاش رکھیں گے ۔
لیکن مستکبرین بھیِ خاموش نہیں رہیں گے ، ” وہ جواب میں مستضعفین سے یہ کہیں گے ، کہ کیاہم نے تمہیں ہدایت کی راہ سے روکا تھا ، جبکہ ہدایت بھی تمہارے پاس آگئی تھی، اورکافی حد تک اتمام ِ حجت بھی ہو گئی تھی ، اور پیغمبروں نے بھی تمام ضروری باتیں کہہ دی تھیں “ (قالَ الَّذینَ اسْتَکْبَرُوا لِلَّذینَ اسْتُضْعِفُوا اٴَ نَحْنُ صَدَدْناکُمْ عَنِ الْہُدی بَعْدَ إِذْ جاء َکُمْ ) ۔
نہیں ہم تمہارے جوابدہ نہیں ہیں ، ” بلکہ تم خود ہی گنہگار تھے ،کہ تم نے آزادی ارادہ رکھنے کے باوجود ہماری بے بنیاد باتوں کے سامنے سرتسلیم خم کیا ، کفرو الحاد کی طرف رُخ کیا ، اور انبیاء کی منطقی باتوں کوبھلا بیٹھے “ (بَلْ کُنْتُمْ مُجْرِمین) ۔
یہ ٹھیک ہے کہ مستکبرین اپنے وسوسوں کی وجہ سے عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے تھے لیکن ان کی یہ بات بھی واقعیت رکھتی ہے کہ ان پیچھے لگنے والوں کوآنکھ اورکان بند کرکے ان کے پیچھے نہیں لگ جانا چاہیئے تھا ، اس لحاظ سے ان کاگناہ خود انہیں کی گردان پر ہے ۔
لیکن ” مستضعفین “ اس جواب پرقناعت نہیں کریں گے ، اور مستکبرین کومجرم ثابت کرنے کے لیے دو بارہ گفتگو شروع کردیں گے ، اور مستکبر ین سے اس طرح کہیں گے : ” بلکہ تمہارے وسوسے ، ساز شیں اور شب وروز کے مکا رانہ پرو پیگنڈے اس بات کاسبب بن گئے کہ ہم ہدایت حاصل کرنے سے باز رہیں ، جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم خدا کاانکار رکردیں اوراس کے لےے شریک وشبیہ قرار دیں “ (وَ قالَ الَّذینَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذینَ اسْتَکْبَرُوا بَلْ مَکْرُ اللَّیْلِ وَ النَّہارِ إِذْ تَاٴْمُرُونَنا اٴَنْ نَکْفُرَ بِاللَّہِ وَ نَجْعَلَ لَہُ اٴَنْداداً) ۔
ہاں ! تم ہی توتھے جواپنے بُرے پرو پیگنڈ ے سے دست بردار نہیں ہوتے تھے ،اوردن را ت اپنے بُرے مقاصد کی پیش رفت کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے . یہ ٹھیک ہے کہ ہم قبول کرنے میں آذاد تھے ، اورقصور وار وگنہگار ، لیکن عامل فساد ہونے کے بناء پر تم بھی جوابدہ اور گنہگار ہو ، بلکہ سنگِ بنیاد توتمہارے ہی ناپاک ہاتھوں سے رکھا گیا،خاص طور پر جبکہ تم ہمیشہ ہی اپنی قدرت و طاقت اور قتدار کی بناء پر بات کرتے تھے ” تاٴ مروننا “ کی تعبیر اس مطلب پر گواہ ہے ۔
یہ بات صاف طور پر واضح اورظاہر ہے کہ مستکبرین اس بات کا کوئی جواب نہیں دیے سکتے تھے ، اوراس عظیم جرم میں اپنی شرکت کا انکار نہیں کرسکتے تھے ۔
لہٰذا دونوں گروہ اپنے کیے پر پشیمان ہوں گے ، مستکبرین تو دوسروں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے اور مستضعفین ان بُرے وسوسوں کو بلا قید وشرط قبول کرنے کی وجہ سے ” لیکن جس وقت عذابِ الہٰی کو دیکھیں گے تواپنی ندامت وپشیمانی کوچھپائیں گے کہ کہیں ا ور زیادہ رسوانہ ہوجائیں ، اورہم طوق وزنجیر کافروں کی گردن میں ڈال دیں گے “ (وَ اٴَسَرُّوا النَّدامَةَ لَمَّا رَاٴَوُا الْعَذابَ وَ جَعَلْنَا الْاٴَغْلالَ فی اٴَعْناقِ الَّذینَ کَفَرُوا ) ۔
اگرچہ اس جہان میں کہ جوہر چیز کے ظاہر ہوجانے کا دن ہے اوراس دن کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھی جاسکے گی ، کسی چیز کو چھپانے کاکوئی فائدہ نہیں ہے ، لیکن وہ اپنی اسی پرانی عادت کے مطابق کہ جو وہ دنیا میں رکھتے تھے ، اس خیال سے کہ وہ (یہاں بھی ) اپنی حالت کوچھپاسکتے ہیں چھپانے کی کوشش کریں گے ۔
ہاں ! وہ دنیا میں بھی جس وقت اپنی غلطی کومحسوس کرتے تھے ، اوراس پرنادم وپشیمان ہوتے تھے تواظہار ِ ندامت کی جراٴت ... جو تجدید ِ نظر اور باز گشت کے لےے ضروری تھی . نہیں رکھتے تھے ، اوراپنی اسی اخلاقی خصوصیت کو قیامت میں بھی استعمال کریں گے ، لیکن کیا فائدہ ؟
بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیاہے کہ یہ ندامت کو پنہاں رکھنا عذاب ِ الہٰی کے مشاہدہ اور ان کی گردن میںطوق و زنجیر کے پڑنے سے شدتِ وحشت کی نباء پرہوگا ان کے سانس ان کے سینوں میں رک جائیں گے ، اوران کی زبان بات کرنے سے عاجز ہوگی ۔
اگر چہ قیامت کے دوسرے مواقف میں وہی لوگ ” یاویلنا انّ کنّا ظالمین “ ہائے افسوس ! ہم ہی ظالم تھے “ کہ فریاد کریں گے ۔ ( انبیاء . ۱۴) ۔
بعض نے یہاں ”اسرا ر “ کامعنی ” اظہار “ کیاہے اور کہا ہے کہ یہ لفظ عربی زبان میں دو متضاد معانی میں استعمال ہوتاہے ، اور اس کی مثالیں کم نہیں ہیں . لیکن قرآ ن میں بھی اور غیرقرآن میں بھی اس لفظ ”اسرار “ کے مواقع استعمال کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ معنی بعید نظر آتاہے کیونکہ ”سر “ عا م طور پر ”علن “ کے مقابلہ میں آتا ہے ،اور راغب نے بھی ” مفردات “ میںاس قول کے ضعیف ہونے کی تصریح کی ہے ، اگر چہ بعض علماء لغت نے دونوں معانی کی طرف اشارہ کیا ہے ( ۲) ۔
بہرحال یہ ان کے اپنے ہی اعمال کانتیجہ ہے کہ جوانہوں نے پہلے سے فراہم کیاہے ، ” کیا انہیں کوئی اورجزاٴ ... سوائے ان اعمال کے کہ جو وہ انجام دیاکرتے تھے . ملے گی “ ( ہَلْ یُجْزَوْنَ إِلاَّ ما کانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔
ہاں ! یہ کفار و مجرمین کے اعمال وکر دار ہی ہوں گے ، جو اُن کی گردن اور ہاتھ پاؤں میں قید کی زنجیر وں کی صورت میںڈال دی جائے گی ، وہ اِس جہان میں بھی ہوائے نفس اورزرو و زور اورپستی و بلندی کے اسیر تھے ، اور قیامت میں جباعمال مجسم ہو کر سامنے آئیں گے تووہی قیدیں دوسری شکل میں ظاہر ہوں گی ۔
اوپر والی آیت ایک مرتبہ پھر تجسمِ اعمال کے مسئلہ کو، جس کی طرف ہم نے بار ہا اشارہ کیا ہے ،واضح کررہی ہے ، کیونکہ وہ یہی بات کہہ رہی ہے کہ ” ان کی جزاء خود انہیں کے اعمال ہیں “ اورتجسمِ اعمال کے لیے اس سے زیادہ ظاہر وواضح اورکون سی تعبیرہوگی ۔
” الذین کفروا “ کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ اغواٴ اور گمراہ کرنے والے مستکبر بھی اسی انجام کو پہنچیں گے اور اغواٴ اور گمراہ ہونے والے مستضعف اورسب کافر بھی اسی انجام میں گرفتار ہوں گے ، اور اصولی طور پر اس وصف کاذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے ، کہ ان کی مجازات اورسز ا کی علت وہی ان کاکفر ہے ۔
۱ ۔ ” یرجع “ فعل لازم کی شکل میں بھی استعمال ہوتاہے ،اور فعل متعدی کی شکل میں بھی . اور یہاں دوسری شکل میں ہے اور جاع اورلوٹانے کامعنی دیتاہے اور چونکہ اس کے بعد (بعضھم الی بعض ) آیاہے لہٰذا نتیجہ ” مفاعلة “ کامعنی دیتاہے ۔
۲۔ ” لسان العرب “ میں مادہ ” سر “ کے ذیل مین اس سلسلہ میں فصیلی بحث کی گئی ہے ، اور اہل لغت وادب کے اس بارے میںاختلاف کونقل کیاہے ( جلد ۴ ، صفحہ ۳۵۷) ۔
سوره سبأ / آیه 34 - 38سوره سبأ / آیه 31 - 33
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma