روحو ں سے رابطہ کے جلسہ کا نتیجہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
اس رابطہ کے مشکوک نکاتروحوں سے رابطہ کے جلسات میں میرے مشاہدے

روحو ں سے رابطہ کے جلسہ کا نتیجہ

ہم گزشتہ بحث میں اس نتیجہ پر پہونچے تھے کہ اس جوان نے دعویٰ کیا تھا اس نے آیت اللہ بروجردی کی روح سے رابطہ کیا ہے اوران سے ایک پیغام بھی دریافت کیا ہے ۔
ہم نے اپنے اطمینان اور تسلی کی خاطر کے لئے اس روح سے کو ئی ایسی نشانی مانگی جو اس بات پر دلالت کر سکے کہ وہ روح اپنے قول میں سچی ہے لیکن ہمیں جواب نہ مل سکا اور پھر رابطہ نہ ہوسکا،ہر بار کو ئی نہ کوئی روح دخل انداز ی کر تی اورہمارا سوال بدون جواب رہ جا تا،ہمارا اصرار تھا کہ کسی بھی حال میں آقائے بروجردی کی روح سے رابطہ کیاجائے لیکن اب معلوم ہورہا تھا کہ وہ روح بھی رابطہ نہ کر نے پرمصر تھی اور اس روح کا انکار اور عدم حضور بھی ایک ایسے مو قع پر تھا کہ جس سے انسان پو ری طرح مشکوک ہو جائے،اب اس کے بعد جوکچھ ہواتوجہ کریں:
اس کے فوراً بعد ہی میز شدت سے متحرک ہو ئی،معلوم ہوا کہ کسی سر گر دان روح سے رابطہ ہوا ہے، حسب سابق اس ا س سے بھی سوال کیا گیا تو یہ جواب ملا م ی س و ز م (یعنی میں جل رہی ہو ں)۔
دوبارہ اس سے سوا ل کیا گیا : تم کو ن ہو؟
جواب ملا کہ ج ی ن ک( جینک )۔
کہاں کی رہنے والی ہو؟
جواب ملا :اہ ل ت ب ت ( تبت کی رہنے والی ہوں)۔
اس مقام پر اس کی نجات کے لئے حاضر ین سے دعا کے لئے کہا گیا ،خیر یہ مر حلہ بھی گزرگیا لیکن ہم اس کے باوجود مصر تھے کہ مرحوم آیت اللہ برو جردی کی روح سے رابطہ کیاجا ئے،ہم نے صراحتاً یہ کہا کہ ان تین علامتوں میں سے کو ئی علامت معلوم کی جا ئے:
١۔ان سے اس نشانی کے سلسلہ میں سوال کیاجائے کہ جس سے ہم اور وہ واقف تھے ۔
٢۔ ہم ان سے ایک کلی سوال کریںگے اور وہ جواب عربی میں دیں گے اسلئے کہ آقای بروجردی کا عربی پر تسلط تھا اور خود اس جواب کے بقول روحیں کسی بھی زبان میں پیغام دے سکتی ہیں لہذا ہم آقای برجردی سے جواب کو عربی میں مانگ سکتے تھے ۔
٣۔ میں اپنے ذہن میں ایک مطلب آمادہ کرتا ہوں اور وہ اس مطلب کو بیان کریں گے ( اس لئے کہ ان لوگوں کا کہنا تھا روحیں انسانی ذہن کے مطالب بیان کرسکتی ہیں )
ان تمام سوالوں کے پیش کرنے کا مقصد یہ تھاکہ کسی بھی چیز کو دلیل کے بغیر قبول نہیں کرناہے ، اس لئے کہ کسی چیز کو بغیر غو رو فکر کئے ہوئے قبول کرنے سے نہ عقل راضی ہوتی ہے اور نہ ہی خدا راضی ہوتا ہے ،اس کے بعد ایک اور حادثہ پیش آیا چونکہ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ جو کچھ اس جلسہ میں پیش آیا ہے اسے بیان کروں ( وہ خواہ اچھے ہوں یا برے )
میز اچانک شدت سے لرزنے لگی ، معلوم ہو اکہ کسی روح سے رابطہ ہوا ہے اور یہ بھی معلوم ہواکہ یہ روح کوئی مفصل پیغام دیناچاہتی ہے اور وہ بھی القاء کے ذریعہ نہ میز کی حرکت کے ذریعہ ( ہم نے القاء کا طریقہ پہلے بیان کردیا ہے )۔
اس جوان نے بلافاصلہ قلم اور کاغذ مانگا اور ایک معین مقام پر اپنی نظریں جماکرکہنے لگا کہ اب تم اپنا مطلب بیان کرواور پھر لکھنا شروع کیا ، گویا کوئی اسے املاء لکھوارہا ہو ، وہ پیغام بعینہ میرے پاس موجود ہے ، اس ناشناس روح نے میرے نام ایک سخت پیغام دیا جو اس طرح ہے :
( ناصر شیرازی ! ہمارے سلسلہ میں کیا خیال کرتے ہیں ؟!) حالانکہ وہ خود صاحب عمامہ ہیں ،کیا روح کے وجود یا ان سے رابطہ کے منکر ہیں ،یہ اشتباہ نہ ہونے پائے کہ یہ عمل رابطہ کا ایک وسیلہ ہے نہ اس کو حاضر کرنے کا، آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس عمل کے لئے ریاضت کی ضرورت ہے ،بعض مشرک افراد (ہندی مرتاض) اس عمل کو انجام دینے پر قادر ہیں لہذا امتحان اور آزمائش کا خیال دل سے نکال دیں ... میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ دلیل کے بغیر قبول کریں ...جو چیز نہیں معلوم ہے اس کے سلسلہ میں تحقیق کریں ،اپنے بزرگوار اور دین کے راہنماؤں کی کتابوں کا مطالعہ کریں کہ جنہوں نے روحوں کے سلسلہ میں لکھا ہے اور وہ آپ زندوں سے اس طرح رابطہ کرتی ہیں ) .
یہیں پر رابطہ ٹوٹ گیا ، پہلے تو مجھے اس روح کی ضدو نقیض باتوں سے بڑا غصہ آیا اور جو ناروا نسبتیں دی ہیں ،اس سے متحیر ہواکہ ایک طرف تویہ کہہ رہی ہے کہ یونہی قبول نہ کرو، تحقیق اور مطالعہ کرو اور دوسری طرف یہ بھی کہہ رہی ہے کہ آزمائش اور امتحان کی فکر میں نہ رہو ، اب میں متحیر تھا کہ ان میں سے کس چیز کو قبول کروں؟
اور یہ کیسی نسبتیں تھیں جس سے اس نے ہمیں منسوب کیا اور برا بھلا کہا ، جب کہ میں نہ تو روح کا منکر تھا اور نہ ہی ان سے رابطہ کا بلکہ میں تو میز کے ذریعہ روحوں سے رابطہ کے مسئلہ کو جاننا چاہتا تھا اور اس سلسلہ میں کی جانے والی باتوں کی حقیقت کی تلاش میں تھا ۔
اس کے علاوہ میں نے حاضرین سے کہیں زیادہ اس موضوع کے تحت بزرگوں کی کتابوں کا مطالعہ کیا تھا ، اس روح نے مجھ سے جس طرح بھی سخت کلامی کی وہ آپ سے کیا چھپانا لیکن اس کے باوجود میں پیچھے نہ ہٹا بلکہ اس شہر میں روح سے رابطہ کرنے والے جتنے افراد تھے ، ان سب سے یہ کہہ دیا کہ اب اس کے بعد میرے لئے جورابطہ کیا جائے گذشتہ شروط کے علاوہ میری دو شرطیں اور ہیں :
١۔پہلی شرط یہ ہے کہ غصیلی روحوں سے رابطہ نہ کیا جائے اور دوسری شرط یہ ہے کہ ان سے کہا جائے کہ وہ برا بھلا نہ کہیں ، اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود میں نے اپنا سابق سوال دہرایا اور گذشتہ تین شرطیں بیان کیں ، ایسے عظیم مطلب کو دلیل کے بغیر قبول کرنا عقل کا کام نہیں ہے ۔
اس جوان نے شاید آج تک میرے جیسا ضدی انسان نہ دیکھا تھا ، اس نے دوبارہ کوشش کی تاکہ آقای بروجردی کی روح سے رابطہ ہوجائے، اسی اثنا میں میز حرکت کرنے لگی،جس سے معلوم ہوا کہ کسی روح سے رابطہ ہوا ہے ۔
( روح سے خطاب ہوا) کیا کوئی پیغام ہے ؟
میزحرکت میں آئی یعنی ہاں ! لہذا پیغام الفباء کی روش کے ذریعہ حاصل کیا گیا ، چ گ و ن ہ ا س خ و د ر ا ب ن م ا ی ا ن ی م ( کیایہ بہتر نہیں ہے کہ میں اپنے آپ کو ظاہر کردوں) ۔
یہ پیغام سنتے ہی حاضرین میں ایک عجیب حالت پیدا ہوگئی ، ہر ایک یہی سوچ رہاتھا کہ آخر روح کس طرح ظاہر ہوگی ، کتنا اچھا ہے کہ ہم روح کو جسم مثالی میں دیکھ سکیں گے اور ہمارے تمام شبہات اورابہامات دور ہوجائیں گے اور اس طرح ہر ایک کو یقین ہوجائے گا۔
میں نے بھی روح کو دیکھنے کے لئے اپنے آپ کو یہ تلقین کی کہ کہیں ایسانہ ہوکہ اس ماحول کی تاثیر میں آجاؤں اور قدرت تخیل کے ذریعہ میری نظروں میں ایک خیالی چیز مجسم ہوجائے ، بہرحال اس کے ظہورکا بڑی بے صبری سے انتظار کررہا تھا ۔
اچانک اس جوان کی حالت بگڑ گئی ، اس کی آنکھیںچھت کی طرف بندھ گئیں اوروہ چھت کے ایک گوشہ کی طرف دیکھنے لگا ، ایسا معلوم ہورہا تھا کہ وہاں کوئی نور ہے جسے وہ دیکھ رہا ہے ۔
اس کے بعد آہستہ سے اپنی آنکھیں بند کرلیں اب تو اس کی حالت پہلے سے زیادہ متغیر ہوچکی تھی ، اس نے اپنا سر میز پر رکھا اور چند لحظہ کے لئے خاموش ہوگیا ، کچھ دیر سکوت کے بعد سر اٹھایا اور آنکھیں کھولیں ، گویا معلوم ہورہا تھا کہ کسی گہرے خوا ب سے بیدار ہوا ہے یا کسی ہولناک خطرہ سے نجات پائی ہے ، نہایت خستہ اورخشمگین تھا لیکن آہستہ آہستہ اس کی حالت عاد ی ہوگئی ،پھرہم نے سوال کیا کہ آپ نے کیا دیکھ لیا جسے ہم نہ دیکھ سکے؟
اس نے جواب دیا: ایک محترم سید کو دیکھاکہ جن کی آنکھیں سرخ تھیں ۔
سوال۔ کیا وہ آیة اللہ بروجردی نہ تھے ؟
جواب۔ نہیں
سوال ۔ پھر وہ کون تھے ؟
جواب۔ نہیں معلوم
اوراس طرح جلسہ کے اختتام کاا علان کردیا گیا اور ہم آیة اللہ بروجردی کی روح سے خصوصی نشانی معلوم کرنے سے محروم رہے ، اس وقت رات کے ١٢ بج رہے تھے ۔
اس وقت سے آج تک میرے ذہن میں یہ سوال باقی ہے کہ ایک روح جب اطمینان خاطر کے لئے متجلی ہونا چاہتی ہے تو کیا اسے ہمارے سامنے مجسم ہونا چاہئے تھاجو حقیقت کی جستجو میں ہیں یا اس شخص کے سامنے مجسم ہونا بہتر تھاجو روحوں سے رابطہ میں رہاکرتاہے ، ہر چیز کو دیکھتاہے اور اسے مان چکا ہے؟
کیوں اس روح نے ہماری رعایت نہیں کی اور ہم کہ جو تحقیق کے لئے حاضر ہوئے تھے ہماری آنکھوں کے سامنے حاضر نہ ہوئی؟
کیوں آیة اللہ بروجردی کی روح ہمارے اتنے اصرار کے باوجود حتی ایک نشانی کے دینے اور رابطہ کرنے سے پرہیز کرتی رہی ؟
روحوں سے رابطہ کرنے والے کیوں ایسے نازک حالات میں شانہ خالی کرجاتے ہیں اور کیوں ان کی حالت بگڑ جاتی ہے ؟
یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کے جوابات سے ہم محروم رہے ، اب قضاوت آپ کے حوالہ ہے ، یہ وہ موارد ہیں جو اس رابطہ کو مشکوک اور علمی اساس سے برخوردار نہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں ۔
اس رابطہ کے مشکوک نکاتروحوں سے رابطہ کے جلسات میں میرے مشاہدے
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma