۱۔ لقمان کون تھے ؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 17
۲۔ لقمان کی حکمت کا ایک نمونہ ماں باپ کا احترام
حضرت لقمان کا نام قر آن مجید کی اس سورت کی دو آیات میں آیا ہے :آیا وہ پیغمبر تھے یا صرف ایک دانا اور صاحب حکمت انسان تھے ؟قر آن میں اس کی کوئی وضاحت نہیں ملتی ، لیکن ان کے بارے میں قر آن کا لب ولہجہ نشان وہی کرتا ہے کہ وہ پیغمبر نہیں تھے کیونکہ عام طور پر پیغمبروں کے بارے میں جو گفتگو ہوتی ہے اس میں رسالت ، توحید کی طرف دعوت، اشرف اور ماحول میں موجود بے راہ روی سے نبرد آزمائی ، رسالت کی ادائیگی کے سلسلہ میں کسی قسم کی اجرت کا طلب نہ کرنا نیز اُمتوں کو بشارت وانذاز کے مسائل وغیرہ دیکھنے میں آتے ہیں، جبکہ لقمان کے بارے میں ان مسائل میں سے کوئی بھی بیان نہیں ہوا، صرف ان کے پندونصائح بیان ہوئے ہیں جو اگر چہ خصوصی طور پر تو ان کے اپنے بیٹے کے لیے ہیں لیکن ان کا مفہوم عمومی حیثیت کا حامل ہے اور ہی چیز اس بات پر گواہ ہے کہ وہ صرف ایک مردحکیم ودانا تھے۔
جو حدیث پیغمبر گرامی اسلامصلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل ہوئی ہے اس طرح درج ہے:
”حقًا اقول لم یکن لقمان نبیّاً ںلٰکن کان عبداً کثیر التفکر، حسن الیقین، احب ا للهفاٴحبّہ ومن علیہ بالکحمة.....“
یعنی سچی بات بات یہ ہے کہ لقمان پیغمبر نہیں تھے بلکہ وہ الله کے ایسے بندے تھے جو زیادہ غور وفکر کرتے، ان کا ایمان ویقین اعلیٰ درجے پر تھا، خدا کو دوست رکھتے تھے اور خدا بھی انھیں دوست رکھتا تھا اور الله نے انھیں اپنی نعمتوں سے مالا مال کردیا تھ.....۔
بعض توایخ میں ہے کہ لقمان مصراور سوڈان کے لوگوں میں سے سیاہ رنگ کے غلام تھے باجودیکہ اُن کا چہرہ خوبصورت نہیں تھا لیکن روشن دل اور مصفاروح کے مالک تھے وہ ابتدائے زندگی سے سچ بولتے اور امانت کو خیا نت سے آلودہ نہ کرتے اور جو موراُن سے تعلق نہیں رکھتے تھے اُن میں دخل اندازی نہیں کرتے تھے۔ (۱)
بعض مفسرین نے اُن کی نبوت کا احتمال دیا لیکن جیساکہ ہم کہہ چکے ہیں اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ واضح شواہد اس کے خلاف موجود ہیں۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ ایک شخص نے لقمان سے کہا کیا ایسانھیں ہے کہ آپ ہمارے ساتھ مل کرجانور چرایا کرتے تھے ؟ آپ نے جواب میں کہا ایساہی ہے ! اس نے کہا تو پھرآپ کو یہ سب علم وحکمت کہاں سے نصیب ہوئے ؟ لقمان نے فرمایا: ”قدراللّٰہ واداء الا مانة وصدق الحدیث والصمت عمالا یعنینی“ اللہ کی قدر، امانت کی ادائیگی ، بات کی سچائی اور جو چیز مجھ سے تعلق نہیں رکھتی اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے سے !! (۲) ۔

حدیث بالا کے ذیل میں آنحضرت سے روایت یوں بھی نقل ہوئی ہے کہ:
ایک دن حضرت لقمان دوپہر کے وقت آرام فرمارہے تھے کہ اچانک انھوں نے ایک آواز سنی کہ:
اے لقمان ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ خداوندعالم آپ کو زمین میں خلیفہ قراردے تاکہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں ؟ لقمان نے اس کے جواب میں کہا کہ اگر میراپر وردگار مجھے اختیار دے دے تو میں عافیت کی راہ کو قبول کروں گا کیونکہ میں جانتاہوں کہ اگر اس قسم کی ذمہ داری میرے کندھے پر ڈال دے گا تو یقینا میری مددبھی کرے گا اور مجھے لغزشوں سے بھی محفوظ رکھے گا۔
فرشتوں نے اس حالت میں کہ لقمان انھیں دیکھ رہے تھے کہا اے لقمان کیوں (ایسا نہیں کرتے) ؟ تو انھوں نے کہا اس لیے کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا سخت ترین منزل اور ہم ترین مرحلہ ہے اور ہر طرف سے ظلم وستم کی موجین اس کی طرف متوجہ ہیں اگر خدا انسان کی حفاظت کرے تو وہ نجات پاجائے گا لیکن اگر خطاکی راہ پر چلے تو یقینا جنّت کی راہ سے مخرف ہوجائے گا اور جس شخص کا سردنیا میں جھکا ہوا اور آخرت میں بلند ہو اس سے بہتر ہے کہ جس کا سردنیا میں بلند اور آخرت میں جھکا ہوا ہوا اور جو شخص دنیا آخرت پر ترجیح دے تو نہ تو وہ دنیا کو پاسکے گا اور نہ ہی آخرت کو حاصل کر سکے گا۔
فرشتے لقمان کی اس دلچپ گفتگو اور منطقی باتوں سے متعجب ہوئے ۔لقمان نے یہ بات کہی اور سو گئے اور خدا نے نور حکمت اُن کے دل میں ڈال دیا جس وقت بیدار ہوئے تو اُن زبان پرحکمت کی باتیں تھیں .....(۳)
۱۔ ”قصص قرآن“ (شرح حالات لقمان) .
۲۔ مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں.
۳۔ مجتمع البیان جلد ۸ ص۳۱۴ زیر بحث آیہ کے ضمن میں .
۲۔ لقمان کی حکمت کا ایک نمونہ ماں باپ کا احترام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma