۲۔ گفتگو کے آداب

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 17
3۔ معاشرتی آداب۱۔ چلنے پھرنے کے آداب

لقمان کے پندونصائح میں بات کرنے کے آداب کے ضمن میں اشارہ کیا گیا تھا، اور اسلام میں اس مسئلہ کے لیے ایک وسیع باب کھولا گیا ہے۔ منجملہ اس کے یہ ہے کہ جب تک بات کرنا ضروری نہ ہو تو سکوت بہتر ہے۔
ایک حدیث میں امام جعفرصا دق علیہ السلام سے منقول ہے:
”السکوت راحة للعقل “ ”سکوت ، فکرکے آرام اور راحت کا باعث ہے“۔(1)
ایک اور حدیث میں امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ :
”من علا مات الفقہ العلم والحلم والصمت، ان الصمت باب من اٴبواب الحکمة۔
”عقل وفہم کی نشانیوں میں سے آگاہی، بردباری اور خاموشی ہے۔ سکوت اور خاموشی حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے (2)
لیکن دوسری روایات میں یہ بات بھی زوردے کر کہی گئی ہے کہ : ”جن مو قعوں پر گفتگو کرنا ضروری ہے موٴ من کو کبھی بھی خاموشی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔“ ”پیغمبروں کو بات کرنے کی دعوت دی گئی ہے نا کہ سکوت کی۔“ ”جنّت میں پہنچنے اور دوزخ سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ بر محل بات کرنا ہے“۔(3)
1۔ وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲.
2۔وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲.
3۔ وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۳۲.
3۔ معاشرتی آداب۱۔ چلنے پھرنے کے آداب
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma