دوسروں نے کیا پیدا کیا؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 17
سوره لقمان / آیه 12 - 15سوره لقمان / آیه 10 - 11

اس بحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں قرآن اور اس ایمان کے بارے میں تھی موجودہ دو آیات میں توحید کے بارے میں ایک اور دلیل کا ذکر ہے جو عقیدہ کی نہایت بنیادی اصل ہے۔
پہلی آیت میں پروردگار عالم کی آفرینش کے پانچ حصّوں کی طرف اشارہ ہو تا ہے جو آپس میں اٹوٹ رشتہ رکھتے ہیں (آسمان خلقت، کرات کا فضا میں معلق ہو نا، زمین کا ا پنی جگہ برقرار رہنا، پہاڑوں کی پیدائش اور پھر جانداروں کی تخلیق، اس کے بعد پانی اور نباتات کی پیدائش جوان کی غذاکا ذریعہ ہیں) ۔ چنانچہ فرماتا ہے :
خدا نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر پیداکیا ہے جو قابل رؤیت ہوں: (خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا) ۔
”عمد“(بروزن قَمرَ) عمودکی جع ہے جس کا معنی ہے ستون، اور سے ”تَرَوْنَھَا“ کے ساتھ مقید کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ آسمان مرئی (دیکھے جا نے والے) ستون نہیں رکھتے ۔ با الفاظ دیگر اس کے ستون توہیں لیکن قابل رؤیت نہیں۔ چنانچہ اس سے پہلے بھی ہم سورہ رعدکی تفسیر میں کہہ چکے ہیں کہ یہ تعبیر قانون جاذبہ ودافعہ (کشش ثقل) کی جانب ایک لطیف اشارہ ہے جونظرنہ آنے والے بہت ہی قوی ستونوں کی طرح آسمانی کرات کو اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اس حدیث میں جسے ”حسین بن خالد“ نے امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے نقل کیا ہے، اس معنی کی تصریح موجود ہے، امام نے فرمایا:
”سبحان اللّٰہ الیس اللّٰہ یقول بغیر عمد ترونھا ؟ قلت بلیٰ ، فقال : ثم عمدولٰکن لا ترونھا“
”سبحان اللہ !کیا خدا نہیں فرماتا بغیر ستونوں کے کہ جہنیں تم مشاہدہ کرو“؟
راوی کہتا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں ! تو فرمایا :
پس ستون ہیں لیکن تم انھیں نہیں دیکھ پاتے (۱) (۲) ۔
بہرحال اُوپر والا جملہ قرآن مجید کے علمی معجزات میں سے ایک ہے جس کی مزید تفصیل سورہ رعد کی آیہ ۲ کے ذیل میں (جلد۱۰ صفحہ ۱۰۷میں) لائے ہیں۔
اس کے بعد ”پہاڑوں کی آفرینش “ کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ”خدا نے زمین میں پہاڑ رکھےّ ہیں تاکہ زمین تمھیں مضطرب اور متزلزل نہ کرے “: (وَاٴَلْقَی فِی الْاٴَرْضِ رَوَاسِیَ اٴَنْ تَمِیدَ بِکُمْ) ۔(۳)

یہ اور اس قسم کی دوسری قرآنی آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ پہاڑ زمین کے ٹھہراؤ اور ثبات کا ذریعہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں علمی لحاظ سے بھی کہ ان کی جڑ یں ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں جو ایک محکم زرہ کی طرح کرّہُ ارض کو ندرونی حرات سے پیدا ہو نے والے دباؤ کے مقابلہ میں محفوظ رکھتے ہیں۔ اور اگر یہ ہو تے تو نہایت خطرناک اور تباہ کن زلزلے اس قدرہو تے کہ شاید کسی بھی انسان کو گی گزار نے کی مجال ہی نہ ہوتی۔
اوراس لحاظ سے بھی کہ یہ مضبوط اور محکم طبقہ چاند اور سورج کی کشش کے دباؤ کا سختی سے مقابلہ کرتا ہے اور اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین کی خاکی پوست میں سندروں جیسے عظیم مدد جزر پیدا ہوتے جو انسان کے لیے زندگی کو نا ممکن بنادیتے۔
اور اس لحاظ سے بھی کہ آندھی اور طوفان کے دباؤ کو کم کردیتے ہیں، اور زمین سے ملحق ہوا کے باہمی ملاپ کو زمین کی وضعی حرکت کے موقعہ پر کم سے کم حد تک پہنچادیتے ہیں، اگر یہ نہ ہوتے تو صفحہ ارضی خشک اور بے آب و گیاہ صحراؤں کے مانند تمام دن رات تباہ کن طوفانوں، آندھیوں اور جھکڑوں کی آماجگاہ ہوتا۔(۴)
اب جبکہ غیر مرئی (دکھائی نہ دینے والے) ستونوں کی وجہ سے آسمان کے سکون اور پہاڑوں کے ذریعہ زمین کے سکون کی نعمتوں کی بات پوری ہوگئی تو زندہ موجودات کی آفرینش اور ان کے آرام و سکون کی نوبت آتی ہے کہ وہ سکون اور آرام وہ ماحول اور عرصہ حیات میں قدم رکھتے ہیں خدا فرماتا ہے ”اور روئے زمین میں ہر چلنے والے کو پھیلادیا“(وَبَثَّ فِیھَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ)
”مِنْ کُلِّ دَابَّة“کی تعبیر چلنے پھرنے والے جانوروں کی زندگی کے مختلف اور گونا گوں پہلوؤں کی طرف اشارہ ہے۔ ان جانداروں سے لے کر جو اس قدر چھوٹے ہیں کہ آنکھ سے نظر نہیں آتے اور ہمارے سارے ماحول کو پُر کر رکھا ہے، غول پیکر اور کوہ پیکر جانوروں تک جو عظیم الجثہ ہوتے ہیں کہ انھیں دیکھ کر انسان وحشت زدہ ہوجاتا ہے۔
اسی طرح وہ جانورجن کے رنگ اور چہرے مختلف ہوتے ہیں کچھ تو فضا میں اڑتے والے پرندے اور زمین پر رینگنے والے اور گونا گون حشرات کہ جن میں سے ہر ایک کی اپنی علیحدہ دنیا ہے اور مسائل زندگی کو لاکھوں آئینوں میں منعکس کرتے ہیں۔
اور پھر یہ بھی واضح ہے کہ چلنے پھرنے والے یہ جاندار آب و غذا کے محتاج ہیں لہٰذا بعد والے جملوں میں ان دو موضوعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ”ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس کے ذریعہ روئے زمین پر انواع و اقسام کی نباتات کے قیمتی جوڑے اگائے“: (وَاٴَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَنْبَتْنَا فِیھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیمٍ)
اور اس طرح سے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں خصوصاً انسان کی زندگی کی بنیاد کو پانی اور نباتات تشکیل دیتے ہیں لہٰذا اسے بیان کررہا ہے، ایسا دستر خواں جو انواع و اقسام کی غذاؤں کے ساتھ تمام روئے زمین پر بچھا ہوا ہے جس میں سے ہر ایک آفرینش و خلقت کے لحاظ سے پرورگار کی عظمت و قدرت پر دلیل ہے۔
قابل توجہ یہ کہ پہلے تین حصّوں کی آفرینش کے بیان میں افعال کو غیب کے صیغوں کے ساتھ بیان کیا ہے، جب نزول باراں اور نباتات کی پرورش کے مسئلہ پر پہنچا ہے تو افعال کو متکلم کی صورت میں پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے:
”ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا اور ہم نے ہی زمین میں نباتات کو اگایا۔“
یہ خود فصاحت کا ایک فن ہے کہ مختلف امور کے ذکر کے وقت انھیں دو یا جن مختلف شکلوں میں بیان کرتے ہیں تاکہ سننے والے کو کسی قسم کی تھکاوٹ یا اکتاہٹ کا احساس نہ ہو۔ علاوہ ازیں یہ تعبیر نشان دہی کرتی ہے کہ بارش کے نزول اور نباتات کی پرورش پر خاص توجہ دی گئی ہے۔

یہ آیت ایک بار پھر ”عالم نباتات میں زوجیت“کی طرف اشارہ کرت ہے جو قرآن کے علمی معجزات میں سے ایک ہے کیونکہ اس زمانے میں عالم نبا تات میں زوجیت (نرو مادہ کی جنس کا وجود) کا تصور وسیع طور پر ثابت نہیں ہوا تھا اور قرآن ہی نے اس سے پردہ اُٹھایا ہے ۔(اس مسئلہ کے سلسلہ میں مزید تشریح کے یسے سورہ شعراء کی آیہ ۷کے ذیل میں تفسیر نمونہ جلد (۱۰) کا مطالعہ فر مائیں) ۔
یہ بات بھی تباتے چلیں کہ نبا تات کے جفت کی ”کریم “کے ساتھ تو صیف ، انواع واقسام کی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جوان میں موجود ہیں۔
عالم آفرینش میں خدا کی عظمت اور خلقت کے مختلف پہلووٴں کے ذکر کے بعدرو ئے سخن مشرکین کی طرف کرتے ہوئے اور ان کو جواب دہ قرار دے کر ان سے جواب طلبی کرتے ہوئے کہتا ہے ”یہ خدا کی آفرینش و خلقت ہے لیکن مجھے یہ دکھاوٴ کہ اس کے علاوہ جو معبود ہیں انھیں نے کسی چیز کو خلق کیا ہے ؟”ھٰذَا خَلْقُ اللهِ فَاٴَرُونِی مَاذَا خَلَقَ الَّذِینَ مِنْ دُونِہِ“۔
یقیناوہ یہ دعویٰ ا نہیں کرسکتے تھے کہ اس جہان کی مخلوقات میں سے کوئی بھی چیز بتوں کی تخلیق ہے اسی بناء پر وہ توحید خالقیت کے تو معترف تھے لیکن اس حالت میں وہ کس طرح عبادت میں شرک کی توجیہ کرسکتے تھے؟ کیونکہ خالقیت کی توحید، ربوبیت کی توحید اور مد بر عالم کی یکتائی یہ سب کچھ عبودیت میں توحید کی دلیل ہے۔
لہٰذا آیت کے آخر میں ان کے عمل کو ظلم و گمراہی پر مبنی شمار کرتے کہتا ہے” لیکن ظالم واضح گمراہی میں ہیں“(بَلْ الظَّالِمُونَ فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ) ۔
ہر ایک کو معلوم ہے کہ” ظلم“ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، جو کسی چیز کو اس کے غیر محل میں قرار دینے کو شامل ہے اور چونکہ مشرکین عبادت کو اور گا ہے تدبیر کو بتوں کے اختیار میں قرار دیتے تھے۔ لہٰذا عظیم ترین ظلم و ضلالت کے مرتکب تھے۔
یادر ہے اوپر والی تعبیر”ظلم“ و”ضلالت“ کے در میان باہمی رابطے کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کیونکہ انسان جب اس دنیا میں عینی موجودات کی حیثیت اور ان کے مواقع و محل کو نہ پہنچانے یا پہچانےتو سہی لیکن ای کی رعایت نہ کرے اور ہر چیز کو اس کے اپنے مقام میں نہ دیکھے تو یقیناً یہ ظلم اس کی ضلالت و گمراہی کا سبب بن جائے گا۔
۱۔ ”تفسیر برہان“ جلد ۲ صفحہ ۲۷۸.
۲۔ جو لوگ آیہ بالا کو مطلق ستونوں کی نفی کی دلیل سمجھتے ہیں مجبور ہیں کہ آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہوں۔ اور کہیں کہ آیہ در اصل یوں ہے”خلق السماوات ترونھا بغیر عمد“ جو یقینا خلاف ظاہر ہے۔
۳۔ ”تمید“ ”مید“ بروزن”صید“ کے مادہ سے اشیاء عظیم کے تزلزل و اضطراب کے معنی میں ہے اور ”ان تمید بکم“ کا جملہ نحوی لحاظ سے (لئلا تمید بکم) ہے۔
۴۔ مزید و فضاحت تفسیر نمونہ کی جلد ۱۰ صفحہ ۱۱۰ کے بعد کے صفحات کا مطالعہ فرمائیں۔
سوره لقمان / آیه 12 - 15سوره لقمان / آیه 10 - 11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma