نیکو کار کون لوگ ہیں؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 17
سوره لقمان / آیه 6 - 9سوره لقمان / آیه 1 - 5
یہ سورہ قرآن مجید کی عظمت و اہمیّت کے ذکر کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور حروف مقطعات کا اس کی ابتداء میں ہونا بھی اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ یہ آیات جو الف باء جیسے سادہ سے حروف سے مرکب ہیں اس قسم کے عظیم اور اعلیٰ مضامین کی حامل بھی ہیں جو انسانوں کی تقدیر یکسر بدل کررکھ دیتی ہیں:(الم) ۔
لہٰذا حروف مقطعات کے ذکر کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔”یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں“ :(تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْحَکِیمِ)
”تلک“ عربی زبان میں دور کے ارشارے کے لیے آتا ہے اور جیسا کہ ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ یہ تعبیر خاص طور پر ان آیات کی عظمت و اہمیّت پر دلالت کررہی ہے۔ گویا یہ آیات آسمان کی سی بلندی اور نہایت ارفع مقام حامل ہیں ۔
”کتاب “کو ”حکیم “کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے ۔اس کی وجہ یاتو اس کے مندر جات کا استحکام ہے کیونکہ باطل ہرگز اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ اور ہر قسم کی خرافات اور بیہودگی اس سے دور ہے۔ یہ کتاب سوائے حق کے کوئی بات نہیں کہتی اور راہ حق کے علاوہ کسی چیز کی دعوت نہیں دیتی۔ ٹھیک ”لَھْوَ الْحَدِیثِ“ (لغو اور بیہودہ باتوں) کے مقابلے میں ہے جس کا ذکر بعد میں آئے گا۔
یا پھر اس معنی میں ہے کہ یہ قرآن ایک دانشمند اور حکیم و دانا عالم کی طرح ہے جو خاموش رہ کر بھی بہ ہزار زبان گفتگو کرتا ہے، تعلیم دیتا ہے، پند و نصیحت کرتا ہے، تشویق و ترغیب و دلاتا ہے، عذاب سے ڈراتا ہے اور عبرت انگیز داستانیں بیان کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ ہر لحاظ سے حکمت سے لبریز ہے۔ اور یہ آغاز حضرت”لقمان حکیم“ کی باتوں سے براہ راست مناسبت رکھتا ہے جن کا اس سورہ میں تذکرہ ہے۔
البتہ اس میں کوئی حرج نہیں مذکورہ بالا آیت میں”حکمت“ کے دونوں معانی مراد لیے جائیں۔
بعد والی آیت نزول قرآن کا اصلی مقصدیوں بیان کرتی ہے”یہ کتاب حکیم نیکوکاروں کے لیے سبب ہدایت و رحمت ہے“( ھُدًی وَرَحْمَةً لِلْمُحْسِنِین) ۔
”ہدایت“ در حقیقت مقدمہ اور تمہید ہے”رحمت پروردگار“ کے لیے کیونکہ انسان پہلے نور قرآن کی روشنی میں حقیقت کو معلوم کرتا ہے اور اس پر عقیدہ رکھتا ہے اور اسے اپنے عمل کا پیش خیمہ بناتا ہے اس کے بعد اپنے پروردگار کی وسیع رحمت اور بے انتہا نعمتوں کا حقدار بنتا ہے۔
یہاں پر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیہ میں قرآن مجید کو”محسنین“ کے لیے ہدایت اور رحمت کا سبب شمار کیا گیا ہے اور سورہ نمل کی ابتدا میں”متقین“ کے لیے سبب ہدایت ذکر کیا گیا ہے: (ھُدًی وَبشریً لِلْمُوٴمنین)
اور سورہ بقرہ کی ابتدا میں”متقین“ کے لیے سبب ہدایت ذکر کیا گیا ہے: (ہدیً للمتقین)
ہوسکتا ہے کہ یہ مختلف تعبیریں اس لیے ہوں کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے بغیر حقائق کو قبول اور تسلیم کرنے کی روح انسان میں بیداری نہیں ہوتی اور نہ ہی طبیعی طور پر کوئی ہدایت کار گر ثابت ہوتی ہے۔ اور اگر حق کو قبول کرنے کے اس مرحلہ سے گزر جائیں اور ایمان کا مرحلہ آجائے تو پھر ہدایت کے علاوہ نعمات خداوندی کی بشارت بھی موجود ہوگئی۔
اور اگر ایمان اور تقویٰ کے مراحل سے گزر کر عمل صالح کی حد تک جاپہنچیں تو وہاں رحمت خدا میں بھی اضافہ ہوگا۔
اسی بناء پر اوپر والی تین آیات بندگان خدا کے تدریحی کمال اور ارتقائی مراحل میں سے سلسلہ وارتین مراحل کو بیان کرتی ہیں۔ حق کو قبول کرنے کامرحلہ، ایمان کا مرحلہ اور عمل صالح کا مرحلہ۔ اور قرآن ان تینوں مراحل میں بالترتیب”ہدایت“ بشارت”رحمت“ کا سرمایہ ہے(غور کیجئے) ۔
بعد والی آیت محسنین کو تین اوصاف کے ساتھ متصف کرتے ہوئے کہتی ہے” وہ ایسے لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں“ : (الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلَاةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَھُمْ بِالْآخِرَةِ ھُمْ یُوقِنُونَ) ۔
ان کا خالق کے ساتھ نماز کے ذریعہ اور مخلوق کے ساتھ زکوٰة کے ذریعے اٹوٹ رابطہ ہے اور قیامت کی عدالت کے بارے میں یقین ان کا قوی سبب ہے کہ وہ گناہ سے پرہیز اور فرائض کو ادا کرتے ہیں۔
اور محل بحث آخری آیت میں” محسنین“ کی عاقبت اور انجام کار کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ” وہ اپنے پروردگار کے طریق ہدایت پر ہیں اور وہی رستگاری اور فلاح پانے والے ہیں“ : (اٴُوْلٰئِکَ عَلیٰ ھُدًی مِنْ رَبِّھِمْ وَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُونَ) ۔
”اٴُوْلٰئِکَ عَلیٰ ھُدًی مِنْ رَبِّھِم“ کا جملہ ایک طرف تو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ پروردگار ان کی ہدایت کا ضامن ہے اور دوسری طرف ”علیٰ“ کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ گویا ہدایت ان کے لیے ایک را ہوار اور مرکب ہے اور وہ اس پر سوار ہوکر مکمّل طور پر اسی پر مسلّط ہیں۔
اور یہاں پر اس ”ہدایت“ کا فرق اس ہدایت سے جو اس سورہ کے آغاز میں آئی ہے، واضح ہوجاتا ہے کیونکہ پہلی ہدایت حق کے قبول کرنے کی آمادگی ہے اور یہاں پر بیان شدہ ہدایت مقصد تک پہنچنے کا سرنامہ ہے۔
یادر ہے کہ ”اٴُوْلٰئِک ھمہ المفلحون“ کا جملہ جو عربی ادب کے مطابق حصرکی دلیل ہے اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ نجات اور فلاح کی راہ بس یہی ہے یعنی نیک لوگوں کی راہ ، ان کی راہ جو خدا اور خلق خدا کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہیں ، اور ان کی راہ جو مبداء اور معاد پر کامل ایمان رکھتے ہیں ۔
سوره لقمان / آیه 6 - 9سوره لقمان / آیه 1 - 5
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma