روحوں سے رابطہ کے جلسات میں میرے مشاہدے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
روحو ں سے رابطہ کے جلسہ کا نتیجہروحوں سے رابطہ کرنے کا جلسہ

روحوں سے رابطہ کے جلسات میں میرے مشاہدے

میں نے آپ لو گوں سے وعدہ کیا تھا کہ جو کچھ روحوں کو حاضر کئے جانے کے جلسات میں مشاہدہ کیا ہے اسے بعینہ بیان کروں اور اس کی قضاوت آپ کے حوالہ کروں،روحوں کو حاضر کئے جانے والے جلسات میں میرا حاضر ہو نا شاید ایک عملی اور دینی ضرورت یا واجب کفائی کے عنوان سے تھا ۔
مجھے سبزوار میں دوستوں نے ایک متقی اور باایمان جوان سے ملا قات کرائی جو میز کے ذریعہ روحوں کو حاضر کرنے میں بڑا ماہر تھا اور بااعتماد لو گوں میں سے شمار ہو تا تھا لہٰذا میں اپنے دوستوں کے ساتھ ایک رات روحوں کو حاضر کئے جانے والے مقام پر حاضر ہوگیا، یہ جلسہ خصوصی تھا اور رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔
لیکن کیوں شب وروز میں یہ گھڑی معین کی گئی ؟
بعض لو گوں کے قول کے مطابق تجربہ نے یہ بات ثابت کی ہے اور شاید خود روحوں نے خبر دی ہے کہ رابطہ کرنے کے لئے بہترین گھڑی رات میں بارہ بجے اور صبح میں ظہر سے دو گھڑی پہلے سے خود ظہر تک ہے،ان اوقات کے علاوہ کو ئی دوسرا وقت مناسب نہیں ہے اس لئے کہ روحوں کی زحمت کا بھی باعث ہے ۔
بہرحال جس مکان میں ہم لو گ حاضر ہو ئے تھے اس میں وہ میز بھی تھی لیکن اس جوان نے ایک دوسری میز انتخاب کی جو چھوٹی،مستطیل اور وزنی تھی ،اس کے بعد وہ جوان میز کے پاس کرسی پر اس طرح بیٹھ گیا کہ پوری میز اس کی دسترس میں تھی اور پھر اپنے ہاتھوں کو میز پر رکھ دیا۔
حاضرین نے اس جوان کا ساتھ دیتے ہوئے روحوں کی خوشنودی کی خاطر سورۂ حمد اور ایک دوسرے سورہ کی تلاوت کی ( ہم نے گزشتہ صفحات میں بیان کر دیا ہے کہ سورۂ حمد پڑھنا مستحب ہے واجب نہیں ہے) اور اپنی آنکھوں کو میز پر گا ڑ دی ،ہماری نظریں اس جوان اور میز پر گڑی ہوئی تھیں، اسی عالم میں اس جوان نے آہستہ سے کہا کہ رابطہ کرو،میں التماس کرتا ہوں رابطہ کرو(ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ وہ خاص روحوں سے رابطہ کرنا چاہتا تھا)
پھر وہ میز تھوڑی سی حرکت میں آئی ،اس جوان نے دوبارہ کہا کہ اپنا رابطہ اور قوی کرو... .۔
اچانک اس جوان کی طرف کے میز کے دوپا یہ ٢٠ سینٹی میٹر بلند ہو ئے (حاضرین میں سے ایک کو شک ہوا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ میز ہاتھوں کے فشار کی وجہ سے اٹھی ہے اور اس کا شک بھی بجا تھا لیکن حاضرین نے کہا کہ ہاتھوں کے فشار کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ خود بخود اس کے پا یہ بلند ہو ئے ہیں لیکن حقیقت جو بھی ہے ہمیں نہیںمعلوم ،صرف میز کی حرکت کے ذریعہ معلوم ہوا کہ کو ئی روح حاضر ہو ئی ہے ۔
لہٰذا سب سے پہلے مر تبط روح کی پہچان ، اس کا اپنااندازاور مطالب کو منتقل کرنے کی روش کو بیان کرنا بہتر ہے ۔
یہ قضیہ کچھ اس طرح ہے کہ اس جوان نے الفباء کو گننا شروع کیا ، جس حرف پر بھی میز کے پا یہ بلند ہوتے اس حرف کو حاضرین میں سے دو حضرات نوٹ کرلیتے اور دوبارہ میز کے پائے شدت سے زمین سے ٹکراتے ،اسی طرح رو ح کی طرف سے دیئے گئے پیغامات نوٹ ہوتے گئے ۔
بہت جلد ہمیں معلوم ہو گیا کہ مر تبط روح (ب.ر.ج.ر.د.ی)یعنی مر حوم آیت اللہ بروجردی کی رو ح ہے ،اس کے بعد میز کی حرکت سے معلوم ہوا کہ وہ روح کو ئی پیغام دینا چا ہتی ہے اور وہ پیغام میرے پاس موجود ہے جو بعینہ اس طرح ہے( ق ا ل و ل ل ہ رت ع ا ل ی ق و ل د ل ا ا ل ہ ال ی ا ل ل ہ ت ف ل ہ و)ان حروف کی ترکیب سے یہ مطلب سامنے آیا (قال اللّٰہ تعالیٰ !قولوا لا الہ اللّٰہ تفلحوا) لیکن جب ہم نے غور سے ان حروف کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ پیغام غیرواضح اورنادرست ہے ؛
اولاً: یہ کہ اس کے حروف جملہ سے پو ری طرح مطابقت نہیں کر تے ۔
ثانیاً: یہ کہ عربی میں ہمیشہ واو جمع کے بعد الف لکھا جا تا ہے لہٰذا (قولوا) اور (تفلحوا) کے بعد پیغام میں الف کو ہو نا چاہئے تھا جو نہیں ہے ۔
ثالثاً:( تفلحوا)حسے لکھا جاتا ہے لیکن پیغام میں ھ سے لکھا ہواہے جو مرحوم آیت اللہ بروجردی سے بعید ہے اس لئے کہ وہ اپنی علمی عظمت کے علاوہ ادبیات میں یدطولانی رکھتے تھے لیکن پہلے اعتراض کویہ سمجھتے ہو ئے رد کر دیاگیا کہ شاید پیغام کو دریافت کر نے میں خطا ہو ئی ہے اوردوسرے اعتراض کو اس طرح رد کر دیا گیاکہ تلفظ کرتے وقت جمع میں الف پڑھا نہیں جا تا اور تیسرے اعتراض کو بھی یہ کہتے ہو ئے رد کر دیا گیاکہ اس جوان نے پیغام کے آخری حصہ کوالقاء کی بنیاد پر لکھوایا تھا ( القاء یعنی کبھی روحوں سے رابطہ کر نے والے احساس کرتے ہیں ہیں کہ ان پر القاء ہو رہا ہے، اس دوران میز کی حرکت کی کو ئی ضرورت نہیں ہے ، اس پر پے در پے حروف القاء ہوتے ہیں اور وہ انہیں بلند آوازکہتا ہے جسے نوٹ کر لیا جا تا ہے)
ان تمام نکات سے چشم پو شی کی جا سکتی تھی لیکن اس کے باوجودایک نکتہ ایسا تھا کہ جسے اتنی آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا تھا .اور وہ یہ ہے کہ( قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا) رسول اللہ ۖکا کلام ہے لہٰذا قال رسول اللہ ۖکہنا چا ہئے تھا جب کہ قال اللہ کہا گیا ہے، ایسا اشتباہ کر نا آقا بروجردی کی رو ح سے غیر ممکن ہے . اس اعتراض کے مقابلہ میں ہمیں حق دیا گیا کہ ہم اس ر ابطہ کے سلسلہ میں شک کریں......
اس کے بعد ہم سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ آیت اللہ بروجردی کی روح سے کوئی سوال کر نا چاہتے ہیں تو میں نے کہا کہ البتہ آپ ان سے سوال کریں کہ حوزہ علمیہ کا مستقبل کیسا ہے ۔
(اس لئے کہ ان ایام میںچند اسباب کی وجہ سے ہم لو گ بہت پریشان تھے) دوبارہ رابطہ ہوا اور جواب ملا لیکن جواب کلی تھا، جس کی وضاحت کی ضرورت نہیں اس لئے کہ وہ جواب ہر ایک کو معلوم تھا ، چونکہ میں اس کلی اور مہم جواب پر قانع نہیں تھا لہٰذا میں نے ان سے کہا کہ آیت اللہ بروجردی اور ہمارے درمیان وہ خصوصی روابط جس سے کوئی دوسرا آگاہ نہ تھا، باخبر کریں تا کہ ہمیں یقین ہو جائے کہ وہ روح اپنے قول میں صادق ہے لیکن نامعلوم اسباب کی وجہ سے رابطہ منقطع ہو گیا اور ہم اس سوال کے جواب سے محروم رہے ۔
اس کے بعد حسب سابق دوبارہ میز متحرک ہو ئی اور رابطہ کے ہونے ہو نے کی خبر معلوم ہو ئی،مرتبط روح سے سوال کیا گیا: کیا تم آیت اللہ برو جردی ہیں کی روح ہو؟
میزتو متحرک نہیں ہو ئی لیکن یہ جواب ملا ف ق ی ہ یعنی معلوم ہوا کہ مر حوم فقیہ سبزواری کی روح سے رابطہ ہواہے.ہمارے دوبارہ سوال سے پہلے انھوں نے یہ پیغام دیا جو بعینہ یہ تھا بہتر تھا کہ آپ لوگ رسالہ کو اس طرح منتشر کر تے کہ جسے حاصل کر نا تشنہ جوانوں کے لئے آسان ہوتا( یہ پیغام بھی مہم تھا)لیکن ہم نے اپنا پہلا سوال دہرایا اور آیةاللہ بروجردی کی روح سے رابطہ کرنے کے لئے کہا لیکن تمام سعی و کو شش کے باوجود رابطہ کر نے سے محروم رہے ۔
انھیں لمحات میں دوبارہ میز حرکت میں اگئی اور کسی دوسری روح کے مر تبط ہو نے کی خبر معلوم ہو ئی جب اس سے سوال کیا گا کہ، اپنے کو پہچنواؤ تو جواب ملا :ژرژہا کوپبیان...!بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ایک مسیحی پادری کی روح ہے جو اس سے پہلے کئی مرتبہ حاضر ہو چکی ہے اوراسی کے بقول وہ اپنی عمر کے آخر ایام میں مسلمان ہو چکا تھا اورایک باتقویٰ انسان تھا۔
اس نے بھی پیغام دیا (م س ی ت ع ا ق ب ت ش ک س ت م ی خ و ر د)یعنی مسیحیت آخر کار شکست سے دوچار ہو گی ( یہ جواب بھی کلی تھا )۔
اس کے بعد پھر ہم نے وہی سوال دہرایا اور آقائے بروجردی کی روح سے رابطہ کرنے کے لئے کہا اور خصوصی علامت مانگی لیکن رابطہ نہ ہو سکا، یہ لمحات بڑے حساس تھے ، ہم مصر تھے کہ اس روح کو دوبارہ حاضر کیا جائے اور وہ نشانی معلوم کی جا ئے لیکن وہ روح بھی حضور کے لئے امتناع کئے جا رہی تھی،اچانک ماحول بدل گیا اورجو کچھ پیش آیا انشاء اللہ اسے آئندہ بحث میں ذکر کریں گے ۔

روحو ں سے رابطہ کے جلسہ کا نتیجہروحوں سے رابطہ کرنے کا جلسہ
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma