دوسری دلیل : ایک روح صرف اپنے بدن کے ساتھ زندگی گذار سکتی ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
تیسری دلیل : روحوں کے لئے مطلق فراموشی غیر ممکن ہے ایک مشہور فلسفی کا نظریہ
دوسری دلیل : ایک روح صرف اپنے بدن کے ساتھ زندگی گذارسکتی ہے
 
اگرہم اپنے بزرگ فلاسفہ کے درمیان عقیدہ تناسخ اور اس جہان میں روحوں کا دوبارہ کسی انسان یا حیوان کے بدن میں بازگشت کے مسئلہ کو غیر ممکن ماننے کے شاہد ہیں تو یہ انکار روایت اور آیات قرآنی پر تنہا منحصر نہیں ہے بلکہ عقلی دلائل کی بنیا دپر بھی یہ مسئلہ مردود اور غیر قابل قبول ہے ۔
علمی نتائج کی روسے اس عقیدہ کے نامطلوب آثار مشاہدہ ہوئے ہیں جسے ہم آئندہ صفحات میں بیان کریں گے ، ہم نے اس مطلب کو گذشتہ صفحات میں ثابت کردیا ہے کہ اس عقیدہ کا سب سے بڑ ا عیب جہان حیات میں قانون تکامل کی صریح مخالفت ہے ۔
ہم کس طرح اس بات کو قبول کرلیں کہ خدا روحوں کو ایک کمالی سیر کے بعد اگرچہ بصورت نسبی کیوں نہ ہو،ا نہیں دوبارہ پہلی حالت میں پلٹا کر چالیس سالہ انسان کی روح کو ایک جنین میں دم کردے جو بچپنے کے مراحل سے دوبارہ گزرے اور ایک تکراری سیر کو شروع کرے ، یہاں تک کہ وہ ایک طویل مدت کے بعد پھر اپنی سابقہ حالت پر دوبارہ لوٹ جائے ۔
ہر ایک کو معلوم ہے کہ یہ ایک عاقلانہ فعل نہیں ہے بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ تکامل وہاں سے شروع ہو جہاں پرنطفہ کااختتام ہوا ہو ۔
اب اس کے بعد تناسخ کی رد میں عقلی دلائل ملاحظہ کریں ۔
ایک روح دوسرے بدن کے لئے بیکار ہے
ایک روح دوسرے کے بدن کے لئے بے تاثیر ہے لہٰذاوہ لوگ کہ جو خیال کرتے ہیں کہ روح اپنے آغاز میں ایک کامل وجود ہے تووہ سخت اشتباہ میں ہیں اس لئے کہ وہ اس جہان میں پہنچنے کے بعد کمال کی منزلوں کو طے کرتی ہے ۔
کوئی ہے جسے معلوم نہ ہو کہ ایک بچے کی روح اسی کی طرح بچہ اورایک جوان کی روح اسی کی طرح پرشور جوان اور نشاط سے بھر پور ہوتی ہے ۔
اصولی اعتبار سے روح کا بدن سے بڑا گہرا تعلق ہے اور ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے پر مستقیم اثر گذارہے ۔
ہمارے فلاسفہ کی آخری تحقیقات جس کی بنیاد حرکت جوہری پر رکھی گئی ہے ، اس مطلب کو بیان کرتی ہیں کہ روح اور بدن میں دوئیت نہیں ہے اور دونوں ایک دوسرے سے مستقل بھی نہیں ہیں بلکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے اثر پذیر اور ان دونوں میں نہایت تنگا تنگ رابطہ پایاجاتا ہے یا بعض حضرات کی تعبیر کے مطابق جسم و روح کا رابطہ گل اور گلاب کی طرح ہے ، آج کی نفسیاتی تحقیق نے دو قدم بڑھ کر ایک اور مطلب بیان کیا ہے ۔
یہاں پر آپ کو یہ اشتباہ نہ ہونے پائے کہ ہم ( ماٹریالیسٹ) کے عقیدہ کو بیان کرنا چاہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ روح مادہ کے خواص کا نام ہے بلکہ ہمارامطلب یہ ہے کہ روح مادہ سے برتر ہوتے ہوئے مادہ سے فوق العادہ مرتبط ہے ۔
یہ صرف دعویٰ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے کہ جس کی فلسفہ اور ماہرین نفسیات نے تائیدکی ہے ، اپنے گذشتہ بیان سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ جس طرح دو جسم آپس میں پوری طرح مشابہ نہیں ہوتے اسی طرح دو روحیں کبھی بھی آپس میں مشابہ نہیں ہوسکتیں ، اسلئے کہ روح اپنے بدن کے رنگ میں ڈھلنے کے بعدبدن کے ساتھ رشد کی منزلوں کو طے کرتی ہے اسی وجہ سے آج تک کبھی بھی مشاہدہ نہ ہو ا کہ دو شخص ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے مشابہ رہے ہوں یا دو جسم آپس میں ہر لحاظ سے مشابہ ہونے کے باوجود ایک بدن ہوتے ہوئے دوروح کے مالک ہوں ۔
لہذا جسم و روح میں سنخیت ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے کہ ایک روح اپنے بدن کے علاوہ کسی اور بدن میں حلول کرجائے بلکہ ایک جسم اسی روح کے لئے شائستہ ہے کہ جس کے ساتھ رہا ہے اور روح بھی اسی جسم کے لئے مناسب ہے کہ جس میں اسے کمال ملا ہے اگر اس حالت میں ایک روح کو کسی دوسرے بدن میں دم کردیا جائے تو ان دونوں میں پوری طرح اجنبیت ہوگی ۔
اسی وجہ سے روز قیامت ایک روح اپنے مخصوص جسم کے ساتھ محشور ہوگی ، اسلئے کہ اس روح کی حیات اپنے جسم کے بغیر ممکن نہیں ہے ،تناسخ کے ماننے والوں نے شاید تمام ایسے روشن حقائق سے چشم پوشی کرلی ہے اور گمان کرلیا ہے کہ روح ایک مسافر کی طرح ہے جو کبھی اس منزل میں مقیم ہے تو کبھی کسی دوسری منزل میں یا ایک سبک بال پرندے کی طرح ہے جو کسی بھی آشیانہ میں ٹھہر جاتی ہے حالانکہ حقیقت کچھ اور ہے ، مسافر اور پرندے، آشیانہ اور مسافر خانہ دونوں الگ الگ مفہوم ہیں ، جب کہ جسم و روح کا پیوند اس قدر اٹوٹ ہے کہ نہ روح جسم کے بغیر اور نہ ہی جسم اپنی روح کے بغیر ادامہ حیات دے سکتا ہے، ان دونوں کی مثال قفل کی ہے کہ ہر قفل کے لئے ایک مخصوص چابی ہوتی ہے ۔
یہ کام اس کے بس کا نہیں ہے
اگر بالفرض اس حقیر کو مان لیا جائے اور قبول کرلیاجائے کہ ایک پچاس سالہ انسان کی روح ایک طفل معصوم کے جسم میں حلول کرسکتی ہے لیکن یہ کیوں کر ممکن ہے کہ وہ روح طفل معصوم کی طرح کھائے پیئے ، ضد کرے ، بچوں کی طرح لڑائی کرے ، صلح کرے ، یا جوانی کے ہنگامے اور شور و ولولہ ایجاد کرے ۔
یہ سارے اعمال ایسی پچاس سالہ روح انجام نہیں دے سکتی اور اسے قبول کرنا غیر ممکن ہے ، اگر جہان حیات سے موجودات کا ماضی میں پلٹادیا جا ناقبول کرلیاجائے تو یہ عمل ایک پچاس سالہ روح کو طفل معصوم کے جسم میں لوٹانا غیر ممکن ہے ۔
تناسخ کے طرفدار اپنے عقیدہ کے سلسلہ میں منطقی غور وفکر سے برخوردار ہونے کے بدلے اپنی خدمات کا شکار ہوگئے ہیں ، وگرنہ یہ غیر ممکن ہے کہ ایک انسان اس عقیدہ کے سلسلہ میں اس حد تک غور وفکر کرے اور پھر بھی اس میں شک و شبہ ایجاد نہ ہو۔
تیسری دلیل : روحوں کے لئے مطلق فراموشی غیر ممکن ہے ایک مشہور فلسفی کا نظریہ
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma