روحوں سے رابطہ کرنے کا جلسہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
روحوں سے رابطہ کے جلسات میں میرے مشاہدےمیز کی سرگرمی

روحوں سے رابطہ کرنے کا جلسہ

میں نے بھی روحوں سے رابطہ کرنے اور اسی جیسے جلسات کا تذکرہ مجلات وغیرہ کے ذریعہ سنا تھااور موقع کا منتظر تھاکہ میں بھی دوسروں کی نزدیک سے میز کے ذریعہ روحوں کو حاضر کئے جانے کو مشاہدہ کرسکوں او رچونکہ میں آسانی سے ایسے مسائل کو قبول نہیں کرتا لہٰذا خود اپنی آنکھوں سے دیکھا چاہتا تھا لہذا یہ موقع میرے لئے بڑی آسانی سے فراہم ہوگیا ۔
ایک سال گرمیوں کے موسم میں خراسان جوایک شہر سبزوار جو نہایت پاک و صاف ہے ، وہاں کے مومنین نے دعوت دی ، اس دعوت سے پہلے مجھے اپنے دوستوں کے ذریعہ خبر مل چکی تھی کہ یہ شہر بھی میز کے ذریعہ روحوں کو حاضر کئے جانے اور روحوں سے رابطہ کرنے کے مراکز میں سے ایک مرکز ہے اور یہ مسئلہ اس شہر میں کافی شہرت رکھتا ہے ، یہ جلسہ کافی لوگوں کے قیمتی اوقات کوبرباد کررہا ہے، کچھ لوگوں کے لئے ایک تفریح اور کچھ لوگوں کے لئے دوسرے عالم کی بہ نسبت اطمینان کا باعث بن گیاہے ۔
میں بھی اپنی چاہت اور ضرورت کے تحت اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتا تھاتا کہ جو بحث اس موضوع کے تحت شروع کی ہے اسے حقیقت سے نزدیک کرسکوں اور ا س کتاب کے مطالعہ کرنے والے اصل حقیقت سے روشناس ہوسکیں ،میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ ایسے جلسات میں عام لوگوں کا حاضر ہونا مصلحت کے خلاف ہے لیکن وہ لوگ جو محقق ہیں اور لوگوں کو اصل حقیقت سے آشنا کرانا چاہتے ہیں ، انکا ایسے جلسات میں حاضر ہونا ضروری ہے ۔
میں کوشش کروں گا کہ جو اپنی آنکھوں سے وہاں دیکھا ہے اسے بعینہ بیان کروں ۔
اس بحث کے آغاز سے پہلے مورد اطمینان اشخاص سے جو گفتگو ہوئی اسے بیان کرنا مناسب سمجھتا ہوں اور پھر اپے مشاہدات کو بیان کروں گا ،اس مسئلہ کے ماہر ین سے ہونے والی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے ( غور کریں) :
١۔روحوں سے رابطہ کا مسئلہ اس شہر میں ایک دوسال سے شروع ہو اہے یہاںتک کہ ایک لطیفہ گو کے قول کے مطابق لکڑیوں کے بازار کو رونق دینے کے لئے میز کی سفارش دے دی گئی ہے ۔
٢۔ روحوں سے رابطہ کرنے کی داستان اس طرح ہے کہ چند افراد ایک ایسی میز کے اطراف بیٹھتے ہیں جو لکڑی کی ہوتی ہے ، اس کا اوپری حصہ مدور اور پوری طرح صاف ہوتاہے اور ایک لکڑی کی کیل جو ا سکے بیچا بیچ ہوتی ہے اس پر قرار دی جاتی ہے کہ جس کے ذریعہ میز گھومتی ہے ۔
ایک یا چند افراد اپنے ہاتھ اسی مدور صفحہ پر رکھ کر سورہ حمد وغیرہ پڑھتے ہیں ( وہ لوگ سور حمد کی تلاوت کو بہتر مانتے ہیں نہ واجب) اور پھر اپنے افکار کو متمرکز کرلیتے ہیں،اس کے بعد کسی بھی مقدمہ کے بغیر روح سے رابطہ ہوجاتا ہے ۔
روحوں سے رابطہ کی علامت یہ ہے کہ وہ میز خود بخود ایک طرف جھک جاتی ہے (البتہ ہاتھوں کی ہتھیلیاں حسب سابق اسی میز پر رہتی ہیں) اس کے بعد روح سے سوال کیا جاتاہے اور وہ جواب دیتی ہے ، اس طرح کہ وہ شخص جو روح سے رابطہ کا وسیلہ ہے الفباء کو شروع سے گنتاہے اور جس حرف پر میز حرکت میں آجاتی ہے اس حرف کو نوٹ کرلیا جاتا ہے، اس طرح حروف کے مجموعوں سے جملات بنائے جاتے ہیں جو روح سے کئے گئے سوال کا جواب ہوتا ہے ، بعض اوقات رو ح سے رابطہ منقطع ہوجاتاہے اور کبھی کوئی دوسری روح دخل اندازی کرتی ہے کہ جس کی وجہ سے ملنے والا جواب اشتباہ ہوجاتا ہے ۔
٣۔ ایسے جلسات کو برگزار کرنے والوں کی اکثریت کا عقیدہ ہے کہ اس مسئلہ میں نہ میز کی شرط ہے اور نہ ہی میز میں لوہے کی کیل کی، میں جس جلسہ میں حاضر ہوا تھا اس میں ایک چار پایہ میز استعمال کی گئی تھی جس میں رابطہ کے برقرار ہوتے ہی میز کے دو پایہ خود بخود اٹھ گئے تھے ۔
لوہے کی میز کے ذریعہ بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے ، ان لوگوں کے اعتقاد کے مطابق جو شرائط تہران سے شائع مجلہ میں بیان کئے گئے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں اورخود اس موضوع کے تحت لکھے گئے مقالہ نگار کی معلومات اس سلسلہ میں کم ہیں بلکہ جو کچھ اسے معلوم ہے تنہا ایک نظریہ ہے اور دوسری زبانوں میں لکھے گئے مقالہ وغیرہ کا ایک اقتباس ہے ، خود میں نے اسی فن میں چند افراد سے گفتگو کی تو معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی اطلاعات مقالہ نگار کی اطلاعات سے کہیں زیادہ ہے ۔
٤۔ روحوں سے رابطہ کرنے والوں کا عقیدہ ہے کہ روحوں کو حاضر کئے جانے کا مسئلہ ریاضت، تمرین اور کافی معلومات کے ہونے سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ایک طاقت کی ضرورت ہے جو خود انسان کے وجود میں پوشیدہ ہے ، یہ طاقت کسی میں کم تو کسی میں زیادہ ہوتی ہے ،اسی وجہ سے ہر ایک روحوں سے رابطہ نہیں کرسکتا لیکن کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جو اپنی طاقت کی بنیاد پر بڑی آسانی سے رابطہ کرلیتے ہیں ۔
٥۔ روحو ں سے رابطہ کرنے والے مختلف روحوں کو حاضر کرتے ہیں ، کبھی بوعلی سینا کی روح تو کبھی آیة اللہ برجردی کی روح ، یہاں تک کہ اپنے قرابتداروں کی روحوں کے علاوہ مسیحی پادری ، چینی بت پرست اور شمرکی روح سے رابطہ کرتے ہیں اور ان سے سوالات کے جو جوابات حاصل کئے جاتے ہیں وہ کبھی اہم اور کبھی فضول ہوتے ہیں جیسے کہ انہیں لوگوں میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں میز کے ذریعہ روحوں کو حاضر کرنے والا عمل انجام د ے رہا تھا کہ اچانک ایک رو ح نے رابطہ کیا اور اپنا نام ( ش، م ، ر) بتایا تو میں نے سوا ل کیا کہ وہی شمر جس نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا تھا ؟
میز ہاں میں جواب دیتی ہوئی حرکت کرنے لگی ۔
میں نے اس سے سوال کیا کہ اس وقت کیا حال ہے؟
اس نے حسب سابق جواب دیا کہ میں بہت اچھی ہوں تو پھر میں نے سوال کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
اس نے جواب دیا کہ حضرت رسول ۖ نے مجھے معاف کردیا ہے ۔
٦۔(غورکریں)کہ ان جلسوں میں شرکت کرنے والوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ میز کی حرکت ایک پوشیدہ طاقت کا نتیجہ ہے اوراس میں لوگوں کے ہاتھوں کا کوئی دخل نہیں ہے ۔
ان جلسوں میں کبھی تو ایسا ہوا ہے کہ میز کی حرکت معمول سے زیا دہ سریع ہو جا تی ہے کہ حاضرین وحشت زدہ ہو جا تے ہیں،کیا یہ پو شیدہ عامل اور سبب وہی شخص ہے جو روحوں کو حاضر کئے جانے کا عمل انجام دے رہا ہے یا خودروحیں ہیں!اس سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے، انہیں لو گوں میں سے ایک شخص جو اس سلسلہ کا بڑا حامی اور دلدادہ تھا اور پھر چند اسباب کی وجہ سے منکر ہو گیا تھا ،اس کا عقیدہ تھاکہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ انسانی وجود میں نہفتہ ہے لیکن کچھ حضرات روحوں کو میز کی حرکت کاعامل بتا تے ہیں (مصنف: میں اپنا عقیدہ بعد میں بیان کروں گا )
٧۔(اور بھی غور کریں)روحوں کو حاضر کئے جانے کا عمل کرنے والوں اور خود شرکت کر نے والوں کا عقیدہ ہے کہ جو جوابات روحوں کی جانب سے حاصل ہو تے ہیں، وہ ہمیشہ صحیح نہیں ہو تے کبھی تو اس طرح واقعیت سے پردہ اٹھا تے ہیں کہ جس سے حیرت کی انتہا نہیں رہتی لیکن بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ سو فیصد واقعیت کے خلاف ہوتاہے جو لوگوں کی وحشت کا باعث بن جا تا ہے، اسی وجہ سے اس مسئلہ پر ان لوگوں کے درمیان شدید اختلاف ہے ۔
بعض لو گوں کا عقیدہ ہے کہ روحیں جس طرح اپنی طہارت وغیرہ کے سلسلہ میں اظہار کر تی ہیں ویسا کچھ نہیں ہے بلکہ حاضر ہو نے والی بعض رو حیں شریر اور اس جہان کے پست مقامات کی مالک ہو تی ہیں، ہمیشہ حقیقت کے مطابق جواب دینے کی پا بند نہیں ہو تیں یا یہ کہ جو کچھ انہیں معلومات حاصل ہیں وہ ایک ضعیف اور ناقص اخبار پر مشتمل ہے اوربعض حضرا ت روحوں سے کامل رابطہ نہ ہو نے کو اس کاسبب مانتے ہیں اور کچھ افراد ہمیشہ ملنے والے جوابات کو صحیح نہ ہو نے کے اسباب وعلل سے بے خبری کا اظہار کر تے ہیں ۔
٨۔وہ جوابات جو روحوں کی جانب سے مو صول ہو تے ہیں وہ عمومی اور کلی ہو تے ہیں جو کسی بھی مطلب پر تطبیق کی صلاحیت رکھتے ہیں.جیسے (اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہے. کامیاب ہو جاؤ گے.آپ کے باپ کی روح آپ سے راضی ہے .فلاں عمل خیر انجام دیں)اور بھی ایسی ہی خبریں جوروحوں کی طرف موصول ہوتی ہیں، اس سلسلہ میں بعض حضرات کا نظریہ ہے کہ روحوں کی طرف سے خصوصی پیغامات ملتے ہیں جس سے ہر ایک باخبر نہیں ہو تا لیکن یہ مسلم نہیں ہے ۔
٩۔روحوں کو حاضر کئے جانے کے جلسات کے بر گزار کر نے والوں کا عقیدہ ہے کہ روحوں سے رابطہ کا مسئلہ بہت سے غیر دیندار روں کو دیندار اوربدکرداروں کو بااخلاق بنانے اور ان کے رفتار وکر دار میں کا فی تبدیلیوں کے ایجاد کا باعث ہواہے لیکن بعض افراد کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اب مصیبت ساز ہو گیا ہے کہ بعض حضرات روحوں سے رابطہ کے ذریعہ اپنے دشمنوں پر ناروا تہمتیں لگا نے کی جرأت پیدا کر لیتے ہیں یا اپنے گذشتہ اقرباء کی روحوں کا اپنے دشمنوں سے گلہ کر نا اسی جیسے دوسرے پیغامات کے ملنے کا دعویٰ کر نا اور ایک نئی دشمنی کے آغاز کا باعث ہے ۔
یہ ہیں وہ باتیں جسے ایسے جلسات کے بر گزار کر نے والوں سے گفتگو کے ذریعہ معلوم ہوتی تھیں ۔
روحوں سے رابطہ کے جلسات میں میرے مشاہدےمیز کی سرگرمی
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma