عقیدہ تناسخ کے باطل ہونے پر پہلی دلیل : باز گشت غیر ممکن ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
روحوں سے رابطہ کی حقیقت
ایک مشہور فلسفی کا نظریہتناسخ کے تاریخی اسباب
پہلی دلیل : باز گشت غیر ممکن ہے:
یہ نکتہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی موجود ایک لحظہ کے لئے بھی اپنی حرکت سے متوقف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ ایک حالت سے دوسری حالت اور اپنے کمال کی جانب رواں دواں ہے ۔
در اصل اس دنیا میں موجودات کے درمیان وجود میں آنے والی تمام تبدیلیاں کمال کی جانب بڑھتے رہنے کی علامت ہیں ۔
ایک نطفہ جو ( اسپرم) اور اوول سے مل کر بنتا ہے وہ بھی ہمیشہ حرکت میں ہے اگرچہ وہ وجود کے پہلے مرحلہ میں بڑی مشکل سے قابل دید ہے اور اس مرحلہ میں انسان اور اس کے درمیان کوئی شباہت نہیں ہوتی لیکن وہ آہستہ آہستہ اپنے کمال کی منزلوں کو طے کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک کامل انسان کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔
اس عقیدہ میں جو چیز غیر ممکن ہے وہ روحوں کی بازگشت کا مسئلہ ہے ، کبھی بھی ایک مہینہ کا نطفہ ایک روزہ نطفہ میں نہیں بدل سکتا اور بچہ علقہ کی صورت اختیار نہیں کرسکتا ، جب جنین کے تکامل کا دور ختم ہوتا ہے اور رحم غیر قابل استفادہ ہوجاتا ہے تو پھر مبدأ خلقت کے فرمان سے وہاں نکال دیا جاتا ہے ، جس طرح ایک پھل پکنے کے بعد اسے درخت سے جدا کردیا جاتاہے ، اسی طرح حمل کو اتمام مدت کے بعد رحم سے جدا کردیا جاتا ہے ، پس جس طرح پھل کا درخت کی جانب لوٹنا غیر ممکن ہے اسی طرح جنین کا رحم مادر میں لوٹنا غیر ممکن ہے ۔
اگر جنین رحم مادر میں نا قص رہ جا ئے تو اس کا وہاں رہنا بے سود اور وہ قابل سقط ہے بالکل اسی طرح کہ جیسے کچا پھل درخت سے ٹوٹنے کے بعد کبھی بھی اس سے نزدیک نہیں ہوسکتا ۔
یہ قانون ، انسان ، حیوان اور نباتات بلکہ جہان کے تمام زندہ موجودات کے درمیان عام ہے اور کبھی اپنے کمال کے مراحل طے کرنے کے بعد یا ناقص رہ جانے کی صورت میں مرحلہ اول کی طرف نہیں لوٹتا جو گزرچکا ہے وہ گزرچکا ہے ۔
گذشتہ فلاسفہ اس مطلب کو ایک دوسرے انداز میں بھی بیان کرتے تھے کہ جو موجود بھی(قوة) سے(فعلیت ) کی منزل میں پہنچ جائے تو کسی بھی صورت میں ( قوة ) کی طرف لوٹ نہیں سکتا ( غور کریں)۔
ایک مشہور فلسفی کا نظریہتناسخ کے تاریخی اسباب
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma