میز کی سرگرمی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
روحوں سے رابطہ کرنے کا جلسہقرآن کی نگاہ میں نئی زندگی کی طرف بازگشت

میز کی سرگرمی

کیا گذشتہ لوگوں کی روحوں سے رابطہ ممکن ہے اور ان سے معلومات لی جا سکتی ہیں؟
کیا وہ ساری باتیں جسے روح سے رابطہ کرنے والے کہتے ہیں وہ سب بیہودہ ہیں ؟
یا ان باتوں میں کچھ باتیں حقیقت رکھتی ہیں؟
کیا روحوں کو حاضر کرنا میز کے ذریعہ روحوں کو حاضر کیا جانا صحیح ہے؟
کیاروحوں کو حاضر کرناجو آج بعض مجلا ت کے ذریعہ عام ہوا ہے،اتناہی آسان ہے کہ کوئی شخص بھی کیل کے بغیربنی میز کے اطراف بیٹھ کرہاتھوں کو بلند کرے اور نیت کرے اورپھر جس کی روح کو چاہے حاضر کردے؟ کیا وہ اپنے سوالات کے جوابات میز کی غیراختیاری حرکت کے ذریعہ دریافت کر سکتا ہے خواہ مثبت ہو یا منفی ؟
واقعاً کیا یہ سب کچھ اتنا ہی آسان ہے ؟ کیا کیل کے بغیر ایک میز ( عالم غیب ) کی چابی عالم ارواح کی اخبار کو رد و بدل کرسکتی ہے ؟
یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کے جو ابات حاصل کرنے کا ہر ایک خواہشمند ہے لہذا ہم اپنی بحث، اسی آخری سوال کے جواب میں شروع کرتے ہیں کہ جس نے آج کے دور میں بڑا شور مچا رکھا ہے اور اجازت دیں تاکہ اس بحث کو ایک خط کو ذکر کرنے کے ذریعہ آغاز کریں کہ جس میں اسی موضوع کے تحت کی گئی تحقیق کو بیان کیا گیا ہے ، اس خط کا متن یہ ہے:
آج کل میزکے ذریعہ روحوں سے رابطہ کا مسئلہ زوروں پر ہے ، کوئی بھی شخص چند منٹ روحوں کو حاضر کئے جانے والے جلسات میں بیٹھ کر یہ سوچنے لگتا ہے کہ وہ بھی ایک کیل کے بغیر بنی میز لے کر روحوں سے رابطہ کر سکتا ہے ۔
لیکن جو مسئلہ باعث تعجب ہے اور مقام افسوس ہے ،وہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو تہران کے مجلہ میں شائع شدہ ترکیب (یعنی سور ہ حمد کی قرائت کے بعد روحوں سے رابطہ کرنے کی استدعا ) کے مطابق عمل کرتے ہیں وہ جس روح سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں اسے حاضرکر نے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن عجیب بات تو یہ ہے کہ جوسوال چاہتے ہیں کرتے ہیں اورجیسا جواب پسند کرتے ہیں ویسا ہی جواب دریافت بھی کرتے ہیں ۔
میں نے اب تک نہ دیکھاکہ اسلامی فرقوں میں سے کسی ایک فرقہ کے چند حضرات نے ایسی میز کے اطراف بیٹھ کر یہ سوال کیا ہو کہ حق کیا ہے؟ اور جسے حق مانتے ہیں اسے حق بتایا نہ گیا ہوا ور ان کے مخالفین اپنے عقیدہ کے بطلان کو نہ سنتے ہوں ۔
جو نکتہ قابل تو جہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ میز خود بخود گھومتی ہے لیکن کبھی اس میز کو گھمانے میں وہی روح موثر ہوتی ہے ۔
پس اگر گھمانے والی چیز وہی روح ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب میں اپنے مذہب کے بارے میں سوال کرتا ہوں تو وہ میرے مذہب کو حق کہتی ہے اور میرے مخالف مذہب والے کے اعتقاد کو بھی درست کہتی ہے ۔
میں نے بارہا آزمائش کی ہے مثلاً میں نے سوال کیا کہ کیا فلان مریض اچھا ہو ا یا نہیں ؟
میں نے ایک ہی روح سے دو راتوں میں متواتر یہی سوال کیا لیکن اس کے دونوں جواب میں تناقض تھا،یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ میز کس قدرت کی بنیاد پر گھومتی ہے ۔
میں بارہا ایسے جلسات میں حاضر ہواہوں کہ جس میں روحوں سے ایک آہنی اور بڑی میز کے ذریعہ رابطہ کیا گیا تو پھر اگر میز لوہے کی کیل کے بغیر ہونا چاہئے اور ایک لوہے کی کیل اس کی حرکت کو روک سکتی ہے تو پھر لوہے کی اتنی بڑی میز کیسے حرکت میں آجاتی ہے ( غور کریں)۔
لیکن جس حقیقت تک میں پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو میز کے اطراف جمع ہوتے ہیں وہ خود بخود اس ماحول اور کلمات کی تاثیر میں گرفتار ہوجاتے ہیں ، ان لوگوں میں سے جس میں کنٹرول کی طاقت کم ہوجاتی ہے ،وہ میز کو متحرک بنادیتاہے اور وہ میز حرکت میں آجاتی ہے، یہی افراد قومی مڈیوم ہیں( یعنی وہ لوگ ہیں کہ جو روحوں سے رابطہ برقرار کرتے ہیں) (غورکریں)
قوی مڈیوم وہ تمام افراد ہوسکتے ہیں کہ جن میں کنٹرول کی طاقت کم ہواور زیادہ تر غصہ میں رہتے ہوں، میں خود نیشاپور میں ایسے جلسات برگزار کرنے والوں سے مرتبط ہوں اور زیادہ تر وہ لوگ جو نیشاپور میں ایسے جلسات سے مرتبط ہیں، وہ ابتدائی مراحل میں خود مجھ سے سیکھتے ہیں ۔
یہاں میرا مطلب خودستائی نہیں ہے بلکہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے یہ سب کچھ ہوا و ہوس کی بنیاد پر نہیں لکھا ہے ۔
ایک جلسہ میں کہ جس میں بو علی سینا .... کی روح کو حاضر کیا گیا تھا ، ان سے ایک بیماری کے سلسلہ میں سوال کیا گیا ، بیمار ایک خاتون تھیں ، انھوں نے جواب میں یہ کہا کہ اسی ماہ کی ٢٩ تاریخ کو وضع حمل ہوگا جب کہ اس تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
اسی نیشاپور میں ایک خاتون ہیں کہ جن کے بیٹھتے ہی وہ میز حرکت کرنے لگتی ہے اور وہ جو سوال بھی کرتی ہیں اس کا جواب مثبت ہوتاہے اور اگر سوال کو پلٹ کر منفی کرلیا جائے تو اس کے باوجود جواب مثبت ملتاہے ۔
اسی طرح ایک اور جلسہ میں اس بات کا شاہد تھا کہ روح کو حاضر کرنے والوں نے میز سے حرکت کرنے کیلئے کہا لیکن وہ حرکت میں نہ آئی، یہاں تک کہ اس نے کئی بار اسے حرکت میں آنے کے لئے کہا لیکن جب وہ حرکت میں نہ آئی تو اسے حرکت میں لانے کے لئے دخل و تصرف کیا اور جابجا کر کے آخر کار اسے حرکت کرنے پر مجبور کردیا ، ایسے جلسات میں جو کچھ ہوتا ہے اس میں اسی فیصد(٨٠٪) دخل وتصرف ( عمدی یا غیر عمدی) اور بیس فیصد حقیقت سے نزدیک ہوتا ہے اور خود بیس فیصد(٢٠٪) کے سلسلہ میں نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں روح کی طاقت کارگر ہے یا کوئی اور طاقت تا ثیر گزارہے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس میز کے اطراف چند افراد رات کے بارہ ایک بجے تک حیران و پریشان رہتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی خواہش کے مطابق جواب حاصل کرتا ہے اور ہمیں اس دن سے ڈر ہے کہ جب دشمن اسے ہمارے خلاف بطور مہرہ استعمال کرنے لگے ،یا سیاسی کھلو نا بن جا ئے کہ جس میں خیانتیں پنپ رہی ہوں ،میں اس مسئلہ میں جس نتیجہ تک پہنچا ہو ں وہ یہ ہے کہ یہ ایک کھیل ہے اور اس سلسلہ میں جو سوالات بھی کئے جاتے ہیں اس کا جواب قرآن کے ذریعہ دیتا ہوں (یسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی) سورہ اسراء ، آیت ٨٥.


کاظم سراج انصاری


میں اپنے عقیدہ کے مطابق یہاں پر اس نکتہ کو روشن کردینا چاہتا ہوں کہ نہ میں ، نہ اس خط کو تحریر کرنے والے اور نہ ہی کوئی دوسراروح کے وجود کامنکرہے ، اس لئے کہ روح کے اثبات میں فلسفی تجارب اور حسی دلائل اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے روح کے وجود کا انکار غیر ممکن ہے ۔
اسی طرح ماہر افراد کے لئے روح سے رابطہ کا انکار نہیں کرسکتے کہ جنہوں نے اس راہ میں واقعاً زحمت کی ہے کہ جس کی شاہد وہ مثالیں کہ جو ذکر کی جاچکی ہیں ، اسی طرح آئندہ ملاحظہ کریں گے کہ ہمارے بزرگ راہنماؤں نے بھی روح سے روح سے رابطہ کو ممکن مانا ہے ۔
لیکن جائے سوال یہاں ہے کہ اتنے عظیم مسئلہ کو اس قدر تنزل دینا یہاں تک کہ ایک تفریح بن جائے جو بھی چاہے ایک میز لے کرروحوں سے رابطہ کا کھیل شرو ع کردے ، چند زن و مرد جمع ہو کر ایک شب بو علی سینا کی روح ، دوسری شب زکریا رازی کی روح ، تیسری شب انشٹن کی روح کو حاضر کریں اور ایکسن نام کی خاتون کے وضع حمل کے سلسلہ میں سوال کریں اور وہ روحیں بھی اپنے مخاطبین کو انہیں کی خواہش کے مطابق جواب دیں ، ایسا ہونا کسی بھی عقل و منطق سے سازگار نہیں ہے کہ اتنا اہم مسئلہ اس قدر پست اور لوگوں کا بازیچہ بن جائے ۔
اور اس سے بھی زیادہ خطرہ اس وقت درپیش ہے کہ جب مذہبی اخلاقی ، اجتماعی اور سیاسی مسائل اس کے ذریعہ حل ہونے لگیں ، جب کہ گذشہ خط کے لکھنے والوں نے اسی مطلب کی طرف ایک مختصر اشارہ کیا ہے
اس لئے کہ جب روحوں سے رابطہ کا مسئلہ اس قدر آسان اور پست ہوجائے گاتو پھر ایک شخص اپنا چوری کیا گیا مال حاصل کرنے کے لئے سیکڑو ں بے گناہوں کو متہم کرسکتا ہے اور کوئی بھی فاسد العقیدہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مذہب اور مسلک پر صحت کی مہر لگا سکتا ہے ۔
ایک سیاستمدار لوگوں میں اختلاف ایجادکرنے کے لئے ایسی میز کا سہارا لے کر اپنے زرخرید غلاموں کو وارد میدان کر کے اپنی پسند کے مطابق سوال کے جواب حاصل کرسکتا ہے ، ایسے خطرے کی گھنٹی سنائی دے رہی ہے لہذا ہمیں اس کے برے نتائج سے بچنا ہوگا ، اس لئے کہ اس سے آسان اور وسیلہ نہیں مل سکتا جو فاسد وں کی آرزؤں کو الٰہی اور ملکوتی شکل دے سکے ۔
یہ مسئلہ بالکل واضح ہے کہ فرصت طلب اور مکار حضرات اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے اور اپنے شیطانی اہداف کو پورا کرنے کے لئے دریغ نہیں کریں گے یا کم از کم اسے اپنے اہداف کے لئے بیساکھی بنانے کی بھر پور کوشش کریں گے ۔

روحوں سے رابطہ کرنے کا جلسہقرآن کی نگاہ میں نئی زندگی کی طرف بازگشت
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma