۱۔ غناکی حرمت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 17
۲۔ غنا کیا ہے؟غنا شیاطین کے بڑے جالوں میں سے ایک جال ہے
اس میں شک نہیں کہ غنا (گانا) مشہور شیعہ علماء کی نظر میں حرام ہے اور اجماع واتفاق کی حد تک شہرت رکھتا ہے ۔
بہت سے علماء اہل سنّت بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔اگر چہ کچھ کوگ استثناء کے بھی قائل ہوئے ہیں اور شاید ان میں سے بعض استثناء در حقیقت استثنا ء نہ ہوں بلکہ ان کا شمار غنا کے موضوع سے خارج ہو ۔(جیسے اصطلاح میں ”تخصص “کے لحاظ سے خارج کہا جاتا ہے) ۔
”قربطی “زیر بحث آیات کے ذیل میں اس بارے میں یوں کہتے ہیں ”بعض لوگوں کے در میان جو غنا اور گانا معمول ہے وہ وہ ہے جب عورتوں کے بارے میں عشقیہ اشعار ، ان کے حسن وجمال کی تعریف اور شراب وکباب اور دوسرے محرمات کا تذ کرہ ہو ۔تو ایسی صورت میں تمام علماء اس کی حر مت پر متفق ہیں ۔کیونکہ یہ لہود لعب اور غنائے مذ موم کا مصداق ہے ۔لیکن اگر ان امور سے خالی ہو تو اس کا کچھ حصہ عید اور شادی کے جشنوں میں جایز ہو تاہے ۔اور اسی طرح مشکل کا موں کے انجا م دینے کے وقت فرحت اور نشاط بخشنے کے لیے گاتے ہیں جیسا کے تاریخ اسلام میں خندق کھودنے کے سلسلہ میں ملتا ہے ، یا جو اشعار ”انجشہ “نے قافلوں کے مکہ کی طرف چلنے کہ وقت حجةالوداع کے موقعہ پر اونٹوں کے لیے پڑھے تھے۔ لیکن موجودہ زمانہ میں جوکچھ ”صوفیا“کے درمیان معمول ہے کہ وہ اس سلسلہ میں انواع و اقسام کے آلات طرب اور نشاط استعمال کرتے ہیں ، حرام ہے(۱) ۔
قرطبی نے استثناء کی جو صورت بیان کی ہے مثلاً ”حدیث خوانی “ (مخصوص آواز میں گانا، جو اونٹو ں کے چلاتے وقت گایا جاتا ہے) یا وہ مخصوص اشعارجو مسلمان خندق کھودتے وقت خاص طرز پڑ تھے احتمال قوی یہ ہے کہ یہ نہ تو غنا کی جزء تھے اور نہ ہیں ۔ ایسی طرح وہ اشعار بھی غنا نہیں آواز میں مذ ہبی جلسوں ، جشنوں اور عزاداری کے موقع پر پڑھے جاتے ہیں ۔
اسلامی مصادر کے لحاظ سے غنا کی حر مت پر ہمارے پاس بہت سے دلائل موجو ہیں جن میں سے ایک تو وہی اوپر والی آیت ”ومن الناس من یشتری لہو الحدیث....“ہے نیز اور بھی قر آنی آیات میں جو کم از کم ان روایات کی روسے جوان آیات کی تفسیر میںوارد ہوئی ہیں غنا اور گانے کی حر مت پرد لالت کرتی ہیں ۔یا ان کی روسے غنا اور گانا حرام ہوتا ہے ۔
ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے:
<واجتنبوا قول الزور (حج ۳۰) والی آیت کی تفسیر فر مایا :”قول الزور ، الغنا“۔
باطل بات ،غناہی تو ہے (۲)۔
نیز آپ ہی نے آیہ <والذین لا یشھدون الزور ۔(فرقان ۔۷۲) کی تفسیر میں فرمایا :
”اس سے مراد غنا ہے “(۳)
اور اسی زیر بحث آیت کی تفسیر میں متعد در روایات امام محمد باقرعلیہ السلام امام جعفرصادق علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام سے منقول ہیں کہ ”لھوالحدیث“ کے مصداقوں میں سے ایک مصداق جو ”عذاب مہین“ کا سبب ہے غنا اور راگ رنگ بتایا گیا ہے (۴) ۔
علاوہ ازیں، آیات کی تفسیر سے ہٹ کر اور بھی بہت سی روایات اسلامی کتابوں میں ملتی ہیں جو زورداراندز میں غنا کی حرمت کو بیان کرتی ہیں ۔
ایک حدیث جو جابربن عبداللہ انصاری نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے بیان کی ہے آپ فرماتے ہیں:
”کان ابلیس اول من تغنی ؛شیطان وہ پہلا شخص ہے جس نے گانا گایا“(۵)

ایک اور حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے مروی ہے:
”بیت الغناء لاتوٴ من فیہ الفجیعة، ولا تجاب فیہ الدعوة، و لایدخلہ الملک“
”جس گھر میں گانا گایا جاتا ہو وہ موت اور مصائب و آلام سے محفوظ نہیں ہوتا اور نہ تو اس میں دعا قبول ہوتی ہے اور نہ ہی فرشتے داخل ہوتے ہیں“۔(۶)
ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:
”بیت الغناء یورث النفاق ں یعقب الفقر“
”غنا روح نفاق کو پروان چڑھاتا اور فقر و فاقہ اور بدبختی وجود میں لاتا ہے“(۷)
امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے جس میں آپ(علیهم السلام) نے گانے والی عورت اور جو شخص اسے اجرت دیتا ہے اور جو اس کی کمائی کھاتا ہے ان سب کو ملعون اور رحمت خدا سے دور لوگوں کے زمرے میں شمار فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
”المغنیة ملعونة، ومن اداہا ملعون، واٰکل کسبہا ملعون“ (۸)
اہلسنت کے مشہور منابع میں بھی اس بارے میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔
منجملہ ان کے وہ روایت ہے جو ”در منثور“ میں محدّثین کی کثیر جماعت سے ابو امامہ کے ذریعہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل ہوئی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں:
”لا یحل تعلیم المغنیات ولا بیعہن و اثما نہن حرام“۔
”گانے والی عورتوں کو تعلیم دینا حلال نہیں ہے اور اسی طرح ان کنیزوں کی خرید و فروخت اور وہ چیز جو اس کے مقابلے میں لی جائے نیز حرام ہے“(۹)
اس سے ملتے جلتے معانی کو موٴلف ”التاج“نے ترمذی اور امام احمد سے نقل کیا ہے۔ ملاحضہ ہو، التاج جلد ۵ صفحہ ۲۸۷ ”ابن مسعود“نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل کیا ہے آپ نے فرمایا:
”الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل“
”غنا اور اگ رنگ، روح نفاق کو دل میں اس طرح پروان چڑھاتا ہے جس طرح پانی سبزہ جات کو“۔(10)
مجموعی طور پر جو روایات اس بارے میں نقل ہوئی ہیں اس قدر زیادہ ہیں کہ تو اتر کی حد تک پہنچتی ہیں۔ اسی بنا پر اکثر علماء اسلام نے اس کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے۔ علاوہ شیعہ علماء کے جو تقریباً اس بارے میں متفق القول ہیں، اس کی حرمت ابوحنیفہ سے بھی منقول ہے۔ اور جس وقت اہلسنت کے مشہور امام، احمد سے غنا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب میں کہا:
”ینبت النفاق؛ انسان کے اندر روح نفاق کو اگاتا ہے۔“
اسی طرح اہل سنت کے ایک اور امام، مالک نے اسی سوال کے جواب میں فرمایا:
”یفعلہ الفساق ؛ فاسق لوگ ہی اس کے پیچھے جاتے ہیں“
اور امام ”شافعی“نے تو صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ:
”گانے والوں کی شہادت (وگواہی) قابل قبول نہیں ہے اور یہ خود ان کے فسق کی دلیل ہے۔“
شافعی کے اصحاب سے بھی نقل ہوا ہے کہ وہ اس بارے میں ان کا فتویٰ حرمت پر مبنی جانتے ہیں، برخلاف اس کے جو بعض لوگوں نے خیال کیا ہے۔(11)
۱۔ تفسیر قرطبی، ج۷، ص۱۳۶
۲؛ ۳؛ ۴؛۵۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۲۲۵تا۲۲۷ ۔ ۲۳۱ باب ۹۹ تحریم الغنائ
6 و 7۔ وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۲۲۵۔۲۳۰.
8۔ سفینہ البحار جلد ۲ صفحہ ۳۳۸.
9۔ در منشور ذیل آیہ زیر بحث۔
10۔ تفسیر روح المعانی اسی آیہ کے ذیل میں۔
11.تفسیر روح المعانی اسی آ یہ کے ذیل میں ۔ 
۲۔ غنا کیا ہے؟غنا شیاطین کے بڑے جالوں میں سے ایک جال ہے
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma