قرآن کریم کی نظر میں اعتکاف

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
اعتکاف ایک کامل عبادت
چند نکتے :مقدمہ
قرآن کریم کی نظر میں اعتکاف

قرآن مجید میں کلمہ اعتکاف ذکر نہیں ہوا ہے ، لیکن اس کے جیسے الفاظ قرآن کریم میں نو (٩) مرتبہ ذکر ہوئے ہیں ۔
ان آیات کی طرف توجہ فرمائیں :
١۔ سورہ بقرہ کی ١٢٥ ویں آیت میں ذکر ہوا ہے :
وَ ِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثابَةً لِلنَّاسِ وَ أَمْناً وَ اتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ ِبْراہیمَ مُصَلًّی وَ عَہِدْنا ِلی ِبْراہیمَ وَ ِسْماعیلَ أَنْ طَہِّرا بَیْتِیَ لِلطَّائِفینَ وَ الْعاکِفینَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُودِ ۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے خانہ کعبہ کو ثواب اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دے دیا کہ مقام ابراہیم کو مصّلی بناؤ اور ابراہیم علیہ السّلام و اسماعیل علیہ السّلام سے عہد لیا کہ ہمارے گھر کو طواف اور اعتکاف کرنے والوں او ر رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک و پاکیزہ بنائے رکھو۔
٢۔ قرآن کریم میں لفظ اعتکاف سے مشابہ دوسرا لفظ سورہ بقرہ کی ١٨٧ ویں آیت میں نظر آتا ہے ، اس طولانی آیت کے ایک حصہ میں ملتا ہے :
ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّیامَ ِلَی اللَّیْلِ وَ لا تُبَاشِرُوہُنَّ وَ أَنْتُمْ عاکِفُونَ فِی الْمَساجِدِ تِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ فَلا تَقْرَبُوہا کَذلِکَ یُبَیِّنُ اللَّہُ آیاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُون ۔ اس کے بعد رات کی سیاہی تک روزہ کو پورا کرو اور خبردار مسجدوںمیں اعتکاف کے موقع پر عورتوں سے مباشرت نہ کرنا۔یہ سب مقررہ حدود الٰہی ہیں ۔ان کے قریب بھی نہ جانا ۔اللہ اس طرح اپنی آیتوں کو لوگوں کے لئے واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ شاید وہ متقی اور پرہیزگار بن جائیں۔
٣۔ اعتکاف سے مشابہ تیسرا لفظ یعکفون ہے جو کہ سورہ اعراف کی ١٣٨ ویں آیت میں بیان ہوا ہے ۔ غور کریں :
وَ جاوَزْنا بِبَنی ِسْرائیلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلی قَوْمٍ یَعْکُفُونَ عَلی أَصْنامٍ لَہُمْ قالُوا یا مُوسَی اجْعَلْ لَنا ِلہاً کَما لَہُمْ آلِہَة قالَ ِنَّکُمْ قَوْم تَجْہَلُونَ ۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار پہنچا دیا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جوبہت ہی خضوع اور خشوع کے ساتھ اپنے بتوں کے گرد مجمع لگائے بیٹھی تھی، (اس وقت بنی اسرائیل نے) موسٰی علیہ السّلام سے کہا کہ موسٰی علیہ السّلام ہمارے لئے بھی ایسا ہی خدا بنادو جیسا کہ ان کا خدا ہے انہوں نے کہا کہ تم لوگ بالکل جاہل ہو۔
٤۔ سورہ طہ کی ٩١ ویں آیت میں لفظ اعتکاف سے مشابہ ایک دوسرا لفظ ذکر ہوا ہے :
قالُوا لَنْ نَبْرَحَ عَلَیْہِ عاکِفینَ حَتَّی یَرْجِعَ ِلَیْنا مُوسی ۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم اس کے گرد جمع رہیں گے (اور بچھڑے کی عبادت کرتے رہیں گے) یہاں تک کہ موسٰی ہمارے درمیان واپس آجائیں ۔
٥۔ لفظ اعتکاف سے مشابہ پانچواں استعمال گزشتہ دو آیتوں کی طرح بنی اسرائیل کے انحرافات کے سلسلہ میں سورہ طہ کی ٩٧ ویں آیت میں ذکر ہوا ہے ، توجہ فرمائیں :
قالَ فَاذْہَبْ فَِنَّ لَکَ فِی الْحَیاةِ أَنْ تَقُولَ لا مِساسَ وَ ِنَّ لَکَ مَوْعِداً لَنْ تُخْلَفَہُ وَ انْظُرْ ِلی ِلہِکَ الَّذی ظَلْتَ عَلَیْہِ عاکِفاً لَنُحَرِّقَنَّہُ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّہُ فِی الْیَمِّ نَسْفاً ۔ موسٰی نے کہا کہ اچھا جا دور ہوجا ، اب زندگانی دنیا میں تیری سزا یہ ہے کہ ہر ایک سے یہی کہتا پھرے گا کہ مجھے چھونا نہیں اور آخرت میں ایک خاص وعدہ ہے جس کی مخالفت نہیں ہوسکتی اور اب دیکھ اپنے خدا کو جس کے گرد تو نے اعتکاف کر رکھا ہے کہ میں اسے جلاکر خاکستر کردوں گا اور اس کی راکھ دریا میں اڑادوں گا ۔
٦۔ چھٹا استعمال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ سے متعلق ہے ۔ سورہ انبیاء کی ٥٢ ویں آیت میں اس طرح ذکر ہوا ہے :
ِاذْ قالَ لِأَبیہِ وَ قَوْمِہِ ما ہذِہِ التَّماثیلُ الَّتی أَنْتُمْ لَہا عاکِفُونَ ۔ جب انہوں نے اپنے مربی باپ(آذر) اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ بے روح مورتیاں کیا ہیں جن کے گرد تم حلقہ باندھے ہوئے ہو؟ ! ۔
٧۔ سورہ حج کی ٢٥ ویں آیت میں لفظ اعتکاف سے مشابہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اس آیت کی طرف بھی توجہ فرمائیں :
ِانَّ الَّذینَ کَفَرُوا وَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبیلِ اللَّہِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ الَّذی جَعَلْناہُ لِلنَّاسِ سَواء ً الْعاکِفُ فیہِ وَ الْبادِ وَ مَنْ یُرِدْ فیہِ بِِلْحادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْہُ مِنْ عَذابٍ أَلیمٍ ۔ بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے اور مسجد الحرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے تمام انسانوں کے لئے برابر سے قرار دیا ہے چاہے وہ مقامی ہوں یا باہر والے اور جو بھی اس مسجد میں ظلم کے ساتھ الحاد کا ارادہ کرے گا ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے ۔
٨۔ سورہ شعراء کی ٧١ ویں آیت میں گزشتہ آیت کی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے متعلق ملتا ہے :
قالُوا نَعْبُدُ أَصْناماً فَنَظَلُّ لَہا عاکِفینَ ۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور انہی کی مجاوری کرتے ہیں ۔
٩۔ ہماری بحث سے متعلق آخری استعمال سورہ فتح کی ٢٥ ویں آیت میں ہوا ہے ، مذکورہ آیت کے ایک حصہ میں ہم پڑھتے ہیں :
ہُمُ الَّذینَ کَفَرُوا وَ صَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ وَ الْہَدْیَ مَعْکُوفاً ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا اور تم کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو روک دیا کہ وہ اپنی منزل پر پہنچنے سے رکے رہے۔
چند نکتے :مقدمہ
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma